Share
 
Comments
سلطان پور ضلع میں ایکسپریس وے پر بنائی گئی 3.2 کلومیٹر طویل ہوائی پٹی پر منعقدہ ایئرشو کا بھی معائنہ کیا
’’یہ ایکسپریس وے اترپردیش میں عزائم کی تکمیل کا ایک ثبوت ہے اور یہ یوپی کا فخر اور اپنے آپ میں حیرت انگیز ہے‘‘
’’آج جتنی مغرب کی پوچھ ہے اتنی ہی پوروانچل کے لئے بھی ترجیح ہے‘‘
’’اس دہائی کی ضرورتوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے، ایک خوش حال اترپردیش کی تعمیر کے لئے بنیادی ڈھانچہ تیار کیا جارہا ہے‘‘
’’اترپردیش کی ترقی کے لئے ’ڈبل انجن کی حکومت‘ پوری طرح پابند عہد ہے‘‘

بھارت ماتا کی جے! بھارت ماتا کی جے! بھارت ماتا کی جے!

جونے دھرتی پر ہنومان جی، کالنیمی کے ودھ کئے رہیں، او دھرتی کے لوگن کے ہم پاؤں لاگت ہیں۔ 1857 کے لڑائی ما، ہیاں کے لوگ انگریزن کا، چھٹی کے دودھ یاد دیوائے دیہے رہیں۔ یہ دھرتی کے کن کن ما سوتنترا سنگرام کے کھسبو با۔ کوئیری پور کے یدھ، بھلا کے بھلائے سکت ہے؟ آج یہ پاون دھرتی کا، پوروانچل ایکسپریس وے کے سوگات ملت با۔ جیکے آپ سب بہت دن سے اگورت رہن۔ آپ سبھے کا بہت بہت بدھائی۔

اترپردیش کی گورنر محترمہ آنندی پٹیل جی، یوپی کے اوجسوی، تیجسوی اور کرم یوگی وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ جی، یوپی کے بی جے پی صدر جناب سوتنتر دیو جی، یوپی سرکار میں وزیر جناب جے پرتاپ سنگھ جی، جناب دھرم ویر پرجاپتی جی، پارلیمنٹ میں میری ساتھی بہن مینکا گاندھی جی، دیگر عوامی نمائندگان اور میرے پیارے بھائیو اور بہنو!

پوری دنیا میں جسے یوپی کی اہلیت پر، یوپی کے لوگوں کی اہلیت پر ذرا بھی شبہ ہو، وہ آج یہاں سلطان پور میں آکر یوپی کی اہلیت دیکھ سکتا ہے۔ تین چار سال پہلے جہاں صرف زمین تھی، اب وہاں سے ہوکر اتنا جدید ایکسپرے وے گزر رہا ہے۔ جب تین سال پہلے میں نے پوروانچل ایکسپریس کا سنگ بنیاد رکھا تھا تو یہ نہیں سوچا تھا کہ ایک دن اسی ایکسپریس وے پر ہوائی جہاز سے میں خود اتروں گا۔ یہ ایکسپرے، اترپردیش کو، تیز رفتار سے بہتر مستقل کی جانب لے جائے گا۔ یہ ایکسپریس وے، یوپی کی ترقی کا ایکسپریس وے ہے۔ یہ ایکسپریس وے یوپی کی پیش رفت کا ایکسپریس وے ہے۔ یہ ایکسپریس وے نئے یوپی کی تعمیر کا ایکسپریس وے ہے۔ یہ ایکسپریس وے یوپی کی مضبوط ہوتی معیشت کا ایکسپریس وے ہے۔ یہ ایکسپریس وے یوپی میں جدید ہوتی سہولتوں کا عکاس ہے۔ یہ ایکسپریس وے یوپی کی مضبوط قوت ارادی کا پاکیزہ اظہار ہے۔ یہ ایکسپریس وے یوپی میں عزائم کی تکمیل کا جیتا جاگتا ثبوت ہے۔ یہ یوپی کی شان ہے، یہ یوپی کا کمال ہے۔ میں آج پوروانچل ایکسپریس وے کو اترپردیش کے لوگوں کو وقت کرتے ہوئے اپنے آپ کو خوش بخت محسوس کررہا ہوں۔

 

ساتھیو!

ملک کی مکمل ترقی کے لئے ملک کی متوازن ترقی بھی اتنی ہی ضروری ہے۔ کچھ علاقے ترقی کی دوڑ میں آگے چلے جائیں اور کچھ علاقے دہائیوں سے پیچھے رہ جائیں، یہ نابرابری کسی بھی ملک کے لئے ٹھیک نہیں۔ بھارت میں بھی جو ہمارا مشرقی حصہ رہا ہے، یہ مشرقی بھارت، شمال مشرق کی ریاستوں، ترقی کے اتنے امکانات ہونے کے باوجود ان علاقوں کو ملک میں ہورہی ترقی کا اتنا فائدہ نہیں ملا، جتنا ملنا چاہئے تھا۔ اترپردیش میں بھی جس طرح کی سیاست ہوئی، جس طرح سے طویل عرصہ تک حکومتیں چلیں، انھوں نے یوپی کی جامع ترقی، یوپی کی ہمہ جہت ترقی پر توجہ ہی نہیں دی۔ یوپی کا یہ علاقہ تو مافیاواد اور یہاں کے شہروں کو غریبی کے حوالے کردیا گیا تھا۔

مجھے خوشی ہے کہ آج یہی علاقہ ترقی کا ایک نیا باب رقم کررہا ہے۔ میں یوپی کے توانائی سے بھرپور، کرم یوگی وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ جی، ان کی ٹیم اور یوپی کے لوگوں کو پوروانچل ایکسپریس وے کی بہت بہت مبارک باد دیتا ہوں۔ ہمارے جن کسان بھائی بہنوں کی زمین اس میں لگی ہے، جن مزدوروں کا پسینہ اس میں لگا ہے، جن انجینئروں کی ہنرمندی اس میں لگی ہے، ان کا بھی میں بہت بہت شکریہ ادا کرتا ہوں۔

بھائیو اور بہنو!

جتنی ضروری ملک کی خوش حالی ہے، اتنی ہی ضروری ملک کا تحفظ بھی ہے۔ یہاں تھوڑی دیر میں ہم دیکھنے والے ہیں کہ کیسے اب ایمرجنسی کی حالت میں پوروانچل ایکسپریس وے ہماری فضائیہ کے لئے ایک اور طاقت بن گیا ہے۔ اب سے کچھ ہی دیر میں پوروانچل ایکسپریس وے پر ہمارے لڑاکا طیارے، اپنی لینڈنگ کریں گے۔ ان طیاروں کی گھن گرج، ان لوگوں کے لئے بھی ہوگی جنھوں نے ملک میں دفاعی بنیادی ڈھانچے کو دہائیوں تک نظرانداز کیا۔

ساتھیو!

اترپردیش کی زرخیز زمین، یہاں کے لوگوں کی محنت، یہاں کے لوگوں کی ہنرمندی غیرمعمولی ہے۔ اور میں کتاب میں پڑھ کرکے نہیں بول رہا ہوں۔ اترپردیش کے ایم پی کے ناطے یہاں کے لوگوں سے میرا جو رشتہ بنا ہے، ناطہ بنا ہے اس میں سے میں نے جو دیکھا ہے، پایا ہے، اس کو بول رہا ہوں۔ یہاں کے اتنے بڑے علاقے کو گنگا جی اور دیگر ندیوں کا آشیروار ملا ہوا ہے، لیکن یہاں 7-8 سال پہلے جو صورت حال تھی، اسے دیکھ کر مجھے حیرانی ہوتی تھی کہ آخر یوپی کو کچھ لوگ کس بات کی سزا دے رہے ہیں۔ اس لئے 2014 میں جب آپ سب نے، اترپردیش نے، ملک نے مجھے اس بھارت کی عظیم سرزمین کی خدمت کا موقع دیا، تو میں نے یوپی کی ترقی کو یہاں کے ایم پی کے ناطے، پردھان سیوک کے ناطے میرا فرض بنتا تھا، میں نے اس کی باریکیوں میں جانا شروع کیا۔

میں نے بہت ساری کوششیں یوپی کے لئے شروع کروائیں۔ غریبوں کو پختہ مکانات ملے، غریبوں کے گھر میں بیت الخلاء ہو، خواتین کو کھلے میں رفع حاجت کے لئے باہر نہ جانا پڑے، سب کے گھر میں بجلی ہو، ایسے کتنے ہی کام تھے جو یہاں کئے جانے ضروری تھے۔ لیکن مجھے بہت تکلیف ہے کہ تب یوپی میں جو حکومت تھی، اس نے میرا ساتھ نہیں دیا۔ اتنا ہی نہیں، عوامی طور پر میرے بغل میں کھڑے رہنے میں بھی ان کو پتہ نہیں ووٹ بینک کے ناراض ہونے کا ڈر لگتا تھا۔ میں ایم پی کے طور سے آتا تھا تو ہوائی اڈے پر خیرمقدم کرکے پتہ نہیں کہاں کھوجاتے تھے۔ ان کو اتنی شرم آتی تھی، اتنی شرم آتی تھی کیونکہ کام کا حساب دینے کے لئے ان کے پاس کچھ تھا ہی نہیں۔

مجھے معلوم تھا کہ جس طرح تب کی حکومت نے، یوگی جی کے آنے سے پہلے والی حکومت نے یوپی کے لوگوں کے ساتھ ناانصافی کی، جس طرح ان حکومتوں نے ترقی کے معاملے میں تفریق کی، جس طرح صرف اپنے خاندان کے مفادات پورے کئے، یوپی کے لوگ ایسا کرنے والوں کو، ہمیشہ ہمیشہ کے لئے یوپی کی تقری کے راستے سے ہٹادیں گے۔ اور 2017 میں آپ نے تو یہ کرکے دکھایا ہے۔ آپ نے زبردست اکثریت دے کر یوگی جی کو اور مودی جی کو، دونوں کو ساتھ مل کر اپنی اپنی خدمت کا آپ نے موقع دیا ہے۔

اور آج یوپی میں ہورہے ترقیاتی کاموں کو دیکھ کر میں کہہ سکتا ہوں کہ اس علاقے کی، یوپی کی تقدیر بدلنا شروع ہوگئی ہے اور تیز رفتار سے آگے بدلنے والی بھی ہے۔ کون بھول سکتا ہے کہ پہلے یوپی میں کتنی بجلی کٹوتی ہوتی تھی، یاد ہے نا کتنی بجلی کٹوتی ہوتی تھی؟ کون بھول سکتا ہے کہ یوپی میں نظم و نسق کی کیا حالت تھی۔ کون بھول سکتا ہے کہ یوپی میں طبی سہولتوں کی کیا حالت تھی۔ یوپی میں تو حالات ایسے بنادیے گئے تھے کہ یہاں سڑکوں پر راہ نہیں ہوتی تھی، رہزنی ہوتی تھی۔ اب رہزنی کرنے والے جیل میں ہیں اور رہزنی نہیں، گاؤں گاؤں نئی راہ بن رہی ہے، نئی سڑکیں بن  رہی ہیں۔ گزشتہ ساڑھے چار برسوں میں یوپی میں، چاہے مشرق ہو یا مغرب، ہزاروں گاؤں کو نئی سڑکوں سے جوڑا گیا ہے، ہزاروں کلومیٹر نئی سڑکیں بنائی گئی ہیں۔ اب آپ سبھی کے تعاون سے، اترپردیش حکومت کی سرگرم حصے داری سے، یوپی کی ترقی کا سپنا اب پورا ہوتا نظر آرہا ہے۔ آج یوپی میں نئے میڈیکل کالج بن رہے ہیں، ایمس بن رہے ہیں، جدید تعلیمی ادارے بن رہے ہیں۔ کچھ ہفتہ قبل ہی کشی نگر میں بین الاقوامی ہوائی اڈے کا افتتاح کیا اور آج مجھے پوروانچل ایکسپریس وے آپ کو سونپنے کی خوش بختی حاصل ہورہی ہے۔

بھائیو اور بہنو!

اس ایکسپرے وے کا فائدہ غریب کو بھی ہوگا اور متوسط کو بھی۔ کسان کی اس سے مدد ہوگی اور تاجروں کے لئے بھی سہولت ہوگی۔ اس کا فائدہ مزدوروں کو بھی ہوگا اور صنعت کاروں کو بھی، یعنی دلت، محروم، پسماندہ، کسان، نوجوان، متوسط طبقہ، ہر شخص کو اس کا فائدہ ہوگا۔ تعمیر کے دوران بھی اس نے ہزاروں ساتھیوں کو روزگار دیا اور اب شروع ہونے کے بعد بھی یہ لاکھوں نئے روزگار کی تخلیق کا ذریعہ بنے گا۔

ساتھیو!

یہ بھی ایک سچائی تھی کہ یوپی جیسے بڑے صوبے میں، پہلے ایک شہر، دوسرے شہر سے کافی حد تک کٹا ہوا تھا۔ الگ الگ حصوں میں لوگ جاتے تو تھے، کام ہے، رشتے داری ہے، لیکن ایک دوسرے شہروں میں اچھی کنیکٹیوٹی نہ ہونے کی وجہ سے پریشان رہتے تھے۔ پورب کے لوگوں کے لئے لکھنؤ پہنچنا بھی مہابھارت جیتنے جیسا ہوتا تھا۔ پچھلے وزرائے اعلیٰ کے لئے ترقی وہیں تک محدود تھی جہاں ان کا خاندان تھا، ان کا گھر تھا۔ لیکن آج جتنا مغرب کا احترام ہے، اتنا ہی پوروانچل کے لئے بھی ترجیح ہے۔ پوروانچل ایکسپرے وے آج یوپی کی اس کھائی کو پاٹ رہا ہے، یوپی کو آپس میں جوڑ رہا ہے۔ اس ایکسپرے وے کے بننے سے، اودھ، پوروانچل کے ساتھ ساتھ بہار کے لوگوں کو بھی فائدہ ہوگا۔ دہلی سے بہار آنا جانا بھی اب اور آسان ہوجائے گا۔

اور میں آپ کی توجہ ایک اور بات کی طرف دلانا چاہتا ہوں۔ 340 کلومیٹر کے پوروانچل ایکسپریس کی خصوصیت صرف یہی نہیں ہے کہ یہ لکھنؤ، بارابنکی، امیٹھی، سلطانپور، ایودھیا، امبیڈکر نگر، مئو، اعظم گڑھ اور غازی پور کو جوڑے گا۔ اس کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ ایکسپریس وے، لکھنؤ سے ان شہروں کو جوڑے گا جن میں ترقی کی لامحدود خواہش ہے، جہاں ترقی کے بڑے امکانات ہیں۔ اس پر آج یوپی حکومت نے یوگی جی کی قیادت میں 22 ہزار کروڑ روپئے سے زیادہ بھلے خرچ کئے ہوں، لیکن مستقبل میں یہ ایکسپریس وے، لاکھوں کروڑ کی صنعتوں کو یہاں لانے کا ذریعہ بنے گا۔ مجھے اندازہ نہیں ہے کہ میڈیا کے جو ساتھی یہاں ہیں، ان کی توجہ اس جانب گئی ہے کہ نہیں، کہ آج یوپی میں جن نئےایکسپریس وے پر کام ہورہا ہے وہ کس طرح کے شہروں کو جوڑنے والے ہیں۔ تقریباً 300 کلومیٹر کا بندیل کھنڈ ایکسپریس وے کن شہروں کو جوڑے گا؟  چترکوٹ، باندہ حمیرپور، مہوبا، جالون، اوریا اور اٹاوا۔ 90 کلومیٹر کا گورکھپور لنک ایکسپریس کے کن شہروں کو جوڑے گا؟ گورکھپور، امبیڈکرنگر، سنت کبیر نگر، اور اعظم گڑھ۔ تقریباً 600 کلومیٹر کا گنگا ایکسپریس وے کن شہروں کو جوڑے گا؟ میرٹھ، ہاپوڑ، بلندشہر، امروہہ، سنبھل، بدایوں، شاہجہاں پور، ہردوئی، اناؤ، رائے بریلی، پرتاپ گڑھ اور پریاگ راج۔ اب یہ بھی سوچئے، اتنے سارے چھوٹے چھوٹے شہروں کو بھی، آپ مجھے بتائیں ان سے کتنے شہر بڑے میٹرو سٹی مانے جاتے ہیں؟ ان میں سے کتنے شہر، ریاست کے دوسرے شہروں سے اچھی طرح جڑے ہوئے رہے ہیں؟ یوپی کے لوگ ان سوالوں کا جواب جانتے بھی ہیں اور یوپی کے لوگ ان باتوں کو سمجھتے بھی ہیں۔ اس طرح کا کام یوپی میں آزادی کے بعد پہلی بار ہورہا ہے۔ پہلی بار اترپردیش کی امنگوں کی علامت ان شہروں میں جدید کنیکٹیوٹی کو اتنی ترجیح دی گئی ہے۔ اور بھائیو اور بہنو! آپ یہ بھی جانتے ہیں کہ جہاں اچھی سڑک پہنچتی ہے، اچھی شاہراہیں پہنچتی ہیں، وہاں ترقی کی رفتار بڑھ جاتی ہے، روزگار کے مواقع اور تیزی سے پیدا ہونے لگتے ہیں۔

ساتھیو!

اترپردیش کی صنعتی ترقی کے لئے بہترین کنیکٹیوٹی ضروری ہے۔ یوپی کے کونے کونے کو جوڑا جانا ضروری ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ آج یوگی جی کی حکومت بغیر کسی تفریق، بغیر کسی اقربا پروری، بغیر کسی ذات پات، بغیر کسی علاقائیت کے ’سب کا ساتھ، سب کا وکاس‘ کے اصول کو لے کر کام میں مصروف ہے۔ جیسے جیسے یوپی میں ایکسپریس وے تیار ہوتے جارہے ہیں، ویسے ویسے یہاں صنعتی گلیارے کا کام بھی شروع ہوتا جارہا ہے۔ پوروانچل ایکسپریس وے کے اردگرد بہت جلد نئی صنعتیں لگنی شروع ہوجائیں گی۔ اس کے لئے 21 جگہوں کی نشان دہی بھی کی جاچکی ہے۔ آنے والے دنوں میں، ان ایکسپریس وے کے کنارے جو شہر بسے ہیں، ان شہروں میں فوڈ پروسیسنگ، دودھ سے متعلق مصنوعات، کولڈ اسٹوریج، اسٹوریج، ان سے جڑی سرگرمیاں تیزی سے بڑھنے والی ہیں۔ پھل – سبزی، اناج، مویشی پروری اور کھیتی سے متعلق دوسری مصنوعات ہوں یا پھر فارما، الیکٹریکل، ٹیکسٹائل، ہینڈلوم، میٹل، فرنیچر، پیٹروکیمیکل سیکٹر سے جڑی صنعتیں، ان سبھی کو یوپی میں بننے والے نئے ایکسپریس وے، نئی توانائی دینے جارہے ہیں، توجہ کے نئے مرکز بننے والے ہیں۔

ساتھیو،

ان صنعتوں کے لئے ضروری افرادی قوت تیار کرنے کے لئے بھی کام شروع کردیا گیا ہے۔ ان شہروں میں آئی ٹی آئی، دوسرے تعلیمی و تربیتی ادارے، میڈیکل ادارے، ایسے ادارے بھی قائم کئے جائیں گے۔ یعنی کھیت ہو یا صنعت، یوپی کےنوجوانوں کے لئے روزگار کے متعدد متبادل آنے والے وقت میں یہاں تیار ہونے والے ہیں۔ یوپی میں بن رہا ڈیفنس کوریڈور بھی یہاں روزگار کے نئے مواقع لانے والا ہے۔ مجھے یقین ہے، یوپی میں ہورہے بنیادی ڈھانچے کے یہ کام، آنے والے وقت میں یہاں کی معیشت کو نئی بلندی سے ہمکنار کریں گے۔

بھائیو اور بہنو!

ایک شخص گھر بھی بناتا ہے تو پہلے راستے کی فکر کرتا ہے، مٹی کی جانچ کرتا ہے، دوسرے پہلوؤں پر غور کرتا ہے، لیکن یوپی میں ہم نے طویل دور، ایسی حکومتوں کا دیکھا ہے، جنھوں نے کنیکٹیوٹی کی فکر کئے بغیر ہی صنعت کاری سے متعلق بڑے بڑے بیان دیئے، سپنے دکھائے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ضروری سہولتوں کے فقدان میں یہاں لگے متعدد کارخانوں میں تالے لگ گئے۔ ان حالات میں یہ بھی بدقسمتی رہی کہ دہلی اور لکھنؤ، دونوں ہی جگہوں پر کنبہ پرستوں کا ہی دبدبہ رہا، سالوں سال تک کنبہ پرستوں کی یہ شراکت داری، یوپی کی امنگوں کو کچلتی رہی، برباد کرتی رہی۔ بھائیو اور بہنو! سلطان پور کے سپوت شری پتی مشرا جی کے ساتھ بھی تو یہی ہوا تھا۔ جن کا زمینی تجربہ اور کام کرنے کی اہلیت ہی سرمایہ تھی، خاندان کے درباریوں نے ان کو بے عزت کیا۔ ایسے کام کرنے والوں کی بے عزتی یوپی کے لوگ کبھی نہیں بھلا سکتے۔

ساتھیو!

آج یوپی میں ڈبل انجن کی سرکار یوپی کے عوام کو اپنا خاندان مان کر کام کررہی ہے۔ یہاں جو کارخانے لگے ہیں، جو ملیں ہیں، ان کو بہتر طریقے سے چلانے کے ساتھ ساتھ نئی سرمایہ کاری، نئے کارخانوں کے لئے ماحول بنایا جارہا ہے۔ اہم یہ بھی ہے کہ یوپی میں آج صرف 5 سال کا منصوبہ نہیں بن رہا، بلکہ اس دہائی کی ضرورتوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے عظیم الشان اترپردیش کی تعمیر کے لئے بنیادی ڈھانچہ تیار کیا جارہا ہے۔ مشرقی اور مغربی ڈیڈیکیٹڈ فریٹ کوریڈور سے اترپردیش کو مشرقی سمندری ساحل اور مغربی سمندری ساحل سے جوڑنے کے پس پشت یہی فکر ہے۔ مال گاڑیوں کے لئے بنے ان خصوصی راستوں سے یوپی کے کسانوں کی پیداوار اور فیکٹریوں میں بنا سامان دنیا کے بازاروں تک پہنچ پائے گا۔ اس کا فائدہ بھی ہمارے کسانوں، ہمارے تاجر، ہمارے کاروباری، ایسے ہر چھوٹے بڑے ساتھیوں کو ہونے والا ہے۔

بھائیو اور بہنو!

آج اس پروگروام میں، میں یوپی کے لوگوں کی، کورونا ٹیکہ کے لئے بہترین کام کرنے کی بھی ستائش کرنا چاہتا ہوں۔ یوپی میں 14 کروڑ ٹیکے لگاکر اپنی ریاست کو ملک ہی نہیں، بلکہ دنیا میں پیش رو رول میں کھڑا کیا ہے۔ دنیا کے  متعدد ملکوں کی تو  اتنی کل آبادی تک نہیں ہے۔

ساتھیو!

میں یوپی کے لوگوں کی اس بات کے لئے بھی ستائش کروں گا کہ اس نے بھارت میں بنی ویکسین کے خلاف کسی بھی سیاسی پروپیگنڈے کو ٹکنے نہیں دیا۔ یہاں کے لوگوں کی صحت سے، ان کی زندگی سے کھلواڑ کی اس سازش کو یوپی کے لوگوں نے پست کردیا اور میں یہ بھی کہوں گا کہ یوپی کے عوام انھیں اسی طرح آگے بھی پست کرتے رہیں گے۔

بھائیو اور بہنو!

یوپی کی چوطرفہ ترقی کے لئے ہماری حکومت دن رات محنت کررہی ہے۔ کنیکٹیوٹی کے ساتھ ہی یوپی میں بنیادی سہولتوں کو بھی اعلیٰ ترین ترجیح دی جارہی ہے۔ اس کا سب سے زیادہ فائدہ ہماری بہنوں کو ہوا ہے۔ ناری شکتی کو ہوا ہے۔ غریب بہنوں کو جب ان کا اپنا پختہ گھر مل رہا ہے، ان کے نام سے مل رہا ہے، تو ان کو پہچان کے ساتھ ساتھ گرمی – برسات – سردی، ایسی متعدد پریشانیوں سے بھی نجات مل رہی ہے۔ بجلی اور گیس کنیکشن کے فقدان میں بھی سب سے زیادہ پریشانی ماؤں اور بہنوں کو ہوتی تھی۔ سوبھاگیہ اور اجولا سےملے مفت بجلی اور گیس کنیکشن سے یہ پریشانی بھی دور ہوگئی۔ ٹوائلٹ کے فقدان میں گھر اور اسکول دونوں جگہ سب سے زیادہ پریشانی ہماری بہنوں اور ہماری بیٹیوں کو ہوتی تھی۔ اب عزت گھر بننے سے گھر میں بھی سکھ ہے، اور بیٹیوں کو بھی اب اسکول میں بغیر کسی جھجک کے پڑھائی کا راستہ ملا ہے۔

پینے کے پانی کی پریشانی میں تو نہ جانے ماؤں بہنوں کی کتنی نسلیں گزر گئیں۔ اب جاکر ہر گھر پانی پہنچایا  جارہا ہے، پائپ سے پانی پہنچ رہا ہے۔ صرف دو سال میں ہی یوپی سرکار نے تقریباً 30 لاکھ دیہی کنبوں کو نل سے جل پہنچادیا ہے اور اس سال لاکھوں بہنوں کو اپنے گھر پر ہی پینے کا صاف پانی دینے کے لئے ڈبل انجن کی سرکار پوری طرح سے پابند عہد ہے۔

بھائیو اور بہنو!

صحت سہولتوں کے فقدان میں بھی اگر سب سے زیادہ پریشانی کسی کو ہوتی تھی تو وہ بھی ہماری ماؤں بہنوں کو ہی ہوتی تھی۔ بچے سے لے کر پورے خاندان کی صحت کی فکر، خرچ کی فکر، ایسی ہوتی تھی کہ وہ اپنا علاج کرانے تک سے بچتی تھی، لیکن آیوشمان بھارت یوجنا، نئے اسپتالوں، میڈیکل کالج جیسی سہولتوں سے ہماری بہنوں، بیٹیوں کو بہت بڑی راحت ملی ہے۔

ساتھیو!

ڈبل انجن کی سرکار کے جب ایسے ڈبل فائدے ملتے ہیں تو ان لوگوں کا، میں دیکھ رہا ہوں، آپا کھورہے ہیں، کیا کیا بولے جارہے ہیں، ان کا متزلزل ہونا بہت فطری ہے۔ جو اپنے وقت میں ناکام رہے وہ یوگی جی کی کامیابی بھی نہیں دیکھ پارہے ہیں۔ جو کامیابی دیکھ نہیں پارہے ہیں وہ کامیابی پچا کیسے پائیں گے۔

بھائیو – بہنو!

ان کے شور سے دور، جذبہ خدمت سے ملک کی تعمیر میں مصروف رہنا یہی ہمارا کرم ہے، یہی ہماری کرم گنگا ہے اور ہم اس کرم گنگا کو لے کرکے سجلام، سپھلام کا ماحول بناتے رہیں گے۔ مجھے یقین ہے، آپ کا پیار، آپ کا آشیرواد ہمیں ایسے ہی ملتا رہے گا۔ ایک بار پھر پوروانچل ایکسپریس وے کی آپ کو بہت بہت مبارک باد۔

میرے ساتھ بولئے، پوری طاقت سے بولئے،

بھارت ماتا کی جے!

بھارت ماتا کی جے!

بھارت ماتا کی جے!

بہت بہت شکریہ!

Share beneficiary interaction videos of India's evolving story..
Explore More
وزیر اعظم کی پریکشا پہ چرچا پی  ایم مودی کے ساتھ کا متن

Popular Speeches

وزیر اعظم کی پریکشا پہ چرچا پی ایم مودی کے ساتھ کا متن
In 5 charts: Why India needs Agnipath for military modernisation

Media Coverage

In 5 charts: Why India needs Agnipath for military modernisation
...

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
PM Modi takes part in 14th BRICS Summit
June 24, 2022
Share
 
Comments

Prime Minister Shri Narendra Modi led India’s participation at the 14th BRICS Summit, convened under the Chairship of President Xi Jinping of China on 23-24 June 2022, in a virtual format. President Jair Bolsonaro of Brazil, President Vladimir Putin of Russia, and President Cyril Ramaphosa of South Africa also participated in the Summit on 23 June. The High-level Dialogue on Global Development, non-BRICS engagement segment of the Summit, was held on 24 June.

On 23 June, the leaders held discussions including in fields of Counter-Terrorism, Trade, Health, Traditional Medicine, Environment, Science, Technology & Innovation, Agriculture, Technical and Vocational Education & Training, and also key issues in the global context, including the reform of the multilateral system, COVID-19 pandemic, global economic recovery, amongst others. Prime Minister called for strengthening of the BRICS Identity and proposed establishment of Online Database for BRICS documents, BRICS Railways Research Network, and strengthening cooperation between MSMEs. India will be organizing BRICS Startup event this year to strengthen connection between Startups in BRICS countries. Prime Minister also noted that as BRICS members we should understand security concerns of each other and provide mutual support in designation of terrorists and this sensitive issue should not be politicized. At the conclusion of the Summit, BRICS Leaders adopted the ‘Beijing Declaration’.

On 24 June, Prime Minister highlighted India’s development partnership with Africa, Central Asia, Southeast Asia, and from Pacific to Caribbean; India’s focus on a free, open, inclusive, and rules-based maritime space; respect for sovereignty and territorial integrity of all nations from the Indian Ocean Region to Pacific Ocean; and reform of multilateral system as large parts of Asia and all of Africa and Latin America have no voice in global decision-making. Prime Minister noted the importance of circular economy and invited citizens of participating countries to join Lifestyle for Environment (LIFE) campaign. The participating guest countries were Algeria, Argentina, Cambodia, Egypt, Ethiopia, Fiji, Indonesia, Iran, Kazakhstan, Malaysia, Senegal, Thailand and Uzbekistan.

Earlier, in the keynote speech delivered at the Opening Ceremony of BRICS Business Forum on 22 June, Prime Minister appreciated BRICS Business Council and BRICS Women Business Alliance which continued their work despite COVID-19 Pandemic. Prime Minister also suggested the BRICS business community to further cooperate in field of technology-based solutions for social and economic challenges, Startups, and MSMEs.