Share
 
Comments

Dear Friends,

After the results of the 2012 Gujarat Vidhan Sabha were declared and in between the massive preparations of the 2013 Vibrant Gujarat Global Summit, I attended a very important function in Gandhinagar. The occasion was the flagging off of the Torch Rally for Khel Mahakumbh 2012-2013. Usually we have the Khel Mahakumbh, our annual sports extravaganza, in November but the Model Code of Conduct did not permit us to do the same in 2012. Hence, the Khel Mahakumbh commences today, on 18th January.

In this edition of the Khel Mahakumbh, we expect to see a record participation from athletes cutting across all age groups. Already over 24 lakh athletes including over 1 lakh specially abled athletes have registered for 20 sporting events, which is far higher than the 18-lakh participants we had during Khel Mahakumbh 2011. The Torch Rally itself has moved around the length and breadth of the state for the last 18 days to further popularize the Khel Mahakumbh. Being the 150th birth year of Swami Vivekananda, the Gujarat Government set up Vivekananda Yuva Kendras in the last one year, which will provide a great impetus to the Khel Mahakumbh.

Initiatives such as Khel Mahakumbh are not merely sports meets where players come, play and leave; this is not a one-off event held to fill the calendar of the Government. In reality, the Khel Mahakumbh is an integral part of a larger determination of the Government to promote a culture of sports and sportsmanship among the people of Gujarat.

I have noticed that due to pressures of books, education, classes etc. the sports fields wear a desolate look during the evenings. This is a far cry from our times, when were eagerly awaited an evening game as much as we awaited a stimulating lecture. This is a matter of concern. The wide availability of video games, computer games and television have made the home a much better place of recreation as compared to the field.

This reminds me of a similar situation about which I had read about- in China it was noticed that after coming back from school, little children preferred to watch cartoons instead of going out to play. That is when the authorities decided not to screen any cartoon during a certain time so that the children go on the field.

We must make sports an integral part of our lives. It is a fact that without sport there can be no sportsman spirit. It is also rightly said,
“Jo Khele, Woh Khile” (The person who plays, shines!).
We need not be professionals at the sport we play but picking up one sport as a hobby is something that can do wonders for our overall personal development.

We have decided to leave no stone unturned to promote every aspect of sports development. Our efforts are not limited to creating only talented players. There is an immense Human Resource Development potential linked with sports and we want that to grow leaps and bounds. Why cant we think of empowering umpiring skills, refereeing skills, encourage all the youngsters who are part of the proceedings without being on the field? There is scope for immense growth in areas of sports medicine, sports journalism and sports infrastructure. Our Sports Policy looks at all these issues comprehensively. We have also come up with a Sports Academy and are working towards creating Sports Schools in every district. We need to go further ahead and scale new heights of glory and give our youngsters the opportunity to shine on the sports field.

Apart from the Khel Mahakumbh, I invite you to be a part of Kutch Desert Car Rally 2013 that will be held on 25th January 2013. The Desert Car Rally has been a unique inititative to promote tourism and adventure sports in Kutch and in the past few editions it has really grown to spectacular heights.

Gujarat has just witnessed the Kumbh of development during the 2013 Vibrant Gujarat Summit. At the same time the Maha Kumbh is underway at Prayag and today I invite every one of you to extend your participation and support during this Mahakumbh of sports and sportsmanship. Those of you who are not playing should go to the venues and encourage the athletes. Breathe in their passion, their dedication and their determination. Victory and defeat are not the only aspects of sports. What is more important is the healthy atmosphere of sportsman spirit and this is what we seek to do during the Khel Mahakumbh, with the Mantra of
‘Ramshe Gujarat, Jeetshe Gujarat’ (Gujarat will play, Gujarat will win). So, come and be a part of this Mahakumbh of sports development!

Jay Jay Garvi Gujarat

Narendra Modi

بھارتی اولمپئنس کی حوصلہ افزائی کریں۔ #Cheers4India
Modi Govt's #7YearsOfSeva
Explore More
It is now time to leave the 'Chalta Hai' attitude & think of 'Badal Sakta Hai': PM Modi

Popular Speeches

It is now time to leave the 'Chalta Hai' attitude & think of 'Badal Sakta Hai': PM Modi
'Foreign investment in India at historic high, streak to continue': Piyush Goyal

Media Coverage

'Foreign investment in India at historic high, streak to continue': Piyush Goyal
...

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
پختہ عزم اور ترغیبات سے اصلاحات
June 22, 2021
Share
 
Comments

کووڈ-19 وبائی مرض پالیسی بنانے کے معاملے میں پوری دنیا کی حکومتوں کے لیے نئے چیلنجز لیکر آیا ہے۔ بھارت بھی اس سے مستثنیٰ نہیں ہے۔ پائیداری کو یقینی بناتے ہوئے، عوامی فلاح و بہبود کے لیے مناسب وسائل کا انتظام کرنا سب سے بڑا چیلنج ہے۔

پوری دنیا میں مالی بحران کے اس تناظر میں، کیا آپ کو معلوم ہے کہ ہندوستانی ریاستیں 21-2020 میں زیادہ قرض لینے میں کامیاب رہیں؟ شاید یہ جان کر آپ کو خوشگوار حیرت ہوگی کہ ریاستیں 21-2020 میں اضافی 1.06 لاکھ کروڑ روپے اکٹھا کرنے میں کامیاب رہیں۔ وسائل کی دستیابی میں یہ قابل قدر اضافہ مرکز اور ریاست کے درمیان ’بھاگیداری‘ کی وجہ سے ممکن ہو پایا۔

ہم نے جب کووڈ-19 وبائی مرض کے جواب میں اپنی اقتصادی پالیسی بنائی، تو ہم اس بات کو یقینی بنانا چاہتے تھے کہ ہمارا یہ حل ’ایک ہی سائز سب کے لیے فٹ آتا ہے‘ والے ماڈل کی پیروی نہ کرے۔ بر اعظم کے طول و عرض کے حامل ایک وفاقی ملک کے لیے، ریاستی حکومتوں کے ذریعے اصلاحات کے فروغ کے لیے قومی سطح پر ایسی کوئی پالیسی تیار کرنا واقعی میں چیلنج بھرا ہے۔ لیکن، ہمیں اپنی وفاقی جمہوریہ کی مضبوطی پر اعتماد تھا اور ہم مرکز اور ریاست کے درمیان بھاگیداری کے جذبہ سے اس راستے پر آگے بڑھے۔

مئی 2020 میں، آتم نربھر بھارت پیکیج کے حصہ کے طور پر، حکومت ہند نے اعلان کیا کہ ریاستی حکومتوں کو 21-2020 کے لیے اضافی قرض لینے کی اجازت دی جائے گی۔ جی ایس ڈی پی سے 2 فیصد زیادہ کی اجازت دی گئی، جس میں سے ایک فیصد کو مخصوص اقتصادی اصلاحات کے نفاذ سے مشروط کر دیا گیا تھا۔ ہندوستانی عوامی معیشت میں اصلاح کی یہ پہل نایاب ہے۔ اس کے تحت ریاستوں کو اس بات کے لیے آمادہ کیا گیا کہ وہ اضافی رقم حاصل کرنے کے لیے ترقی پسند پالیسیاں اختیار کریں۔ اس مشق کے نتائج نہ صرف حوصلہ افزا ہیں، بلکہ اس خیال آرائی کے برعکس بھی ہیں کہ ٹھوس اقتصادی پالیسیوں پر عمل کرنے والے محدود ہیں۔

چار اصلاحات جن سے اضافی قرض لینے کو جوڑا گیا (جس میں سے ہر ایک کے ساتھ جی ڈی پی کا 0.25 فیصد جوڑا گیا تھا) اس کی دو خصوصیات تھیں۔ پہلی، اصلاحات میں سے ہر ایک کو عوام، خاص طور سے غریبوں، کمزوروں، اور متوسط طبقہ کی زندگی کو بہتر بنانے سے جوڑا گیا تھا۔ دوسری، انہوں نے مالی استحکام کو بھی فروغ دیا۔

’ایک ملک ایک راشن کارڈ‘ کی پالیسی کے تحت پہلی اصلاح میں ریاستی حکومتوں کو یہ یقینی بنانا تھا کہ قومی غذائی تحفظ قانون (این ایف ایس اے) کے ےتحت ریاست کے تمام راشن کارڈوں کو فیملی کے تمام ممبران کے آدھار نمبر سے جوڑا جائے اور مناسب قیمت والی تمام دکانوں پر الیکٹرانک پوائنٹ آف سیل ڈیوائسز ہوں۔ اس کا بنیادی فائدہ یہ ہے کہ مہاجر کارکن اپنا غذائی راشن ملک میں کہیں سے بھی حاصل کر سکتے ہیں۔ شہریوں کو ملنے والے ان فوائد کے علاوہ، فرضی کارڈ اور ڈوپلیکیٹ ممبران کے ختم ہونے سے بھی مالی فائدہ ہوا۔ 17 ریاستوں نے اس اصلاح کو مکمل کر لیا اور انہیں 37600 کروڑ روپے کا اضافی قرض فراہم کیا گیا۔

دوسری اصلاح، جس کا مقصد کاروبار میں آسانی کو بہتر کرنا تھا، کے تحت ریاستوں کو یہ یقینی بنانا تھا کہ 7 قوانین کے تحت کاروبار سے متعلق لائسنس کی تجدید خود کار، آن لائن اور معمولی فیس کی ادائیگی  پر کی جائے۔ دوسری شرط تھی کمپیوٹر کے ذریعے اچانک جانچ کا نظام نافذ کیا جائے  اور جانچ سے قبل نوٹس  دیا جائے تاکہ مزید 12 قوانین کے تحت ہراسانی اور بدعنوانی کو کم کیا جا سکے۔ اس اصلاح سے (19 قوانین کا احاطہ کرتے ہوئے) انتہائی چھوٹی اور چھوٹی انٹرپرائزز کو خاص طور سے مدد ملی، جنہیں ’انسپکٹر راج‘ کا سب سے زیادہ بوجھ برداشت کرنا پڑتا ہے۔ یہ بہتر سرمایہ کاری کے ماحول، بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری اور تیزی سے ترقی کو فروغ دیتا ہے۔ 20 ریاستوں نے اس اصلاح کو مکمل کیا اور انہیں 39521 کروڑ روپے کے اضافی قرض کی اجازت دی گئی۔

پندرہویں مالیاتی کمیشن اور متعدد ماہرین تعلیم نے ٹھوس پراپرٹی ٹیکس کی اہمیت پر زور دیا ہے۔ تیسری اصلاح کے تحت ریاستوں کو شہری علاقوں میں بالترتیب جائیداد کے لین دین اور موجودہ اخراجات کے لیے اسٹامپ ڈیوٹی گائیڈ لائن کی قدروں کے مطابق، پراپرٹی ٹیکس اور پانی اور سیوریج چارجز کی بنیادی شرحوں کے بارے میں نوٹیفائی کرنا تھا۔ یہ شہری غریبوں اور متوسط طبقہ کو بہترین معیار کی خدمات مہیا کرائے گا اور بہتر بنیادی ڈھانچہ کی معاونت کے ساتھ ہی ترقی کو آگے بڑھائے گا۔ پراپرٹی ٹیکس بھی اس معاملے میں ترقی پسند ہے اور اس سے شہری علاقوں کے غریبوں کو سب سے زیادہ فائدہ ہوگا۔ یہ اصلاح میونسپل اسٹاف کے لیے بھی فائدہ مند ہے جنہیں اکثر ان کی اجرت دیر سے ملتی ہے۔ 11 ریاستوں نے ان اصلاحات کو مکمل کیا اور انہیں 15957 کروڑ روپے کے اضافی قرض کو منظوری دی گئی۔

چوتھی اصلاح کاشتکاروں کو بجلی کی مفت سپلائی کے سلسلے میں ڈائریکٹ بینیفٹ ٹرانسفر (ڈی بی ٹی) کو متعارف کرانا تھی۔ اس کے لیے یہ شرط تھی کہ ریاست گیر اسکیم تیار کی جائے اور سال کے آخر تک پائلٹ بنیاد پر کسی ایک ضلع میں اسے حقیقی طور پر نافذ کیا جائے۔ اس کے ساتھ جی ایس ڈی پی کے 0.15 فیصد کے اضافی قرض کو جوڑا گیا تھا۔ تکنیکی اور کاروباری نقصانات میں کمی کے لیے ایک جزو بھی فراہم کیا گیا تھا اور دوسرا محصول اور اخراجات (ہر ایک کے لیے جی ایس ڈی پی کا 0.05 فیصد) کے درمیان کے فرق کو کم کرنے کے لیے تھا۔اس سے تقسیم کار کمپنیوں کے مالی معاملات میں بہتری آتی ہے، پانی اور بجلی کی بچت کو فروغ حاصل ہوتا ہے اور بہتر مالیاتی اور تکنیکی کارکردگی کے ذریعے سروس کے معیار میں بہتری آتی ہے۔ 13 ریاستوں نے کم از کم ایک جزو کو نافذ کیا، جب کہ 6 ریاستوں نے ڈی بی ٹی جزو کو نافذ کیا۔ اس کے نتیجہ میں، 13201 کروڑ روپے کے اضافی قرض کی اجازت دی گئی۔

مجموعی طور پر، 23 ریاستوں نے امکانی 2.14 لاکھ کروڑ روپے میں سے 1.06 لاکھ کروڑ روپے کے اضافی قرض لیے۔ اس کے نتیجہ میں ریاستوں کو 21-2021 کے لیے (مشروط اور غیر مشروط) ابتدائی تخمینی جی ایس ڈی پی کے 4.5 فیصد کے مجموعی قرض کی اجازت دی گئی۔

ہمارے جیسے پیچیدہ چیلنجز والے ایک بڑے ملک کے لیے، یہ ایک انوکھا تجربہ تھا۔ ہم نے اکثر دیکھا ہے کہ متعدد اسباب کی بناپر، اسکیمیں اور اصلاحات سالوں تک غیر فعال رہتی ہیں۔ یہ ماضی کی خوشگوار روانگی تھی، جہاں مرکز اور ریاستیں وبائی مرض کے دوران بہت ہی مختصر وقت میں عوام دوست ان اصلاحات کو نافذ کرنے کے لیے ایک ساتھ آئیں۔ یہ سب کا ساتھ، سب کا وکاس اور سب کا وشواس والے ہمارے نقطہ نظر کی وجہ سے ممکن ہو پایا۔ان اصلاحات پر کام کرنے والے افسران کی رائے ہے کہ اضافی رقم کی اس ترغیب کے بغیر، ان پالیسیوں کو نافذ کرنے میں برسوں لگ جاتے۔  بھارت نے ’چوری چھپے اور زبردستی اصلاحات‘ کا ماڈل دیکھا ہے۔ یہ ’پختہ عزم اور ترغیبات سے اصلاحات‘ کا نیا ماڈل ہے۔ میں ان تمام ریاستوں کا شکر گزار ہوں جنہوں نے اپنے شہریوں کی بہتری کے لیے اس مشکل وقت میں ان پالیسیوں کو سب سے آگے بڑھ کر شروع کیا۔ ہم 130 کروڑ ہندوستانیوں کی تیزی سے ترقی کے لیے ساتھ مل کر کام کرنا جاری رکھیں گے۔