سدھارتھ نگر، ایٹہ، ہردوئی، پرتاپ گڑھ، فتح پور، دیوریا، غازی پور، مرزا پور اور جونپور میں نئے میڈیکل کالج
’’اترپردیش کی ڈبل انجن والی سرکار ، بہت سے کرم یوگیوں کی دہائیوں کی سخت محنت کا نتیجہ ہے‘‘۔
’’مادھو پرساد ترپاٹھی کا نام ، میڈیکل کالج سے باہر آنے والے نوجوان ڈاکٹروں کو عوامی خدمات کے لئے تحریک دیتا رہے گا۔‘‘
’’پروانچل، اترپردیش ، جو کہ اس سے قبل مینن جائٹس (گردن توڑ بخار) کے لئے بدنام تھا، اب مشرقی ہندوستان کی صحت کو ایک نئی روشنی بخشے گا۔‘‘
’’اگر سرکار حساس ہے ، غریب کا درد سمجھنے کے لئے ذہن میں درد مندی کا احساس ہے، تو اس طرح کے واقعات پیش آتے ہیں‘‘
’’ریاست میں اتنے زیادہ میڈیکل کالجوں کا قیام غیر متوقع ہے۔ ایسا اس سے قبل نہیں ہوا اور یہ اب کیوں ہو رہا ہے، اس کی صرف ایک وجہ ہے – سیاسی عزم اور سیاسی ترجیح‘‘
’’2017تک اترپردیش کے سرکاری میڈیکل کالجوں میں صرف 1900 سیٹیں تھیں۔ڈل انجن والی سرکار نے گزشتہ صرف 4 برسوں میں 1900 سے زیادہ سیٹوں کا اضافہ کیا ہے‘‘

اتر پردیش کی گورنر محترمہ آنندی بین پٹیل جی، یوپی کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ جی، مرکزی وزیر صحت جناب من سکھ منڈاویا جی، اسٹیج پر موجود یوپی سرکار کے دیگر وزراء، جن دیگر مقامات پر نئے میڈیکل کالج بنے ہیں، وہاں موجود یوپی سرکار کے وزراء، پروگرام میں موجود سبھی رکن پارلیمنٹ، رکن اسمبلی، دیگر عوامی نمائندے، اور میرے پیارے بھائیوں اور بہنوں،

آج کا دن پوروانچل کے لیے، پورے اتر پردیش کے لیے آروگیہ کی ڈبل ڈوز لے کر آیا ہے، آپ کے لیے ایک تحفہ لے کر آیا ہے۔ یہاں سدھارتھ نگر میں یو پی کے 9 میڈیکل کالج کا افتتاح ہو رہا ہے۔ اس کے بعد پوروانچل سے ہی پورے ملک کے لیے بہت ضروری ایسے میڈیکل انفراسٹرکچر کی ایک بہت بڑی اسکیم شروع ہونے جا رہی ہے۔ اور اس بڑے کام کے لیے میں یہاں سے آپ کا آشیرواد لینے کے بعد، اس مقدس سرزمین کا آشیرواد لینے کے بعد، آپ سے بات چیت کے بعد کاشی جاؤں گا اور کاشی میں اس پروگرام کو لانچ کروں گا۔

ساتھیوں،

آج مرکز میں جو سرکار ہے، یہاں یو پی میں جو سرکار ہے، وہ متعدد کرم یوگیوں کی دہائیوں کی تپسیا کا پھل ہے۔ سدھارتھ نگر نے بھی آنجہانی مادھو پرساد ترپاٹھی جی کی شکل میں ایک ایسا وقف عوامی نمائندہ ملک کو دیا، جن کی انتھک محنت آج ملک کے کام آ رہی ہے۔ مادھو بابو نے سیاست میں کرم یوگی کے قیام کے لیے پوری زندگی لگا دی۔ یوپی بی جے پی کے پہلے صدر کے طور پر، مرکز میں وزیر کے طور پر، انہوں نے خاص طور سے پوروانچل کی ترقی کی فکر کی۔ اس لیے سدھارتھ نگر کے نئے میڈیکل کالج کا نام مادھو بابو کے نام پر رکھنا ان کے خدمت کے جذبہ کے تئیں سچی کاریانجلی ہے۔ اور اس کے لیے میں یوگی جی اور ان کی پوری سرکار کو مبارکباد دیتا ہوں۔ مادھو بابو کا نام یہاں سے پڑھ کر نکلنے والے نوجوان ڈاکٹروں کو عوامی خدمت کا مسلسل حوصلہ بھی دے گا۔

بھائیوں اور بہنوں،

یوپی اور پوروانچل میں اعتقاد، روحانیت اور سماجی زندگی سے جڑی بہت تفصیلی وراثت ہے۔ اسی وراثت کو صحت مند، قابل اور خوشحال اتر پردیش کے مستقبل کے ساتھ بھی جوڑا جا رہا ہے۔ آج جن 9 ضلعوں میں میڈیکل کالج کا افتتاح کیا گیا ہے، ان میں یہ نظر آتا بھی ہے۔ سدھارتھ نگر میں مادھو پرساد ترپاٹھی میڈیکل کالج، دیوریا میں مہرشی دیورہا بابا میڈیکل کالج، غازی پور میں مہرشی وشوامتر میڈیکل کالج، مرزاپور میں ماں وندھے واسنی میڈیکل کالج، پرتاپ گڑھ میں ڈاکٹر سونے لال پٹیل میڈیکل کالج، ایٹہ میں ویرانگنا اونتی بائی لودھی میڈیکل کالج، فتح پور میں عظیم لڑاکو امر شہید جودھا سنگھ اور ٹھاکر دریاؤں سنگھ کے نام پر میڈیکل کالج، جونپور میں اوما ناتھ سنگھ میڈیکل کالج، اور ہردوئی کا میڈیکل کالج۔ ایسے کتنے نئے میڈیکل کالج یہ سبھی میڈیکل کالج اب پوروانچل کے کروڑوں لوگوں کی خدمت کرنے کے لیے تیار ہیں۔ ان 9 نئے میڈیکل کالجوں کی تعمیر سے، تقریباً ڈھائی ہزار نئے بیڈ تیار ہوئے ہیں، 5 ہزار سے زیادہ ڈاکٹر اور پیرامیڈیکل کے لیے روزگار کے نئے مواقع بنے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ہر سال سینکڑوں نوجوانوں کے لیے میڈیکل کی پڑھائی کا نیا راستہ کھلا ہے۔

ساتھیوں،

جس پوروانچل کو پہلے کی حکومتوں نے، بیماریوں سے نمٹنے کے لیے چھوڑ دیا تھا، وہی اب مشرقی بھارت کا میڈیکل ہب بنے گا، اب ملک کو بیماریوں سے بچانے والے متعدد ڈاکٹر یہ سرزمین ملک کو دینے والی ہے۔ جس پوروانچل کی شبیہ پچھلی سرکاروں نے خراب کر دی تھی، جس پوروانچل کو دماغی بخار سے ہوئی افسوسناک اموات کی وجہ سے بدنام کر دیا گیا تھا، وہی پوروانچل، وہی اتر پردیش، مشرقی بھارت کو صحت کا انیا اجالا دینے والا ہے۔

ساتھیوں،

یوپی کے بھائی بہن بھول نہیں سکتے کہ کیسے یوگی جی نے پارلیمنٹ میں یوپی کے بدحال میڈیکل نظام کی آپ بیتی سنائی تھی۔ یوگی جی تب وزیر اعلیٰ نہیں تھے، وہ ایک رکن پارلیمنٹ تھے اور بہت چھوٹی عمر میں رکن پارلیمنٹ بنے تھے۔ اور اب آج یوپی کے لوگ یہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ جب یوگی جی کو عوام نے خدمت کا موقع دیا تو کیسے انہوں نے دماغی بخار کو بڑھنے سے روک دیا، اس علاقے کے ہزاروں بچوں کی زندگی بچا لی۔ سرکار جب حساس ہو، غریب کا درد سمجھنے کے لیے من میں ہمدردی کا جذبہ ہو، تو اسی طرح کا کام ہوتا ہے۔

بھائیوں اور بہنوں،

ہمارے ملک میں آزادی سے پہلے اور اس کے بعد بھی بنیادی طبی اور صحت سے متعلق سہولیات کو کبھی ترجیح نہیں دی گئی۔ اچھا علاج چاہیے تو بڑے شہر جانا ہوگا، اچھے ڈاکٹر سے علاج کرانا ہے، تو بڑے شہر جانا ہوگا، دیر رات کسی کی طبیعت خراب ہو گئی تو گاڑی کا انتظام کرو اور لے کر بھاگو شہر کی طرف۔ ہمارے گاؤں دیہات کی یہی سچائی رہی ہے۔ گاؤوں میں، قصبوں میں، ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر تک میں بہتر طبی سہولیات مشکل سے ہی ملتی تھیں۔ اس تکلیف کو میں نے بھی برداشت کیا ہے، محسوس کیا ہے۔ ملک کے غریب، دلت، مظلوم، محروم، ملک کے کسان، گاؤوں کے لوگ، چھوٹے چھوٹے بچوں کو سینے سے لگائے ادھر ادھر دوڑ رہی مائیں، ہمارے بزرگ، جب صحت کی بنیادی سہولیات کے لیے سرکار کی طرف دیکھتے تھے، تو انہیں ناامیدی ہی ہاتھ لگتی تھی۔ اسی نا امیدی کو میرے غریب بھائی بہنوں نے اپنی قسمت مان لیا تھا۔ جب 2014 میں آپ نے مجھے ملک کی خدمت کا موقع عطا کیا، تب پہلے کی حالت کو بدلنے کے لیے ہماری سرکار نے دن رات ایک کر دیا۔ عوام کی تکلیف کو سمجھتے ہوئے، عام انسانوں کے درد کو سمجھتے ہوئے، ان کے دکھ درد کو شیئر کرنے میں ہم حصہ دار بنے۔ ہم نے ملک کی طبی سہولیات کو بہتر کرنے کے لیے، جدیدیت لانے کے لیے ایک مہا یگیہ شروع کیا، متعدد اسکیمیں شروع کیں۔ لیکن مجھے اس بات کا ہمیشہ افسوس رہے گا کہ یہاں پہلے جو سرکا ر تھی، اس نے ہمارا ساتھ نہیں دیا۔ ترقی کے کاموں میں وہ سیاست کو لے آئی، مرکز کی اسکیموں کو یہاں یو پی میں آگے نہیں بڑھنے دیا گیا۔

ساتھیوں،

یہاں الگ الگ عمر کے بھائی بہن بیٹھے ہیں۔ کیا کبھی کسی کو یاد پڑتا ہے اور یاد پڑتا ہے تو مجھے بتانا کیا کسی کو یاد پڑتا ہے کہ اتر پردیش کی تاریخ میں کبھی ایک ساتھ اتنے میڈیکل کالج کا افتتاح ہوا ہو؟ ہوا ہے کبھی؟ نہیں ہوا ہے نا۔ پہلے ایسا کیوں نہیں ہوتا تھا اور اب ایسا کیوں ہو رہا ہے، اس کی ایک ہی وجہ ہے – سیاسی قوت ارادی اور سیاسی ترجیحات۔ جو پہلے تھے ان کی ترجیح – اپنے لیے پیسہ کمانا اور اپنی فیملی کی تجوری بھرنا تھا۔ ہماری ترجیح – غریب کا پیسہ بچانا، غریب کی فیملی کو بنیادی سہولیات دینا ہے۔

ساتھیوں،

بیماری امیر غریب کچھ نہیں دیکھتی ہے۔ اس کے لیے تو سب برابر ہوتے ہیں۔ اور اس لیے ان سہولیات کا جتنا فائدہ غریب کو ہوتا ہے، اتنا ہی فائدہ متوسط طبقہ کے کنبوں کو بھی ہوتا ہے۔

ساتھیوں،

7 سال پہلے جو دہلی میں سرکار تھی اور 4 سال پہلے جو یہاں یو پی میں سرکار تھی، وہ پوروانچل میں کیا کرتے تھے؟ جو پہلے سرکار میں تھے، وہ ووٹ کے لیے نہیں ڈسپنسری کی کہیں، کہیں چھوٹے چھوٹے اسپتال کا اعلان کرکے بیٹھ جاتے تھے۔ لوگ بھی امید لگائے رہتے تھے۔ لیکن سالوں سال تک یا تو بلڈنگ ہی نہیں بنتی تھی، بلڈنگ ہوتی تھی تو مشینیں نہیں ہوتی تھیں، دونوں ہو گئیں تو ڈاکٹر اور دوسرا اسٹاف نہیں ہوتا تھا۔ اوپر سے غریبوں کے ہزاروں کروڑ روپے لوٹنے والی بدعنوانی کی سائیکل چوبیسوں گھنٹے الگ سے چلتی رہتی تھی۔ دوائی میں بدعنوانی، ایمبولینس میں بدعنوانی، تقرری میں بدعنوانی، ٹرانسفر پوسٹنگ میں بدعنوانی! اس پورے کھیل میں یو پی میں کچھ خاندان پرستوں کا تو خوب بھلا ہوا، بدعنوانی کی سائیکل تو خوب چلی، لیکن اس میں پوروانچل اور یو پی کی عام فیملی پستی چلی گئی۔

صحیح ہی کہا جاتا ہے-

’جاکے پاؤں نہ پھٹی بیوائی، وہ کیا جانے پیر پرائی‘

ساتھیوں،

گزشتہ برسوں میں ڈبل انجن کی سرکار نے ہر غریب تک بہتر طبی سہولیات پہنچانے کے لیے بہت ایمانداری سے کوشش کی ہے، مسلسل کام کیا ہے۔ ہم نے ملک میں نئی صحت پالیسی نافذ کی تاکہ غریب کو سستا علاج ملے اور اسے بیماریوں سے بھی بچایا جا سکے۔ یہاں یو پی میں بھی 90 لاکھ مریضوں کو آیوشمان بھارت کے تحت مفت علاج ملا ہے۔ ان غریبوں کے آیوشمان بھارت کی وجہ سے  تقریباً ایک ہزار کروڑ روپے علاج میں خرچ ہونے سے بچے ہیں۔ آج ہزاروں جن اوشدھی کیندروں سے بہت سستی دوائیں مل رہی ہیں۔ کینسر کا علاج، ڈائلیسس اور ہارٹ کی سرجری تک بہت سستی ہوئی ہے، بیت الخلاء جیسی سہولیات سے متعدد بیماریوں میں کمی آئی ہے۔ یہی نہیں، ملک بھر میں بہتر اسپتال کیسے بنیں اور ان اسپتالوں میں بہتر ڈاکٹر اور دوسرے میڈیکل اسٹاف کیسے دستیاب ہوں، اس کے لیے بہت بڑے اور لمبے وژن کے ساتھ کام کیا جا رہا ہے۔ اب اسپتالوں کا، میڈیکل کالجوں کا بھومی پوجن بھی ہوتا ہے اور ان کا مقررہ وقت پر افتتاح بھی ہوتا ہے۔ یوگی جی کی سرکار سے پہلے جو سرکار تھی، اس نے اپنی مدت کار میں یو پی میں صرف 6 میڈیکل کالج بنوائے تھے۔ یوگی جی کی مدت کار میں 16 میڈیکل شروع ہو چکے ہیں اور 30 نئے میڈیکل کالجوں پر تیزی سے کام چل رہا ہے۔ رائے بریلی اور گورکھپور میں بن رہے ایمس تو یوپی کے لیے ایک طرح سے بونس ہیں۔

بھائیوں اور بہنوں،

میڈیکل کالج صرف بہتر علاج ہی نہیں دیتے، بلکہ نئے ڈاکٹر، نئے پیرامیڈکس کی بھی تعمیر کرتے ہیں۔ جب میڈیکل کالج بنتا ہے تو وہاں پر خاص قسم کا لیباریٹری ٹریننگ سنٹر، نرسنگ یونٹ، میڈیکل یونٹ اور روزگار کے متعدد نئے وسائل بنتے ہیں۔ بدقسمتی سے پہلے کی دہائیوں میں ملک میں ڈاکٹروں کی کمی کو پورا کرنے کے لیے ملک گیر حکمت عملی پر کام ہی نہیں ہوا۔ متعدد دہائی پہلے میڈیکل کالج اور میڈیکل ایجوکیشن کی دیکھ ریکھ کے لیے جو ضابطے قاعدے بنائے گئے تھے، جو ادارے بنائے گئے، جو پرانے طور طریقوں سے ہی چل رہے تھے۔ یہ نئے میڈیکل کالج کی تعمیر میں رکاوٹ بھی بن رہے تھے۔

گزشتہ 7 سالوں میں ایک کے بعد ایک ہر ایسے پرانے نظام کو بدلا جا رہا ہے، جو طبی تعلیم کی راہ میں رکاوٹ بن رہا ہے۔ اس کا نتیجہ میڈیکل سیٹوں کی تعداد میں بھی نظر آتا ہے۔ 2014 سے پہلے ہمارے ملک میں میڈیکل کی سیٹیں 90 ہزار سے بھی کم تھیں۔ گزشتہ 7 برسوں میں ملک میں میڈیکل کی 60 ہزار نئی سیٹیں جوڑی گئی ہیں۔ یہاں اتر پردیش میں بھی 2017 تک سرکاری میڈیکل کالجوں میں میڈیکل کی صرف 1900 سیٹیں تھیں۔ جب کہ ڈبل انجن کی سرکار میں پچھلے چار سال میں ہی 1900 سیٹوں سے زیادہ میڈیکل سیٹوں کا اضافہ کیا گیا ہے۔

ساتھیوں،

میڈیکل کالجوں کی تعداد بڑھنے کا، میڈیکل سیٹوں کی تعداد بڑھنے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ یہاں کے زیادہ سے زیادہ نوجوان ڈاکٹر بنیں گے۔ غریب ماں کے بیٹے اور بیٹی کو بھی اب ڈاکٹر بننے میں مزید آسانی ہوگی۔ سرکار کی مسلسل کوشش کا نتیجہ ہے کہ آزادی کے بعد، 70 برسوں میں جتنے ڈاکٹر پڑھ لکھ کر نکلے، اس سے زیادہ ڈاکٹر ہم اگلے 12-10 برسوں میں تیار کر پائیں گے۔

ساتھیوں،

نوجوانوں کو ملک بھر میں الگ الگ انٹرینس ٹیسٹ کی ٹینشن سے آزادی دلانے کے لیے وَن نیشن، وَن ایگزام کو نافذ کیا گیا ہے۔ اس سے خرچ کی بھی بچت ہوئی ہے اور پریشانی بھی کم ہوئی ہے۔ میڈیکل تعلیم غریب اور مڈل کلاس کی پہنچ میں ہو، اس کے لیے پرائیویٹ کالج کی فیس کو قابو میں رکھنے کے لیے قانون انتظامات بھی کیے گئے ہیں۔ مقامی زبان میں میڈیکل کی پڑھائی نہ ہونے سے بھی بہت دقتیں آتی تھیں۔ اب ہندی سمیت متعدد ہندوستانی زبانوں میں بھی میڈیکل کی بہترین پڑھائی کا متبادل دے دیا گیا ہے۔ اپنی مادری زبان میں جب نوجوان سیکھیں گے تو اپنے کام پر ان کی پکڑ بھی بہتر ہوگی۔

ساتھیوں،

اپنی صحت سے متعلق سہولیات کو یوپی تیزی سے بہتر کر سکتا ہے، یہ یوپی کے لوگوں نے اس کورونا دور میں بھی ثابت کیا ہے۔ چار دن پہلے ہی ملک نے 100 کروڑ ویکسین ڈوز کا بڑا ہدف حاصل کیا ہے۔ اور اس میں یو پی کا بھی بہت بڑا تعاون ہے۔ میں یو پی کے تمام عوام، کورونا واریئرز، حکومت، انتظامیہ اور اس سے جڑے سبھی لوگوں کو مبارکباد دیتا ہوں۔ آج ملک کے پاس 100 کروڑ ویکسین ڈوز کا سیکورٹی کور ہے۔ باوجود اس کے کورونا سے تحفظ کے لیے یوپی اپنی تیاریوں میں مصروف ہے۔ یوپی کے ہر ضلع میں کورونا سے نمٹنے کے لیے بچوں کی کیئر یونٹ یا تو بن چکی ہے یا تیزی سے بن رہی ہے۔ کووڈ کی جانچ کے لیے آج یوپی کے پاس 60 سے زیادہ لیبس موجود ہیں۔ 500 سے زیادہ نئے آکسیجن پلانٹس پر بھی تیزی سے کام چل رہا ہے۔

ساتھیوں،

یہی تو سب کا ساتھ، سب کا وکاس، سب کا وشواس اور سب کا پریاس یہی تو اس کا راستہ ہے۔ جب سبھی صحت مند ہوں گے، جب سبھی کو موقع ملے گا، تب جا کر سب کا پریاس ملک کے کام آئے گا۔ دیوالی اور چھٹھ کا تہوار اس بار پوروانچل میں آروگیہ کا نیا اعتماد لے کر آیا ہے۔ یہ اعتماد، تیز رفتار ترقی کی بنیاد بنے، اسی دعا کے ساتھ نئے میڈیکل کالج کے لیے پورے یوپی کو پھر سے بہت بہت مبارکباد اور شکریہ ادا کرتا ہوں۔ آپ بھی اتنی بڑی تعداد میں ہمیں آشیرواد دینے کے لیے آئے اس لیے میں خاص طور آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ بہت بہت شکریہ۔

Explore More
لال قلعہ کی فصیل سے 77ویں یوم آزادی کے موقع پر وزیراعظم جناب نریندر مودی کے خطاب کا متن

Popular Speeches

لال قلعہ کی فصیل سے 77ویں یوم آزادی کے موقع پر وزیراعظم جناب نریندر مودی کے خطاب کا متن
A Leader for a New Era: Modi and the Resurgence of the Indian Dream

Media Coverage

A Leader for a New Era: Modi and the Resurgence of the Indian Dream
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Srinagar Viksit Bharat Ambassadors Unite for 'Viksit Bharat, Viksit Kashmir'
April 20, 2024

Srinagar hosted a momentous gathering under the banner of the Viksit Bharat Ambassador or VBA 2024. Held at the prestigious Radisson Collection, the event served as a unique platform, bringing together diverse voices and perspectives to foster the nation's collective advancement towards development.

Graced by the esteemed presence of Union Minister Shri Hardeep Singh Puri as the Chief Guest, the event saw the attendance of over 400 distinguished members of society, representing influencers, industry stalwarts, environmentalists, and young minds, including first-time voters. Presidents of Chambers of Commerce, Federation of Kashmir Industrial Corporation, House Boat Owners Association, and members of the writers' association were also present.

The VBA 2024 meetup began with an interesting panel discussion on Viksit Kashmir, which focused on the symbiotic relationship between industry growth and sustainable development. This was followed by an interactive session by Minister Puri, who engaged with the attendees through an engaging presentation. Another event highlight was the live doodle capture by a local artist of the discussions.

Union Minister Hardeep Singh Puri discussed how India has changed in the last decade. He said India is on track to become one of the world's top three economies, surpassing Germany and Japan soon.

 

"The country is set to surpass Germany and Japan and will become the world's third-largest economy by 2027-28," he said.

 

According to official estimates, India's economy is projected to reach a remarkable $40 trillion by 2040. Presently, the economy stands at approximately $3.5 trillion.

He also stressed that India's progress is incomplete without a developed Kashmir.

 

"Bharat cannot be Viksit without a Viksit Kashmir," he said.

Hardeep Puri reflected on India's economic journey, noting that in the 1700s, India contributed a significant 25% to the global GDP. However, as experts documented, this figure gradually dwindled to a mere 2% by 1947.

 

He highlighted how India, once renowned as the 'sone ki chidiya' (golden bird), lost its economic strength during British colonial rule and continued to struggle even after gaining independence, remaining categorized under the 'Fragile Five' until 2014.

 

Puri emphasized that the true shift in India's economic trajectory commenced under the Modi government. Over the past decade, the nation has ascended from among the top 11 economies to ranking among the top 5 globally.

The Union Minister also encouraged everyone to participate in the Viksit Bharat 2047 mission, emphasizing that achieving this dream requires the active engagement and coordination of all "ambassadors" of change.

He highlighted India's rapid progress in metro network development, stating that the operational metro network spans approximately 950 kilometres. He expressed confidence that within the next 2-3 years, India's metro network will expand to become the second-largest globally, surpassing that of the United States.

 

Regarding Jammu and Kashmir, he mentioned that through the Smart project, over 68 projects totalling Rs 6,800 crores were conceptualized, with Rs 3,200 crores worth of projects already completed.

 

He further stated that Jammu and Kashmir possesses more potential than Switzerland but has faced setbacks due to man-made crises. He emphasized the Modi government's dedication to the comprehensive development of the region.

The minister highlighted a significant government policy shift from women-centred to women-led development. Drawing from his extensive experience as a diplomat spanning 39 years, he shared that when a country transitions to women-led development, there is typically a substantial GDP increase of 20-30%. 

He mentioned that the government is actively pursuing this objective, citing examples such as the Awas Yojana, where houses are registered in the names of women household members, and the implementation of 33% reservation for women in elected bodies as part of this broader mission. 

He also provided insight into the transformative impact of the Modi government's welfare policies on people's lives. He highlighted the Ujjwala Yojana, noting that 32 crore individuals have received LPG cylinders, a significant increase from the 14 crore connections in 2014. Additionally, he mentioned the expansion of the gas pipeline network, which has grown from 14,000 km to over 20,000 km over the past ten years.

The Vision of Viksit Bharat: 140 crore dreams, 1 purpose 

The Viksit Bharat Ambassador movement aims to encourage citizens to take responsibility for contributing to India's development. VBA meet-ups and events are being organized in various parts of the country to achieve this goal. These events provide a platform for participants to engage in constructive discussions, exchange ideas, and explore practical strategies for contributing to the movement.

Join the movement on the NaMo App: https://www.narendramodi.in/ViksitBharatAmbassador

The NaMo App: Bridging the Gap

Prime Minister Narendra Modi's app, the NaMo App, is a digital bridge that empowers citizens to participate in the Viksit Bharat Ambassador movement. The NaMo App serves as a one-stop platform for individuals to:

Join the cause: Sign up and become a Viksit Bharat Ambassador and make 10 other people

Amplify Development Stories: Access updates, news, and resources related to the movement.

Create/Join Events: Create and discover local events, meet-ups, and volunteer opportunities.

Connect/Network: Find and interact with like-minded individuals who share the vision of a developed India.

The 'VBA Event' section in the 'Onground Tasks' tab of the 'Volunteer Module' of the NaMo App allows users to stay updated with the ongoing VBA events.