Your Excellencies, the Presidents of BRICS countries
Your Excellencies, the Presidents of South American Countries
Distinguished Delegates
I thank Brazil, for providing this opportunity, to interact with leaders, from South American countries. I am grateful, to Your Excellencies, for sparing your valuable time, to meet us today. South America, has tremendous potential. It is blessed, with vast resources and talent. It can become an important pillar of the global economy. In the face of economic uncertainty its growth can be crucial for global prosperity. In a globalised and inter-connected world, our destinies are inter-linked. We are all bound, by shared aspirations and common challenges. We all have a stake in each other's success. Distance is not a barrier to opportunities. It also does not, insulate us from challenges in other parts of the world.
Thus, we must all unite:
To seek faster growth and newer avenues of generating prosperity.
To find solutions to the challenge of poverty.
To preserve our environment, and use our resources well.
Our discussions today should throw up new ideas for partnership between BRICS and South America. BRICS nations have already started a new chapter in this with the BRICS New Development Bank. This will open up newer opportunities of cooperation.
Excellencies, India and South America share a deep bond.
Authors and poets, like Octavio Paz, Gabriel Garcia Marquez and Pablo Neruda are popular in India. Similarly, our national poet, Rabindranath Tagore, is widely loved here. South America is also home to a large number of Indians, many of whom came centuries ago. Generations later, they remain a strong bridge of friendship, between our nations.
Prime Minister, Shri Narendra Modi meeting the President of the Republic of Peru, Mr. Ollanta Humala
My own home state of Gujarat has many links with South America:
Ages ago, the Gir cow made its way from Gujarat, all the way to Brazil. Today Gujarat accounts for more than half of India's trade, with this wonderful continent.
Excellencies, as Chief Minister of Gujarat, I also had the privilege, to interact with your Ambassadors in Delhi.
I was struck by their warmth, and their keen desire to forge closer relations, between India and South America.
I assure you that India will work more closely with South America than ever before. At the bilateral level, as a BRICS member, in the G-77, as well as other international forums.
Excellencies, India's trade with South America, has shown strong growth in recent years.
There is a growing presence, of Indian investors in South America. It is, however, still well below potential. From hydrocarbons to pharma, textiles to leather, engineering goods to automobiles; the range of opportunities is enormous.We must utilize, the Preferential Trade Agreement between India and the MERCOSUR Trade Block, and Chile, more effectively. We also attach importance, to the South American and Caribbean Business Conclave held every year in India. A similar Investment Conclave, is being organized in October 2014, in India. I ask your Excellencies, to encourage your business leaders, to take full advantage of this opportunity.
I firmly believe, the possibilities of cooperation are limited not by distance but only by our imagination and efforts.We have much to learn from each other, in our journey towards inclusive and sustainable development. We must share with each other, our experiences, best practices and innovative solutions. India stands committed to the same. I am pleased, that India has deputed experts, to countries in the South American region in the fields of Agriculture, Horticulture, Disaster Management, Communications and Law. We are also working together in Renewable Energy.
Almost 250 students from South America, have been taking courses in India every year under our International Technical and Economic Cooperation program. I however believe, that this is not enough. We intend to substantially increase the same.
To share India's expertise in Information Technology, we will establish Centres of Excellence in Information Technology, in South American countries. India also offers to expand cooperation, in areas like Tele-medicine, Tele-education and e-Governance. We extend our Space capabilities, for weather forecasting, resource mapping and disaster management. Our ongoing Parliament session in Delhi – my Government's first – prevents me from spending more time here, on this visit. But, I look forward to returning to this great continent; of beauty, opportunities and warm people. I also look forward, to a much more intensive level of engagement, between India and South America, in the coming years, across all domains of cooperation
ہردوئی، اتر پردیش میں گنگا ایکسپریس وے کے سنگ بنیاد کے موقع پر وزیراعظم کے خطاب کا متن:
April 29, 2026
Share
This transformative infrastructure project will boost connectivity and drive progress across Uttar Pradesh: PM
Just as Maa Ganga has been the lifeline of UP and this country for thousands of years, similarly, in this era of modern progress, this expressway passing near her, will become the new lifeline of UP's development: PM
Recently, I had the opportunity to dedicate the Delhi-Dehradun Expressway to the nation.
I had then remarked that these emerging expressways are the lifelines shaping the destiny of a developing India, and these modern pathways are today heralding India's bright future: PM
Ganga Expressway will not only connect one end of UP to the other, it will also bring limitless possibilities of the NCR closer: PM
بھارت ماتا کی جے!
گنگا میا کی جے!
گنگا میا کی جے!
اتر پردیش کی گورنر آنندی بین پٹیل، یہاں کے وزیرِ اعلیٰ جناب یوگی آدتیہ ناتھ جی، نائب وزرائے اعلیٰ کیشو پرساد موریہ، برجیش جی پاٹھک، مرکزی کابینہ میں میرے ساتھی جتن پرساد جی، پنکج چودھری جی، یوپی حکومت کے وزراء، ارکانِ پارلیمنٹ اور ارکانِ اسمبلی، دیگر عوامی نمائندے اور اتنی بڑی تعداد میں تشریف لائے ہوئے میرے پیارے بھائیو اور بہنو!
سب سے پہلے، میں بھگوان نرسنگھ کی اس مقدس سرزمین کو سلام پیش کرتا ہوں۔ یہاں سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر ماں گنگا اپنی عنایتیں لٹاتی ہوئی گزرتی ہیں۔ اس لیے، یہ پورا خطہ کسی تیرتھ (مقدس مقام) سے کم نہیں ہے۔ اور میں مانتا ہوں کہ اتر پردیش کو ایکسپریس وے کی یہ نعمت، یہ بھی ماں گنگا کا ہی آشیرواد ہے۔ اب آپ کچھ ہی گھنٹوں میں سنگم بھی پہنچ سکتے ہیں، اور کاشی میں بابا کے درشن کر کے واپس بھی آ سکتے ہیں۔
ساتھیو،
جس طرح ماں گنگا ہزاروں سالوں سے یوپی اور اس ملک کی شہ رگ رہی ہیں، بالکل اسی طرح جدید ترقی کے اس دور میں، ان کے قریب سے گزرنے والا یہ ایکسپریس وے، یوپی کی ترقی کی نئی 'لائف لائن' بنے گا۔ یہ بھی ایک حیرت انگیز اتفاق ہے کہ گزشتہ چار پانچ دنوں سے میں ماں گنگا کے قرب میں ہی رہا ہوں۔ 24 اپریل کو جب میں بنگال میں تھا، تو ماں گنگا کے درشن کیے تھے، اور پھر کل تو میں کاشی میں تھا۔ آج صبح ہی دوبارہ بابا وشوناتھ، ماں انپورنا اور ماں گنگا کے درشن کرنے کی سعادت ملی ہے، اور اب ماں گنگا کے نام پر بنے اس ایکسپریس وے کے افتتاح کا موقع ملا ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ یوپی حکومت نے اس ایکسپریس وے کا نام ماں گنگا کے نام پر رکھا ہے۔ اس میں ترقی کا ہمارا وژن بھی جھلکتا ہے اور ہماری وراثت کے بھی درشن ہوتے ہیں۔ میں یوپی کے کروڑوں لوگوں کو گنگا ایکسپریس وے کی مبارکباد دیتا ہوں۔
ساتھیو،
آج جمہوریت کے جشن کا بھی ایک اہم دن ہے۔ بنگال میں اس وقت دوسرے مرحلے کی پولنگ ہو رہی ہے، اور جو خبریں آ رہی ہیں ان سے پتہ چلتا ہے کہ وہاں بھرپور ووٹنگ ہو رہی ہے۔ پہلے مرحلے کی طرح ہی عوام ووٹ دینے کے لیے بڑی تعداد میں گھروں سے نکل رہے ہیں، لمبی لمبی قطاروں کی تصویریں سوشل میڈیا پر چھائی ہوئی ہیں۔ گزشتہ 6-7 دہائیوں میں جو نہیں ہوا، جس کا تصور بھی مشکل تھا، اس بار بنگال میں ویسے ہی نڈر ماحول میں ووٹنگ ہو رہی ہے۔ لوگ خوف سے آزاد ہو کر ووٹ دے رہے ہیں۔ یہ ملک کے آئین اور ملک کی مضبوط ہوتی جمہوریت کی ایک مبارک علامت ہے۔ میں بنگال کی عظیم عوام کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ وہ اپنے حق کے تئیں اتنے بیدار ہیں اور بڑی تعداد میں ووٹ ڈال رہے ہیں۔ ابھی ووٹنگ ختم ہونے میں کئی گھنٹے باقی ہیں، میں بنگال کے عوام سے گزارش کروں گا کہ جمہوریت کے اس تہوار میں اسی جوش و خروش سے حصہ لیں۔
ساتھیو،
کچھ عرصہ قبل جب بہار میں انتخابات ہوئے، تو بی جے پی - این ڈی اے نے زبردست جیت درج کی تھی اور ایک تاریخ رقم کی تھی۔ ابھی کل ہی گجرات میں میونسپل کارپوریشنز، بلدیات، ضلع پنچایتوں، نگر پنچایتوں اور تحصیل پنچایتوں کے انتخابی نتائج آئے ہیں۔ اور میرے اتر پردیش کے عوام کو یہ جان کر خوشی ہوگی کہ 80 سے 85 فیصد بلدیات اور پنچایتیں بی جے پی نے جیت لی ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ ان پانچ ریاستوں کے انتخابات میں بھی بی جے پی تاریخی جیت کی ہیٹرک لگانے جا رہی ہے۔ 4 مئی کے نتائج 'وکست بھارت' کے عزم کو مضبوط کریں گے اور ملک کی ترقی کی رفتار کو نئی توانائی سے بھر دیں گے۔
ساتھیو،
ملک کی تیز رفتار ترقی کے لیے ہمیں تیزی سے جدید انفراسٹرکچر کی تعمیر بھی کرنی ہے۔ دسمبر 2021 میں گنگا ایکسپریس وے کا سنگِ بنیاد رکھنے میں شاہجہاں پور آیا تھا۔ ابھی 5 سال سے بھی کم وقت ہوا ہے، اور آپ دیکھیے، ملک کے سب سے بڑے ایکسپریس ویز میں شمار یوپی کا سب سے طویل 'گرین کوریڈور ایکسپریس وے'، یہ 5 سال کے اندر اندر بن کر تیار ہو گیا ہے۔ آج ہردوئی سے اس کا افتتاح بھی ہو رہا ہے۔ یہی نہیں، ایک طرف گنگا ایکسپریس وے کی تعمیر مکمل ہوئی ہے، تو ساتھ ہی اس کی توسیع کے منصوبے پر کام بھی شروع ہو گیا ہے۔ جلد ہی، گنگا ایکسپریس وے میرٹھ سے آگے بڑھ کر ہریدوار تک پہنچے گا۔ اس کے مزید بہتر استعمال کے لیے فرخ آباد لنک ایکسپریس وے تعمیر کر کے اسے دیگر ایکسپریس ویز سے بھی جوڑا جائے گا۔ یہ ہے ڈبل انجن حکومت کا وژن! یہ ہے بی جے پی حکومت کے کام کرنے کی رفتار! یہ ہے بی جے پی حکومت کے کام کا طریقہ!
بھائیو اور بہنو،
کچھ ہی دن پہلے مجھے دہلی-دہرا دون ایکسپریس وے کے افتتاح کا موقع ملا تھا۔ تب میں نے کہا تھا کہ یہ نئے بنتے ایکسپریس ویز، ترقی یافتہ ہندوستان کی 'ہست ریکھائیں' (ہاتھ کی لکیریں) ہیں اور یہ جدید لکیریں آج بھارت کے روشن مستقبل کا اعلان کر رہی ہیں۔
ساتھیو،
اب وہ دور چلا گیا جب ایک سڑک کے لیے دہائیوں تک انتظار کرنا پڑتا تھا! ایک بار اعلان ہو گیا تو برسوں تک فائلیں چلتی رہتی تھیں! انتخاب کے لیے پتھر لگ جاتا تھا، اس کے بعد حکومتیں آتی رہتی تھیں، جاتی رہتی تھیں، لیکن کام کا کچھ پتا نہیں چلتا تھا۔ کبھی کبھی تو پرانی فائلیں ڈھونڈنے کے لیے بڑے بڑے افسروں کو دو دو سال تک محنت کرنی پڑتی تھی۔ ڈبل انجن حکومت میں سنگِ بنیاد بھی رکھا جاتا ہے اور مقررہ وقت میں افتتاح بھی ہو کر رہتا ہے۔ اسی لیے آج یوپی کے ایکسپریس ویز سے بھی زیادہ رفتار اگر کہیں ہے، تو وہ یوپی کی ترقی کی رفتار ہی ہے۔
ساتھیو،
یہ ایکسپریس وے صرف ایک ہائی اسپیڈ سڑک نہیں ہے۔ یہ نئے امکانات، نئے خوابوں اور نئے مواقع کا راستہ (گیٹ وے) ہے۔ گنگا ایکسپریس وے تقریباً 600 کلومیٹر طویل ہے۔ مغربی یوپی میں میرٹھ، بلند شہر، ہاپوڑ، امروہہ، سنبھل اور بدایوں؛ وسطی یوپی میں شاہجہاں پور، ہردوئی، اناؤ، رائے بریلی؛ مشرقی یوپی میں پرتاپ گڑھ اور پریاگ راج، ان کے آس پاس کے دوسرے اضلاع—گنگا ایکسپریس وے سے ان علاقوں کے کروڑوں لوگوں کی زندگی بدل جائے گی۔
ساتھیو،
ان علاقوں کو گنگا جی اور ان کی معاون ندیوں کی زرخیز مٹی کی نعمت ملی ہے۔ لیکن پہلے کی حکومتوں نے جس طرح کسانوں کو نظر انداز کیا، اس کی وجہ سے کسان پریشانیوں میں ہی گھر کر رہ گئے! یہاں کے کسانوں کی فصلیں بڑی منڈیوں تک نہیں پہنچ پاتی تھیں۔ کولڈ اسٹوریج کی کمی تھی، لاجسٹکس کا فقدان تھا۔ کسانوں کو ان کی محنت کی صحیح قیمت نہیں ملتی تھی۔ اب ان مشکلات کا حل بھی تیزی سے ہوگا۔ گنگا ایکسپریس وے سے کم وقت میں بڑی منڈیوں تک رسائی ملے گی۔ یہاں کھیتی کے لیے ضروری انفراسٹرکچر ترقی پائے گا، جس سے ہمارے کسانوں کی آمدنی بڑھے گی۔
ساتھیو،
گنگا ایکسپریس وے یوپی کے ایک سرے کو دوسرے سرے سے تو جوڑتا ہی ہے، یہ این سی آر (قومی دارالحکومت خطہ) کے بے پناہ امکانات کو بھی قریب لائے گا۔ گنگا ایکسپریس وے پر صرف گاڑیاں ہی نہیں دوڑیں گی، بلکہ اس کے کنارے نئے صنعتی مواقع بھی پروان چڑھیں گے۔ اس کے لیے ہردوئی جیسے دوسرے اضلاع میں صنعتی راہداریاں تیار کی جا رہی ہیں۔ اس سے ہردوئی، شاہجہاں پور اور اناؤ سمیت تمام 12 اضلاع میں نئی صنعتیں آئیں گی۔ فارما اور ٹیکسٹائل جیسے مختلف شعبوں کے کلسٹرز تیار ہوں گے اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
ساتھیو،
ہمارے یہ نوجوان مدرا یوجنا اور او ڈی او پی (ایک ضلع ایک پروڈکٹ) جیسی اسکیموں کی طاقت سے خود بھی نئے نئے ریکارڈ قائم کر رہے ہیں۔ یہاں چھوٹی صنعتوں اور ایم ایس ایم ای کو فروغ مل رہا ہے۔ بہتر کنیکٹیویٹی کی سہولت سے ان کے لیے بھی نئی راہیں کھلیں گی۔ میرٹھ کی اسپورٹس انڈسٹری، سنبھل کا دستکاری کا کام ، بلند شہر کا سیرامک، ہردوئی کا ہینڈ لوم، اناؤ کا چمڑا اور پرتاپ گڑھ کی آملہ مصنوعات—یہ سب بڑے پیمانے پر ملک اور دنیا کی منڈیوں تک پہنچیں گے۔ اس سے لاکھوں خاندانوں کی آمدنی بڑھے گی۔ آپ مجھے بتائیے، کیا پرانی سپا (سماج وادی پارٹی) حکومت میں ہردوئی اور اناؤ جیسے اضلاع میں انڈسٹریل کوریڈور بنانے کا تصور بھی کیا جا سکتا تھا؟ کیا کبھی کوئی سوچ سکتا تھا کہ ہمارے ہردوئی سے بھی ایکسپریس وے گزرے گا؟ یہ کام صرف بی جے پی حکومت میں ہی ممکن ہے۔
ساتھیو،
پہلے یوپی کو پسماندہ اور 'بیمارُو' ریاست کہا جاتا تھا۔ وہی اتر پردیش آج 1 ٹریلین ڈالر کی معیشت بننے کے لیے آگے بڑھ رہا ہے۔ یہ ایک بہت بڑا ہدف ہے، لیکن اس کے پیچھے اتنی ہی بڑی تیاری بھی ہے، کیونکہ یوپی کے پاس بے پناہ صلاحیت ہے۔ ملک کی اتنی بڑی نوجوان آبادی کی توانائی یوپی کے پاس ہے۔ اس طاقت کا استعمال ہم یوپی کو مینوفیکچرنگ ہب بنانے کے لیے کر رہے ہیں۔ یوپی میں نئی صنعتیں اور کارخانے لگیں گے، یہاں جب بڑی مقدار میں سرمایہ کاری آئے گی، تب ہی یہاں معاشی ترقی کے دروازے کھلیں گے اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔
بھائیو اور بہنو،
اسی وژن کو مدنظر رکھ کر گزشتہ برسوں میں مسلسل کام ہوا ہے۔ آپ سب خود بھی محسوس کر رہے ہیں کہ جس یوپی کی پہچان پہلے ہجرت (پلان) سے ہوتی تھی، آج اسے 'انویسٹرز سمٹ' اور 'انڈسٹریل کوریڈور' کے لیے جانا جا رہا ہے۔ یوپی کی انویسٹر سمٹ میں ملک اور دنیا سے کمپنیاں آتی ہیں۔ یوپی میں ہزاروں کروڑ روپے کی سرمایہ کاری ہو رہی ہے۔ آج اگر بھارت دنیا میں دوسرا سب سے بڑا موبائل بنانے والا ملک ہے، تو اس میں یوپی کا بہت بڑا تعاون ہے۔ آج بھارت جتنے موبائل بنا رہا ہے، ان میں سے آدھے موبائل ہمارے یوپی میں بن رہے ہیں۔ ابھی کچھ ہی ہفتے پہلے میں نے نوئیڈا میں سیمی کنڈکٹر پلانٹ کا سنگِ بنیاد بھی رکھا ہے۔
ساتھیو،
آپ سب جانتے ہیں کہ اے آئی (مصنوعی ذہانت) کے اس دور میں سیمی کنڈکٹر کتنی بڑی فیلڈ بنتی جا رہی ہے۔ یوپی اس میں بھی قیادت کرنے کے لیے آگے بڑھ رہا ہے۔ مستقبل میں بے پناہ مواقع والا ایک بہت بڑا شعبہ یوپی کے لوگوں کے لیے کھل رہا ہے۔
ساتھیو،
اتر پردیش کی صنعتی ترقی آج بھارت کی دفاعی طاقت بھی بن رہی ہے۔ آج ملک کی دو ڈیفنس کوریڈورز میں سے ایک یوپی میں ہے۔ بڑی بڑی دفاعی کمپنیاں یہاں اپنی فیکٹریاں لگا رہی ہیں۔ برہموس جیسی میزائلیں، جن کا لوہا دنیا مانتی ہے، آج وہ یوپی میں بن رہی ہیں۔ دفاعی ساز و سامان کی تیاری میں جو چھوٹے چھوٹے پرزے درکار ہوتے ہیں، ان کی فراہمی کے لیے ایم ایس ایم ایز کو کام ملتا ہے۔ اس کا بہت بڑا فائدہ اتر پردیش کے ایم ایس ایم ای سیکٹر کو ہو رہا ہے۔ چھوٹے چھوٹے اضلاع میں بھی اب نوجوان بڑی بڑی صنعتوں سے وابستہ ہونے کا خواب دیکھ سکتے ہیں۔
ساتھیو،
آج اتر پردیش اتنی تیز رفتاری سے ترقی کر رہا ہے، کیونکہ یوپی نے پرانی سیاست کو بھی بدلا ہے اور نئی پہچان بھی بنائی ہے۔ آپ یاد کیجیے، ایک وقت تھا جب یوپی کی پہچان گڑھوں سے ہوتی تھی۔ آج وہی یوپی، ملک میں سب سے زیادہ ایکسپریس ویز والی ریاست بن چکا ہے۔ پہلے یہاں پڑوس کے ضلع تک جانا بھی بڑا مشکل تھا، لیکن آج اتر پردیش میں 21 ہوائی اڈے ہیں، جن میں 5 بین الاقوامی ہوائی اڈے شامل ہیں۔ اب تو نوئیڈا بین الاقوامی ہوائی اڈے کا افتتاح بھی ہو چکا ہے۔ گنگا ایکسپریس وے سے نوئیڈا بین الاقوامی ہوائی اڈا کچھ ہی گھنٹوں کی دوری پر ہے۔
بھائیو اور بہنو،
ہمارا اتر پردیش بھگوان رام اور بھگوان کرشن کی دھرتی ہے۔ لیکن، پچھلی حکومتوں نے اپنے کرتوتوں کی وجہ سے جرائم اور 'جنگل راج' کو یوپی کی پہچان بنا دیا تھا۔ یوپی کے مافیاؤں پر فلمیں بنتی تھیں۔ لیکن، اب یوپی کے امن و امان (لا اینڈ آرڈر) کی مثال پورے ملک میں دی جاتی ہے۔
بھائیو اور بہنو،
وسائل کی بندر بانٹ کرنے والے سماج وادی پارٹی کےجن لوگوں کے ہاتھ سے اقتدار گیا ہے، انہیں یوپی کی یہ ترقی پسند نہیں آ رہی ہے۔ وہ ایک بار پھر یوپی کو پرانے دور میں دھکیلنا چاہتے ہیں۔ وہ ایک بار پھر معاشرے کو بانٹنا اور توڑنا چاہتے ہیں۔
ساتھیو،
سماج وادی پارٹی ترقی کی بھی مخالف ہے اور خواتین (ناری شکتی) کی بھی مخالف ہے۔ ابھی گزشتہ دنوں ملک نے ایک بار پھر سماجوادی پارٹی اور کانگریس جیسی پارٹیوں کا اصلی چہرہ دیکھا ہے۔ مرکز کی این ڈی اے حکومت پارلیمنٹ میں 'ناری شکتی وندن ترمیم' لے کر آئی تھی۔ اگر یہ ترمیم پاس ہو جاتی، تو سال 2029 کے انتخابات سے ہی خواتین کو اسمبلی اور لوک سبھا میں ریزرویشن ملتا! بڑی تعداد میں ہماری مائیں بہنیں رکن پارلیمنٹ اور رکن اسمبلی بن کر دہلی اور لکھنؤ پہنچتیں، اور وہ بھی کسی دوسرے طبقے کی سیٹیں کم ہوئے بغیر! لیکن، سماجوادی پارٹی نے اس ترمیمی بل کے خلاف ووٹ دیا۔
ساتھیو،
اس بل سے تمام ریاستوں کی سیٹیں بھی بڑھتیں۔ ہم نے پارلیمنٹ میں صاف صاف کہا تھا کہ تمام ریاستوں کی سیٹیں ایک ہی تناسب میں بڑھیں گی۔ لیکن یوپی کو گالی دے کر سیاست کرنے والی ڈی ایم کے جیسی پارٹیاں، انہیں اس بات پر اعتراض تھا کہ یوپی کی سیٹیں کیوں بڑھیں گی؟ آپ دیکھیے، سماج وادی پارٹی پارلیمنٹ میں انہی کے سر میں سر ملا رہی تھی۔ یہ سماجوادی پارٹی والے یہاں سے آپ کے ووٹ لے کر پارلیمنٹ جاتے ہیں، اور پارلیمنٹ میں یوپی کے لوگوں کو گالی دینے والوں کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔ اسی لیے، یوپی کے لوگ کہتے ہیں کہ سماج وادی پارٹی کبھی سدھر نہیں سکتی۔ یہ لوگ ہمیشہ خواتین مخالف سیاست ہی کریں گے۔ یہ ہمیشہ خوشامد اور مجرموں کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔ سپا کبھی بھی اقربا پروری (خاندانی سیاست) اور ذات پات سے اوپر نہیں اٹھ سکتی۔ یہ لوگ ہمیشہ ترقی مخالف سیاست ہی کریں گے۔ اترپردیش کو سماجوادی پارٹی اور اس کے ساتھیوں سے ہوشیار رہنا ہے۔
ساتھیو،
آج ملک ایک ہی عزم لے کر آگے بڑھ رہا ہے— 'وکست بھارت' (ترقی یافتہ ہندوستان) کا عزم! اس عزم کو پورا کرنے میں اتر پردیش کا بہت بڑا کردار ہے۔ آپ سب دیکھ رہے ہیں، آج پوری دنیا کیسے جنگ، بدامنی اور عدم استحکام میں پھنسی ہوئی ہے۔ دنیا کے بڑے بڑے ممالک میں حالات خراب ہیں، لیکن بھارت ترقی کی راہ پر اسی رفتار سے آگے بڑھ رہا ہے۔ باہر کے دشمنوں کو یہ پسند نہیں آ رہا۔ اندر بیٹھے کچھ لوگ بھی اقتدار کی بھوک میں بھارت کو نیچا دکھانے کی کوششوں میں لگے ہیں۔ پھر بھی، ہم نہ صرف محفوظ ہیں بلکہ ترقی کے نئے نئے ریکارڈ بھی قائم کر رہے ہیں۔ ہم 'آتم نربھر بھارت' (خود کفیل ہندوستان) مہم کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ ہم جدید سے جدید ترین انفراسٹرکچر تعمیر کر رہے ہیں۔ گنگا ایکسپریس وے اسی سمت میں ایک اور مضبوط قدم ہے۔ مجھے یقین ہے کہ گنگا ایکسپریس وے جن امکانات کو ہمارے دروازے تک لے کر آئے گا، یوپی کے لوگ اپنی محنت اور اپنی صلاحیت سے انہیں حقیقت بنا کر رہیں گے۔ اسی عزم کے ساتھ، آپ سب کو ایک بار پھر بہت بہت مبارکباد۔ بہت بہت شکریہ!