چترمایہ شیو پوران گرنتھ کا اجراءکیا
لیلا چترا مندر کا دورہ کیا
’’گیتا پریس صرف ایک پرنٹنگ پریس نہیں ہے،بلکہ ایک زندہ عقیدت ہے‘‘
’’وسودیوا سروم یعنی سب کچھ وسودیو میں ہی ہے‘‘
’’روحانی روشنی جو 1923میں گیتا پریس کی شکل میں جگمگا اٹھی آج پوری انسانیت کے لئے رہنما بن گئی ہے‘‘
’’گیتا پریس ہندوستان کو جوڑتا ہے، ہندوستان کی یکجہتی کو مضبوط کرتا ہے‘‘
’’گیتا پریس ایک طرح سے ’ایک بھارت، شریشٹھ بھارت‘کے جذبی کی نمائندگی کرتا ہے‘‘
’’جب جب بے انصافی اور دہشت مضبوط ہوئی اور سچائی پر خطرے کے بادل چھائے ہیں، بھگوت گیتا ہمیشہ تحریک کا منبع ثابت ہوئی ہے‘‘
’’گیتا پریس جیسے ادارے انسانی قدروں اور اصولوں کا احیا ء کرنے کے لئے پیدا ہوئے ہیں‘‘
’’ہم ایک نیا ہندوستان بنائیں گے اور اپنے دنیا کی بہبود اور فلاح کے وژن کو کامیاب بنائیں گے‘‘

श्री हरिः। वसुदेव सुतं देवंकंस चाणूर-मर्दनम्।

देवकी परमानन्दंकृष्णं वंदे जगद्गुरुम्॥

اترپردیش کی گورنر آنندی بین پٹیل، وزیر اعلیٰ جناب یوگی آدتیہ ناتھ جی، گیتا پریس کے جناب کیشو رام اگروال جی، جناب وشنو پرساد جی، رکن پارلیمنٹ بھائی روی کشن جی، دیگر معززین، خواتین و حضرات!

ساون کا مقدس مہینہ، اِندر دیو کا آشیرواد، شیو اوتار گرو گورکھ ناتھ کی تپوستھلی، اور متعدد سنتوں کی کرم استھلی یہ گیتا پریس گورکھپور! جب سنتوں کا آشیرواد ملتا ہے، تب اس طرح کے اچھے موقع کا فائدہ حاصل ہوتا ہے۔ اس مرتبہ میرا گورکھپور کا دورہ، ’ترقی بھی، وراثت بھی‘ اس پالیسی کی ایک بہترین مثال ہے۔  مجھے ابھی بھی شیو پران مع تصاویر اور شیو پران کو نیپالی زبان میں جاری کرنے کی سعادت حاصل ہوئی ہے۔ گیتا پریس کے اس پروگرام کے بعد میں گورکھپور ریلوے اسٹیشن جاؤں گا۔ آج سے ہی گورکھپور ریلوے اسٹیشن کی جدیدکاری کے کام کا بھی آغاز ہونے جا رہا ہے۔ اور میں نے جب سے سوشل میڈیا پر اس کی تصاویر ڈالی ہیں، لوگ حیران ہوکر دیکھ رہے ہیں۔ لوگوں نے کبھی سوچا ہی نہیں تھا کہ ریلوے اسٹیشنوں کی بھی ایس صورت تبدیل کی جا سکتی ہے۔اور اسی پروگرام میں، میں گورکھپور سے لکھنؤ کے لیے وندے بھارت ریل گاڑی کو جھنڈی دکھاؤں گا۔ اور اسی وقت جودھ پور سے احمدآباد کے درمیان چلنے والی وندے بھارت ایکسپریس کو بھی روانہ کیا جائے گا۔ وندے بھارت ریل گاڑی نے، ملک کے متوسط طبقے کو سہولتوں کے لیے ایک نئی اُڑان دی ہے۔ ایک وقت تھا جب نیتا لوگ خطوط تحریر کیا کرتے تھے کہ ہمارے علاقے میں اس ریل گاڑی ایک ذرا ہالٹ بنا لے، اس ٹرین کا ہالٹ بنا لے۔ آج ملک کے کونے کونے سے نیتا مجھے خطوط لکھ کر کہتے ہیں کہ ہمارے علاقے سے بھی وندے بھارت چلایئے۔ یہ وندے بھارت کو لے کر ایک طرح کا جنون ہے۔ ان تمام چیزوں کے اہتمام کے لیے میں گورکھپور کے لوگوں کو، ملک کے لوگوں کو بہت بہت مبارکباد دیتا ہوں۔

ساتھیو،

گیتا پریس ملک کی واحد پرنٹنگ پریس ہے، جو صرف ایک ادارہ نہیں بلکہ، ایک زندہ عقیدہ ہے۔ گیتا پریس کا دفتر، کروڑوں افراد کے لیے کسی بھی مندر سے ذرا بھی کم نہیں ہے۔ اس کے نام میں بھی گیتا ہے، اور اس کے کام میں بھی گیتا ہے۔ اور جہاں گیتا ہے- وہاں بذاتِ خود کرشن موجود ہیں۔ اور جہاں کرشن ہیں وہاں ہمدردی بھی ہے، عمل بھی ہے۔ وہاں علم کا ادراک بھی ہے اور سائنس کی تحقیق بھی۔ کیونکہ، گیتا میں لکھا ہے ’واسودیو: سروَم‘۔ سب کچھ واسو دیو مے ہے، سب کچھ واسودیو سے ہی ہے، سب کچھ واسودیو میں ہی ہے۔

بھائیو اور بہنو،

1923 میں گیتا پریس کی شکل میں یہاں جو روحانی روشنی منور ہوئی، آج اس کی شعاعیں تمام بنی نوع انسانیت کی رہنمائی کر رہی ہیں۔ ہماری خوش نصیبی ہے کہ ہم سبھی اس انسانی مشن کی صدی کے گواہ بن رہے ہیں۔ اس تاریخی موقع پر ہی ہماری حکومت نے گیتا پریس کو گاندھی شانتی ایوارڈ بھی دیا ہے۔ گاندھی جی کا گیتا پریس سے جذباتی لگاؤ تھا۔ ایک دور میں گاندھی جی کلیان پتریکا کے توسط سے گیتا پریس کے لیے لکھا کرتے تھے۔ اور مجھے بتایا گیا کہ گاندھی جی نے ہی مشورہ دیا تھا کہ کلیان پتریکا میں اشتہار نہ چھاپے جائیں۔ کلیان پتریکا آج بھی گاندھی جی کے اس مشورے پر صد فیصد عمل کر رہی ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ آج یہ ایوارڈ گیتا پریس کو حاصل ہوا ہے۔ یہ ملک کی جانب سے گیتا پریس کے لیے اعزاز ہے، اس کے تعاون کا اعزاز ہے، اور اس کی 100 برسوں کی وراثت کا اعزاز ہے۔ ان 100 برسوں میں گیتا پریس کے ذریعہ کروڑوں کتابیں شائع کی جا چکی ہیں۔ اعدادو شمار کبھی کوئی 70 بتاتا ہے، کوئی 80 بتاتا ہے، کوئی 90 کروڑ بتاتا ہے! یہ تعداد کسی کو بھی حیران کر سکتی ہے۔ اور یہ کتابیں لاگت سے بھی کم قیمت پر فروخت ہوتی ہیں، گھر گھر پہنچائی جاتی ہیں۔ آپ تصور کر سکتے ہیں، علم کے اس وسیلے نے بہت سے لوگوں کو روحانی و فکری اطمینان بخشا ہوگا۔ معاشرے کے لیے وقف متعدد شہری تیار کیے ہوں گے۔ میں ان شخصیات کو مبارکباد پیش کرتا ہوں، جو اس یگیہ میں بغیر کسی تشہیر کے بے لوث اپنا تعاون دیتے رہے ہیں۔ میں اس موقع پر سیٹھ جی شری جے دیال گوئندکا، اور بھائی جی شری ہنومان پرساد پوددار جیسی شخصیات کے تئیں خراج تحسین بھی پیش کرتا ہوں۔

ساتھیو،

گیتا پریس جیسا ادارہ صرف مذہب اور عمل سے ہی نہیں جڑا ہے، بلکہ اس کا ایک قومی کردار بھی ہے۔ گیتا پریس، بھارت کو جوڑتی ہے، بھارت کی یکجہتی کو مضبوط کرتی ہے۔ ملک بھر میں اس کی 20 شاخیں ہیں۔ ملک کے ہر کونے میں ریلوے اسٹیشنوں پر ہمیں گیتا پریس کا اسٹال دیکھنے کو ملتا ہے۔ 15 الگ الگ زبانوں میں یہاں سے تقریباً 1600 اشاعتیں عمل میں آتی ہیں۔ گیتا پریس مختلف زبانوں میں بھارت کی بنیادی فکر کو عوام الناس تک پہنچاتی ہے۔ گیتا پریس ایک طرح سے ’ایک بھارت، شریشٹھ بھارت‘ کے جذبے کی نمائندگی کرتی ہے۔

ساتھیو،

گیتا پریس نے اپنے 100 برسوں کا سفر ایک ایسے وقت میں مکمل کیا ہے، جب ملک اپنی آزادی کے 75 برس منا رہا ہے۔ یہ کوئی اتفاق نہیں ہے۔ 1947 سے قبل بھارت نے مسلسل اپنی ازسر نو بیداری کے لیے مختلف میدانوں میں کوشش کی۔ مختلف ادارے بھارت کی روح کو بیدار کرنے کے لیے  وجود میں آئے۔اسی کا نتیجہ تھا کہ 1947 آتے آتے بھارت دل و جان سے غلامی کی زنجیریں توڑنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہوگیا۔گیتا پریس کا قیام بھی اس کی ایک بہت بڑی بنیاد بنی۔ 100 سال پہلے کا ایسا وقت جب صدیوں کی غلامی نے بھارت کے شعور کو داغدار کر دیا تھا۔ آپ بھی جانتے ہیں کہ اس سے بھی سینکڑوں برس قبل غیر ملکی حملہ آوروں نے، ہمارے کتب خانے جلا دیے تھے۔ انگریزوں کے دور میں گروکل اور گرو پرمپرا تقریباً برباد کر دی گئی تھی۔  ایسے میں فطری بات تھی کہ علم اور وراثت ختم ہونے کی کگار پر تھیں۔ ہماری مقدس کتابیں غائب ہونے لگی تھیں۔ جو پرنٹنگ پریس بھارت میں تھے وہ مہنگی قیمتوں کی وجہ سے عام انسانوں کی دسترس سے دور تھے۔

آپ تصور کیجئے، گیتا اور رامائن کے بغیر ہمارا معاشرہ کیسے چل رہا ہوگا؟ جب اقدار اور اصولوں کے وسیلے ہی سوکھنے لگیں، تو معاشرے کی ترقی خود بخود رُکنے لگتی ہے۔ لیکن ساتھیو، ہمیں ایک بات اور یاد رکھنی ہے۔ ہمارے بھارت کے ابدی سفر میں ایسے کتنے ہی مراحل آئے ہیں، جب ہم اور زیادہ بہتر بن کر باہر آئے ہیں۔ کتنی ہی مرتبہ برائی اور دہشت طاقتور ہوئی ہیں، کتنی ہی مرتبہ حق پر خطرات کے بادل منڈرائے ہیں، تاہم ہمیں شریمد بھاگوت گیتا سے ہی سب سے بڑا اعتماد حاصل ہوتا ہے – यदा यदा हि धर्मस्य ग्लानिर्भवति भारत। अभ्युत्थानमधर्मस्य तदाऽऽत्मानं सृजाम्यहम्॥ ، یعنی جب جب دھرم پر ، حق پر خطرہ منڈراتا ہے، تب تب ایشور اس کی حفاظت کے لیے ظاہر ہوتے ہیں۔ اور گیتا کا دسواں باب بتاتا ہے کہ ایشور کسی بھی ہستی کی شکل میں ظاہر ہو سکتا ہے۔ کبھی  کوئی سنت آکر معاشرے کو نئی سمت دکھاتے ہیں۔ تو کبھی گیتا پریس جیسے ادارے انسانی اقدار اور اصولوں کو ازسر نو زندہ کرنے کے لیے پیدا ہوتے ہیں۔ اسی لیے ہی، 1923 میں جب گیتا پریس نے کام کرنا شروع کیا تو بھارت کے لیے بھی اس کے شعور اور فکر کی ترسیل کا عمل تیز ہوگیا۔ گیتا سمیت ہماری مذہبی کتابیں پھر سے گھر گھر پڑھی جانے لگیں۔ مانس پھر سے بھارت کے مانس سے ہل مل گئی۔ ان مذہبی کتابوں سے خاندانی روایات اور نئی نسلیں جڑنے لگیں، ہمارے مقدس صحائف آنے والی نسلوں کے لیے تختیاں بننے لگے۔

ساتھیو،

گیتا پریس اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ جب آپ کے مقاصد نیک ہوتے ہیں، آپ کے اقدار صاف ستھرے ہوتے ہیں تو کامیابی آپ کا مترادف بن جاتی ہے۔ گیتا پریس ایک ایسا ادارہ ہے، جس نے ہمیشہ سماجی اقدار کو مضبوط کیا ہے، لوگوں کو فرض کا راستہ دکھایا ہے۔ گنگا جی کی صفائی ستھرائی کی بات ہو، یوگ سائنس کی بات ہو، پتانجلی یوگ سوتر کی اشاعت ہو، آیوروید سے متعلق آروگیہ اَنک ہو، بھارتی طرز حیات سے لوگوں کو متعارف کروانے کے لیے ’جیون چریہ اَنک‘ ہو، سماج میں خدمت کے اصولوں کو مضبوط کرنے کے لیے ’سیوا انک‘ اور ’دان مہیما‘ ہو، ان سب کوششوں کے پس پشت، ملک کی خدمت سے متعلق ترغیب جڑی رہی ہے، تعمیر ملک کا عزم رہا ہے۔

ساتھیو،

سنتوں کی تپسیا کبھی رائیگاں نہیں جاتی، ان کے عزم کبھی ناکام نہیں ہوتے۔ انہیں عزائم کا نتیجہ ہے کہ آج ہمارا بھارت مسلسل کامیابی کی نئی جہتیں قائم کر رہا ہے۔ میں نے لال قلعہ سے کہا تھا، اور آپ کو یاد ہوگا، میں نے لال قلعہ سے کہا تھا کہ یہ وقت غلامی کی ذہنیت سے آزاد ہوکر اپنے ورثے پر فخر کرنے کا ہے۔ اور اسی لیے، شروعات میں بھی میں نے کہا، آج ملک ترقی اور وراثت دونوں کو ساتھ لے کر چل رہا ہے۔ آج ایک جانب بھارت ڈجیٹل تکنالوجی میں نئے ریکارڈ قائم کر رہا ہے، تو ساتھ ہی، صدیوں بعد کاشی میں وشوناتھ دھام کا دِویہ روپ بھی ملک کے سامنے ظاہر ہوا ہے۔ آج ہم عالمی درجے کا بنیادی ڈھانچہ تیار کر رہے ہیں، تو ساتھ ہی کیدارناتھ اور مہاکال جیسے مذہبی مقامات کی عظمت کے گواہ بھی بن رہے ہیں۔ صدیوں بعد ایودھیا میں ایک عظیم الشان رام مندر کا ہمارا خواب پورا ہونے جا رہا ہے۔ ہم آزادی کے 75 برس بعد بھی اپنی بحریہ کے جھنڈے پر غلامی کے علامتی نشان کو ڈھو رہے تھے۔ ہم راجدھانی دہلی میں، بھارتی پارلیمنٹ کے بغل میں انگریزی روایات پر عمل پیرا تھے۔ ہم نے پوری خوداعتمادی کے ساتھ انہیں تبدیل کرنے کا کام کیا ہے۔ ہم نے اپنی ورثوں کو، بھارتی خیالات کو وہ مقام دیا ہے، جو انہیں ملنا چاہئے تھا۔ اسی لیے، اب بھارت کی بحریہ کے جھنڈے پر چھترپتی شیواجی مہاراج کے وقت کا نشان دکھائی دے رہا ہے۔ اب غلامی کے دور کا راج پتھ، کرتویہ پتھ بن کر فرض کے احساس کی ترغیب فراہم کر رہا ہے۔ آج ملک کی قبائلی روایات کا احترام کرنے کے لیے، ملک بھر میں قبائلی مجاہدین آزادی کے میوزیم بنائے جا رہے ہیں۔ ہماری جو مقدس قدیم مورتیاں چوری کرکے ملک سے باہر بھیج دی گئی  تھیں، وہ بھی اب واپس ہمارے مندروں میں آرہی ہیں۔ جس ترقی یافتہ اور روحانی بھارت کا خیال ہمارے منیشیوں نے ہمیں دیا  ہے، آج ہم اسے پورا ہوتا ہوا دیکھ رہے ہیں۔ مجھے یقین ہے، ہمارے سنتوں – رشیوں، منیوں ان کی روحانی مشق بھارت کی ہمہ جہت ترقی کو ایسے ہی توانائی فراہم کرتی رہے گی۔ ہم ایک نئے بھارت کی تعمیر کریں گے، اور عالمی فلاح و بہبود کے اپنے جذبے کو کامیاب بنائیں گے۔ اسی کے ساتھ آپ سبھی نے اس مقدس موقع پر مجھے آپ کے درمیان آنے کا موقع دیا اور مجھے اس مقدس کام میں کچھ لمحات آپ کے درمیان گزارنے کا موقع حاصل ہوا، یہ میری زندگی کی خوش نصیبی ہے۔ آپ سب کا میں ایک مرتبہ پھر تہہ دل سے بہت بہت شکریہ ادا کرتا ہوں۔ ڈھیر ساری نیک خواہشات دیتا ہوں۔

 

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
Pharma exports rose 2% to over $31 billion in FY26 despite sharp decline in March

Media Coverage

Pharma exports rose 2% to over $31 billion in FY26 despite sharp decline in March
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
India-ROK Comprehensive Framework for Partnership in Shipbuilding, Shipping and Maritime Logistics
April 20, 2026
Shared Vision for Operation of Yard Asssisted Growth with Efficiency and Scale (VOYAGES)

During the meeting between Prime Minister H.E. Shri Narendra Modi of India and H.E. Mr. Lee Jae Myung of the Republic of Korea (ROK) on the occasion of the latter’s state visit to India on 20 April 2026, the two sides had productive and in-depth exchange of views on mutually beneficial cooperation between their government agencies and private entities for partnership in shipbuilding, shipping and maritime logistics.

India and the ROK are both nations with rich maritime traditions and share extensive common interests and complementary strengths in the domain of maritime industries. With India’s rapid economic growth and internationalization of its economy, the maritime sector is extremely critical to India’s security and prosperity.

Both sides agreed that India’s maritime ambitions under Maritime Amrit Kaal 2047 Vision have created considerable opportunities for long-term collaboration with the ROK, a friendly nation with leading shipbuilding and maritime capabilities. Cooperation in shipbuilding, port development and maritime logistics could channelize the India-ROK Special Strategic Partnership towards practical benefits and economic value for both nations, while forging deeper understanding and partnership among their peoples.

The Indian side briefed the ROK side about opportunities to set up large-scale greenfield shipbuilding clusters in the country and the incentives available under the Government of India’s Shipbuilding Development Scheme as well as incentives provided by relevant state governments and Indian financial Institutions for the same. The Indian side invited leading shipbuilders from the ROK as technical and strategic anchors for these clusters through active involvement in design, production engineering, advanced manufacturing, quality and safety frameworks and operation. The ROK side expressed expectation for the advancement of cooperation based on the participation of the business sector.

To this end, both sides took positive note of the collaborations between Korean Industries and India, such as the conclusion of a non-binding MOU among the Korean shipbuilder HD Korea Shipbuilding & Offshore Engineering Co., Ltd. (HD KSOE), the identified cluster developer and facilitator, and the capital provider Maritime Development Fund (MDF) for joint development, financing, implementation, operation of a large greenfield shipyard in southern India. They hoped for early implementation of the project.

India has announced the 400+ vessels acquisition plan by the public agencies in India alone for the foreseeable future with a total value of Rs. 2.2 lakh crore (~USD 25 bn) during the India Maritime Week 2025. Taking note of the Government of India’s production-based financial support to local manufacturing, the two sides supported the cooperation of relevant industries from India and the ROK to establish an effective cooperation mechanism to channel this demand into bilateral partnerships, enhancing sustainable and resilient shipbuilding industry.

In recognition of the financial assistance provided by the Government of India for shipyards undertaking brownfield capacity expansion, the two sides supported the collaboration between Indian and the ROK businesses to upgrade existing Indian shipyards, including on a Block Fabrication Facility being built in southern India to support a new dry dock to construct large and specialized vessels.

The two sides believe that the policy and fiscal support from the Government of India for Indian shipbuilding would generate additional demand for components used in shipbuilding and ancillary industries, providing specialized Korean shipbuilding component manufacturers an attractive market to expand their business through local production. To this end, they welcomed the opening of a branch of the Korea Marine Equipment Association (KOMEA) in Mumbai and the interest of Korea Marine Equipment Research Institute (KOMERI) for related cooperation. They also agreed to enhance cooperation among relevant institutions and enterprises of both countries to support the growth of Indian shipbuilding ecosystem.

The two sides agreed to cooperate on skill training in the shipbuilding sector in India through a project to be implemented by Korea International Cooperation Agency (KOICA) in partnership with the Ministry of Ports, Shipping and Waterways (MoPSW) of India. They noted that this project will contribute to capacity building needed for India’s shipbuilding goals through development cooperation and public-private partnership between the two countries.

Indian side also encouragedKorean shipowners to use India’s GIFT IFSCA and E-Samudra to flag vessels in India, in order to benefit from relaxed ownership structures and available financial incentives.

It was noted that India’s rapidly growing seafarer pool (around 320,000 + with a strong growth in women seafarers) allows Korean ship-owners to recruit manpower to support Korean-flag operations.

The two sides welcomed the signing of an MOU between MoPSW of India and the Ministry of Oceans and Fisheries in the ROK for cooperation for port development, which entails collaboration in infrastructure development, knowledge sharing, etc. This opens opportunities for Korean port developers and terminal operators to participate in India’s strong PPP mechanization pipeline amounting to an estimated USD 13.3 billion in the next 5 years, including the 23 million TEU Vadhvan container port (Maharashtra), 150 MTPA multipurpose terminal in Bahuda (Odisha), 135 MTPA modern terminal of Deendayal Port (Gujarat), among others.

The two sides welcomed an MOU signed between Bharat Earth Movers Limited of India, HD Korea Shipbuilding and Offshore Engineering Co., Ltd (HD KSOE) and HD Hyundai Samho Co., Ltd of the ROK to jointly design, manufacture, and support next-generation conventional and autonomous maritime & port cranes in India.

The two sides took positive note of the ongoing discussions between Indian Maritime University (IMU) and Korea Maritime & Ocean University (KMOU) and encouraged them to finalize a strategic partnership in maritime education, research, and innovation with joint programs in naval architecture, marine engineering, and port management; collaborative R&D on green shipping technologies, autonomous vessels, and crane automation; and innovation hubs for student exchanges, faculty collaborations, and industry-linked projects with involvement of Indian and the ROK businesses.

The two sides also recalled with pride the ancient origins of the two countries’ maritime heritages. The Indian side shared that the National Maritime Heritage Complex (NMHC) is being developed at Lothal in the Gujarat State of India as the world’s largest maritime complex. The two sides welcomed the signing of a Memorandum of Understanding on cooperation in the field of Maritime Heritage to facilitate sharing, exchange of artefacts and information, technological support, joint activities, collaboration with universities, museums, and institutions.

Prime Minister Modi and President Lee expressed satisfaction over the direction and content of the progress made in cooperation between India and the ROK in the fields of shipbuilding, shipping and ports. They expressed confidence that, in the coming years, the India-ROK partnership will deliver benefits for the two countries and the world at large.