Share
 
Comments
Bundelkhand Expressway will create many employment opportunities and will also connect the people with the facilities available in big cities: PM Modi
Bundelkhand Expressway will prove to be development expressway of region: PM Modi in Chitrakoot
UP Defense Corridor will be getting momentum from Bundelkhand Expressway: PM Modi
PM Modi lays the foundation stone of 296 km-long Bundelkhand Expressway in Chitrakoot, to be built at a cost of Rs 14,849 crore

نئی دہلی، یکم مارچ 2020 / چترکوٹ کی اس مقدس سرزمین پر بڑی تعداد میں  آئے ہوئے میرے بھائیوں اور بہنوں، چترکوٹ میں رام جی اپنے بھائی لکھن اور سیا جی کے ساتھ اتئی  نِواس کرت ہیں۔ جاسے ہم مریادہ پروشوتّم رام کی تپواستھلی میں آپ سبھئی کو ابھینند کرت ہوں۔

اتئے بہت سارے بیرن نے جنم لؤ ہیں، کرم بھومی بناؤ ہے۔ انّے بھی ہماؤ نمن۔

بھائیوں اور بہنوں ،

میں سب سے پہلے،آپ سے معذرت چاہتا ہوں کیونکہ میں نے ہیلی کاپٹر سے دیکھا  جتنے لوگ اندر ہیں اس  سے زیادہ لوگ باہر ہیں۔ وہ اندر آنے  کی کوشش کر رہے ہیں لیکن آ نہیں پا رہے ہیں۔ میں اس تکلیف کے لیے  میں معذرت چاہتا ہوں۔ لیکن اتنی بڑی تعداد میں آنے کا مطلب ہے کہ ترقی کے منصوبے پر آپ کا کتنا گہرا اعتماد ہے، گوسوامی تلسی داس نے کہا ہے:

چترکوٹ گھاٹ پر بھئی سنتن کی بھیر ۔

آج ، آپ سبھی کو دیکھ کر ، آپ کے اس سیوک کو بھی کچھ کچھ ایسا ہی محسوس ہو رہا ہے۔ چترکوٹ صرف ایک مقام نہیں ہے ، بلکہ ہندوستان کے قدیم معاشرے کی زندگی کے عزم کا مقام تپ استھلی ہے۔ اس سر زمین نے ہندوستانیوں میں مریادہ کے نئے سنسکار پیدا کیے ہیں۔  یہاں سے  ہندوستان کے معاشرے کو  نئے آئیڈیل ملے ہیں۔ پربھو شری رام قبائلیوں سے، جنگلات میں رہنے والوں سے، دوسرے کاموں میں مصروف ساتھیوں سے  کیسے متاثر ہوئے ، اس کی کہانیوں لامحدود ہیں۔

 

 

 

ساتھیوں ،

بدلتے وقت کی ضروریات کے ساتھ ہندوستان کی قدیم روایات کو منسلک کر کے اور ان کو زندہ رکھنے کے تجربات بھی اسی سرزمین  سے ہوچکے ہیں۔  بھارت رتن ، راشٹر رشی نانا جی دیشمکھ نے یہیں سے  ہندوستان کو خود کفیلی کے راستے پر لے جانے کی وسیع کوششیں شروع کی تھیں۔ دو دن پہلے ہی نانا جی کو ان کی برسی پر ملک نے یاد کیا ہے۔

بھائیوں اور بہنوں،

یہ ہم سبھی کی خوش قسمتی  ہے کہ گرامودیہ سے راشٹرودیہ تک جس عزم کو لے کر نانا جی نے اپنی بسر کی اس کو عملی جامہ پہنانے والے ہزاروں کروڑ روپے کے پروجیکٹوں کا سنگ بنیاد  اور آغاز اسی چترکوٹ کے مقدس سرزمین سے ہو رہا ہے۔

بندیل کھنڈ کو ترقی کے  ایکسپریس وے پر لے جانے والا ، بندیل کھنڈ ایکسپریس وے اس پورے علاقے کے عوام کی زندگی کو بدلنے والا ثابت ہوگا۔ قریب  15  ہزار کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر ہونے والا یہ ایکسپریس وے یہاں روزگار کے ہزاروں مواقع پیدا کرے گا اور یہاں کے عام لوگوں کو بڑے بڑے  شہروں کی سہولت فراہم کرائے گا۔  کچھ دیر قبل ہی یہاں ملک کے کسانوں کی آمدنی بڑھانے کے لئے ، کسانوں کو بااختیار بنانے کے لئے 10 ہزار کسان پروڈیوسر آرگنائزیشنز بنانے کا منصوبہ شروع کیا گیا ہے۔یعنی ، کسان اب تک پروڈیوسر تھا ، اب وہ کسان پروڈیوسر آرگنائزیشنز – ایف پی او- کے ذریعہ بھی کاروبار کرے گا۔ اب کسان فصل بھی  بوئے گا اور ایک ہنر مند تاجر کی طرح سودے بازی کرکے اپنی پیداوار کی صحیح قیمت پائے گا۔ میری آپ سے گزارش ہے کہ اس پروگرام کے فورا بعد ہی یہاں سے نکلنے کے لئے جلدی نہ کریں۔ یہاں پر ملک بھر میں جو کامیاب ایف پی او ہیں ان کی نمائش لگی ہے۔ میں نے اس  نمائش کو دیکھا۔ میرا سینا چوڑا ہوگیا۔ میری آپ سے گزارش ہے کہ ضرور دیکھیں۔ آپ یہ سمجھنے کی کوشش کریں گے کہ… انہوں نے اپنی اس ریاست میں ایف پی او کے ذریعہ کتنا کمال کر کے رکھا ہوا ہے۔ اس پوری مہم پر آنے والے 5 برسوں میں تقریباً 5 ہزار کروڑ روپئے خرچ کیے جائیں گے۔ ان تمام ترقیاتی منصوبوں کے لئے ، میرے کسان بھائیوں اور بہنوں کو ،  بندیل کھنڈ کو، بندیل کھنڈ کے شہریوں کو، آپ کو ترقی کی اس دوڑ میں بندیل کھنڈ کے شامل ہونے پر پورے ملک کو بہت بہت مبارکباد۔

ساتھیوں،

ہمارے ملک میں کسانوں سے متعلق پالیسیوں کو ہماری حکومت نے مسلسل ایک نئی سمت دی ہے ، اسے کاشتکاروں کی آمدنی سے جوڑا ہے۔ حکومت کی جانب سے اس بات کو یقینی بنایا جارہا ہے کہ کسان کی لاگت کم ہو ، پیداوار میں اضافہ ہو اور پیداوار کی مناسب قیمت ملے۔ اس کے لئے ، گزشتہ پانچ برسوں میں بیج سے بازار تک متعدد فیصلے کیے  گئے ہیں۔  ایم ایس پی کا فیصلہ ہو، سوئل  ہیلتھ کارڈ ہو ، یوریہ کی سو فیصد نیم کوٹنگ ہو، کئی دہائیوں  سے  آب پاشی کے نامکمل پروجیکٹوں  کی تکمیل ہو ، حکومت نے ہر سطح پر کام کیا ہے۔ کسانوں کی آمدنی میں اضافہ کا اہم سفر کا آج بھی ایک اہم مرحلہ ہے۔ آج ہی یہاں پردھان منتری کسان سمّان ندھی کے ایک سال پورا  ہونے کی تقریب بھی منائی جارہی ہے۔ مجھے یاد ہے کہ  ایک سال پہلے جب اس اسکیم کو  لانچ کیا گیا تھا ، تو  کس قسم کے خدشات پیدا کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ لیکن اتنے کم وقت میں ، ملک کے تقریباً ساڑھے آٹھ کروڑ کسان خاندانوں کے بینک کھاتوں میں براہ راست پچاس ہزار کروڑ سے زیادہ کی رقم جمع ہوچکی ہے۔ چترکوٹ سمیت پورے یوپی کے 2 کروڑ سے زیادہ کسان خاندانوں کے کھاتوں میں بھی تقریباً 12 ہزار کروڑ روپے جمع ہوچکے ہیں۔ آپ تصور کر سکتے ہیں 50 ہزار کروڑ روپے سے زیادہ صرف ایک سال میں وہ بھی  سیدھے بینک کھاتے میں  بغیر بچولیے کے،  بغیر کسی سفارش ، بغیر کسی بھید بھاؤ کے !!

ساتھیوں ،

آپ نے پچھلی دہائیوں میں وہ دن بھی دیکھے ہیں  جب بندیل کھنڈ کے نام پر، کسانوں کے نام پر ہزاروں کروڑوں کے پیکیج کا اعلان ہوتا تھا ، لیکن کسان کو اُس کا فائدہ نہیں ملتا تھا۔ اب ملک  ان دنوں کو پیچھے چھوڑ چکا ہے۔ اب دلی سے نکلنے والی  پائی پائی اس کے  حقدار تک پہنچ رہی ہے۔ اسی سلسلے میں  آج  کسان سمان ندھی یوجنا  کے  دائرے کو  مزید بڑھایا گیا ہے۔ اب جو اس اسکیم کے استفادہ کنندگان ہیں انہیں بینکوں سے آسان قرض بھی ملے، اس کے لیے تمام کسانوں کو کریڈٹ کارڈ کی سہولت فراہم کرائی جا رہی ہے۔ ہمارے غریب کسان کو، چھوٹے کسان کو ، ساہوکاروں پر انحصار نہ کرنا پڑے ایسا  بڑا کام کسان کریڈٹ کارڈ سے ہونے والا ہے۔ بینک سے ملنے والے سستے اور آسان قرض کی وجہ سے ، اب قرض کے لیے  آپ کو اِدھر اُدھر نہیں جانا پڑے گا۔

بھائیو ں اور بہنوں،

کوشش یہ ہے کہ جتنے بھی ساتھی پی ایم کسان یوجنا کے اسفادہ کنندگان ہیں ، ان کو کسان کریڈٹ کارڈ سے بھی جوڑا جائے۔ اب تقریباً پونے دو کروڑ استفادہ کنندگان اس سے محروم ہیں۔ اس خلا کو پُر کرنے کے لئے ، اسی مہینے 15 روزہ ایک خصوصی مہم بھی چلائی گئی، جس سے 40 لاکھ سے زیادہ کسانوں کو کے سی سی سے جوڑ گیا  ہے۔ ان میں سے کچھ ساتھیوں کو کچھ دیر پہلے یہاں کارڈ بھی دیئے گئے۔

بھائیو ں اور بہنوں،

جو ساتھی پی ایم کسان  یوجنا کے استفادہ کنندگان ہیں ان کو پی ایم جیون جیوتی بیمہ اور پی ایم جیون سرکشا بیمہ یوجنا سے بھی جوڑا جا رہا ہے۔ اس سے کسانوں ساتھیوں کو مشکل وقت میں 2 لاکھ روپے تک کی بیمے کی رقم یقینی ہوجائے گی۔

ساتھیوں ،

حال ہی میں حکومت نے ایک اور اہم فیصلہ کیا ہے پردھان منتری فصل بیمہ سے متعلق کیا ہے۔ اب اس اسکیم میں شامل ہونا رضاکارانہ بنا دیا گیا ہے۔  پہلے بینک سے قرض لینے والے کسانوں ساتھیوں کو اس میں شامل ہونا ہی پڑتا تھا ، لیکن اب اس کا انحصار کسان کی مرضی پر ہوگا۔  اب ، اگر وہ جڑنا چاہیں تو جڑ سکتے ہیں،  نہ جڑنا چاہیں تو اپنے ااپ کو باہر رکھ سکتے ہیں۔ یہ فیصلہ بھی اس لئے لیا گیا ہے کیونکہ اب خود سے ہی اس اسکیم سے جڑنے والے کسانوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہوتا جارہا ہے۔

اس اسکیم سے جڑنا بھی اس لیے مفید ہے  کیوں کہ 13 ہزار کروڑ روپے کے پریمیم کے بدلے  تین سالوں میں کسانوں کو 56 ہزار کروڑ روپئے کی دعویٰ کی رقم دی گئی ہے۔ یعنی ، بحران کے وقت یہ اسکیم کسانوں کے لئے وردان ہے۔

ساتھیوں ،

اس سال کے بجٹ میں بھی کئی اہم فیصلے کئے گئے ہیں ، جن کا فائدہ کسانوں کو ہوگا۔ کسانوں کی آمدنی بڑھانے کے لئے ایک 16 نکاتی پروگرام تیار کیا گیا ہے۔

گاؤں میں ذخیرہ کرنے کے لئے ایک جدید اسٹور ہاؤس ، پنچایت کی سطح پر کولڈ اسٹوریج ، جانوروں کے لئے مناسب مقدار میں  چارہ دستیاب ہو اس  کے لئے ایک جامع ماسکیم تیار کی گئی  ہے۔

اس کے علاوہ ،گاوؤں سے  کسانوں اور مویشی پالنے والوں کے پھل ، سبزی، دودھ ، مچھلی جیسی جلد خراب ہونے والی اشیاء کو محفوظ منڈی تک پہنچانے والی کسان ریل جیسی سہولت کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔

بھائیوں اور بہنوں ،

ہمارے ملک میں دیہی بازاروں کو یا گاؤں کی مقامی منڈیوں کو تھوک بازار اور عالمی بازار تک جوڑا جانا بھی  بہت ضروری ہے۔ اس کے لئے حکومت دیہی خوردہ زراعی مارکیٹ کو وسعت دینے پر کام کر رہی ہے۔ ملک میں 22 ہزار دیہی ہاٹوں میں ضروری انفراسٹرکچر تیار کیا جارہا ہے۔ حکومت کی کوشش ہے کہ کسان کو اُس کے کھیت کے کچھ کلومیٹر کے دائرے میں ہی  ایسا نظام ملے ، جو اسے ملک کے کسی بھی بازار سے جوڑ دے ۔ آنے والے وقت میں ، یہ دیہی ہاٹ زرعی معیشت کے نئے مراکز بن جائیں گے۔  یہی وجہ ہے کہ دیہی منڈیوں کو بڑی منڈیوں یعنی اے پی ایم سی اور پھر دنیا بھر کی منڈی سے جوڑا جا رہا ہے۔ کوشش یہ ہے کہ ہمارے کسانوں کو اپنی پیداوار کو بیچنے کے لئے بہت دور نہ جانا پڑے۔ اسی کوشش کا نتیجہ  ہے کہ یوپی سمیت ملک بھر کے ہزاروں دیہی ہاٹوں کو اے پی ایم سی اور ای-این اے ایم سے جوڑا جارہا ہے۔

یہ ای- این اے ایم  پلیٹ فارم، یعنی راشٹریہ منڈی ، جس میں موبائل فون یا کمپیوٹر سے ہی کسان اپنی پیداوار ملک میں کہیں بھی فروخت کرنے کے قابل ہیں ، یہ تیزی سے مقبول ہورہا ہے۔ یوپی میں بھی 100 سے زیادہ منڈیوں کو اس پلیٹ فارم میں شامل کیا گیا ہے۔ ابھی تک اس راشٹریہ منڈی میں پورے ملک میں تقریباً ایک لاکھ کروڑ روپے کا کاروبار ہو چکا ہے۔ کسانوں نے ایک لاکھ کروڑ روپے کا بزنس کیا ہے، ٹیکنولوجی کی مدد سے کیا ہے۔

ساتھیوں ،

گروپ سے  طاقت ملتی ہے اور اسی اجتماعی طاقت سے کسان بھی خوشحالی کی طرف آگے بڑھیں گے۔ کسانوں کو  مناسب قیمت دلانے کے لیے اب کسانوں کی اجتماعی طاقت کا استعمال کیا جائے گا۔ آج ، چتر کوٹ میں جو نئے ایف پی او یعنی فارمر پروڈیوسر آرگنائزیشن شروع ہوچکی ہیں ، اس کے پیچھے بھی یہی جذبہ ہے۔ یہ خاص طور پر ملک کے لیے ان چھوٹے اور پسماندہ کسانوں کے مفاد میں ہیں جن کی تعداد ملک میں سب سے زیادہ ہے۔ایک  کسان خاندان کی بجائے ، جب گائوں میں بہت سے کسان مل کر بیج سے لے کر بازار تک کے انتظامات میں شامل ہوجائیں گے ، تو ان کی صلاحیت یقینی طور پر زیادہ ہوگی۔

اب ذرا تصور کریں کہ جب گاؤں کے کسانوں کا ایک بڑا گروپ جمع ہوکر کھاد خریدے گا اور اسے ٹرانسپورٹ کر کے لائے  گا تو پیسے کی کتنی بچت ہوگی۔ اسی طرح زیادہ  خریداری میں چھوٹ بھی زیادہ ملتی ہے ۔ فصل تیار ہوگئی ، اب اسے مارکیٹ میں لے جانے کا وقت آگیا ہے ، تب بھی آپ کی اجتماعیت زیادہ کارآمد ہوگی۔  مارکیٹ میں آپ تاجر کاروباری کے ساتھ زیادہ آپ زیادہ موثر انداز میں بات چیت کرپائے گے، اچھی طرح سے مول بھاؤ کر پائیں گے۔

بھائیو ں اور بہنوں،

گزشتہ کچھ برسوں میں ، ان ایف پی او کی کامیابی سے حوصلہ پاکر ان  کو بہت زیادہ  بڑھایا جارہا ہے۔ کسانوں اور پروڈیوسروں کے ان گروپوں کے ذریعہ زرعی پیداوار کی برآمدات کے لئے بھی جامع انفراسٹرکچر  تیار کیا جارہا ہے۔ اب جیسے آلو ہو یا پھر یہاں جنگلوں میں ملنے والی دوسری پیداوار ہوں اس کی قیمت کم ہوتی ہے۔ لیکن اگر ان کی چپس بنا کر اچھی پیکیجنگ کے ساتھ مارکیٹ میں لائی جائیں تو قیمت زیادہ ملتی ہے۔  ایسے میں صنعتیں ان ایف پی اوز کے ذریعے قائم کی جارہی ہیں اور ہر ایک ایف پی او کو 15 لاکھ روپے تک کی امداد فراہم کرنے کا انتظام حکومت ہند نے کیا ہے۔ جس طرح یوگی جی کی حکومت نے ایک ضلع ایک پیدوار کی اسکیم چلائی ہے ، اس کے ساتھ بھی ان تنظیموں کو جوڑا جا رہا ہے۔ حکومت نے یہ بھی طے کیا ہے کہ قبائلی علاقوں اور چترکوٹ جیسے ملک کے 100 سے زیادہ خواہش مند اضلاع – خواہش مند اضلاع میں ایف پی اوز کی زیادہ حوصلہ افزائی ، ہر بلاک میں کم از کم ایک ایف پی او قائم ضرور کیا جائے۔ قبائلی علاقوں کی جنگلات کی پیداوار میں ویلیو ایڈیشن کو فروغ ملے گا اور زیادہ سے زیادہ بہنیں بھی ان تنظیموں میں شامل ہوں یہ کوشش بھی کی جا رہی ہے۔

ساتھیوں ،

بندیل کھنڈ سمیت پورے ہندوستان کو جس ایک اور مہم کا بڑا فائدہ ملنے والا ہے وہ ہے جل جیون مشن ۔ اب ملک کا ہر فرد ہندوستان کو جل یکت اور سوکھا مکت  بنانے کے عزم کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔ آنے والے 5 برسوں میں ، ملک کے تقریباً  پندرہ کروڑ کنبوں کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے عزم کے لیے کام تیزی سے شروع ہوگیا ہے۔ اس میں بھی خواہش مند اضلاع کو ترجیح دی جارہی ہے۔ یہ اسکیم ایسی ہے کہ جس کو آپ سبھی کو چلانا ہے ، ہر گاؤں کو یہ کرنا ہے۔ حکومت آپ کے ہاتھ میں پیسہ دے گی ، فنڈ دے گی… کاروبار آپ کو کرنا ہے۔  کہاں سے پائپ جانا ہے، کہاں پانی کو اکٹھا کیا جائے گا، ان کا رکھ رکھاؤ کیسے ہوگا ، یہ آپ سبھی گاؤں کے لوگ ہی طے کریں گے، ہماری بہنیں اس میں بڑا رول ادا کریں گی۔ یہی خود انحصاری ہے ، یہی گاؤں کو بااختیار بنانے کا جذبہ ہے ، یہی گاندھی جی کے گرام سوراج  کا وژن ہے اور اسی مقصد کے لئے نانا جی نے اپنی زندگی کو وقف کردیا۔

ساتھیوں ،

یوپی کے کسانوں کو ، تاجروں اور صنعتکاروں کی تیز رفتار ترقی  بھی یہاں کی کنکٹیویٹی  پر منحصر ہے۔ اس کے لئے ، یوگی جی اور ان کی حکومت ایک طرح سے ایکسپریس کی رفتار سے  کام کر رہی ہے۔ بنڈیل کھنڈ ایکسپریس وے ہو، پوروانچل ایکسپریس وے ہو یا پھر مجوزہ گنگا ایکسپریس وے ہو ، یہ یوپی میں کنکٹیویٹی تو بڑھائیں گے ہی روزگار کے بھی بہت سے مواقع پیدا کرنے والے ہیں۔  پہلے ایکسپریس وے صرف دلی ، ممبئی جیسے بڑے شہروں میں دیکھنے کو ملتے تھے، اب چترکوٹ ، باندہ ، مہوبہ ، حمیر پور ، جالون ، اوریہ کے لوگ بھی جدید ایکسپریس ویز پر چلیں گے۔ تقریبا 300  کلومیٹر کی یہ جدید سڑک جب تیار ہوجائے گی تو آپ بہت ہی کم وقت میں سیدھے لکھنؤ اور دلی پہنچ پائیں گے۔

بھائیوں اور بہنوں ،

یہ جدید انفراسٹرکچر یہاں نئی ​​صنعتوں ، نئے کاروباروں کو ترقی دے گا۔ یہ اتفاق ہی ہے کہ گذشتہ سال فروری میں ہی  جھانسی میں یوپی ڈیفنس کوریڈور کا سنگ بنیاد رکھنے آیا تھا اور اس سال بندیل کھنڈ ایکسپریس وے کا سنگ بنیاد رکھا گیا ہے۔ اس سال کے بجٹ میں یوپی ڈیفنس کوریڈور کے لئے 3700 کروڑ روپئے کی فراہمی کی گئی ہے۔ ان  دونوں اسکیموں کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔  بندیل کھنڈ ایکسپریس وے سے یوپی ڈیفنس کوریڈور کو بھی رفتار ملنے والی ہے۔

 

ساتھیوں ،

ایک زمانے میں ، یہ خطہ ہندوستان کی آزادی کے انقلابی پیدا کرتا رہا ہے اور مستقبل میں ، اس کو ہندوستان کو جنگی ساز و سامان  کے معاملے میں خود کفیل بنانے والے علاقے کے طور پر بھی جانا جائے گا۔  بندیل کھنڈ کا یہ خطہ میک ان انڈیا کا ایک بہت بڑا مرکز بننے جا رہا ہے۔ یہاں بنی ہوئی چیزیں بھی پوری دنیا میں برآمد کی جائیں گی۔ جب یہاں بڑی فیکٹریاں لگنا شروع ہوجائیں گی ، تب چھوٹی اور بہت چھوٹی صنعتوں کو بھی بڑے پیمانے پر فائدہ ہوگا ، یہاں کے کاشتکاروں کو بھی فائدہ ہوگا۔ اس طرح سے یہاں  روزگار کے بہت زیادہ مواقع پیدا ہوں گے اور ہر خاندان کی آمدنی میں اضافہ ہوگا۔

بھائیوں اور بہنوں ،

جدید انفراسٹرکچر یہاں کی سیاحت کی صنعت کے لئے خصوصی طور پر فائدہ مند ہوگا۔ چترکوٹ میں تو قدرتی خوبصورتی بھی ہے اور روحانیت کا گہرا بسیرا ہے۔ پربھو رام کے چرن جہاں جہاں پڑے ان کو جوڑ کر رامائن سرکٹ کی شکل میں تیار کیا جارہا ہے۔  چترکوٹ اس کا ایک اہم مرحلہ ہے۔ رامائن سرکٹ کےدرشن کے لیے  ملک اور دنیا کے عقیدت مندوں کو سہولت پہنچانے کے لیے  رامائن ایکسپریس نامی ایک خصوصی ٹرین بھی چلائی جارہی ہے۔ آنے والے وقت میں ، جب یہاں کا انفراسٹرکچر ترقی کرے گا تو یہاں  عقیدت مندوں کے آنے جانے میں اضافہ ہوگا، جس سے یہاں کے نوجوانوں کو روزگار کے نئے مواقع دستیاب ہوں گے۔

مجھے یقین ہے کہ چندرکوٹ سے ، بندیل کھنڈ سے ، پوری یوپی ، پورے ملک کے خواہشات کو ایکسپریس رفتار ملے گی۔ تپ، تپسیہ اور تیج کی یہ مقدس سرزمین نئے  ہندوستان کے خواب کا ایک اہم مرکز بنیں ، اس خواہش کے ساتھ میں اس علاقے کے تمام شہریوں کو ، آپ سبھی کو ترقیاتی اسکیموں کی بہت بہت مبارکباد دیتا ہوں۔ میرے  کسان بھائیوں اور بہنوں کو بہت بہت نیک خواہشات دیتا ہوں۔ اور بندیل کھنڈ  صرف اپنی  ہی نہیں بلکہ ہندوستان کی تقدیر بدلنے کے لئے تیار ہو رہا  ہے۔

بھارت ماتا کی جائے

بھارت ماتا کی جائے

جے جوان جے کسان

جے جوان جے کسان

ڈیفنس کوریڈور۔ یہ – جوان

ایف پی او کی شرعات – یہ – کسان

جے جوان جے کسان منتر کے ساتھ ، بندیل کھنڈ آگے چل پڑے انہیں یک خواہشات کے ساتھ بہت بہت شکریہ !!

20 تصاویر سیوا اور سمرپن کے 20 برسوں کو بیاں کر رہی ہیں۔
Explore More
It is now time to leave the 'Chalta Hai' attitude & think of 'Badal Sakta Hai': PM Modi

Popular Speeches

It is now time to leave the 'Chalta Hai' attitude & think of 'Badal Sakta Hai': PM Modi
Prime Minister Modi lived up to the trust, the dream of making India a superpower is in safe hands: Rakesh Jhunjhunwala

Media Coverage

Prime Minister Modi lived up to the trust, the dream of making India a superpower is in safe hands: Rakesh Jhunjhunwala
...

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
PM to visit UP on October 25 and launch Pradhan Mantri Atmanirbhar Swasth Bharat Yojana (PMASBY)
October 24, 2021
Share
 
Comments
PMASBY to be one of the largest pan-India scheme for strengthening healthcare infrastructure across the country
Objective of PMASBY is to fill critical gaps in public health infrastructure in both urban and rural areas
Critical care services will be available in all the districts with more than 5 lakh population
Integrated Public Health Labs to be set up in all districts
National Institution for One Health, 4 New National Institutes for Virology to be set up
IT enabled disease surveillance system to be developed
PM to also inaugurate nine medical colleges in UP
PM to inaugurate development projects worth more than Rs 5200 crores for Varanasi

Prime Minister Shri Narendra Modi will visit Uttar Pradesh on 25th October, 2021. At around 10.30 AM in Siddharthnagar, Prime Minister will inaugurate nine medical colleges in Uttar Pradesh. Subsequently, at around 1.15 PM in Varanasi, Prime Minister will launch Pradhan Mantri Atmanirbhar Swasth Bharat Yojana. He will also inaugurate various development projects worth more than Rs 5200 crore for Varanasi.

Prime Minister Atmanirbhar Swasth Bharat Yojana (PMASBY) will be one of the largest pan-India scheme for strengthening healthcare infrastructure across the country. It will be in addition to the National Health Mission.

The objective of PMASBY is to fill critical gaps in public health infrastructure, especially in critical care facilities and primary care in both the urban and rural areas. It will provide support for 17,788 rural Health and Wellness Centres in 10 High Focus States. Further, 11,024 urban Health and Wellness Centres will be established in all the States.

Critical care services will be available in all the districts of the country with more than 5 lakh population, through Exclusive Critical Care Hospital Blocks, while the remaining districts will be covered through referral services.

People will have access to a full range of diagnostic services in the Public Healthcare system through Network of laboratories across the country. Integrated Public Health Labs will be set up in all the districts.

Under PMASBY, a National Institution for One Health, 4 New National Institutes for Virology, a Regional Research Platform for WHO South East Asia Region, 9 Biosafety Level III laboratories, 5 New Regional National Centre for Disease Control will be set up.

PMASBY targets to build an IT enabled disease surveillance system by developing a network of surveillance laboratories at block, district, regional and national levels, in Metropolitan areas. Integrated Health Information Portal will be expanded to all States/UTs to connect all public health labs.

PMASBY also aims at Operationalisation of 17 new Public Health Units and strengthening of 33 existing Public Health Units at Points of Entry, for effectively detecting, investigating, preventing, and combating Public Health Emergencies and Disease Outbreaks. It will also work towards building up trained frontline health workforce to respond to any public health emergency.

Nine medical colleges to be inaugurated are situated in the districts of Siddharthnagar, Etah, Hardoi, Pratapgarh, Fatehpur, Deoria, Ghazipur, Mirzapur and Jaunpur. 8 Medical Colleges have been sanctioned under the Centrally Sponsored Scheme for “Establishment of new medical colleges attached with district/ referral hospitals” and 1 Medical College at Jaunpur has been made functional by the State Government through its own resources.

Under the Centrally Sponsored Scheme, preference is given to underserved, backward and aspirational districts. The Scheme aims to increase the availability of health professionals, correct the existing geographical imbalance in the distribution of medical colleges and effectively utilize the existing infrastructure of district hospitals. Under three phases of the Scheme, 157 new medical colleges have been approved across the nation, out of which 63 medical colleges are already functional.

Governor and Chief Minister of UP and Union Health Minister will also be present during the event.