“Gujarat is leading the country’s resolution of achieving the goals of the Amrit Kaal”
“The Surat Model of natural farming can become a model for the entire country”
“‘Sabka Prayas’ is leading the development journey of New India”
“Our villages have shown that villages can not only bring change but can also lead the change”
“India has been an agriculture based country by nature and culture”
“Now is the time when we move forward on the path of natural farming and take full advantage of the global opportunities”
“Certified natural farming products are fetching good prices when farmers export them”

نئی دہلی۔ 10 جولائی      گجرات کے گورنر جناب آچاریہ دیوورت جی،گجرات کے ہر دلعزیز وزیر اعلیٰ، جناب بھوپیندر بھائی پٹیل، حکومت گجرات کے وزراء، اراکین پارلیمنٹ اوراراکین اسمبلی ، سورت کے میئر اور ضلع پریشد کے صدر، سبھی موجود سرپنچ، شعبہ زراعت کے ماہر ین ساتھیوں اور بھارتیہ جنتا پارٹی ، گجرات کے صدر جناب سی آر پاٹل اور میرے تمام پیارے کسان بھائیو اور بہنو!

چند مہینے پہلے، گجرات میں قدرتی کاشتکاری کے موضوع پر ایک قومی کانکلیو کا انعقاد کیا گیا تھا۔ اس انعقاد میں ملک بھر کے کسان شامل تھے۔ کہ ملک میں قدرتی کھیتی کے حوالے سے کتنی بڑی مہم چل رہی ہے اس کی یہ ایک جھلک تھی ۔ آج ایک بار پھر سورت میں یہ اہم پروگرام کا انعقاد  اس بات کی علامت ہے کہ کس طرح گجرات ملک کے امرت عزائم کو تحریک دے رہا ہے۔ ہر گرام پنچایت میں 75 کسانوں کو قدرتی کھیتی سے جوڑنے کے مشن میں سورت کی کامیابی پورے ملک کے لیے ایک مثال بننے والی ہے اور اس کے لیے سورت کے لوگوں کا خیر مقدم کرتا ہوں، سورت کے کسانوں کا خیر مقدم کرتا ہوں، حکومت کے تمام ساتھیوں کا استقبال کرتا ہوں۔

’قدرتی زراعت کانفرنس‘ کے اس موقع پر، میں اس مہم میں شامل ہر فرد کو، اپنے تمام کسان ساتھیوں کے تئیں نیک خواہشات کا اظہار کرتا ہوں۔ جن کسان ساتھیوں کو ،سرپنچ ساتھیوں کو آج اعزاز سے نوازا گیا ، میں انہیں بھی دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ اور خاص طور پر کسانوں کے ساتھ ساتھ سرپنچوں کے کردار کی بھی بہت ستائش کرتا ہوں۔ انہوں نے یہ پہل کی ہے اور اسی وجہ سے ہمارے تمام سرپنچ بھائیوں اور بہنیں یکساں طور پر ستائش کے مستحق ہیں۔  کسان تو ہے ہی۔

ساتھیوں،

آزادی کے 75 سال مکمل ہونے کے بعد ملک نے ایسے متعدد اہداف پر کام شروع کر دیا ہے، جو آنے والے وقت میں بڑی تبدیلیوں کی بنیاد بنیں گے۔ امرت کال میں ملک کی ترقی و پیشرفت کی بنیاد سب کی کاوش کا جذبہ ہے جو ہمارے اس ترقی کے سفر کو آگے بڑھا رہا ہے۔ خاص طور پر گاوں کے غریبوں اور کسانوں کے لیے جو بھی کام ہو رہے ہیں ان کی قیادت بھی ہم وطنوں اور گاؤں کی پنچایتوں کو دی گئی ہے۔ میں گجرات میں قدرتی کھیتی کے اس مشن کو مسلسل قریب سے دیکھ رہا ہوں۔ اور اس کی پیشرفت کو  دیکھ کر مجھے بہت خوشی ہوتی ہےاور خاص طور پر کسان بھائیوں اور بہنوں نے اس بات کو اپنے ذہن میں اتار لیا ہے اور دل سے اپنا لیا ہے، اس سے بہتر کوئی اورواقعہ نہیں ہو سکتاہے۔ سورت کے ہر گاؤں پنچایت سے 75 کسانوں کو منتخب کرنے کے لیے گاؤں کی کمیٹیاں، تعلقہ کمیٹیاں اور ضلعی کمیٹیاں بنائی گئیں۔ گاؤں کی سطح پر ٹیمیں بنائی گئیں، ٹیم لیڈر بنائے گئے، نوڈل افسروں کو تعلقہ میں ذمہ داری دی گئی۔ مجھے بتایا گیا ہے کہ اس دوران باقاعدہ تربیتی پروگرام اور ورکشاپ کا انعقاد بھی کیا گیا۔ اور آج اتنے کم وقت میں 550 سے زیادہ پنچایتوں سے 40 ہزار سے زیادہ کسان قدرتی کھیتی  کے مہم میں شامل ہو چکے ہیں۔ یعنی ایک چھوٹے سے علاقے میں اتنا بڑا کام، یہ بہت اچھی شروعات ہے۔ یہ ایک حوصلہ افزا آغاز ہے اور یہ ہر کسان کے دل میں اعتماد کا احساس پیدا کرتا ہے۔ آنے والے وقت میں پورے ملک کے کسان آپ سب کی کوششوں سے، آپ سب کے تجربات سے بہت کچھ جانیں گے، سمجھیں گے، سیکھیں گے۔ سورت سے نکلنے والی قدرتی زراعت کا ماڈل بھی پورے ہندوستان کے لیے نمونہ بن سکتا ہے۔

بھائیو اور بہنو،

جب اہل وطن خود ہی کسی مقصد کے حصول کے لیے پرعزم ہو جائیں تو اس مقصد کے حصول میں کوئی رکاوٹ نہیں ہوتی ہے اور نہ ہی ہمیں کبھی تھکن کا احساس ہوتا ہے۔ جب بڑے سے بڑا کام عوامی شراکت کی طاقت سے کیا جاتا ہے تو اس کی کامیابی ملک کے عوام بذات خود  یقینی بناتے ہیں۔ جل جیون مشن کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ گاؤں گاؤں صاف پانی فراہم کرنے کے لیے اتنے بڑے مشن کی ذمہ داری ملک کے گاؤں  اور گاؤں کے لوگ،  گاؤں میں بنی  پانی کمیٹیاں  یہی لوگ تو سنبھال رہے ہیں۔ سوچھ بھارت جیسی اتنی بڑی مہم کی کامیابی، جس کی آج تمام عالمی تنظیمیں ستائش کر رہی ہیں، اس کا بھی بڑا سہرا ہمارے گاؤں کے سر ہے۔ اسی طرح ڈیجیٹل انڈیا مشن کی غیر معمولی کامیابی بھی ان لوگوں کو ملک کا جواب ہے جو کہتے تھے کہ گاؤں میں تبدیلی لانا آسان نہیں ہے۔ لوگوں نے اپنا ذہن بنا لیا تھا بھائی، انہیں گاؤں میں  توایسے ہی رہنا ہے، ایسے ہی  گزر بسر کرنا ہے۔ گاؤں میں کوئی تبدیلی آ ہی نہیں سکتی ہے، یہ تصور کر کے بیٹھے تھے۔ ہمارے گاؤں نے دکھایا ہے کہ گاؤں نہ صرف تبدیلی لا سکتے ہیں بلکہ تبدیلی کی قیادت بھی کر سکتے ہیں۔ قدرتی کھیتی کے حوالے سے ملک کی یہ عوامی تحریک آنے والے سالوں میں بھی بڑے پیمانے پر کامیاب ہوگی۔ جو کسان اس تبدیلی میں جتنی جلدی  شامل ہوں گے، وہ اتنی ہی زیادہ کامیابی کی چوٹی پر پہنچیں گے۔

ساتھیوں،

ہماری زندگی، ہماری صحت، ہمارا معاشرہ ہمارے زرعی نظام کی بنیاد ہے۔اپنے یہاں کہتے ہیں جیسی غذا ، ویسی طبیعت۔ ہندوستان فطرت اور ثقافت کے اعتبار سے زراعت پر مبنی ملک رہا ہے۔ اس لیے جیسے جیسے ہمارا کسان ترقی کرے گا، جیسے جیسے ہماری زراعت ترقی کرے گی ، ویسےویسے ہمارا ملک بھی ترقی کرے گا۔ اس پروگرام کے ذریعہ  میں ملک کے کسانوں کو ایک اور بات یاد دلانا چاہتا ہوں۔ قدرتی کاشتکاری معاشی کامیابی کا ایک ذریعہ بھی ہے اور اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ ہماری ماں، ہماری ماں دھرتی، ہمارے لیےتو یہ دھرتی ماں، جس کی ہم ہر روز پوجا کرتے ہیں، صبح بستر سے اٹھ کر پہلے دھرتی ماں سے معافی مانگتے ہیں، یہ ہمارے سنسکار ہیں۔ یہ دھرتی  ماں اور دھرتی  ماں کی خدمت کے لیے ایک بہترین ذریعہ ہے۔ آج، جب آپ قدرتی کاشتکاری کرتے ہیں، تو آپ زراعت اور اس سے متعلقہ مصنوعات سے کاشتکاری کے لیے ضروری وسائل جمع کرتے ہیں۔ آپ گائے اور مویشیوں سے 'جیوامرت' اور 'گھن جیوامرت' تیار کرتے ہیں۔ اس سے کاشتکاری کی لاگت کم ہوتی ہے۔ خرچ کم ہو جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مویشیوں سے آمدنی کے اضافی ذرائع بھی کھلتے ہیں۔ ان مویشیوں کو پہلے جس سے آمدنی سے حاصل ہو رہی تھی ، اس سے اندر ہی اندر آمدن بڑھتی ہے۔ اسی طرح، جب آپ قدرتی کاشتکاری کرتے ہیں، تو آپ دھرتی ماتا کی خدمت کرتے ہیں، مٹی کے معیار، زمین کی صحت، اس کی پیداواری صلاحیت کی حفاظت کرتے ہیں۔ جب آپ قدرتی کاشتکاری کرتے ہیں، تو آپ فطرت اور ماحول کی بھی خدمت کر رہے ہوتے ہیں۔ جب آپ قدرتی کھیتی میں شامل ہوتے ہیں، تو آپ کو آسانی سے گائے ماں کی خدمت کرنے کی سعادت مل جاتی ہے، آپ کو ذی روح کی خدمت کی سعادت بھی ملتی ہے۔ اب مجھے بتایا گیا کہ سورت میں 40-45 گوشالوں کو ٹھیکہ دے کر گائے جیوامرت تیار کرنے کی ذمہ داری سونپی جائے گی۔ سوچیں اس سے کتنی گایوں  کی خدمت کی جائے گی۔ اس سب کے ساتھ قدرتی کھیتی سے پیدا کیا جانے والا اناج ، جو لاکھوں لوگوں کا پیٹ پالتی ہے، وہ جراثیم کش ادویات اور کیمیکلز سے ہونے والی مہلک بیماریوں سے بھی محفوظ رکھتی ہے۔ صحت مندی  کا یہ فائدہ کروڑوں لوگوں کو ملتا ہے، اور یہاں ہم نے خوراک سے صحت کا براہ راست تعلق تسلیم کیا ہے۔ آپ کے جسم کی صحت اس بات پر منحصر ہے کہ آپ کس قسم کی خوراک کھاتے ہیں۔

 

ساتھیوں،

زندگی کا یہ تحفظ ہمیں خدمت اور نیکی کے بے شمار مواقع بھی فراہم کرتا ہے۔ لہٰذا، قدرتی کاشتکاری نہ صرف انفرادی خوشحالی کا راستہ کھولتی ہے، بلکہ یہ 'سروے بھونتو سکھینہ، سرو سنتو نرمایہ' کے اس جذبے کو بھی مجسم کرتی ہے۔

ساتھیوں،

آج پوری دنیا ’پائیدار طرز زندگی ‘کی بات کر رہی ہے، خالص کھانے پینے کی بات کر رہی ہے۔ یہ ایک ایسا شعبہ ہے جس میں ہندوستان کے پاس ہزاروں سال کا علم اور تجربہ ہے۔ ہم نے صدیوں تک اس سمت میں دنیا کی قیادت کی ہے۔ اس لیے آج ہمارے پاس  موقع ہے کہ ہم قدرتی کاشتکاری جیسی مہمات میں آگے بڑھ کر زراعت سے متعلق عالمی امکانات کے کام سبھی تک اس کا فائدہ پہنچائیں۔ ملک گزشتہ آٹھ سالوں سے اس سمت میں سنجیدگی سے کام کر رہا ہے۔ آج کسانوں کو ’روایتی زرعی ترقی یوجنا‘اور’ہندوستانی زرعی نظام‘جیسے پروگراموں کے ذریعہ آج کسانوں کو  وسائل، سہولیات اور مدد دی جا رہی ہے۔ اس اسکیم کے تحت ملک میں 30 ہزار کلسٹر بنائے گئے ہیں، لاکھوں کسان اس کا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ ’روایتی زرعی ترقی یوجنا‘کے تحت ملک میں تقریباً 10 لاکھ ہیکٹر اراضی کا احاطہ کیا جائے گا۔ قدرتی کاشتکاری کے ثقافتی، سماجی اور ماحولیاتی اثرات کو مدنظر رکھتے ہوئے، ہم نے اسے نمامی گنگے پروجیکٹ سے بھی جوڑا ہے۔ قدرتی کھیتی کو فروغ دینے کے لیے آج ملک میں گنگا کے کنارے ایک الگ مہم چلائی جا رہی ہے، راہداری بنائی جا رہی ہے۔ مارکیٹ میں قدرتی کھیتی کی پیداوار کی الگ سے مانگ ہوتی  ہے، اس کی قیمت بھی زیادہ  ملتی ہے۔ ابھی میں داہود آیا تھا، تو میں نے داہود میں مجھے اپنی قبائلی بہنوں سے ملاقات ہوئی تھی اور وہ قدرتی کاشتکاری کرتی ہیں اور انہوں نے کہا کہ ہمارا آرڈر تو  ایک مہینہ پہلے بک ہوجاتا ہے۔ اور ہمارے ہاں جو سبزیاں روزانہ ہوتی ہیں، وہ زیادہ قیمت پر فروخت ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر گنگا کے آس پاس پانچ پانچ کلومیٹر  تک قدرتی کھیتی کی مہم شروع کی گئی ہے۔ تاکہ کیمیکل دریا میں نہ جائے، پینے میں بھی کیمیکل والا پانی پیٹ میں نہ جائے۔ مستقبل میں، ہم یہ تمام تجربات تاپی کے دونوں طرف، ماں نرمدا کے دونوں طرف کر سکتے ہیں۔ اور اس لیے قدرتی کاشتکاری کی پیداوار کو سرٹیفائی کرنے کے لیے، کیونکہ اس سے جو پیداوار ہوگی ، اس کی خصوصیت ہونی چاہیے، اس کی نشاندہی کی جانی چاہیے اور اس کے لیے کسانوں کو زیادہ رقم ملنی چاہیے، اس لیے ہم نے اس کی تصدیق کے لیے انتظامات کیے ہیں۔ اس کی تصدیق کے لیے کوالٹی ایشورنس کا نظام بھی بنایا گیا ہے۔ ہمارے کسان ایسی تصدیق شدہ فصلیں اچھی قیمت پر برآمد کر رہے ہیں۔ آج کیمیکل سے پاک مصنوعات عالمی منڈی میں توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہیں۔ ہمیں اس کا فائدہ ملک کے زیادہ سے زیادہ کسانوں تک پہنچانا ہے۔

ساتھیوں،

حکومت کی کوششوں کے ساتھ ساتھ ہمیں اس سمت میں  اپنے قدیم علم کی طرف بھی دیکھنا ہوگا۔ ہمارے یہاں ویدوں سے لے کر کرشی گرنتھوں اور کوٹلیہ، وراہ میہر جیسے دانشوروں تک ، قدرتی کھیتی سے وابستہ علم کا ایک وسیع ذخیرہ  موجود ہے۔ آچاریہ دیوورت جی ہمارے درمیان ہیں، وہ بھی اس موضوع کے بارے میں بہت زیادہ علم رکھتے ہیں اور انہوں نے اپنی زندگی کا منتر بنایا ہے، خود بھی بہت تجربہ کرکے کامیابی حاصل کی ہے اور اب اس کامیابی کا فائدہ گجرات کے کسانوں کو ملے ، اس لیے وہ ہمہ تن مصروف عمل ہیں۔ لیکن ساتھیو، جتنا میں جانتا ہوں، میں نے دیکھا ہے کہ  ہمارے شاستر سے لے کر عوامی معلومات تک ، عوامی بولی میں جو باتیں کہی گئی ہیں ، اس سے اتنے گہرے دھاگے پوشیدہ ہیں۔ میری جانکاری کے مطابق اپنے یہاں گھاگھ اور بھڈری جیسے دانشوروں نے زراعت کے منتر عام لوگوں کے لیے آسان زبان میں دستیاب کرائے ہیں۔ جیسا کہ ایک کہاوت ہے، اب ہر کسان اس کہاوت کو جانتا ہے یعنی 'گوبر وغیرہ  اور نیم کی کیک اگر کھیت میں ڈالی جائے تو فصل دوگنی ہوگی۔ اسی طرح ایک اور مشہور کہانی ہے، جملہ ہے- ’چھوڑے کھاد جوت گہرائی، پھر کھیتی کا مزہ دکھائی‘ یعنی کھیت میں کھاد چھوڑ کر پھر ہل چلانے سے کھیتی باڑی کا مزہ نظر آتا ہے، اس کی طاقت معلوم ہوتی ہے۔ میں چاہوں گا کہ جو تنظیمیں، غیر سرکاری ادارے اور ماہرین یہاں بیٹھے ہیں، وہ اس طرف توجہ دیں۔ کھلے ذہن کے ساتھ ایک بار اپنے تصورات پر نظر ثانی کریں۔ اس پرانے تجربے سے کیا نکل سکتا ہے، میری سائنسدانوں سے خصوصی درخواست ہے کہ ہمت  کر کے آگے آئیں۔ ہمیں اپنے دستیاب وسائل کی بنیاد پر نئی تحقیق کرنی چاہیے، اپنے کسان کو کیسے مضبوط بنایا جائے، اپنی زراعت کو کیسے اچھا بنایا جائے، اپنی دھرتی ماں کو کیسے محفوظ رکھا جائے، اس کے لیے ہمارے سائنسدان ، ہمارے تعلیمی ادارے اپنی  ذمہ داری نبھانے کے لیے آگے آئیں۔ یہ سب چیزیں وقت کے مطابق کسانوں تک کیسے پہنچائی جا سکتی ہیں، لیبارٹری میں تسلیم شدہ سائنس کسان کی زبان میں کسان تک کیسے پہنچائی جا سکتی  ہے۔ مجھے یقین ہے کہ قدرتی کھیتی کے ذریعہ  ملک  نے شروعات کی ہے ، اس سے نہ صرف کسانوں کی زندگی خوشحال ہوگی بلکہ ایک نئے ہندوستان کی راہ بھی ہموار  ہوگی۔ میں کاشی کے علاقے سے لوک سبھا کا ممبر ہوں، اس لیے جب بھی مجھے کاشی کے کسانوں سے ملنے کا موقع ملتا ہے، بات چیت ہوتی ہے، مجھے خوشی ہوتی ہے کہ میرے کاشی کے کسان قدرتی کھیتی کے حوالے سے کافی معلومات اکٹھا کرتے ہیں، وہ تجربہ کرتے ہیں۔ خود دن رات محنت کرتے ہیں اور انہیں یہ محسوس ہونے لگا ہے کہ اب جو پیداوار انہوں نے تیار کی ہے وہ عالمی منڈی میں فروخت ہونے کے لیے تیار ہے اور اسی لیے میں چاہوں گا اور سورت  تو ایسا ہے، شاید ہی کوئی گاؤں ایسا ہو گا جہاں لوگ بیرون ملک نہ ہوں۔ سورج کی بھی ایک خاص پہچان ہے اور اس لیے سورت کی پہل، یہ اپنے آپ میں  جگمگا اٹھے گی۔

ساتھیوں،
آپ نے جو مہم چلائی ہے وہ ہر گاؤں میں 75 کسان اور مجھے پختہ یقین ہے کہ اگر آج آپ نے 75 کا ہدف مقرر کیا ہے تو ہر گاؤں میں 750 کسان تیار ہوجائیں گے اور ایک بار جب پورا ضلع اس کام کے لیے تیار ہو جائے گا تودنیا کے جو خریدار ہیں وہ ہمیشہ آپ کے پاس پتہ ڈھونڈتے ہوئے آئیں گے کہ یہاں کوئی کیمیکل نہیں ہے، کوئی دوائیاں نہیں ہیں، سادہ قدرتی مصنوعات ہیں، تو لوگ اپنی صحت کے لیے دو پیسے زیادہ دے کر یہ سامان لیں گے۔ سورت شہر میں تمام سبزیاں اپنی جگہ سے جاتی ہیں، اگر سورت شہر کو پتہ چل جائے گا کہ آپ کی سبزی قدرتی کھیتی کی ہے، تو مجھے پختہ یقین ہے کہ ہمارے سورتی لوگ اس بار کی پیداوار تو اسی بار کا اوندھیو آپ کی قدرتی کھیتی  کی سبزی میں سے ہی بنائیں گے۔ اور پھر سورت کے لوگ بورڈ لگائیں گے، قدرتی کھیتی کی سبزی والی اوندھیو۔ آپ دیکھیں گے اس علاقے میں ایک مارکیٹ بن رہی ہے۔ سورت کی اپنی طاقت ہے، سورت کے لوگ جس طرح  ہیروں کو تیل لگاتے ہیں ، ویسے اس کو تیل لگائیں گے۔ سورت میں چل رہی اس مہم کا فائدہ اٹھانے کے لیے سب لوگ آگے آئیں گے۔ آپ سب کے ساتھ بات چیت کرنے کا موقع ملا، اتنی اچھی مہم شروع کی ہے، میں اس کے لیے آپ سب کو دوبارہ مبارکباد دیتا ہوں۔ اور اس کے ساتھ، ایک بار پھر آپ سب کا بہت بہت شکریہ۔

بہت بہت مبارک ہو

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
 PLI schemes attract over Rs 2.16 lakh crore investment, generate 14.39 lakh jobs

Media Coverage

PLI schemes attract over Rs 2.16 lakh crore investment, generate 14.39 lakh jobs
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
PM Modi inaugurates Phase I of Noida International Airport, developed with an investment of around ₹11,200 crore
March 28, 2026
The inauguration of Phase-I of Noida International Airport marks a major step in Uttar Pradesh’s growth story and India’s aviation future: PM
UP has now emerged as one of the states with the highest number of international airports in India: PM
Airports are not just basic facilities in any country, they give wings to progress: PM
Our government is making unprecedented investments in modern infrastructure to build a Viksit Bharat: PM

The Prime Minister, Shri Narendra Modi, today inaugurated the Noida International Airport at Jewar in Uttar Pradesh. Expressing his pride and joy on the occasion, the Prime Minister said that today marks a new chapter in the Viksit UP, Viksit Bharat Abhiyan. He noted that India's largest state has now become one of the states with the highest number of international airports. PM Modi shared that he felt doubly proud , first, for having laid the foundation stone of this airport and now inaugurating it, and second, because the name of this grand airport is linked to Uttar Pradesh. "This is the state that chose me as its representative and made me a Member of Parliament, and its identity is now associated with this magnificent airport," remarked Shri Modi.

Highlighting the far-reaching impact of the new airport, the Prime Minister said that the Noida airport will benefit a vast region encompassing Agra, Mathura, Aligarh, Ghaziabad, Meerut, Etawah, Bulandshahr, and Faridabad. He emphasised that the airport will bring numerous new opportunities for the farmers, small and medium enterprises, and the youth of western Uttar Pradesh. "Aircraft will fly from here to the world, and this airport will also become a symbol of a developed Uttar Pradesh taking flight," said Shri Modi, extending his heartfelt congratulations to the people of the state, especially western UP.

Speaking about the current global situation, the Prime Minister observed that the entire world is deeply concerned today, with a war raging in West Asia for over a month, creating crises of essential commodities including food, petrol, diesel, gas, and fertilizers in many countries. He noted that India imports a very large quantity of crude oil and gas from the conflict-affected region. "The Government is taking every possible step to ensure that the burden of this crisis does not fall on ordinary families and farmers," affirmed Shri Modi.

Underscoring India's continued momentum of rapid development even during times of global crisis, the Prime Minister noted that in Western Uttar Pradesh alone, this is the fourth major project to be either inaugurated or have its foundation stone laid in recent weeks. "During this period, the foundation stone of a major semiconductor factory in Noida was laid, the country's first Delhi-Meerut Namo Bharat train gained speed, the Meerut Metro was expanded, and today the Noida International Airport is being inaugurated," highlighted PM Modi.

The Prime Minister credited the current Government for these remarkable achievements in UP's development. He noted that the semiconductor factory is making India self-reliant in technology, the Meerut Metro and Namo Bharat Rail are providing fast and smart connectivity, and the Jewar Airport is connecting entire North India to the world. " Today under the current government, the same Noida is becoming a powerful engine of UP's development," asserted Shri Modi.

Elaborating on the history of the airport project, The Prime Minister recalled that the Jewar Airport was approved by Atal ji as early as 2003. And as soon as the current government was formed here, the foundation was laid, construction happened, and now it has started operations," said Shri Modi.

Drawing attention to the region's emerging role as a logistics hub, the Prime Minister pointed out that this area is becoming the hub of two major freight corridors , special railway tracks laid for goods trains, which have enhanced North India's connectivity with the seas of Bengal and Gujarat. He noted that Dadri is the strategic point where both these corridors converge, meaning whatever farmers grow and industries produce here can now reach every corner of the world swiftly, by land and by air. "This kind of multi-modal connectivity is making UP a major attraction for investors worldwide," explained PM Modi.

Addressing the transformation of the region's image, the Prime Minister said. "Today, Noida is ready to welcome the entire world. This whole area is strengthening the resolve of Aatmanirbhar Bharat”.

The Prime Minister expressed his gratitude to the farmers who gave up their lands to make this project a reality, noting that agriculture and farming hold great importance in the region's economy. Shri Modi noted that the expansion of modern connectivity will further boost food processing prospects in Western UP, adding, "The agricultural produce from here will now reach global markets more efficiently."

Acknowledging the contribution of sugarcane farmers to reducing India's dependence on crude oil, the Prime Minister highlighted the significant role of ethanol produced from sugarcane. PM Modi highlighted that without the increase in ethanol production and its blending with petrol, India would have had to import an additional four and a half crore barrels,approximately 700 crore litres of crude oil annually, adding, "The hard work of our farmers has given the country this enormous relief during the time of crisis."

The Prime Minister further elaborated that ethanol has not only benefited the nation but has also greatly benefited farmers, with approximately Rs 1.5 lakh crore worth of foreign exchange being saved. He recalled the earlier days when sugarcane farmers had to wait for years for their dues. "Today, thanks to the efforts of the current Government, the condition of sugarcane farmers has improved significantly," affirmed Shri Modi.

Emphasizing that airports are not merely amenities but catalysts for progress, the Prime Minister pointed out the remarkable expansion of India's aviation infrastructure. Highlighting that today, there are more than 160 airports, PM Modi remarked that the Air connectivity is now reaching not just metropolitan cities but also smaller towns. “ The current government has made air travel accessible for the common Indian," asserted Shri Modi, adding that the number of airports in Uttar Pradesh has been increased to seventeen.

Highlighting the impact of the UDAN scheme, the Prime Minister said that the government has consistently strived to ensure that while airports are built, airfares remain within the reach of ordinary families. Noting that more than one crore sixty lakh citizens have travelled by air at affordable rates by booking tickets under the UDAN scheme, Shri Modi remarked, “ Recently, the Central Government has further expanded the UDAN scheme with an approval of approximately Rs 29,000 crore, under which 100 new airports and 200 new helipads will be built in smaller cities in the coming years. UP will also benefit immensely from this."

Speaking about India's rapidly growing aviation sector, the Prime Minister noted that as new airports are being built, the demand for new aircraft is also rising, with various airlines placing orders for hundreds of new planes. Shri Modi observed that this creates tremendous opportunities for the youth, including pilots, cabin crew, and maintenance professionals, adding that "our government is also expanding training facilities in the aviation sector" to meet this growing demand.

Addressing a critical gap in India's aviation ecosystem, the Prime Minister drew attention to the Maintenance, Repair, and Overhaul (MRO) sector, noting that 85 per cent of Indian aircraft still have to go abroad for MRO services. PM Modi noted that the government has resolved to make India self-reliant in the MRO sector as well and highlighted that today, the foundation stone of an MRO facility has been laid here at Jewar. “When ready, it will serve aircraft from India and abroad , generating revenue for the country, keeping our money within India, and creating numerous jobs for the youth," announced Shri Modi.

Underlining the government's priority of ensuring citizen convenience and saving their time and money, the Prime Minister spoke about the expansion of modern rail services such as Metro and Vande Bharat. "The Delhi-Meerut Namo Bharat Rail has already been used by over two and a half crore passengers. The journey between Delhi and Meerut that used to take hours is now completed in minutes," said PM Modi.

Underscoring the unprecedented investment in modern infrastructure for a Viksit Bharat, the Prime Minister shared that over the past eleven years, the infrastructure budget has been increased more than six-fold, with Rs 17 lakh crore spent on highways and expressways and over one lakh kilometres of highways constructed. He noted that railway electrification has expanded from 20,000 kilometres before 2014 to over 40,000 kilometres since then, with nearly 100 per cent of the broad-gauge network now electrified. The Prime Minister highlighted that for the first time, the Kashmir Valley and the capitals of the North-East are being connected to the rail network, while port capacity has more than doubled in the past decade and the number of inland waterways continues to grow. "India is working at a rapid pace in every sector necessary for building a Viksit Bharat," stated Shri Modi.

Calling for collective effort and national unity in the face of global challenges, the Prime Minister said he had spoken at length in Parliament and held detailed discussions with Chief Ministers about tackling the crisis arising from the ongoing conflict. He appealed to the people to face this crisis with a calm mind and patience, calling it the greatest strength of Indians. PM Modi reiterated that what is in the interest of Indians and in the interest of India, that alone is the policy and strategy of the Government of India." I am fully confident that all political parties will lend strength to the country's united efforts”, concluded Shri Modi.