عوام کو وردی پر بے حد بھروسہ ہے، جب بھی مصیبت زدہ لوگ آپ کو دیکھتے ہیں، انہیں یقین ہو جاتا ہے کہ اب ان کی زندگی محفوظ ہے۔ ان میں ایک نئی امید پیدا ہو جاتی ہے۔
آزمائشوں کا سامنا پختہ ارادے اور تحمل کے ساتھ کیا جائے، توکامیابی یقینی ہوتی ہے
یہ پوری کارروائی ہمدردی، سوجھ بوجھ اور بہادری کی عکاس ہے
سب کا پریاس نے بھی اس کارروائی میں اہم رول ادا کیا

ہمارے ساتھ جڑے وزیر داخلہ جناب امیت شاہ جی، رکن پارلیمنٹ جناب نشی کانت دوبے جی، داخلہ سکریٹری، چیف آف آرمی اسٹاف، چیف آف ایئر اسٹاف، ڈی جی پی جھارکھنڈ، ڈی جی این ڈی آر ایف ، ڈی جی آئی ٹی بی پی، مقامی انتظامیہ کے ساتھی، ہمارے ساتھ جڑے تمام بہادر جوان، کمانڈوز، پولیس اہلکار، دیگر رفقاء حضرات

آپ سب کو نمسکار!

آپ نے تین دنوں تک، چوبیسوں گھنٹے لگ کر ایک مشکل بچاؤ آپریشن مکمل کیا اور متعدد اہل وطن حضرات کی جان بچائی ہے۔ پورے ملک نے آپ کی شجاعت کی ستائش کی ہے۔ میں اسے بابا بیدیہ ناتھ جی کا کرم ہی مانتا ہوں۔ حالانکہ ہمیں افسوس ہے کہ کچھ ساتھیوں کی زندگی ہم نہیں بچا سکے۔ متعدد ساتھی زخمی بھی ہوئے ہیں۔ متاثر کنبوں کے ساتھ ہم سبھی اظہار تعزیت پیش کرتے ہیں ۔ میں تمام مجروحین کی جلد از جلد صحتیابی کی امید کرتا ہوں۔

ساتھیو،

جس نے بھی اس آپریشن کو ٹی وی پر ملاحظہ کیا ہے، وہ حیران تھا، پریشان تھا۔ آپ سبھی تو موقع پر موجود تھے۔ آپ کے لیے وہ حالات کتنے مشکل رہے ہوں گے، اس کا تصور کیا جا سکتا ہے۔ لیکن ملک کو فخر ہے کہ اس کے پاس بری فوج، فضائیہ، ہمارے این ڈی آر ایف کے جوان، آئی ٹی بی پی کے جوان اور پولیس فورس کے جوان کے طور پر ایسی باصلاحیت فوج ہے، جو اہل وطن کو ہر مصیبت سے باہر نکالنے کا مادہ رکھتی ہے۔ اس حادثہ اور اس بچاؤ مشن سے ہمیں متعدد سبق حاصل ہوئے ہیں۔ آپ کے تجربات مستقبل میں بہت کام آنے والے ہیں۔ مجھے آپ تمام حضرات سے بات کرنے کا بڑا اشتیاق ہے۔ کیونکہ اس آپریشن سے میں دور سے مسلسل جڑا رہا اورہر چیز کا جائزہ لیتا رہا۔ لیکن آج میرے لیے ضروری ہے کہ آپ سے راست طور پر اس بارے میں دریافت کروں۔ آیئے ہم سب سے پہلے این ڈی آر ایف کے جانبازوں کے پاس چلتے ہیں، لیکن ایک بات میں کہوں گا کہ این ڈی آر ایف نے اپنی ایک پہچان بنائی ہے اور یہ پہچان اپنی محنت سے، اپنی کوششوں سے اور اپنی شجاعت سے بنائی ہے۔ این ڈی آر ایف ہندوستان میں جہاں جہاں بھی ہے، ان کی اس محنت اور اس کی پہچان کے لیے بھی مبارکباد ۔

 

اختتامی کلمات

یہ بہت ہی اچھی بات ہے کہ آپ سبھی نے تیزی سے کام کیا ہے۔ اور بہت ہی اچھے تال میل کے ساتھ کام کیا ہے، منصوبہ بندی کے ساتھ کام کیا۔ اور مجھے معلوم ہے کہ پہلے ہی دن شام کو خبر آئی۔ پھر یہ خبر آئی کہ ہیلی کاپٹر لے جانا مشکل ہے کیونکہ ہیلی کاپٹر کا وائبریشن ہے اور اس کی جو ہوا ہے اسی سے کہیں تار نہ ہلنے لگ جائے، ٹرالی میں سے لوگ کہیں باہر نہ گرنے لگ جائیں۔ تو ہیلی کاپٹر لے جاناباعث تشویش تھا، رات بھر اسی بات پر غور و خوض ہوتا رہا۔ لیکن اس سب کے باوجود بھی میں دیکھ رہا ہوں کہ جس تال میل کے ساتھ آپ لوگوں نے کام کیا اور میں سمجھتا ہوں کہ اس طرح کی آفات کے وقت رسپانس ٹائم ایک ازحد اہم فیکٹر ہوتا ہے۔ آپ کی تیزی ہی ایسے آپریشن کی کامیابی یا ناکامی طے کرتی ہے۔ وردی پر لوگوں کا بہت یقین ہوتا ہے۔ مصیبت میں پھنسے لوگ جب بھی آپ کو دیکھتے ہیں، اب تو این ڈی آر ایف کی وردی کو بھی شناخت حاصل ہو چکی ہے۔ آپ لوگ تو بخوبی واقف ہیں۔ تو ان کو یقین ہوجاتا ہے کہ اب ان کی جان محفوظ ہے۔ ان میں نئی امید جاگ اٹھتی ہے۔ آپ کی موجودگی ہی امید کا، حوصلے کا کام کرتی ہے، یعنی ایک طرح سے یہ شروع ہوجاتا ہے ۔ ایسے وقت میں معمر شہریوں اور بچوں پر خصوصی توجہ دینا ازحد اہم ہو جاتا ہے اور مجھے اس بات کا اطمینان ہے کہ آپ نے اپنے منصوبہ میں اور آپریشن کے عمل میں اس بات کو ترجیح دی اور بہت اچھے طریقہ سے اس کام کو انجام دیا۔ آپ کی تربیت بہت بہترین ہے، ایک طرح سے اس میدان میں پتہ چل گیا کہ آپ کی کتنی اچھی تربیت ہے اور آپ کتنے بہادر ہیں اور کس طرح سے آپ اپنے آپ کو وقف کردینے کے لیے تیار رہتے ہیں۔ ہر تجربہ کے ساتھ ہم لوگ بھی دیکھتے ہیں کہ آپ لوگ اپنے آپ کو بااختیار بناتے جا رہے ہیں۔ این ڈی آر ایف سمیت تمام بچاؤ ٹکڑیوں کو جدید سائنس، جدید آلات سے آراستہ کرنا، ہمارا عزم ہے۔ یہ پورا آپریشن حساسیت، سمجھ بوجھ اور بہادری کی علامت رہا ہے۔ میں اس حادثہ سے بچ کر آنے والے ہر شخص کو مباکباد پیش کرتا ہوں کہ آپ نے اتنے بڑے حادثہ کے بعد بھی سوجھ بوجھ سے کام لیا۔ مجھے بتایا گیا کہ لوگوں نے متعدد گھنٹے لٹکے ہوئے ہی گزار دیے، رات بھر سوئے نہیں۔ پھر بھی، اس پورے آپریشن میں ان کا صبر، ان کی ہمت، یہ ایک آپریشن میں بہت بڑی بات ہے۔ آپ تمام شہری اگر ہمت ہار جاتے تو ، اتنے سارے جوانوں کے باوجود بھی یہ نتائج حاصل نہ ہوتے۔ تو اس لیے جو پھنسے ہوئے شہری تھے، ان کی ہمت کا بھی بہت بڑا تعاون ہے۔ آپ نے خود کو سنبھالا، لوگوں کو ہمت دی ، اور بقیہ کام ہماری  بچاؤ ٹیم کے اراکین نے مکمل کر دیا۔ اور مجھے خوشی ہے کہ وہاں کے باشندوں نے جس طرح چوبیسوں گھنٹے رات بھر جاگ کر آپ لوگوں کی مدد کی، جو بھی کر سکتے تھے، وہ کرنے کی کوشش کی۔ جو بھی ان کے پاس سمجھ  تھی، وسائل تھے، اس سے مدد کی۔ ان باشندگان کی لگن بہت بڑی تھی۔ یہ تمام باشندگان بھی مبارکباد کے حقدار ہیں۔ دیکھئے، اس آفت نے ایک مرتبہ پھر یہ واضح کر دیا کہ جب بھی ملک پر کوئی آفت آتی ہے تو ہم سب مل کر ایک ساتھ اس آفت کا مقابلہ کرتے ہیں اور اس مصیبت سے نکل کر دکھاتے ہیں۔ سب کی کوشش نے اس آفت میں بھی بڑا کردار ادا کیا ہے۔ میں بابا دھام کے مقامی باشندگان کی ستائش کروں گا کہ جیسے انہوں  نے اس طرح سے پوری مدد کی ہے۔ ایک مرتبہ پھر متاثر کنبوں کے تئیں اظہار تعزیت کرتا ہوں۔ تمام مجروحین کی جلد از جلد صحتیابی کی امید کرتا ہوں۔ سیلاب، بارش یہ سب اکثر و بیشتر رونماہونے والی آفا ت ہیں، تاہم ایسا حادثہ شاذو نادر ہی رونما ہوتا ۔ آپ لوگ جو اس آپریشن میں مصروف تھے، آپ سب سے میری گذارش ہےکہ اس سلسلے میں جو بھی تجربہ حاصل ہوا ہے، اس کو بہت اچھے طریقہ سے آپ لکھ لیجئے۔ اس طرح سے آپ کتابچہ تیار کر سکتے ہیں اور ہماری جتنے فوجی دستوں نے اس میں کام کیا ہے، اس کا دستاویز ہو تاکہ ہم اسے آئندہ تربیت کا حصہ بنا سکیں کہ ایسی صورتحال میں کیسی چنوتیاں پیش آتی ہیں۔ ان چنوتیوں سے نمٹنے کے لیے کیا

کریں۔ کیونکہ جب پہلے ہی دن شام کو میرے پاس خبر آئی کہ، صاحب ہیلی کاپٹر لے جانا مشکل ہے کیونکہ وہ تار اتنی وابئریشن برداشت نہیں کرپائے گا۔ تو میں خود ہی فکرمند ہوگیا کہ اب کیا راستہ نکلے گا۔ یعنی آپ کو ایسے ایک ایک مرحلے کی جانکاری ہے، آپ کو تجربہ ہے۔ جتنا جلدی اچھے طریقہ سے دستاویز تیار کریں گے، اتنی ہی جلدی ہمارے تمام چیزوں کو آئندہ ٹریننگ کا حصہ بناسکتے ہیں اور ہم اس کا استعمال مسلسل کیس اسٹڈی کے طور پر کر سکتے ہیں کیونکہ ہمیں اپنے آپ کو مسلسل تیار رکھنا ہے۔ باقی، وہاں جو کمیٹی بیٹھی ہے، اس روپ وے کا کیا ہوا، وغیرہ ، وہ ریاستی حکومت دیکھے گی۔ لیکن ہمیں ایک ادارہ کے طور پر پورے ملک میں اس نظام کو ترقی دینی ہے۔ میں ایک مرتبہ پھر آپ لوگوں کی شجاعت کے لیے، آپ لوگوں کی کوششوں کے لیے، شہریوں کے تئیں جس ہمدردی کے جذبہ کے ساتھ آپ نے کام کیا ہے، اس کے لیے آپ کا بہت بہت شکریہ ادا کرتا ہوں۔ آپ سب کا بہت بہت شکریہ!

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
How PLI schemes, design in India and manufacturing excellence are transforming the architectural lighting industry

Media Coverage

How PLI schemes, design in India and manufacturing excellence are transforming the architectural lighting industry
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Prime Minister Narendra Modi Chairs Second High-Level Meeting with Secretaries of Government of India
July 28, 2026
Sectors discussed: Finance and Economy, Commerce and Industry, and Technology
PM emphasises the need to break both horizontal and vertical silos within the Government
PM emphasises the importance of technological self-reliance and building domestic capabilities in critical sectors
PM encourages greater participation of young innovators and entrepreneurs in cybersecurity ecosystem
PM Stresses Proactive Outreach on Strategic Sectors to Counter Misinformation
PM says Govt must always remain youthful, dynamic and forward-looking, continuously adapting to new challenges and opportunities with agility and innovation
Secretaries share experiences and perspectives on key initiatives, emerging opportunities and implementation challenges

Prime Minister Shri Narendra Modi chaired the second high-level meeting with Secretaries to the Government of India at his residence at 7, Lok Kalyan Marg earlier today. He reviewed the future action agenda of Ministries and Departments dealing with Finance and Economy, Commerce and Industry, and Technology sectors. The meeting focused on accelerating progress towards the goals of Viksit Bharat.

Prime Minister called for a strong focus on team building across Ministries and Departments, urging officers to work with a shared sense of purpose. He emphasised the need to break both horizontal and vertical silos within the Government so that departments function in close coordination and deliver integrated outcomes.

Highlighting the importance of citizen-centric governance, Prime Minister said that the people of India must remain at the centre of governance. He reminded that every decision and policy should be guided by the interests and aspirations of the common citizen.

Prime Minister stressed that while India is making significant investments in infrastructure, equal priority must be given to developing indigenous technologies. He underscored the importance of technological self-reliance and building domestic capabilities in critical sectors.

Prime Minister underlined that energy security is closely linked with national security, economic stability and citizens’ welfare. Prime Minister said India must achieve self-reliance in the energy sector through innovation, diversification and accelerated capacity creation.

Emphasising that reforms are not merely a fashionable term but a continuous necessity for effective governance, Prime Minister stressed the need to reform processes, improve work culture and strengthen institutional efficiency.

Prime Minister said that growing use of technology must be accompanied by a strong focus on cybersecurity to safeguard digital systems and infrastructure. He stressed the need for constant vigilance against emerging cyber threats. He called for encouraging greater participation of young innovators and entrepreneurs in the cybersecurity ecosystem and emphasised that it should evolve into a nationwide movement.

Prime Minister also emphasised the importance of proactive communication on strategic sectors where the country is undertaking major initiatives, to counter misinformation and unfounded fears surrounding such efforts.

Prime Minister says that new academic courses should be planned in partnership with industry to equip the workforce with skills required by emerging and future industries. He also observed that a government must always remain youthful, dynamic and forward-looking, continuously adapting to new challenges and opportunities with agility and innovation.

The meeting featured detailed discussions by Secretaries on the progress, priorities and implementation issues across their respective domains. The meeting was attended by the Cabinet Secretary, Secretaries of key Ministries and Departments, and senior officials from the Prime Minister’s Office.