Saluting Freedom & Truth

Published By : Admin | August 15, 2010 | 00:47 IST

Friends,

On the occasion of the 64th anniversary of India’s Independence I extend my heartiest greetings!

I also salute all our freedom fighters.

Last week Mother Nature bestowed her bounty and the thirsty land of Gujarat was satiated.

Thanks to the kindness of Meghraj there is joy all around. With the coming rains there is an explosion of joy & happiness all around heralding the festival season.  In days to come there is going to be an array of continuous festivals.

Mahatma Gandhiji and Sardar Saheb’s birthdays are also falling in the month of October.

The good news for Gujarat is that in the year of its Swarnim Jayanti the 64thIndependence Day is being celebrated as grand ‘festival of development’.

Entire Rajkot district is welcoming the state-level celebration of the Independence Day.

Truth always triumphs — 
Satyameva Jayate is our age-old mantra.

Satyam Shivam Sundaram is our cultural heritage.

Our ancient sages have said through couplets that 
Saachu Sorathio Bhane" (when a Sorathio (Saurashtrian) speaks he will speak the truth).

Indeed truth is ingrained in our culture.

Swami Dayanandji Saraswati picked up the gauntlet to extricate the Hindu Samaj from superstitious beliefs.

The book he wrote was named ‘Satyarth Prakash’.

Mahatma Gandhi’s story of his life came to be known as “EXPERIMENTS WITH TRUTH" and it lit up the freedom struggle with Satyagraha.

Social reformist and journalist Karsandas Mulji’s newspaper too was titled “Satya-Prakash”.

Gujarat has accepted the path of truth as its weapon to fight all forms of injustice, neglect and against those who try to defame us


"Saanch ne ave na Aanch" (There is no ignominy in speaking the truth)


"Satya Chhapre Chadi ne Pokarshe" (Truth will out)


"Satya No Jay" (Truth triumphs)

This only is our faith.

Friends, India Today and ORG-Marg recently conducted an opinion poll countrywide.

Visit The Article of  "India Today" About The Best CM Of India

And once again the people of our country and my dear people of Gujarat have voted me as Best CM in the country.

From all of you there has been a downpour of greetings.

To all those countrymen who have given their best opinion I am truly indebted to them.

They remained unperturbed even when a certain section launched an incessant slander and malicious campaign and false allegations against me.

Howsoever big is my effort in conveying the gratitude I think it will be too little a gesture.

I am indebted to all of you.

As per your wishes and desire I have served Mother India and will continue to do so in the future.

Come, let us live for the sake of our country and do something for our nation — Vande Mataram.

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
Apple AmPLIfied! India ships out iPhones worth $50 billion till December 2025

Media Coverage

Apple AmPLIfied! India ships out iPhones worth $50 billion till December 2025
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
سومناتھ سوابھیمان پَرْو — ایک ہزار سال کی اٹوٹ عقیدت (1026–2026)
January 05, 2026

سومناتھ… اس لفظ کو سنتے ہی ہمارے دل و دماغ میں فخر کا احساس جاگ اٹھتا ہے۔ یہ ہندوستان کی روح کا ابدی اعلان ہے۔ یہ شاندار مندر بھارت کے مغربی ساحل پر گجرات میں پربھاس پٹن نامی مقام پر واقع ہے۔ ’’دواَدش جیوتِرلنگ اسٹوترم‘‘ میں ہندوستان بھر کے بارہ جیوتِرلنگوں کا ذکر ملتا ہے۔ اس اسٹوترم کی ابتدا ان الفاظ سے ہوتی ہے: ’’سوراشٹرے سومناتھم چ...‘‘ جو اس بات کی علامت ہے کہ تہذیبی اور روحانی اعتبار سے سومناتھ کو پہلے جیوتِرلنگ کی حیثیت حاصل ہے۔

یہ بھی کہا گیا ہے:

سوملِنگم نرو درِشٹوا سروپاپیہ پرموچیتے
لبھتے پھلَم منووانچھتم مرتَہ سوَرگم سماشرَیَت

اس کا مفہوم یہ ہے: سومناتھ کے شِولِنگ کے دیدار سے انسان تمام گناہوں سے نجات پا لیتا ہے، اپنی جائز اور نیک خواہشات کو حاصل کرتا ہے اور وفات کے بعد جنت میں مقام پاتا ہے۔

افسوسناک امر یہ ہے کہ یہی سومناتھ جو کروڑوں عقیدت مندوں کی عقیدت اور دعاؤں کا مرکز تھا، غیر ملکی حملہ آوروں کے نشانے پر آیا، جن کا مقصد عبادت نہیں بلکہ تخریب تھا۔

سال 2026 سومناتھ مندر کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ اس عظیم عبادت گاہ پر پہلے حملے کو ایک ہزار سال مکمل ہو رہے ہیں۔ جنوری 1026 میں محمود غزنوی نے اس مندر پر حملہ کیا تھا، جس کا مقصد تشدد اور بربریت کے ذریعے عقیدے اور تہذیب کی ایک عظیم علامت کو مٹانا تھا۔

تاہم ایک ہزار سال گزر جانے کے باوجود یہ مندر آج بھی پوری آب و تاب کے ساتھ قائم ہے اور اس کا سہرا ان بے شمار کوششوں کو جاتا ہے جن کے ذریعے سومناتھ کو اس کی عظمتِ رفتہ لوٹائی گئی۔ ایسی ہی ایک اہم سنگِ میل کو 2026 میں 75 برس مکمل ہو رہے ہیں۔ 11 مئی 1951 کو، اس وقت کے صدرِ جمہوریہ ہند ڈاکٹر راجندر پرساد کی موجودگی میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران بحال شدہ مندر کو عقیدت مندوں کے لیے دوبارہ کھول دیا گیا تھا۔

ایک ہزار سال قبل 1026 میں سومناتھ پر ہونے والا پہلا حملہ شہر کے باشندوں پر ڈھائے گئے مظالم اور مندر کو پہنچائی گئی تباہی مختلف تاریخی حوالوں میں نہایت تفصیل کے ساتھ درج ہیں۔ جب ان واقعات کو پڑھا جاتا ہے تو دل لرز اٹھتا ہے۔ ہر سطر اپنے اندر غم، درندگی اور ایسے دکھ کا بوجھ سمیٹے ہوئے ہے جو وقت گزرنے کے باوجود کم نہیں ہوتا۔

اس کے اثرات کا اندازہ کیجیے کہ اس نے بھارت اور عوام کے حوصلے پر کیا اثر ڈالا ہوگا۔ آخرکار سومناتھ کو غیر معمولی روحانی اہمیت حاصل تھی۔ یہ سمندر کے کنارے واقع تھا، جو ایک ایسی سماج کو طاقت بخشتا تھا جو معاشی اعتبار سے بھی نہایت مضبوط تھا اور جس کے سمندری تاجر اور جہاز ران اس کی عظمت کے قصے دور دور تک لے کر جاتے تھے۔

اس کے باوجود، میں پورے یقین اور فخر کے ساتھ یہ کہنا چاہتا ہوں کہ پہلے حملے کے ایک ہزار سال بعد سومناتھ کی کہانی تباہی سے متعین نہیں ہوتی بلکہ یہ بھارت ماتا کے کروڑوں فرزندوں کے ناقابلِ شکست حوصلے اور عزم سے عبارت ہے۔

1026 میں ایک ہزار سال قبل شروع ہونے والی قرونِ وسطیٰ کی بربریت نے دوسروں کو بھی بار بار سومناتھ پر حملہ کرنے کی ’ترغیب‘ دی۔ یہ ہمارے عوام اور ہماری تہذیب کو غلام بنانے کی ایک کوشش کا آغاز تھا، لیکن ہر بار جب مندر پر حملہ ہوا تو ایسے عظیم مرد و خواتین بھی سامنے آئے جنہوں نے اس کے دفاع کے لیے کھڑے ہو کر اپنی جان تک قربان کر دی۔ اور ہر مرتبہ نسل در نسل ہماری عظیم تہذیب کے لوگوں نے خود کو سنبھالا، مندر کی ازسرِ نو تعمیر کی اور اسے نئی زندگی بخشی۔ یہ ہمارے لیے باعثِ افتخار ہے کہ ہم اسی دھرتی کی آغوش میں پلے بڑھے ہیں جس نے اہلیابائی ہولکر جیسی عظیم شخصیات کو جنم دیا، جنہوں نے سومناتھ میں عقیدت مندوں کی عبادت کو ممکن بنانے کے لیے ایک عظیم اور نیک کوشش کی۔

1890 کی دہائی میں سوامی وویکانند نے سومناتھ کا دورہ کیا اور یہ تجربہ ان کے دل کو گہرائی سے چھو گیا۔ انہوں نے 1897 میں چنئی میں ایک لیکچر کے دوران اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا: ’’جنوبی ہندوستان کے یہ قدیم مندر اور گجرات کے سومناتھ جیسے مندر تمہیں علم و حکمت کے انبار سکھائیں گے اور کسی بھی تعداد میں پڑھی گئی کتابوں سے بڑھ کر تمہیں اس قوم کی تاریخ کا گہرا شعور عطا کریں گے۔ ذرا غور کرو کہ یہ مندر کس طرح سو حملوں اور سو بار کی تجدید کے نشانات اپنے اندر سموئے ہوئے ہیں—بار بار تباہ کیے گئے اور بار بار کھنڈرات میں سے ابھر کر کھڑے ہوئے، پہلے کی طرح توانا اور مضبوط! یہی قومی ذہن ہے، یہی قومی زندگی کی دھارا ہے۔ اس کی پیروی کرو تو یہ تمہیں عظمت تک لے جائے گی۔ اگر اسے ترک کر دو تو تمہاری موت یقینی ہے، اس زندگی کی دھارا سے ہٹتے ہی انجام صرف فنا اور نیست و نابودی ہوگا۔‘‘

آزادی کے بعد سومناتھ مندر کی ازسرِ نو تعمیر کی مقدس ذمہ داری سردار ولبھ بھائی پٹیل کے باصلاحیت ہاتھوں میں آئی۔ دیوالی کے موقع پر 1947 میں کیے گئے ایک دورے نے انہیں اس قدر متاثر کیا کہ انہوں نے اعلان کیا کہ اسی مقام پر مندر کی دوبارہ تعمیر کی جائے گی۔ بالآخر 11 مئی 1951 کو سومناتھ میں ایک عظیم الشان مندر نے عقیدت مندوں کے لیے اپنے دروازے کھول دیے اور اس موقع پر بھارت کے پہلے صدرِ جمہوریہ ڈاکٹر راجندر پرساد موجود تھے۔ عظیم سردار صاحب اس تاریخی دن کو دیکھنے کے لیے حیات نہیں تھے، مگر ان کا خواب شرمندۂ تعبیر ہو کر پوری شان و شوکت کے ساتھ قوم کے سامنے کھڑا تھا۔ اُس وقت کے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو اس پیش رفت سے زیادہ خوش نہیں تھے۔ وہ نہیں چاہتے تھے کہ معزز صدرِ جمہوریہ اور وزراء اس خصوصی تقریب سے وابستہ ہوں۔ ان کا خیال تھا کہ اس تقریب سے بھارت کی شبیہ پر منفی اثر پڑے گا۔ تاہم ڈاکٹر راجندر پرساد اپنے موقف پر ثابت قدم رہے اور پھر جو ہوا وہ تاریخ بن گیا۔ سومناتھ کا ذکر کے۔ ایم۔ منشی کی خدمات کو یاد کیے بغیر ادھورا ہے، جنہوں نے سردار پٹیل کا نہایت مؤثر انداز میں ساتھ دیا۔ سومناتھ پر ان کے کام، خصوصاً ان کی کتاب ’سوماناتھ: دی شرائن ایٹرنل‘ نہایت معلوماتی اور تعلیمی اہمیت کی حامل ہیں۔

واقعی، جیسا کہ منشی جی کی کتاب کے عنوان سے ظاہر ہوتا ہے، ہم ایک ایسی تہذیب ہیں جو روح اور خیالات کی ابدیت پر کامل یقین رکھتی ہے۔ ہم پختہ طور پر اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ جو چیز ابدی ہے وہ ناقابلِ فنا ہے، جیسا کہ گیتا کے مشہور شلوک
’’نَینَم چھِندَنتی شَسترانی...‘‘ میں بیان کیا گیا ہے۔ ہماری تہذیب کی ناقابلِ تسخیر روح کی اس سے بہتر مثال کوئی نہیں ہو سکتی کہ سومناتھ آج بھی تمام مشکلات اور جدوجہد پر قابو پاتے ہوئے پوری شان کے ساتھ قائم ہے۔

یہی روح آج ہماری قوم میں بھی نمایاں ہے جو صدیوں کی یلغاروں اور نوآبادیاتی لوٹ مار پر قابو پاتے ہوئے عالمی ترقی کے روشن ترین مراکز میں سے ایک بن چکی ہے۔ ہماری اقدار اور عوام کے عزم و استقلال نے آج بھارت کو عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔ دنیا بھارت کو امید اور رجائیت کی نظر سے دیکھ رہی ہے۔ وہ ہمارے اختراعی نوجوانوں میں سرمایہ کاری کرنا چاہتی ہے۔ ہماری فنونِ لطیفہ، ثقافت، موسیقی اور متعدد تہوار عالمی سطح پر مقبول ہو رہے ہیں۔ یوگا اور آیوروید دنیا بھر میں صحت مند طرزِ زندگی کو فروغ دیتے ہوئے اثر ڈال رہے ہیں۔ عالمی سطح کے بعض نہایت سنگین مسائل کے حل بھی بھارت سے سامنے آ رہے ہیں۔

ازمنۂ قدیم سے سومناتھ مختلف شعبۂ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو یکجا کرتا آیا ہے۔ صدیوں پہلے، کالی کل سرواگیہ ہیمنچندر آچاریہ، جو ایک معزز جین راہب تھے، سومناتھ آئے۔ کہا جاتا ہے کہ وہاں عبادت کے بعد انہوں نے یہ شعر پڑھا: ’’بھَو بیج آنکُر جننا راگادیاہ کشَیَمُپگتا یَسّیَ۔‘‘ جس کا مطلب ہے: اُس ذات کو سلام ہے جس میں دنیوی وجود کے بیج فنا ہو چکے ہیں، جس میں خواہش، لگاؤ اور تمام آلائشیں مٹ چکی ہیں۔ آج بھی سومناتھ کے اندر وہی صلاحیت موجود ہے کہ وہ ذہن اور روح کے اندر کسی گہری اور بامعنی کیفیت کو بیدار کر دے۔

1026 میں ہونے والے پہلے حملے کے ایک ہزار سال بعد بھی سومناتھ کے ساحل پر سمندر اسی شدت کے ساتھ گرجتا ہے جیسا کہ اُس وقت گرجتا تھا۔ سومناتھ کے کناروں کو چھوتی ہوئی موجیں ایک کہانی سناتی ہیں۔ ہر حال میں، بالکل موجوں کی طرح یہ بار بار اٹھتا رہا اور پھر کھڑا ہو گیا۔

ماضی کے حملہ آور آج ہوا میں اڑتی ہوئی خاک بن چکے ہیں اور ان کے نام تباہی کے مترادف سمجھے جاتے ہیں۔ وہ تاریخ کے اوراق میں محض حاشیے بن کر رہ گئے ہیں، جبکہ سومناتھ پوری تابانی کے ساتھ آج بھی قائم ہے، افق سے کہیں آگے تک اپنی روشنی بکھیرتا ہوا اور ہمیں اس ابدی روح کی یاد دلاتا ہے جو 1026 کے حملے کے باوجود کمزور نہ پڑی۔ سومناتھ امید کا وہ نغمہ ہے جو ہمیں یہ بتاتا ہے کہ نفرت اور جنون گرچہ لمحاتی طور پر تباہی کی طاقت رکھتے ہیں، مگر نیکی کی قوت پر ایمان اور یقین میں ایسی تخلیقی طاقت ہے جو ہمیشہ کے لیے قائم رہتی ہے۔

اگر سومناتھ مندر، جس پر ایک ہزار سال قبل حملہ ہوا اور جسے بعد ازاں بھی مسلسل حملوں کا سامنا کرنا پڑا، بار بار اٹھ کھڑا ہو سکتا ہے تو ہم بھی یقیناً اپنی عظیم قوم کو اس شان و شوکت کی طرف دوبارہ لے جا سکتے ہیں جو حملوں سے قبل ایک ہزار سال پہلے اس کا خاصہ تھی۔ شری سومناتھ مہادیو کی برکتوں کے ساتھ ہم ایک نئے عزم کے ساتھ وِکست بھارت کی تعمیر کے لیے آگے بڑھ رہے ہیں، جہاں تہذیبی دانش ہمیں پوری دنیا کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرنے کی رہنمائی کرے گی۔

جے سومناتھ!