Share
 
Comments
عالمی وبا کے خلاف لڑائی میں کاشی اور اتر پردیش کی کوششوں کے لئے ان کی تعریف کی
کاشی، پروانچل کا ایک بڑا طبی ہب بن رہا ہے: وزیراعظم
ماں گنگا اور کاشی کی صفائی ستھرائی اور خوبصورتی ایک تحریک اور ترجیح ہے: وزیراعظم مودی
خطے میں 8 ہزار کروڑ روپے مالیت کی اسکیموں کے لئے کام جاری ہے:وزیراعظم
اترپردیش ملک کی سرکردہ سرمایہ کاری منزل کے طور پر تیزی سے اُبھر رہا ہے:وزیراعظم مودی
قانون کا راج اور ترقی پر توجہ اس بات کو یقینی بنا رہی ہے کہ یوپی کے عوام اسکیموں کا فائدہ اٹھا رہے ہیں: وزیراعظم مودی
اتر پردیش کے لوگوں کو وائرس کے خلاف چوکنا رہنے کے لئے با خبر رکھا گیا ہے

نئی دہلی،15؍جولائی : بھارت ماتا کی جے، بھارت ماتا کی جے، بھارت ماتا کی جے، ہر ہر مہادیو!

ایک طویل عرصے کے بعد آپ سب لوگوں سے براہ راست ملاقات کا موقع ملا ہے۔ کاشی کے تمام لوگوں کو پرنام! ہم تمام لوگوں کو غموں سے نجات دینے والے بھولے ناتھ، ماتا اناپورنا کے قدموں میں بھی اپنا سر جھکاتے ہیں۔

اترپردیش کی گورنر محترمہ آنندی بین پٹیل جی، ریاست کے قابل،متحرک اور فعال وزیراعلی جناب یوگی آدتیہ ناتھ جی، اترپردیش حکومت کے وزراء، اراکین اسمبلی اور بنارس کے میرے بھائیوں اور بہنوں،

آج کاشی کی ترقی سے جڑے1500 کروڑ روپیے سے زائد کے پروجکٹس کا افتتاح ،سنگ بنیاد اور رونمائی کرنے کا مجھے موقع ملا ہے۔ بنارس کی ترقی کے لیے جو کچھ بھی ہو رہا ہے ، وہ سب کچھ مہادیو کے آشیرواد اور بنارس کی عوام کی کوششوں سے ہی ہو رہا ہے۔ مشکل حالات میں بھی کاشی نے دکھا دیا کہ وہ رکتی نہیں ہے، وہ تھکتی نہیں ہے۔

بہنوں اور بھائیوں،

گذشتہ کچھ مہینے ہم تمام کے لیے، پوری بنی نوع انساں کے لیے مشکلات سے پُر رہے ہیں۔ کورونا وائرس کے بدلتے ہوئے اور خطرناک شکل نے پوری طاقت کے ساتھ حملہ کیا۔ لیکن کاشی سمیت ، اترپردیش نے پوری صلاحیت کے ساتھ اتنی بڑی مصیبت سے مقابلہ کیا۔ ملک کی سب سے بڑی ریاست، جس کی آبادی دنیا کے درجنوں بڑے بڑے ممالک سے بھی زیادہ ہےوہاں، کورونا کی دوسری لہر کو جس طرح اترپردیش نے سنبھالا، دوسری لہر کے دوران اترپردیش نے جس طرح کورونا کے وائرس کو  پھیلنے سے روکا، وہ غیر معمولی ہے۔ ورنہ یوپی کے لوگوں نے وہ دور بھی دیکھا ہے جب دماغی بخار، انسفلائٹس جیسی بیماریوں کا سامنا کرنے میں یہاں کتنی مشکلیں پیش  آتی تھیں۔

پہلے کے دور میں، صحت کی سہولیات کا فقدان اور کام کرنے کی قوت و خواہش کی کمی کے سبب  چھوٹی چھوٹی مصیبت بھی یوپی میں بہت بڑی شکل لے لیتی تھی۔ اور یہ تو 100 سال میں پوری دنیا پر آئی سب سے بڑی آفت ہے۔ سب سے بڑی وبا ہے۔ اس لیے کورونا سے نمٹنے میں اترپردیش کی کوششیں قابل قدر ہیں۔ میں کاشی کے اپنے ساتھیوں کا، یہاں کی انتظامیہ سے لے کر کورونا واریئرس کی پوری ٹیم کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کرتا ہوں اور ان کا ممنون ہوں ۔آپ نے دن رات لگ کر جس طرح کاشی میں  شاندار انتظامات کیے ، وہ بہت بڑی خدمت ہے۔

مجھے یاد ہے کہ آدھی رات میں بھی جب میں یہاں انتظامات میں لگے لوگوں کو فون کرتا تھا، تو وہ مورچے پر تعینات ملتے تھے، مشکل دور تھا، لیکن آپ نے اپنی کوششوں میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، آپ سبھی کے ان ہی کاموں کا نتیجہ ہے کہ آج اترپردیش کو حکومت کے ذریعہ مفت ویکسین لگائی جا رہی ہے۔

بہنوں اور بھائیوں،

صفائی ستھرائی اور صحت سے جڑے جو انفراسٹرکچر اترپردیش میں تیار ہو رہا ہے وہ مستقبل میں بھی کورونا سے جنگ میں بہت مدد کرنے والے ہیں۔ آج یوپی کے گاؤں میں ہیلتھ سنٹرز ہوں، میڈیکل کالج ہوں، ایمس ہوں، طبی انفراسٹرکچر میں غیرمعمولی اصلاحات ہو رہی ہیں۔ چار سال پہلے تک جہاں یو پی میں درجن بھر میڈیکل کالج ہوا کرتے تھے، ان کی تعداد بڑھ کر اب تقریباً چار گنا ہو چکی ہیں۔ بہت سارے میڈیکل کالجز کی تعمیر الگ الگ مرحلوں میں ہیں۔ فی الوقت یو پی میں تقریباً ساڑھے 500 آکسیجن پلانٹس کی تعمیر کا کام بھی تیزی سے چل رہا ہے۔ آج بنارس میں ہی 14 آکسیجن پلانٹس کی یہاں رونمائی بھی کی گئی۔ ہر ضلع میں بچوں کے لیے خاص طور پر آکسیجن اور آئی سی یو جیسی سہولیات بہم پہنچانے کا جو بیڑا یوپی حکومت نے اٹھایا ہے ، وہ بھی قابل ستائش ہے۔ کورونا سے جڑی نئی صحت کی سہولیات کی فراہمی کے لیے حال ہی میں مرکزی حکومت نے 23 ہزار کروڑ روپیے کے خصوصی پیکج کا اعلان کیا ہے۔ اس کا بھی بہت بڑا فائدہ یو پی کو ہونے والا ہے۔

ساتھیوں،

کاشی کی نگری پوروانچل کا بہت بڑامیڈیکل  ہب  بن رہا ہے۔جن بیماریوں کے علاج  کے لیے کبھی دہلی اور ممبئی جانا پڑتا تھا، ان کا علاج آج کاشی میں ہی دستیاب ہے۔ یہاں میڈیکل انفراسٹرکچر میں آج کچھ کڑیاں اور جڑ رہی ہیں۔ آج خواتین اور بچوں کے علاج سے جڑے نئے اسپتال کاشی کو مل رہے ہیں۔ ان میں سے 100 بیڈ کی صلاحیت والے بی ایچ یو میں اور 50 بیڈ ضلع اسپتال سے جڑ رہے ہیں۔ ان دونوں پروجکٹوں کا سنگ بنیاد رکھنے کا شاندار موقع مجھے ملا تھا، اب آج ان کی رونمائی بھی ہور ہی ہے۔ بی ایچ یو میں جو یہ نئی سہولیات مہیا کرائی  گئی ہیں، تھوڑی دیر بعد میں اس کا معائنہ بھی کرنے جاؤں گا۔ ساتھیوں، آج بی ایچ یو میں علاقائی آنکھوں کے علاج کے لیے ایک نئے  سنٹر کو اہل بنارس کے لیے وقف کیا گیا ہے۔  اس مرکز میں لوگوں کو آنکھوں سے جڑی بیماریوں کا جدید ترین علاج مل سکے گا۔

بھائیوں اور بہنوں،

گذشتہ سات  برسوں میں کاشی، اپنی بنیادی شناخت برقرار رکھتے ہوئے بھی ترقی کی راہ پر تیزی سے گامزن ہے۔ پورے علاقے میں، خواہ وہ  قومی شاہراہوں کا کام ہو، فلائی اوور ہوں یا ریلوے اوور برج ہو خواہ تاروں کا جنجال دور کرنے کے لیے پرانی کاشی میں انڈر گراؤنڈ وائرنگ سسٹم ہو، پینے کے پانی اور سیور کے مسائل کا حل ہو، سیاحت کو فروغ دینے کے لیے ترقیاتی کام ہوں ، تمام میں غیرمعمولی کام ہوا ہے۔ اس وقت بھی اس شعبے میں تقریباً 8000 کروڑ روپیے کے منصوبوں پر کام چل رہا ہے۔ نئے پروجکٹ، نئے ادارے کاشی کی ترقی کی داستان کو اور بھی پائندہ بنا رہے ہیں۔

ساتھیوں،

کاشی کی، ماں گنگا کی، صفائی ستھرائی اور خوبصورتی نیز تزئین کاری کا کام  ہم تمام کی خواہش بھی ہے اور ترجیح بھی ۔اس کے لیے سڑک ہو، سیویج ٹریٹمنٹ ہو، پارکوں اور گھاٹوں کی تزئین کاری ہو، ایسے ہر مورچے پر کام ہو رہا ہے۔ پنچ کوشی مارگ کو فور لین بنائے جانے سے شردھالوؤں کو بھی سہولت ملے گی اور اس راستے پر پڑنے والے درجنوں گاؤں کی زندگی بھی آسان ہوگی۔ وارانسی-غازی پور روڈ پر جو سیتو ہے، اس کے کھلنے سے وارانسی کے علاوہ پریاگ راج، غازی پور، بلیا،گورکھپور اور بہار آنے جانے والوں کو بھی بہت آسانی ہوگی۔ گو دولیا میں ملٹی لیول ٹو ویلرپارکنگ بننے سے کتنی 'کچ کچ'کم ہوگی، یہ بنارس کے لوگوں کو خوب معلوم ہے۔ وہیں لہر تارہ سے چوکا گھاٹ فلائی اوور کے نیچے بھی پارکنگ سے لے کر دوسری عوامی سہولیات کی تعمیر بہت جلد پوری ہوجائے گی۔ بنارس کی، یوپی کی، کسی بھی بہن کو، کسی بھی خاندان کو صاف و شفاف پینے کے پانی کے لیے پریشان نہیں ہونا پڑے گا، اس کے لیے 'ہر گھر جل' مہم پر بھی تیزی سے کام ہو رہا ہے۔

ساتھیوں،

بہتر سہولیات، بہتر رابطہ، خوبصورت ہوتی گلیاں اور گھاٹ، یہ قدیم کاشی کی جدید طرز کی تعمیرات اور نشانیاں ہیں۔ شہر کے 700 سے زیادہ مقامات پر ایڈوانس سرویلانس کیمرہ لگانے کا کام بھی تیزی سے جاری ہے۔ شہر میں جگہ جگہ لگ رہی بڑی بڑی ایل ای ڈی سکرینس اور گھاٹوں پر لگ رہے ٹکنالوجی سے لیس انفارمیشن بورڈ، یہ کاشی آنے والوں کی بہت مدد کریں گے۔ کاشی کی تاریخ، فن تعمیر ، دستکاری ، آرٹ ایسی ہر اطلاعات کو شاندار اور پرکشش طریقےس ے پیش کرنے والی یہ سہولیات عقیدت مندوں کے کافی کام آئیں گی۔ بڑی اسکرینس کے توسط سے گنگا جی کے گھاٹ پر اور کاشی وشوناتھ مندر میں ہونے والی آرتی کا نشریہ پورے شہر میں ممکن ہوپائے گا۔

بھائیوں اور بہنوں،

آج سے جو رو-رو سروس اور کروز بوٹ کی سروس شروع ہوئی ہے، اس سے کاشی کے سیاحتی سیکٹرمزید پھلنے پھولنے اور ترقی کرنے والا ہے۔ یہی نہیں ماں گنگا کی خدمت میں لگے ہمارے کشتی بان ساتھیوں کو بھی بہتر سہولیات دی جا رہی ہیں۔ ڈیزل والی کشتیوں کو سی این جی میں تبدیل کی جا رہا ہے۔ اس سے ان کا خرچ بھی کم ہوگا، ماحولیات کو بھی فائدہ پہنچے گا اور سیاح بھی اس کی طرف کھنچے چلے آئیں گے۔اس کے بعد میں تھوڑی دیر میں ردراکش کی شکل میں انٹرنیشنل کنوینشن سنٹر کو بھی کاشی کے باشندگان کے سونپنے جا رہا ہوں ۔

کاشی سے عالمی سطح کے ادباء،گلوکار اور دیگر فنون میں ماہر فنکاروں نے عالمی سطح پر دھوم مچائی ہے۔ لیکن کاشی میں ہی ان کے فن کی نمائش کے لیے کوئی عالمی سطح کی سہولت میسر نہیں تھی۔ آج مجھے  بے انتہا خوشی ہو رہی ہے کہ کاشی کے فنکاروں-آرٹسٹوں کو اپنے فن کا مظاہرہ کرنے کے لیے، اپنے فن کو عام لوگوں تک پہنچانے کے لیے، ایک جدید ترین منچ مل رہا ہے۔

ساتھیوں،

کاشی کے قدیم شان و شوکت کی تاریخ،علم کی گنگا سے بھی جڑی ہوئی ہے۔ ایسے میں کاشی کا جدید علم اور سائنس کے مرکز کے طور پر بھی مسلسل ترقی لازمی ہے۔ یوگی جی کی حکومت آنے کے بعداس سمت میں تیزی سے کوششیں ہو رہی تھیں، ان میں اور تیزی آئی ہے۔ آج بھی ماڈل اسکول، آئی ٹی آئی، پالیٹکنک، ایسے کئی ادارے اور نئی سہولیات کا شی کو ملی ہیں۔ آج سیپیٹ  کے سنٹر فار سکیلنگ اینڈ ٹکنیکل سپورٹ کا جو سنگ بنیاد رکھا گیا ہے، یہ کاشی ہی نہیں پوروانچل کی صنعتی ترقی کو بھی نئی توانائی فراہم کرے گا۔ ایسے ادارے خود کفیل بھارت کی تعمیر کے لیے ہنرمند اور مہارت رکھنے والے نوجوانوں کی تربیت میں کاشی کے کردار کو اور مضبوط کریں گے۔ میں بنارس کے نوجوانوں کو ، طالب علموں کو سیپیٹ سنٹر کے لیے خصوصی طور سے مبارکباد پیش کرتا ہوں۔

بھائیوں اور بہنوں،

آج دنیا کے کئی بڑے بڑے سرمایہ کار خودکفیل بھارت کے مہایگیہ سے جڑ رہے ہیں۔ اس میں بھی اترپردیش، ملک کے سب سے پہلے انویسٹمنٹ ڈسٹی نیشن(سرمایہ کاری کے مرکز)کے طور پر ابھر رہا ہے۔ کچھ سال پہلے تک جس یوپی میں تجارت-کاروبار کرنا مشکل مانا جاتا تھا، آج میک ان انڈیا کے لیے یوپی پسندیدہ جگہ بن رہا ہے۔

اس کی ایک بڑی وجہ ہے یو پی میں یوگی جی کی حکومت کے ذریعہ انفراسٹرکچر پر خصوصی نظر۔ سڑک، ریل اور فضائی رابطے میں آئی غیر معمولی اصلاحات سے یہاں کی زندگی تو آسان ہو ہی رہی ہے، کاروبار کرنے میں بھی زیادہ آسانیاں اور سہولت ہو رہی ہے۔ یو پی کے کونے کونے کو وسیع اور جدید سڑکوں ، ایکسپریس وے، یہ اس دہائی میں اترپر دیش کی ترقی کو نئی بلندیوں پر پہنچانے والے ہیں۔ ان پر صرف گاڑیاں ہی نہیں چلیں گی بلکہ ان کے ارد گرد خود کفیل بھارت کو طاقت دینے والے نئےصنعتی کلسٹر بھی تیار ہوں گے۔

بھائیوں اور بہنوں،

خود کفیل بھارت میں  ہماری زراعت سے متعلق بنیادی ڈھانچے اور  زراعت پر مبنی  صنعتوں کا اہم کردار ہے۔ حال ہی میں مرکزی حکومت نے زرعی بنیادی ڈھانچے کو مستحکم بنانے کے تعلق سے بڑا فیصلہ کیا ہے۔ ملک میں جدید ترین زراعتی بنیادی ڈھانچے کے لئے جو  ایک لاکھ کروڑ روپے کا خصوصی فنڈ بنایا گیا ہے، اس کا فائدہ  اب ہماری  زرعی  منڈیوں کو بھی ملے گا۔ یہ ملک کی زراعتی منڈیوں کے نظام کو جدید ترین اور سہولت پذیر  بنانے کی طرف  ایک بڑا قدم ہے۔ سرکاری خرید سے متعلق سسٹم کو بہتر بنانا اور کسانوں کو زیادہ  متبادل فراہم کرنا حکومت کی ترجیح ہے۔ اس مرتبہ دھان اور  گیہوں کی ریکارڈ سرکاری خرید اسی کانتیجہ ہے۔

ساتھیو!

زراعت سے متعلق بنیادی ڈھانچے کے تعلق سے اتر پردیش میں مسلسل  کام جاری ہے، وارانسی ہو، پروانچل ہو، یہاں  پیری شیبل کارگو سینٹر،  انٹرنیشنل رائس سینٹر جیسے  دیگر  جدید ترین  التزامات  آج  کسانوں کے کام آرہے ہیں۔ ایسی  ہی دیگر   کوششوں کے سبب  ہمارا لنگڑا اوردسہری آم آج یوروپ سے لے کر خلیج ممالک میں اپنی مٹھاس  بھر رہا ہے۔ آج  جس مینگو اینڈ ویجیٹبل انٹیگریٹڈ پیک  ہاؤس کا سنگ بنیاد رکھا گیا ہے، وہ  اس شعبے کو  ایگرو ایکسپورٹ ہب کے طور پر تیار کرنے میں مدد کرے گا۔ اس  خصوصی طور پر چھوٹے کسانوں، جو  پھل سبزی تیار کرتے ہیں، ان کو  سب سے زیادہ فائدہ  ملے گا۔

ساتھیو!

کاشی اور  پورے  اتر پردیش کی ترقی کے اتنے سارے  کاموں  کی بحث ،میں اتنی دیر  سے کر رہا ہوں، لیکن یہ فہرست  اتنی طویل ہے کہ اتنی جلدی ختم نہیں ہوگی۔ جب وہ وقت کی کمی ہوتی ہے تو مجھے  بھی کئی مرتبہ سوچنا پڑتا ہے کہ یوپی کے کون سے  ترقیاتی کاموں پر بات کروں،  کون سے کاموں پر بات نہ کروں، یہ سب یوگی جی قیادت  اور  یوپی سرکار کی  ایماندارانہ کام کا کمال ہے۔

بھائیو اور بہنو!

ایسا نہیں ہے کہ 2017  سے پہلے  اتر پردیش کے لئے اسکیمیں نہیں آتی تھیں، پیسہ نہیں بھیجا جاتا تھا، تب بھی 2014  میں ہمیں خدمت کرنے کا موقع ملا، تب بھی  دہلی سے اتنی ہی تیزی سے کوششیں ہوتی تھیں، لیکن اس وقت لکھنو میں اڑچنیں پیدا  ہوتی تھیں، آج یو گی خود سخت محنت کر رہے ہیں، کاشی کے لوگ تو دیکھتے ہی ہیں کہ کس طرح یوگی جی مسلسل یہاں آتے ہیں ، ایک ایک ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ لیتے ہیں ، خود کاموں کی رفتار کر بڑھانے کے لئے حوصلہ افزائی کرتے ہیں، ایسی ہی محنت پوری ریاست کے لئے کرتے ہیں۔ ہر ایک ضلع میں جاتے ہیں، ہر ایک کام کے ساتھ خود لگتے ہیں، یہی  وجہ کہ یوپی میں تبدیلی کی  یہ کوشش آج ایک جدید ترین  اتر پردیش  بنانے میں تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔

آج یوپی میں قانون کی بالا دستی ہے، مافیاؤں کا راج اور دہشت گردی جو کبھی بے قابو ہور ہی تھی، ان پر اب قانون کا شکنجہ ہے۔ بہنوں، بیٹیوں کی سلامتی کے تعلق سے والدین ہمیشہ جس طرح خوف اور خدشات میں جیتے تھے، ان حالات میں تبدیلی آئی ہے۔ آج  بہن بیٹیوں پر آنکھ اٹھانے والے مجرموں کو پتہ ہے کہ وہ قانون سے بچ نہیں پائیں گے۔ ایک اور بڑی بات یوپی میں حکومت آج بدعنوانی اور  اقربا پروری سے نہیں بلکہ ترقیاتی کاموں سے چل رہی ہے۔ اس لئے آج یوپی میں عوام کی اسکیموں کا فائدہ براہ راست  عوام کو مل رہا ہے۔ اس لئے آج یوپی میں نئی نئی صنعتوں کی سرمایہ کاری ہو رہی ہے ، روز گار کے مواقع بڑھ رہے ہیں۔

ساتھیو!

ترقی کے اس سفر میں اتر پردیش کے ہر شہری کا تعاون ہے۔ اس میں ہر آدمی کی شراکت داری ہے۔ آپ کا یہ تعاون، آپ کا یہ آشیرواد، یوپی کو ترقی کی نئی بلندیوں پر پہنچائے گا۔ ایک بہت بڑی ذمہ داری آپ کی یہ بھی ہے کہ آپ کو  کورونا کو دوبارہ سے حاوی نہیں ہونے دینا ہے۔

کیونکہ کورونا انفیکشن کی شرح آہستہ آہستہ ضرور کم ہوئی ہیں، لیکن  اگر  لاپروائی میں اضافہ ہوا تو کورونا کی یہ لہر  شدید رخ اختیار کر سکتی ہے۔ دنیا کے  کئی ممالک کے لئے تجربات آج ہمارے سامنے ہیں، اس لئے ہمیں سبھی قواعد کا  سختی سے عمل کرتے رہنا ہے۔ سب کو ویکسین، مفت  ویکسین، اس مہم سے بھی ہم سبھی کو جڑنا ہے، ٹیکہ ضرور لگوانا ہے، بابا وشوناتھ اور ماں گنگا کا آشیرواد ہم سب پر بنا رہے۔ اسی دعا کے ساتھ آپ سب کا بہت بہت شکریہ!

ہر ہر مہادیو!!

'من کی بات ' کے لئے اپنے مشوروں سے نوازیں.
Modi Govt's #7YearsOfSeva
Explore More
It is now time to leave the 'Chalta Hai' attitude & think of 'Badal Sakta Hai': PM Modi

Popular Speeches

It is now time to leave the 'Chalta Hai' attitude & think of 'Badal Sakta Hai': PM Modi
Narendra Modi: A Man of Ideas, a Man of Action

Media Coverage

Narendra Modi: A Man of Ideas, a Man of Action
...

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Prime Minister virtually participates in 21st Meeting of the Council of Heads of State of the Shanghai Cooperation Organisation
September 17, 2021
Share
 
Comments

Prime Minister participated virtually in the 21st Meeting of the Council of Heads of State of the Shanghai Cooperation Organisation (SCO), and through video-message in the Joint SCO-CSTO Outreach Session on Afghanistan.

The 21st meeting of the SCO Council of Heads of State was held on 17 September 2021 in Dushanbe in hybrid format.  

The meeting was chaired by H.E. Emomali Rahmon, the President of Tajikistan.

Prime Minister Shri Narendra Modi addressed the Summit via video-link.  At Dushanbe, India was represented by External Affairs Minister, Dr. S. Jaishankar.  

In his address, Prime Minister highlighted the problems caused by growing radicalisation and extremism in the broader SCO region, which runs counter to the history of the region as a bastion of moderate and progressive cultures and values.  

He noted that recent developments in Afghanistan could further exacerbate this trend towards extremism.

He suggested that SCO could work on an agenda to promote moderation and scientific and rational thought, which would be especially relevant for the youth of the region.  

He also spoke about India's experience of using digital technologies in its development programmes, and offered to share these open-source solutions with other SCO members.

While speaking about the importance of building connectivity in the region, Prime Minister stressed that connectivity projects should be transparent, participatory and consultative, in order to promote mutual trust.  

The SCO Summit was followed by an Outreach session on Afghanistan between SCO and the Collective Security Treaty Organisation (CSTO).  Prime Minister participated in the outreach session through a video-message.

In the video message, Prime Minister suggested that SCO could develop a code of conduct on 'zero tolerance' towards terrorism in the region, and highlighted the risks of drugs, arms and human trafficking from Afghanistan.  Noting the humanitarian crisis in Afghanistan, he reiterated India's solidarity with the Afghan people.