It is a matter of great joy to have handed over appointment letters for government jobs to 51 thousand youth in the Rozgar Mela
It is our commitment that the youth of the country should get maximum employment: PM
Today India is moving towards becoming the third largest economy in the world: PM
We promoted Make in India in every new technology,We worked on self-reliant India: PM
Under the Prime Minister's Internship Scheme, provision has been made for paid internships in the top 500 companies of India: PM

آداب!

ملک کے مختلف علاقوں میں موجود میرے کابینہ کے رفقا ء، اراکین پارلیمنٹ ، اراکین اسمبلی ملک کے نوجوان ساتھیو،خواتین و حضرات!

آج دھنتیرس کا مقدس تہوار ہے۔ تمام ہم وطنوں کو دھنتیرس کی بہت بہت مبارکباد۔ دو دنوں کے بعد ہم سب دیوالی کا تہوار بھی منائیں گے۔ اور اس سال کی دیوالی بہت  ہی خاص ہے۔ آپ سوچ رہے ہوں گے کہ دیوالی ہر سال آتی ہے، اس سال کیا خاص ہے، میں آپ کو بتاتا ہوں کہ کیا کچھ خاص ہے۔ 500 سال بعد، بھگوان شری رام ایودھیا میں اپنے عظیم الشان مندر میں براجمان ہیں۔ اور اس عظیم الشان مندر میں  براجمان ہونے کے بعد یہ پہلی دیوالی ہے اور اس دیوالی کے انتظار میں کئی نسلیں گزر چکی ہیں، لاکھوں لوگوں نے قربانیاں دی ہیں اور اذیتیں برداشت کی ہیں۔ ہم سب بہت خوش قسمت ہیں کہ ایسی خاص ،عظیم الشان دیوالی کا مشاہدہ کریں گے۔ اس تہوار کے ماحول میں... آج کے اس پرمسرت دن... روزگار میلے میں 51 ہزار نوجوانوں کو سرکاری ملازمتوں کے لیے تقرری نامےدیے جا رہے ہیں۔ میں آپ سب کو بہت بہت مبارکباد دیتا ہوں اور آپ کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتا ہوں۔

 

ساتھیو!

حکومت ہند میں ملک کے لاکھوں نوجوانوں کو مستقل سرکاری ملازمتیں فراہم کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ بی جے پی اور این ڈی اے کی حکومت والی ریاستوں میں بھی لاکھوں نوجوانوں کو تقرری  نامے دیے گئے ہیں۔ اور ابھی ہریانہ میں نئی ​​حکومت بنتے ہی 26 ہزار نوجوانوں کو نوکریوں کا تحفہ ملا ہے۔ اور آپ میں سے جو لوگ ہریانہ سے واقف ہیں وہ جانتے ہیں کہ ان دنوں ہریانہ میں تہوار کا ماحول ہے،  ریاست کے نوجوان خوش ہیں۔ اور آپ ہریانہ میں ہماری حکومت کی پہچان جانتے ہیں،  ریاست میں ہماری حکومت کی خاص شناخت ہے۔ وہاں کی حکومت کی پہچان یہ ہے کہ وہ نوکریاں دیتی ہے لیکن بغیر کسی خرچے اور پرچی کے نوکری مہیا کرتی ہے۔ آج میں ان 26 ہزار نوجوانوں کو بھی خصوصی مبارکباد دیتا ہوں جنہوں نے ہریانہ حکومت میں تقرری نامے حاصل کیے ہیں۔ ہریانہ میں 26 ہزار اور آج اس پروگرام میں 51 ہزار ملازمتیں دی گئی ہیں۔

ساتھیو!

ملک کے نوجوانوں کو زیادہ سے زیادہ روزگار  ملے یہ ہمارا  عزم ہے۔ حکومتی پالیسیوں اور فیصلوں کا براہ راست اثر روزگار کی فراہمی پر بھی پڑتا ہے۔ آج ملک کے کونے کونے میں ایکسپریس ویز، ہائی ویز، سڑکیں، ریلوے، بندرگاہیں، ہوائی اڈے، فائبر لائن بچھانے کا کام ، موبائل ٹاور لگانے کا کام، نئی صنعتوں کی توسیع کا کام کیا جارہا ہے۔نئے صنعتی شہر بنائے جا رہے ہیں، پانی کی پائپ لائن، گیس کی پائپ لائن بچھائی جا رہی ہیں۔ بڑی تعداد میں اسکول، کالج اور یونیورسٹیاں کھولی جا رہی ہیں۔ حکومت بنیادی ڈھانچےپر پیسہ خرچ کرکے لاجسٹکس کی لاگت کو کم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان تمام کاموں سے نہ صرف ملک کے لوگوں کو سہولیات مل رہی ہیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ روزگار کے کروڑوں نئے مواقع بھی پیدا ہو رہے ہیں۔

ساتھیو!

ابھی کل ہی میں وڈودرا میں تھا۔ وہاں مجھے دفاعی شعبے کے لیے ہوائی جہاز بنانے والی فیکٹری کا افتتاح کرنے کا موقع ملا۔ اس فیکٹری سے ہزاروں لوگوں کو براہ راست روزگار ملے گا۔ لیکن جتنے بھی اسپیئر پارٹس کی ضرورت ہے اس سے کہیں زیادہ روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور ان کو بنانے کے لیے بہت سی چھوٹی فیکٹریوں کا نیٹ ورک بنایا جائے گا۔بہت سارے چھوٹے چھوٹے کارخانوں سے اس کو بناکر سپلائی کی جائے گی۔ یہ پرزے ہمارےایم ایس ایم ایز  کے ذریعے ملک کے کونے کونے میں  بنائے جائیں گے،  اس سےنئے ایم ایس ایم ایزوجود میں  آئیں گے۔ ایک طیارے میں15 سے 25 ہزار چھوٹے بڑے پرزے ہوتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ ملک بھر میں ہزاروں چھوٹے بڑے کارخانے ہر ایک طیارے  کی طلب کو پورا کرنے کے لیے سرگرم رہیں گے۔ آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اس سے ہماری ایم ایس ایم ایزصنعت کو کتنا فائدہ ہوگا، ان میں روزگار کے کتنے مواقع پیدا ہوں گے۔

ساتھیو!

آج جب ہم کوئی بھی اسکیم شروع کرتے ہیں تو ہماری توجہ صرف لوگوں کو فائدہ پہنچانے پر ہوتی ہے، ایسا نہیں ہے، ہم بہت بڑے دائرہ کار میں سوچتے ہیں ہم اس کے ذریعے روزگار پیدا کرنے کا پورا ایکو سسٹم بھی تیار کرتے ہیں۔ جیسے پی ایم سوریہ گھر مفت بجلی اسکیم۔ اب یوںلگتا ہے کہ یہ ا سکیم اس لیے آئی ہے کہ لوگوں کو مفت بجلی مل سکے۔ لیکن اگر ہم اس کی  باریکی میں  جائیں تو ہمیں کیا نظر آئے گا؟ اب دیکھیے، پچھلے 6 مہینوں میں تقریباً سوا کروڑ، ڈیڑھ کروڑ لوگوں، صارفین نے اس اسکیم کے لیے رجسٹر یشن کرایا ہے۔ اس اسکیم میں 9 ہزار سے زائد وینڈرس شامل ہوچکے ہیں، جو فٹنگ کا کام کریں گے۔ 5 لاکھ سے زیادہ گھروں میں سولر پینل لگائے گئے ہیں۔ آنے والے دنوں میں اس اسکیم کے تحت ماڈل کے طور پر ملک کے مختلف گوشوں میں 800 سولر ویلیج بنانے کی تیاری ہیں۔ اب تک 30 ہزار لوگوں نے چھتوں پر سولر لگانے کی تربیت لی ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ اس ایک اسکیم نے مینوفیکچررز، وینڈرز، اسمبلرز اور مرمت کرنے والوں کے لیے روزگار کے لاکھوں نئے مواقع پیدا کیے ہیں۔ پی ایم سوریہ گھر مفت بجلی اسکیم سے ملک میں روزگار کے لاکھوں نئے مواقع پیدا ہونے جارہے ہیں۔

 

ساتھیو!

میں آپ کو ایک اور مثال دیتا ہوں، اور آج میں آپ کو چھوٹے چھوٹے گاؤں سے متعلق ایک مثال دے رہا ہوں۔ ہمارے ملک میں کھادی کا چرچا تو آزادی کے وقت سے ہی ہو رہا ہے، لیکن آج کھادی ولیج انڈسٹریز کیا کمال کر رہی ہیں۔ پچھلے 10 سالوں میں ہماری حکومت کی پالیسیوں نے کھادی ولیج انڈسٹریز کی پوری تصویر ہی بدل کر رکھ دی ہے، اور نہ صرف تصویر بدلی ہے، بلکہ اس نے دیہات میں اس کام سے جڑے لوگوں کی تقدیر بھی بدل دی ہے۔ آج کھادی ولیج انڈسٹریز ایک سال میں ڈیڑھ لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کا کاروبار کر رہی ہے۔ اگر ہم اس کا موازنہ 10 سال پہلے کے حالات سے کریں، جیسےڈاکٹر جتیندر سنگھ جی پرانی اور نئی حکومت کی سرکاری ملازمتوں کے اعداد و شمار  پیش کر رہے تھے،  آپ دیکھئے کہ وہ کتنے حیران کن تھے۔ میں یہاں ایک اور بات بتا رہا ہوں، اگر ہم کھادی کے حوالے سے یو پی اے اور این ڈی اے حکومتوں کا موازنہ کریں، تو آج کھادی کی فروخت میں یو پی اے حکومت کے مقابلے میں 400 فیصد زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ جب کاروبار بڑھ رہا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس سے وابستہ کاریگروں، بُنکروں، تاجروں کو بھی بہت زیادہ فائدہ ہو رہا ہے۔ اس شعبے میں نئے لوگوں کو مواقع مل رہے ہیں، بڑی تعداد میں ملازمتیں پیدا ہو رہی ہیں۔ اسی طرح ہماری لکھپتی دیدی یوجنا  سے دیہی خواتین کو روزگار اور خود روزگار کے نئے ذرائع فراہم ہوئے ہیں۔گزشتہ ایک دہائی میں 10 کروڑ خواتین سیلف ہیلپ گروپس  سے وابستہ ہوئی ہیں، اور آپ کو معلوم ہے کہ سیلف ہیلپ گروپس معاشی سرگرمیاں انجام دیتےہیں، کچھ نہ کچھ کرکے پیسہ کماتے ہیں، یعنی 10 کروڑ خواتین جنہوں نے کمائی  شروع کی ہے، روزگار کی وجہ سے، ان کی محنت سے ان کے گھر میں پیسہ آ نے لگا ہے۔ یہ 10 کروڑ کے اعداد و شمار اور وہ بھی خواتین کے۔ ایسےبہت سے لوگ ہیں جنہیں یہ نظر نہیں آتا ہے  اور حکومت نے ان کا بھرپور ساتھ دیا ہے، وسائل میں تعاون، فنڈز فراہم کرنے میں تعاون کیا۔ یہ خواتین کسی نہ کسی روزگار سے آمدنی حاصل کر رہی ہیں۔ ہماری حکومت نے ان میں سے تین کروڑ خواتین کو لکھپتی دیدی بنانے  کاہدف رکھا ہے، یہ آمدنی معمولی نہیں ہے، ہم آمدنی  میں بھی اضافہ کرنا چاہتے ہیں۔ اب تک تقریباً  سواکروڑ خواتین لکھپتی دیدی بن چکی ہیں، یعنی ان کی سالانہ آمدنی ایک لاکھ روپے سے تجاوز کر گئی ہے، اور وہ یہ  ہر سال کما نے والی ہیں۔

ساتھیو!

آج ہندوستان دنیا کی تیسری سب سے بڑی معیشت بننے کی سمت میں گامزن ہے۔ملک کی اس ترقی کو دیکھ کر ملک کے نوجوان بھی یہ سوال کرتے ہیں اور ان کے ذہن میں یہ سوال اٹھنا فطری ہے کہ جو رفتار آج ہے، جو توسیع آج ہورہی ہے، وہ ورفتار پہلے کیوں نہیں حاصل ہوئی؟ جواب یہ ہے کہ پہلے کی حکومتوں میں پالیسی اور نیت دونوں کا فقدان تھا۔

ساتھیو!

آپ یاد کریں پہلے ایسے بہت سے شعبے تھے جن میں ہندوستان مسلسل پچھڑتا جارہا تھا۔ خاص طور پر ٹیکنالوجی کے میدان میں... دنیا میں نئی نئی​​تکنیکیں آتی تھیں، لیکن ہندوستان میں ہم ان کا انتظار کرتے رہتے تھے،یہ سوچتے تھے  کہ بھائی یہ دنیا میں آیا ہے، یہ ہمارے پاس کب آئے گا۔ وہ ٹیکنالوجی جو مغربی ممالک میں ازکار رفتہ اور بے کار ہو جاتی تھی، تب  وہ ہمارے یہاں پہنچتی تھی۔یہ سوچھ بنادی گئی تھی کہ ہمارے ملک میں جدید ٹیکنالوجی تیار نہیں ہوسکتی ہے۔ اس ذہنیت نے کتنا بڑا نقصان پہنچایا۔ ہندوستان نہ صرف جدید ترقی کی دوڑ میں پچھڑتا چلا گیا بلکہ روزگار کے اہم ترین ذرائع بھی ہم سے دور ہوتے چلے گئے۔ جدید دنیا میں جب روزگار پیدا کرنے والی صنعتیں ہی موجود نہیں ہیں  تو روزگار کیسے ملے گا؟ اسی لیے ہم نے ملک کو پرانی حکومتوں کی پرانی  ذہنیت  سے نجات دلانے کے لیے کام شروع کیا ہے۔ خلائی شعبے سے لے کر سیمی کنڈکٹر تک، الیکٹرانکس سے لے کر الیکٹرک گاڑیوں تک... ہم نے ہر نئی ٹیکنالوجی میں میک ان انڈیا کو آگے بڑھایا ہے۔ ہم نے خود انحصار ہندوستان پر کام کیا۔ ملک میں نئی ​​ٹیکنالوجی اور نئی براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری آئی ، اس کے لیے ہم نے  پی ایل آئی اسکیم شروع کی۔ میک ان انڈیا مہم اور پی ایل آئی اسکیم نے مل کر روزگار پیدا کرنے کی رفتار کو کئی گنا بڑھا دیا ہے۔ آج ہر شعبے میں صنعتوں کو فروغ مل رہا ہے جس کی وجہ سے  الگ الگ شعبوں کے نوجوانوں کے لیے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔ آج ملک میں بڑی سرمایہ کاری ہو رہی ہے اور ریکارڈ مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔ پچھلے 8 سالوں میں ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ اسٹارٹ اپ شروع کیے گئے ہیں۔ آج ہندوستان کے پاس دنیا کا تیسرا سب سے بڑا اسٹارٹ اپ ماحولیاتی نظام ہے۔ ان تمام شعبوں میں ہمارے نوجوانوں کو ترقی کے مواقع مل رہے ہیں اور انہیں روزگار مل رہا ہے۔

ساتھیو!

ہندوستان کے نوجوانوں کی صلاحیتوں کو بڑھانے کے لیے ان کی ہنر مندی پر  آج  حکومت بہت زیادہ توجہ دے رہی ہے۔ اس لیے ہم نے اسکل انڈیا جیسے مشن شروع کیے ہیں۔ آج ہنر مندی کےسینکڑوں مراکز میں نوجوانوں کو تربیت دی جا رہی ہے۔ ہمارے نوجوانوں کو تجربے اور مواقع کے لیے بھٹکنا نہ پڑے، ہم نے اس کے لیے بھی بندوبست کیے ہیں ۔پردھان منتری انٹرن شپ یوجنا کے تحت ہندوستان کی ٹاپ 500 کمپنیوں میں بامعاوضہ انٹرن شپ کا انتظام کیا گیا ہے۔ ہر انٹرن کو ایک سال کے لیے ماہانہ 5000 روپے دیے جائیں گے۔ ہمارا ہدف ہے کہ اگلے 5 سالوں میں ایک کروڑ نوجوانوں کو انٹرن شپ کا موقع ملے۔ اس سے نوجوانوں کو مختلف شعبوں میں حقیقی زندگی کے کاروباری ماحول سے وابستہ ہونے کا موقع ملے گا۔ ان کایہ تجربہ ان کے کیریئر کے لیے بہت کارگر ثابت ہوگا۔

 

ساتھیو!

ہندوستانی نوجوانوں  کو بیرونی ممالک میں بھی آسانی سے ملازمتیں حاصل ہوں، اس کے لیے  بھی حکومت ہند نئے مواقع پیدا کررہی ہے۔ حال ہی میں، جرمنی نے آپ نے اخبار ات میں پڑھا ہوگا، ہندوستان کے لیے ہنر مند افرادی قوت کی اسٹراٹیجی جاری کی ہے۔ اس سے قبل جرمنی ہرسال 20 ہزار  ہنر مند ہندوستانی نوجوانوں کو ویزے دیتا تھا،جن کے پاس  بہترین ہنر ہوتےتھے ۔ انہوں نے ایسے نوجوانوں کو ہر سال 90 ہزار ویزے دینے کا فیصلہ کیا ہے جس کا مطلب ہے کہ 90 ہزار افراد کو بیرون ملک روزگار کے لیے جانے کا موقع ملے گا۔  اس اس کا بہت بڑا فائدہ ہمارے نوجوانوں کو ہوگا۔ ہندوستان نے حالیہ برسوں میں 21 ممالک کے ساتھ مائیگریشن اور روزگار سے متعلق معاہدوں پر دستخط کیے ہیں۔ ان میں خلیجی ممالک کے علاوہ جاپان، آسٹریلیا، فرانس، جرمنی، ماریشس، اسرائیل، برطانیہ اور اٹلی جیسے معاشی طور پر بہت خوشحال ممالک شامل ہیں۔ ہر سال 3 ہزار ہندوستانی برطانیہ میں کام کرنے اور پڑھنے کے لیے 2 سالہ ویزا حاصل کر سکتے ہیں۔ ہر سال ہمارے 3 ہزار طلبہ وطالبات کو آسٹریلیا میں تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملے گا۔ ہندوستان کا ہنر نہ صرف ہندوستان کی ترقی میں بلکہ دنیا کی ترقی میں اپنا کردار بڑھتا جارہا ہے۔ہم اس سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔

ساتھیو!

آج حکومت کا کردارایسا جدید نظام بنانےکاہے جہاں ہر نوجوان کو موقع ملے اور وہ اپنی آرزوؤں کو پورا کر سکے۔ اسی لیے خواہ آپ جس عہدے پر بھی فائز ہوں، آپ کا مقصد نوجوانوں اور شہریوں کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کرنا ہونا چاہیے۔

ساتھیو!

آپ کو سرکاری ملازمت مہیا کرنے میں ملک کے ٹیکس دہندگان اور شہریوں کا اہم تعاون ہے۔ ہم اپنے شہریوں کی وجہ سے ہیں، ہم جو کچھ بھی ہیں ملک کے شہریوں کی وجہ سے ہیں، ہمیں جو مواقع مل رہے ہیں ان ہی کی وجہ سے مل رہے ہیں، اور ہمیں یہ تقرری صرف شہریوں کی خدمت کے لیے ملی ہے۔ بغیر خرچے، بغیر پرچی کے نوکری دینے  کا یہ نیا کلچر ہے، ہمیں بھی شہریوں کی خدمت کرکے اور ان کی زندگیوں میں آنے والی مشکلات کو کم کرکے یہ قرض چکانا ہوگا۔ او ہم کسی بھی عہدے پر فائز ہوں، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے ، ہماری ذمہ داری کوئی بھی ہو، چاہے وہ پوسٹ مین ہو یا پروفیسر، ہمارا کام ملک کے لوگوں کی خدمت کرنا ہے، غریب سے غریب آدمی کی خدمت کرنا ہے، خواہ وہ دلت ہوں، مظلوم ہوں، قبائلی ہوں ، خواتین ہوں، نوجوانو، ہمیں جس کی بھی  خدمت کا موقع ملے، ہمیں اسے اپنا مقدر سمجھ کر اپنے ہم وطنوں کی خدمت کرنی چاہیے۔ آپ ایسے وقت میں حکومت ہند میں ملازمت کے لیے آئے ہیں جب ملک نے ترقی یافتہ ہندوستان کا عہد کیاہے۔ اس ہدف کو پورا کرنے کے لیے  ہمیں ہر شعبے میں بہتر کارکردگی دکھانی ہوگی اور یہ آپ جیسے نوجوان ساتھیوں کے بغیر ممکن نہیں ہو گا۔ لہذا، آپ کو نہ صرف اچھا کام کرنا ہے، بلکہ آپ کو  سب سے بہتر کرکے دکھانا ہے۔ہمارے ملک میں سرکاری ملازمین ایسے ہونے چاہئیں کہ دنیا بھر میں ان کا چرچا بطور مثال ہو۔ ملک کو ہم سے توقعات رکھنا فطری بات ہے اور آج جب اسپیریشنل انڈیا کا ماحول ہے تو  توقعات کچھ زیادہ ہیں،لیکن وہ توقعات بھی ہماری امانت ہیں، یہ توقعات ہی ملک کو آگے بڑھنے کی توانائی دیتی ہیں۔ اور تب جاکریہ ہمارا یہ فرض بنتا  ہےکہ ہم اہل وطن کی توقعات پر پورا اتریں۔

 

ساتھیو!

اس  تقرری نامے کے ساتھ  آپ اپنی ذاتی زندگی میں بھی ایک نیا سفر شروع کرنے جا رہے ہیں۔ میری آپ سے گزارش ہے کہ  ہمیشہ منکسرالمزاج رہیں، ہم خادم ہیں، ہم حاکم نہیں  ہیں۔ اپنے سفر میں کچھ نیا سیکھنے کی عادت کبھی نہ چھوڑیں، آپ کو مسلسل نئی چیزیں سیکھتے رہنا چاہیے۔ اور سرکاری ملازمین کے لیے، حکومت ہندiGOT  کرم یوگی پلیٹ فارم پر مختلف قسم کے کورسز  پیش کرتی ہیں۔ آپ آن لائن جا سکتے ہیں، اس پلیٹ فارم سے جڑ سکتے ہیں، جب بھی آپ کو سہولت ہو اور جس مضمون میں آپ کی دلچسپی ہو اس میں ڈیجیٹل ٹریننگ ماڈیول کا فائدہ اٹھا سکتے ہیں، آپ کو زیادہ سے زیادہ کورسز مکمل کرنے چاہئیں۔ اور ساتھیو مجھے یقین ہے کہ آپ کی کوششوں سے ملک 2047 میں ترقی یافتہ ہندوستان بننے والا ہے۔ آج آپ کی عمر 20-22-25 سال ہوگی، آپ اپنی ملازمت میں بہترین پوزیشن پر ہوں گے، تب ملک ترقی یافتہ ہندوستان بن چکا ہوگا، آپ فخر سے کہیں گے کہ میرے 25 سال کی محنت اور پسینے کے نتیجہ میں آج میرا ملک ترقی یافتہ ہندوستان بن گیا ہے۔ کتنی بڑی خوش قسمتی کی بات  ہے،  آپ کو کتنا بڑا موقع ملا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ آپ کو روزگار ملا ہے،  آپ کوموقع ملا ہے۔ اور میں چاہتا ہوں کہ آپ اس موقع سے فائدہ اٹھائیں، اپنے خوابوں کو  شرمندہ تعبیر کرکے عزم کے ساتھ جینے کا حوصلہ پیدا کریں۔ آئیے آگے بڑھیں اور ترقی یافتہ ہندوستان کا خواب پورا ہونے تک ہم چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ ہمیں جو بھی ذمہ داری ملی ہے ہم اسے عوامی خدمت کے ذریعے پورا کریں گے۔

میں ایک بار پھر آج تقرری نامے پانے والے  تمام ساتھیوں کو مبارکباد پیش کرتا  ہوں۔ آپ کے روشن مستقبل کے لیے نیک خواہشات پیش کرتا ہوں، آج آپ کے خاندان میں خوشی کا  خاص ماحول ہوگا، میں آپ کے اہل خانہ کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتا ہوں۔ یہ دیوالی کا تہوار ہے، نیا موقع بھی ہے، آپ کے لیے تو یہ ڈبل دیوالی ہے۔  لطف اٹھائیں، بہت بہت  نیک خواہشات۔

شکریہ

 

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
Proud Moment For Every Indian: PM Modi On Sarnath Being Inscribed On UNESCO World Heritage List

Media Coverage

Proud Moment For Every Indian: PM Modi On Sarnath Being Inscribed On UNESCO World Heritage List
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Participants of Viksit Vibrant Village Programme share their experiences with PM Modi
July 26, 2026
Solo travel is a way of discovering the world while discovering oneself: PM
Every young person and every daughter of the country should move forward with confidence and self-belief: PM
Border villages may be geographically distant, but their residents are emotionally deeply connected with the nation: PM
Those who were last in priority earlier are now the first: PM
Journey of young participants reflects the spirit of Ek Bharat, Shreshtha Bharat: PM
Citizens should spend at least five per cent of their travel budget on purchasing local products: PM

Prime Minister Shri Narendra Modi today interacted virtually with participants of the Viksit Vibrant Village Programme 2026, during which young MYBharat Volunteers shared their experiences from border villages in Himachal Pradesh, Uttarakhand and Ladakh. The interaction highlighted the transformation of these villages through improved infrastructure, connectivity and public services, along with women-led development, tourism, community participation and stronger national integration. More than 5,000 MYBharat Volunteers from 245 districts across the country joined the programme virtually.

Introducing the programme, MYBharat Volunteer Shri Divyansh Joshi from Dadra and Nagar Haveli and Daman and Diu outlined initiatives including the Viksit Bharat Young Leaders Dialogue, Viksit Bharat Youth Parliament, Budget Twist, mentorship and volunteering programmes. He said more than 2.30 crore young people had benefitted from MYBharat initiatives, while 2.86 lakh youth participated in the nationwide quiz through which 403 volunteers were selected to visit border villages. Recounting his visit to Leo village in Kinnaur district of Himachal Pradesh, he highlighted interactions with residents, senior citizens and schoolchildren, career counselling for local youth, sports and cultural activities, the leadership of the woman Sarpanch and the functioning of the Ayushman Arogya Mandir. He said his homestay experience showed that belonging transcends language and State boundaries, adding that the volunteers paid homage to the country’s brave soldiers at the Kargil War Memorial and would compile their experiences for submission to the Prime Minister while remaining committed to the vision of Viksit Bharat.

MYBharat Volunteer Ms Nikita Pravin Solanki from Dadra and Nagar Haveli and Daman and Diu said her selection through the MYBharat quiz enabled her first independent journey to Dhar Chango Nichla village in Kinnaur district. The affectionate welcome extended by the villagers strengthened her confidence and reflected changing societal attitudes towards women. Through her interactions with the woman Pradhan, Panchayat representatives, farmers, senior citizens and children, she witnessed the multiple responsibilities shouldered by rural women and found, contrary to her earlier perceptions, quality roads, regular electricity, drinking-water connections and digital connectivity, which residents attributed to the Pradhan Mantri Gram Sadak Yojana, Jal Jeevan Mission and Ayushman Bharat. She also participated in cleanliness, sports and cultural activities, recalled the curiosity of village children about her home region and said she continued to remain in touch with her host family.

Recalling his Diwali visit to the Chango region in 2016, the Prime Minister said Ms Solanki’s journey reflected the growing confidence of India’s daughters and that MYBharat had transformed individual journeys into one national family. “Solo travelling is a way of discovering the world while discovering yourself,” observed Shri Modi.

MYBharat Volunteer Shri Sunil Kumar Kela from Jalore, Rajasthan, said that being from a border village himself enabled him to connect readily with the people of Dhar Chango Uprela village in Himachal Pradesh. Despite geographical and climatic differences, he found the people of both regions united by courage, patriotism and warmth. He remained connected with his family through video calls, showing them the Sutlej River, school, Jan Aushadhi Kendra, hospital and sports facilities, while his social-media posts encouraged friends to explore MYBharat. His initial apprehensions regarding roads, accommodation, electricity and mobile connectivity were dispelled by the high-quality roads reaching the homestay, solar-energy installations and improved infrastructure that had transformed daily life. He added that he remained in contact with his host family and had invited them to visit Rajasthan.

The Prime Minister observed that young people from border villages across Rajasthan, Kashmir, Himachal Pradesh and the North-East shared a common outlook and that border residents, though geographically distant, remained emotionally deeply connected with the nation. “Those who were last in priority earlier are now the first,” remarked Shri Modi.

MYBharat Volunteer Ms Bhavya Shri from Chittoor district of Andhra Pradesh said her desire to learn beyond academics led her to MYBharat and to Harsil Valley in Uttarkashi district of Uttarakhand. Her initial concerns about the unfamiliar climate, food, culture and lifestyle were dispelled by the hospitality of local residents and officials, while interactions with Indo-Tibetan Border Police personnel deepened her appreciation of their discipline, humility, dedication and commitment to the nation. She said participants from different States, languages and cultures arrived as strangers but returned as one family, reflecting the spirit of Ek Bharat, Shreshtha Bharat. Photographs of the Nelang and Jadung Valleys and apple orchards generated considerable interest among her friends, many of whom subsequently registered on MYBharat. She also recalled the equipment provided to help participants adapt to the cold climate, the resilience of a resident who chose to remain in his landslide-affected native village despite hardship, and the peaceful, meditative character of the Garhwali dance in contrast with the energetic folk dances of her home State.

Recalling his visit to Mukhwa village in Uttarakhand, the Prime Minister said the interaction reaffirmed his belief that India’s youth place the nation first. “The manner in which all of you have lived the spirit of Ek Bharat, Shreshtha Bharat will inspire many more young people,” observed Shri Modi.

Twenty-one-year-old MYBharat Volunteer Ms Sayantika Mistry from the Andaman and Nicobar Islands thanked the Prime Minister for envisioning MYBharat as a platform enabling crores of young people to contribute to nation-building. Recounting her journey from sea level to Maan village in Ladakh at an altitude of nearly 17,000 feet, she described suffering from acute mountain sickness and the care extended by the MYBharat team and ITBP personnel, including doctors who prioritised treating her as their guest before attending to their own personnel. She said the experience showed that ITBP personnel not only protected the borders but also cared deeply for citizens and made her appreciate the resilience required to live in high-altitude conditions. Contrary to her family’s expectation of poor connectivity, she found reliable internet, QR-code and UPI payment facilities and Wi-Fi in the border region. She also interacted with local children, one of whom expressed a desire to visit the Andaman and Nicobar Islands, and highlighted the community spirit through which residents collectively organised weddings and monastery events, restored a damaged mobile tower and constructed a storage facility for its batteries.

Encouraging Ms Mistry to document her experience through articles or a book so that others could better understand the country’s vastness, people and shared sense of belonging, Shri Modi remarked, “When you share joy, it multiplies.”

MYBharat Volunteer Shri Ashish Soni from Jaunpur district of Uttar Pradesh, who is preparing for the Civil Services Examination, thanked the Prime Minister for enabling young people to contribute suggestions during the Budget-making process. Sharing his experience of Kaza Khas in Himachal Pradesh’s Spiti region, he said his parents, who remembered a time when mobile connectivity in remote areas was difficult, were astonished when he video-called them from nearly 14,000 feet. Describing MYBharat as a bridge between a generation that had witnessed struggle and another witnessing transformation, he recounted writing letters from the world’s highest post office at Hikkim to the Prime Minister, his family, the Ministry of Youth Affairs, the Defence Minister and his District Magistrate. He said India was connected not only through metros and airports but also through institutions serving its remotest regions and highlighted QR-code payments at around 14,500 feet as evidence that Digital India had become a source of trust across the country. His interactions with women’s self-help groups introduced him to entrepreneurship through homestays, digital platforms and sea buckthorn-based products, while discussions on the PM MUDRA Yojana and Deendayal Antyodaya Yojana focused on expanding livelihood opportunities. He also highlighted the role of the Border Roads Organisation-built Chicham Bridge in improving connectivity, tourism and economic activity, besides noting the region’s potential for night tourism.

Observing that technology had reached every corner of the country and that purchasing local products would generate employment, support livelihoods and carry regional identities across India, Shri Modi urged, “Wherever you travel, spend at least five per cent of your travel budget on buying products from local people.”

Concluding the interaction, the Prime Minister extended his best wishes to the young participants. The programme highlighted MYBharat’s role in enabling young people to experience first-hand the transformation of India’s border villages, dispel outdated perceptions and deepen their understanding of the country’s cultural diversity, developmental progress, community participation and the spirit of Ek Bharat, Shreshtha Bharat.