Releases commemorative stamp in honor of Late Shri Arvind Bhai Mafatlal
“Coming to Chitrakoot is a matter of immense happiness for me”
“Glory and importance of Chitrakoot remains eternal by the work of saints”
“Our nation is the land of several greats, who transcend their individual selves and remain committed to the greater good”
“Sacrifice is the most effective way to conserve one’s success or wealth”
“As I came to know Arvind Bhai’s work and personality I developed an emotional connection for his mission”
“Today, the country is undertaking holistic initiatives for the betterment of tribal communities”

جئے گرودیو! مدھیہ پردیش کے گورنر جناب منگو بھائی پٹیل، وزیر اعلی بھائی شیوراج جی، سدگرو سیوا سنگھ ٹرسٹ کے تمام ممبران، خواتین و حضرات!

آج مجھے چترکوٹ کے اس مقدس مقام کی دوبارہ زیارت کا موقع ملا ہے۔ یہ وہ مافوق الفطرت علاقہ ہے، جس کے بارے میں ہمارے سنتوں نے کہا ہے – چترکوٹ سب دن بست، پربھو سیے لکھن سمیت! یعنی بھگوان شری رام روزانہ ماں سیتا اور لکشمن جی کے ساتھ چترکوٹ میں رہتے ہیں۔ یہاں آنے سے پہلے مجھے شری رگھوبیر مندر اور شری رام جانکی مندر جانے کا شرف حاصل ہوا اور ہیلی کاپٹر سے کامدگیری پربت کو بھی نمن کیا۔ میں قابل پرستش رنچھوڑداس جی اور اروند بھائی کی قبر پر پھول چڑھانے گیا تھا۔ بھگوان شری رام جانکی کے درشن، سنتوں کی رہنمائی اور سنسکرت کالج کے طلباء کے ذریعہ وید منتروں کے اس شاندار گاین کے اس تجربے کو الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے۔ آج، تمام مصائب، استحصال زدہ، غریبوں اور قبائلیوں کی طرف سے، میں شری سدگورو سیوا سنگھ کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے مجھے انسانی خدمت کے عظیم یگیہ کا حصہ بنایا۔ مجھے یقین ہے کہ جانکی کنڈ اسپتال کے نئے شعبے کا جس کا آج افتتاح کیا گیا ہے، لاکھوں مریضوں کو نئی زندگی دے گا۔ آنے والے وقتوں میں، غریبوں کی خدمت کی اس رسم کو سدگرو میڈیسٹی میں نئی ​​وسعت ملے گی۔ آج اس موقع پر حکومت ہند نے اروند بھائی کی یاد میں ایک خصوصی ڈاک ٹکٹ بھی جاری کیا ہے۔ یہ لمحہ اپنے آپ میں ہم سب کے لیے فخر کا لمحہ ہے، اطمینان کا لمحہ ہے، میں آپ سب کو اس کے لیے مبارکباد پیش کرتا ہوں۔

 

  دوستو،

کوئی بھی شخص اپنی زندگی میں جو بھی اچھا کام کرتا ہے اسے سراہا جاتا ہے۔ ہم عصر بھی تعریف کرتے ہیں لیکن، جب سادھنا غیر معمولی ہوتی ہے، تو اس کی زندگی کے بعد بھی کام کی توسیع ہوتی رہتی ہے ۔ مجھے خوشی ہے کہ اروند بھائی کا خاندان ان کے خیراتی سرمایے کو مسلسل بڑھا رہا ہے۔ خاص طور پر، بھائی ‘وشاد’،  بہن ‘روپل’ جس طرح ان کی  سیوا کی رسومات کو نئی توانائی کے ساتھ بلند کر رہے ہیں ، میں اس کے لیے انہیں اور ان کے پریوار کے تمام ارکان مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ اب اروند بھائی تو صنعتکار تھے۔ ممبئی ہو یا گجرات، ان کی صنعتی کارپوریٹ  کی دنیا میں صلاحیت ، وقار اور اثر و رسوخ  تھا ، اگر چاہتے تو صد سالہ جینتی کا پروگرام ممبئی میں منعقد کر سکتے تھے۔ یہ بڑی شان و شوکت کے ساتھ کیا جاتا، لیکن سدھ گرو کے تئیں لگن دیکھیں کہ جس طرح اروند بھائی نے یہاں اپنی جان قربان کی تھی، اسی طرح یہ جگہ بھی صد سالہ کے لیے  منتخب کی گئی تھی، اور اس کے لیے سنسکاربھی ہوتے ہیں ، سوچ اور لگن بھی ہوتا ہے، تب جاکر  ہوتا ہے۔ یہاں آکر یہاں بڑی تعداد میں قابل پرستش سنت ہمیں آشیرواد دینے آئے ہیں۔یہاں ان کے خاندان کے افراد بھی بیٹھے ہیں۔ چترکوٹ کے بارے میں کہا گیا ہے – کامد بھے گری رام پرساد۔ اولوکت  اپ ہرت وشاد!  یعنی چترکوٹ کا پربت کامدگیری بھگوان رام کی برکت سے تمام مشکلات اور پریشانیوں کو ختم کرنے والا ہے۔ چترکوٹ کی یہ شان یہاں کے سنتوں اور باباؤں کے ذریعے ہی برقرار ہے۔ اور، محترم شری رنچھوڑداس جی اتنے بڑے سنت تھے۔ ان کے بے لوث کرم یوگ نے ہمیشہ میرے جیسےلاکھوں کو  لوگوں کو متاثر کیا ہے۔ اور جیسا کہ سب نے ذکر کیا، ان  کا نصب العین اور بہت آسان الفاظ میں بھوکوں کو کھانا، کپڑوں سے محروم افراد کو کپڑا ، اندھے کو بینائی۔ اس سیوا منتر کے ساتھ، قابل پرستش گرودیو پہلی بار 1945 میں چترکوٹ آئے تھے، اور 1950 میں انہوں نے یہاں پہلے نیترا یگیہ کا اہتمام کیا۔ اس میں سینکڑوں مریضوں کی سرجری ہوئی تھی  اور انہیں نئی ​​روشنی ملی تھی۔

  آج، یہ ہمارے لئے عام  باتیں لگتی ہوں گی،  لیکن، 7 دہائیاں پہلے، یہ جگہ تقریبا مکمل طور پر جنگلاتی علاقہ تھا۔ یہاں نہ سڑک کی سہولت تھی، نہ بجلی، نہ ضروری وسائل۔ اس وقت اس جنگلاتی علاقے میں اتنا بڑا عزم  کرنے کی کتنی ہمت، کتنا خوداعتمادی اور خدمت کے جذبے کی بلندی ہو گی، تب ہی ممکن ہو سکے گا۔ لیکن جہاں قابل قابل پرستش رنچھوڑ داس جی جیسے سنت کی سادھنا ہوتی ہے، وہاں عزائم کی تخلیق ہی تکمیل کے لیے ہوتی  ہیں۔ آج خدمت خلق کے یہ سارے بڑے منصوبے جو ہم اس مقدس سرزمین پر دیکھ رہے ہیں وہ اسی بابا کے عزم کا نتیجہ ہیں۔ انہوں نے یہاں شری رام سنسکرت ودیالیہ قائم کیا۔ کچھ سالوں کے بعد، شری سدگرو سیوا سنگھ ٹرسٹ کا قیام عمل میں آیا۔ جہاں بھی کوئی آفت آتی تھی، گرودیو اس کے سامنے ڈھال کی طرح کھڑے ہوتے تھے۔ زلزلہ ہو، سیلاب ہو یا خشک سالی، قحط زدہ علاقوں میں ان کی کاوشوں اور برکتوں سے بہت سے غریبوں کو نئی زندگی ملی۔ یہ ہمارے ملک کی خاصیت ہے، جو مہاتماوں کو جنم دیتی ہے جو خود سے اوپر اٹھ کر کمیونٹی کے لیے وقف رہتے ہیں۔

 

میرے خاندان کے افراد،

سنتوں کی فطرت ہے کہ جس کو ان کی صحبت حاصل ہو جاتی ہے اور ان کی رہنمائی حاصل ہوتی ہے وہ خود سنت بن جاتا ہے۔ اروند بھائی کی پوری زندگی اس کی سب سے بڑی مثال ہے۔ اروند جی بھلے ہی ایک بالکل عام زندگی گزارتے تھے ، دیکھنے میں عام آدمی کی طرح تھے لیکن اندر سے ان کی زندگی ایک سنت جیسی تھی۔ بہار میں شدید قحط کے دوران قابل پرستش رنچھوڑداس جی نے اروند بھائی سے ملاقات کی۔ سنت کے عزم اور خدمت خلق  کی طاقت کیسے ، اس سنگم سے کامیابی کی کیا جہتیں قائم ہوئیں، آج ہمارے سامنے ہیں۔

  آج، جب ہم اروند بھائی کی صد سالہ جینتی منا رہے ہیں، تو یہ ضروری ہے کہ ہم ان کی تعلیمات پر عمل کریں ۔ انہوں نے جو بھی ذمہ داری لی، اسے سو فیصد لگن سے پورا کیا۔ انہوں نے اتنی بڑی صنعتی سامراج قائم کی ۔ مفت لال گروپ کو ایک نئی بلندی دی۔ اروند بھائی ہی تھے جنہوں نے ملک کا پہلا پیٹرو کیمیکل کمپلیکس قائم کیا۔ آج، بہت سی کمپنیاں جو ملکی معیشت اور عام لوگوں کی زندگیوں میں اہم کردار ادا کرتی ہیں، ان کا وژن، ان کی سوچ اور ان کی محنت ان کی بنیاد ہے۔ زراعت کے شعبے میں بھی ان کے کام کو بہت سراہا جاتا ہے۔ انڈین ایگرو انڈسٹریز فاؤنڈیشن کے صدر کے طور پر ان کے کام کو لوگ آج بھی یاد کرتے ہیں۔ انہوں نے ٹیکسٹائل جیسی ہندوستان کی روایتی صنعت کی شان کو لوٹانے میں بھی بڑا کردار ادا کیا۔ انہوں نے ملک کے بڑے بینکوں اور بڑے اداروں کو بھی قیادت دی۔ ان کے کام، ان کی محنت اور ہنر نے صنعتی دنیا کے ساتھ ساتھ معاشرے پر بھی ایک الگ نشان چھوڑا ہے۔ اروند بھائی کو ملک اور دنیا سے کئی بڑے اعزازات اور ایوارڈ ملے۔ لائنز ہیومینٹیرین ایوارڈ، سٹیزن آف بامبے ایوارڈ، سر جہانگیر گاندھی گولڈ میڈل فار انڈسٹریل پیس، ایسے بہت سے اعزازات اروند بھائی کی ملک میں خدمات کی علامت ہیں۔

 

  میرے خاندان کے افراد،

یہ ہمارے یہاں کہا جاتا ہے - اپرجیتناان وتانانان تیاگ ایو ہی رکشنم۔ یعنی ہماری کامیابی کا،ہماری کمائی ہوئی دولت کی سب سے مؤثر حفاظت تیاگ کے ذریعہ ہوتی ہے۔ اروند بھائی نے اس خیال کو اپنا مشن بنایا اور زندگی بھر کام کیا۔ آج آپ کے گروپ کے ذریعہ شری سدگرو سیوا ٹرسٹ، مفت لال فاؤنڈیشن، رگھوبیر مندر ٹرسٹ، شری رام داس ہنومان جی ٹرسٹ جیسی کئی تنظیمیں کام کر رہی ہیں۔ جے جے گروپ آف ہاسپٹلس، بلائنڈ پیپلس ایسوسی ایشن، چروتر آروگیہ منڈل جیسے گروپس اور ادارے سیوا کی روایات کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ آپ نے دیکھا، رگھوبیر مندر انکشیتر میں لاکھوں لوگوں کو کھانا پیش کرنا، یہاں کے لاکھوں سنتوں کو ماہانہ راشن کٹس کا انتظام، گروکل میں ہزاروں بچوں کی تعلیم، جانکی کنڈ اسپتال میں لاکھوں مریضوں کا علاج، یہ کوئی معمولی کوششیں نہیں ہیں۔ یہ اپنے آپ میں ہندوستان کی روحانی طاقت کا ثبوت ہے، جو ہمیں بے لوث کام کرنے کی توانائی دیتی ہے، جو خدمت کو ایک سادھنا سمجھتی ہے اور کامیابی کی منفرد روایات قائم کرتی ہے ۔ آپ کا ٹرسٹ دیہی خواتین کو دیہی صنعتوں میں تربیت بھی فراہم کر رہا ہے۔ اس سے خواتین کی زیر قیادت ترقی کے لیے ملک کی کوششوں کو تیز کرنے میں مدد مل رہی ہے۔

 

  دوستو،

مجھے یہ جان کر خوشی محسوس ہوتی ہے کہ سدگرو آئی ہسپتال نے آج ملک اور دنیا کے آنکھوں کے بہترین ہسپتالوں میں اپنی جگہ بنا لی ہے۔ ایک بار یہ ہسپتال صرف 12 بستروں کے ساتھ شروع ہوا۔ آج یہاں ہر سال تقریباً 15 لاکھ مریضوں کا علاج کیا جاتا ہے۔ میں خاص طور پر سدھ گرو آئی ہسپتال کے کام سے واقف ہوں کیونکہ میری کاشی کو بھی اس سے فائدہ ہوا ہے۔ کاشی میں آپ کی طرف سے چلائی جا رہی "صحت مند وژن-خوشحال کاشی مہم" بہت سے بزرگوں کی خدمت کر رہی ہے۔ سدگرو آئی ہاسپٹل نے اب تک بنارس اور اس کے آس پاس تقریباً 6.5 لاکھ لوگوں کی گھر گھر اسکریننگ کی ہے! 90 ہزار سے زائد مریضوں کو اسکریننگ کے بعد کیمپ میں بھی ریفر کیا گیا۔ مریضوں کی بڑی تعداد نے سرجری بھی کروائی ہے۔ کچھ عرصہ پہلے مجھے کاشی میں اس مہم سے فائدہ اٹھانے والوں سے ملنے کا موقع بھی ملا۔ اپنے کاشی کے تمام لوگوں کی طرف سے، میں ٹرسٹ، سدگرو آئی  اسپتال اور تمام ڈاکٹروں اور ان کے ساتھیوں کا خصوصی شکریہ ادا کرتا ہوں، جب میں آج آپ کے درمیان آیا ہوں۔

 

میرے خاندان کے افراد،

وسائل خدمت خلق  کی ضرورت ہے، لیکن لگن اس کی ترجیح ہے۔ اروند بھائی کی سب سے خاص بات یہ تھی کہ وہ مشکل ترین حالات میں بھی خود زمین پر کام کرتے تھے۔ راجکوٹ ہو، احمد آباد ہو، میں نے گجرات کے ہر کونے میں ان کا کام دیکھا ہے۔ مجھے یاد ہے، میں بہت چھوٹا تھا۔ مجھے سدگرو جی کو دیکھنے کا شرف حاصل نہیں ہوا، لیکن میرا اروند بھائی سے رشتہ تھا۔ جہاں میں اروند بھائی سے پہلی بار ملا تھا وہ گجرات کے سابر کانٹھا ضلع کے ایک قبائلی علاقے بھیلوڑہ میں تھا وہاں شدید قحط پڑا تھا اور ہمارے پاس ایک ڈاکٹر مانیکر جی تھے جو اروند بھائی سے اچھی طرح واقف تھے۔ اور میں وہاں ان قبائلی بھائی بہنوں کی سیوا میں کام کرتا تھا جو قحط کا شکار تھے۔ اس علاقے میں اتنی شدید گرمی تھی، اروند بھائی وہاں آئے، سارا دن قیام کیا اور خود جا کر سیوا میں حصہ لیا اور جو کام بڑھانے کی ضرورت تھی اس کی ذمہ داری بھی لے لی۔ میں نے خود ان کی غریبوں کے لیے شفقت اور کام کرنے کے عزم کو دیکھا اور تجربہ کیا ہے۔ آج بھی لوگ گجرات کے ہمارے قبائلی علاقے داہود میں قبائلی سماج کی فلاح و بہبود کے لیے کیے گئے کاموں کو یاد کرتے ہیں۔ اور آپ حیران ہوں گے، عام طور پر یہاں گجرات میں اور دوسری جگہوں پر بھی وہ جگہ جہاں کھیتی باڑی ہوتی ہے اسے کھیت کہا جاتا ہے۔ لیکن دہود کے لوگ اسے پھلواڑی کہتے ہیں۔ چونکہ وہاں کے کسانوں کو سدھ گرو ٹرسٹ کے ذریعہ کھیتی کی ایک نئی شکل سکھائی گئی تھی، اس لیے انہوں نے پھولوں کی کاشت شروع کی، اور پھول واڑی کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ اور آج ان کے پھولوں کی پیداوار ممبئی جاتی ہے۔ اس سارے معاملے میں اروند بھائی کی کوششوں کا بڑا رول ہے۔ میں نے دیکھا تھا کہ ان میں خدمت کا ایک الگ جذبہ تھا۔ انہوں نے کبھی بھی ڈونر کہلانا پسند نہیں کیا اور نہ ہی یہ ظاہر ہونے دیا کہ وہ کسی کے لیے کچھ کر رہے ہیں۔ اگر کوئی اور ان  کے ساتھ تعاون کی خواہش کا اظہار بھی کرتا تو وہ کہتے کہ پہلے کام دیکھنے کے لیے آپ کو وہاں ذاتی طور پر آنا پڑے گا۔ اس منصوبے سے خواہ کتنی ہی پریشانی کیوں نہ ہو، آپ کو آنا ہی پڑے گا۔ اور تب ہی تعاون کے بارے میں سوچیں، اس سے پہلے نہیں۔ میں نے جتنا زیادہ ان کے کام اور ان کی شخصیت کے بارے میں سیکھا ہے، اتنا ہی میں نے ان کے مشن کے ساتھ جذباتی تعلق پیدا کیا ہے۔ اس لیے میں اپنے آپ کو اس خدمت کی مہم کا حامی، انعام حاصل کرنے والا اور ایک طرح سے آپ کا شریک سفر سمجھتا ہوں۔

 

  میرے خاندان کے افراد،

چترکوٹ کی سرزمین ہمارے نانا جی دیش مکھ کے کام کی جگہ بھی ہے۔ اروند بھائی کی طرح قبائلی معاشرے کی خدمت میں ان کی کوششیں بھی ہم سب کے لیے ایک عظیم ترغیب ہیں۔ آج ان نظریات پر عمل کرتے ہوئے ملک پہلی بار قبائلی معاشرے کی فلاح و بہبود کے لیے اس طرح کی جامع کوششیں کر رہا ہے۔ ملک نے لارڈ برسا منڈا کے یوم پیدائش پر قبائلی گورو دیوس کی روایت شروع کی ہے۔ قبائلی معاشرے کی شراکت اور ورثے کو اجاگر کرنے کے لیے ملک بھر میں قبائلی عجائب گھر بھی بنائے جا رہے ہیں۔ ایکلویہ رہائشی اسکول کھولے جا رہے ہیں تاکہ قبائلی بچے اچھی تعلیم حاصل کر سکیں اور ملک کی ترقی میں اپنا حصہ ڈال سکیں۔ فاریسٹ ویلتھ ایکٹ جیسے پالیسی فیصلے بھی قبائلی معاشرے کے حقوق کے تحفظ کا ایک ذریعہ بن چکے ہیں۔ ہماری ان کوششوں کے ساتھ، بھگوان شری رام کا آشیرواد، جو آدیواسیوں کو گلے لگاتے ہیں اور ہم سب کے لیے ایک ترغیب ہیں، بھی اس سے وابستہ ہیں۔ یہ نعمت ایک ہم آہنگ اور ترقی یافتہ ہندوستان کے مقصد کی طرف ہماری رہنمائی کرے گی۔ ایک بار پھر، اس صدی کے پرمسرت موقع پر، میں اروند بھائی کی عظیم تپسیا کو خراج عقیدت پیش کرتا ہوں۔ ان کا کام، ان کی زندگی ہم سب کو ترغیب دیتی رہے، سدھ گرو کی برکتیں ہم پر قائم رہیں، اس احساس کے ساتھ، آپ سب کا بہت بہت شکریہ۔ جئے سیا رام۔

 

Explore More
لال قلعہ کی فصیل سے 77ویں یوم آزادی کے موقع پر وزیراعظم جناب نریندر مودی کے خطاب کا متن

Popular Speeches

لال قلعہ کی فصیل سے 77ویں یوم آزادی کے موقع پر وزیراعظم جناب نریندر مودی کے خطاب کا متن
WEF chief praises PM Modi; expresses amazement with infrastructure development, poverty eradication

Media Coverage

WEF chief praises PM Modi; expresses amazement with infrastructure development, poverty eradication
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Our commitment is clear: corrupt individuals will be investigated: PM Modi at Agra rally
While Modi focuses on uplifting the poor, the SP-Congress alliance is indulging in blatant appeasement: PM Modi
We are ending 'Tushtikaran' and working for 'Santushtikaran': PM Modi at election rally in UP's Agra
I went into the sea with great devotion, I went there to seek the blessings of Lord Shri Krishna but Congress 'Shehzada' made fun of it, says the PM
Addressing a public rally in Aonla, PM Modi says this election is an election to completely free the country from the mentality of 1000 years of slavery
Shahjahanpur and its surrounding areas are witnessing significant development under the BJP today: PM Modi at Shahjahanpur
Since Yogi ji took charge, the era of stalled progress has ended, and development is now gaining momentum: PM Modi

In anticipation of the 2024 Lok Sabha Elections, Prime Minister Narendra Modi delivered stirring addresses to massive crowds in Agra, Aonla and Shahjahanpur in Uttar Pradesh. Amidst an outpouring of affection and respect, PM Modi unveiled a transparent vision for a Viksit Uttar Pradesh and a Viksit Bharat. The PM exposed the harsh realities of the Opposition’s trickery and their “loot system”.

Initiating his positively voluminous speech, PM Modi warned the audience that, “Some unnecessary force opposes India's growing power,” but at the same time the PM also assured that, “A defence corridor is being built here to manufacture deadly weapons for our army and for export. Arms brokers, who used to bribe Congress leaders, are furious. They don't want India's army to be Aatmanirbhar. They're united against Modi. We need the BJP-NDA government again to stop them.”

“While Modi focuses on uplifting the poor, the SP-Congress alliance is indulging in blatant appeasement. Congress's manifesto for the 2024 elections bears 100% imprint of the Muslim League, solely dedicated to strengthening their vote bank,” PM Modi remarked.

Addressing a crucial issue of the day, PM Modi shed light on the Opposition's deceitful tactics, remarking, “Congress, whether in Karnataka or Andhra Pradesh, has persistently pushed for religious-based reservation in its manifesto. Despite constitutional and judicial constraints, Congress is determined to pursue this agenda. Their strategy involves reallocating OBC quota to provide religious-based reservation, as seen in Karnataka where all Muslim castes were included in the OBC category by the Congress government.”

“In 2012, just before the Uttar Pradesh Assembly elections, the Congress government attempted to allocate a portion of OBC reservation to minorities based on religion but failed. Now, the people of UP, especially the OBC community, must recognize Congress and SP's dangerous game. They aim to take away the rights of OBC castes like Yadav, Kurmi, Maurya, Kushwaha, Jat-Gujjar, Rajbhar, Teli, and Pal, and give them to their preferred vote bank. The SP, for its own gains, is betraying the Yadavs and backward classes. This appeasement-driven mindset defines both the SP and Congress, who aim to surreptitiously redistribute OBC rights to their vote banks, before the arrival of Yogi ji, the slogan of the INDI Alliance here was – The land which is the government's, that land is ours,” the PM further added.

Launching his revolt against the Opposition parties, PM Modi observed that, “A new scheme by the Congress-INDI Alliance has emerged, and that is Congress Ki Loot…Jindagi Ke Sath Bhi, Jindagi Ke Baad Bhi! They claim they will investigate your belongings using the Congress Shehzaada's X-ray machine, seizing everything, including sisters' and daughters' jewellery, and distribute it among their vote banks. Not even the sisters' mangalsutras will be spared.”

With compelling facts and figures, PM Modi posed a critical question to the crowd: "The Congress-SP and INDI Alliance plans to impose a 55% tax on your inheritance. This means they'll seize a significant portion of what you leave for your children. If you built a 4-room house, only 2 rooms will go to your children, the rest seized by Congress-SP. Similarly, if you own 10 bighas of land, only 5 will be inherited by your children, the rest confiscated by Congress-SP. Are you ready to surrender your property to them?"

“Our commitment is clear: corrupt individuals will be investigated, and the money they've stolen from the poor will be returned to them. PM Modi is seeking legal advice on how to recover the looted money, including bungalows and vehicles seized from these corrupt individuals,” the PM established.

Also, PM Modi addressed the appalling paper leak incident in Rajasthan, highlighting its detrimental impact on the future of the nation's youth. He revealed that the Ashok Gehlot's government of the state played a significant role in the incident, placing the blame squarely on the Congress.

In his second rally in Aonla, PM Modi described the 2024 election as a choice to liberate the country entirely from the mentality of a thousand years of slavery. This election is about elevating India's pride to new heights.

In a blistering attack on Congress and SP, PM Modi stated, “Do you remember what the Samajwadi Party (SP) and Congress used to say ten years ago – ‘Mandir wahin banayenge, Tarikh nahi batayenge’. With your blessings, we built the temple, set a date, and even invited the SP and Congress. But they declined the invitation. Why? Because they feared upsetting their vote bank. They didn't abandon just Lord Ram, but also Lord Shyam. You know that our Lord Krishna's ancient city of Dwarka lies submerged beneath the sea. Some time ago, I went to visit Dwarka ji in the sea. But the scion of the Congress made a mockery of it too. And the family members of the SP, who claim to be from the Yadav dynasty, are now singing praises to those who ridiculed Lord Krishna.”

Emphasizing Modi's guarantee, PM Modi stated that the leaders of the INDI alliance are vying for votes to amend the Constitution and introduce reservation based on religion. “Today, I am pledging support to the OBC community of Uttar Pradesh, encompassing Yadavs, Kurmis, Maurya-Kushwahas, Jat-Gujjars, Rajbhar-Teli-Pal communities. I am committed to preventing the Samajwadi Party and Congress from depriving you of your reservation rights,” he said.

In the Aonla rally, PM Modi continued to criticize the opposition, whether it be the Congress or the Samajwadi Party, stating that they only think about their own families. He said, “For these people, their family is everything, and they do not care about anyone else. In Uttar Pradesh, the Samajwadi Party did not find a single Yadav outside their family to whom they could give a ticket. Whether it's Badaun, Mainpuri, Kannauj, Azamgarh, Firozabad, everywhere, tickets have been given only to members of the same family. Such people will always prioritize the welfare of their own family, and for them, anyone outside their family holds no significance.”

In the last rally of the day in Shahjahanpur, brimming with audience, PM Modi reflected, “Shahjahanpur and its surrounding areas are witnessing significant development under the BJP today. Before Yogi ji took office, this region suffered greatly under the 'Samajwadi Stop Everything Project'. Roads were in disrepair, the electricity system was unreliable, health services were inadequate, and law and order was compromised. However, since Yogi ji took charge, the era of stalled progress has ended, and development is now gaining momentum.”

PM Modi poses critical questions to the audience, engaging them in thought-provoking atmosphere, “Modi seeks votes by highlighting his development initiatives, but have you ever seen SP and Congress do the same for their tenure? While Modi has built medical colleges and a grand temple for Ramlala in Ayodhya, what do Congress and SP have to show? During their rule, Ayodhya and Varanasi were plagued by terrorist attacks, and instead of addressing the issue, they worked to release terrorists from jail. Even today, they boycott the Ram Mandir and label its devotees as hypocrites.”

Taking a sharp jibe at the Opposition party, PM Modi exclaimed, “A hallmark of the Congress party is its tendency to raise noise in the name of the country and the Constitution whenever it plans to commit a major misdeed. Just like in the 70s, when Congress imposed emergency in the country. Today, once again, Congress has released its flop film. With only two dialogues: ‘If Modi wins, dictatorship will come’ and ‘If Modi wins, reservation will go away.’ However, as soon as the trailer of the Congress film and their manifesto came out, the country became aware of their real intentions.”

In his closing words, PM Modi humbly requested everyone in the crowd to spare a moment for their sevak and bless the BJP with a resounding victory. He also urged the crowd to visit each home, conveying his heartfelt gratitude and best wishes.