عزت مآب وزیراعظم اِشیبا جی،

ہندوستان اور جاپان کے کاروباری رہنما،

خواتین و حضرات،

نمسکار،

Konnichiwa!

میں آج صبح ہی ٹوکیو پہنچا ہوں۔ مجھے بے حد خوشی ہے کہ میرے سفر کا آغاز کاروباری دنیا کے ممتاز افراد کے ساتھ ملاقات سے ہو رہا ہے۔

اور اسی طرح بہت سے لوگ ہیں جن سے میری ذاتی شناسائی ہے۔ جب میں گجرات میں تھا، تب بھی، اور گجرات سے دلی آیاتو تب بھی۔ آپ میں سے بہت سے لوگوں سے میری قریبی شناسائی رہی ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ مجھے آج آپ سب سے ملاقات کا موقع ملا ہے۔

 

میں اس فورم میں شامل ہونے پر وزیر اعظم اشیبا کا خاص طور پر شکریہ ادا کرتا ہوں۔ میں ان کے قیمتی خیالات کے لیے انہیں مبارکباد پیش کرتا ہوں۔

ساتھیو،

جاپان ہمیشہ ہندوستان کی ترقی کے سفر میں ایک اہم شراکت دار رہا ہے۔ میٹرو سے لے کر مینوفیکچرنگ تک، سیمی کنڈکٹرز سے لے کر اسٹارٹ اپس تک، ہر شعبے میں ہماری شراکت باہمی اعتماد کی علامت بن گئی ہے۔

جاپانی کمپنیوں نے ہندوستان میں 40 بلین ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری کی ہے۔ صرف گزشتہ دو برسوں  میں 13 بلین  ڈالر کی نجی سرمایہ کاری کی گئی ہے۔ جے بی آئی سی نے کہا ہے کہ ہندوستان سب سے امید افزا منزل ہے۔ جیٹرو کے مطابق  80 فیصد کمپنیاں ہندوستان میں اپنی سرگرمیاں بڑھانا چاہتی ہیں، اور 75 فیصد پہلے سے ہی  منافع میں ہیں۔

 

یعنی ہندوستان میں سرمایہ صرف بڑھتا ہی نہیں بلکہ  کئی گُنا بڑھتا ہے!

ساتھیو،

آپ سبھی پچھلے گیارہ برسوں  میں ہندوستان کی بے مثال تبدیلی سے بخوبی واقف ہیں۔ آج ہندوستان میں سیاسی استحکام ہے۔ معاشی استحکام ہے۔ پالیسی میں شفافیت ہے، پیش  گوئی  کے قابل اعتماد امکانات ہیں ۔  آج ہندوستان دنیا کی سب سے تیزی سے ترقی کرنے والی معیشت ہے اور بہت جلد یہ دنیا کی تیسری بڑی معیشت بننے جا رہی ہے۔

عالمی ترقی میں ہندوستان کا حصہ 18 فیصد  ہے۔ ہندوستان کی کیپٹل مارکیٹس اچھا منافع دے رہی ہیں۔ ایک مضبوط بینکنگ سیکٹر بھی ہے۔ کم مہنگائی اور کم شرح سود ہے۔ تقریباً 700 بلین ڈالر کے زرمبادلہ کے ذخائر ہیں۔

ساتھیو،

اس تبدیلی کے پیچھے ہمارا‘‘اصلاح، کارکردگی اور تبدیلی’’  کا نقطہ نظر ہے۔ 2017 میں، ہم نے ایک ملک ایک ٹیکس شروع کیا۔ اب اس میں نئی ​​اور بڑی اصلاحات لانے پر کام جاری ہے۔

چند ہفتے پہلے ہماری پارلیمنٹ نے بھی نئے اور آسان انکم ٹیکس کوڈ کی منظوری دی ہے۔

 

ہماری اصلاحات صرف ٹیکس کے نظام تک محدود نہیں ہیں۔ ہم نے کاروبار کرنے میں آسانی پر زور دیا ہے۔ ہم نے کاروبار کے لیے سنگل ڈیجیٹل ونڈو کی منظوری کا انتظام کیا ہے۔ ہم نے 45,000 ضوابط کو آسان بنایا ہے۔ اس عمل کو تیز کرنے کے لیے ڈی ریگولیشن پر ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔

نجی شعبے کے لیے دفاع اور خلاء جیسے حساس شعبے کھول دئے گئے ہیں۔ اب ہم ایٹمی توانائی کے شعبے کو بھی کھول رہے ہیں۔

ساتھیو،

ان اصلاحات کے پیچھے ایک ترقی یافتہ ہندوستان کی تعمیر کا ہمارا عزم ہے۔ ہمارے پاس عزم، یقین اور حکمت عملی ہے۔ اور دنیا نے اسے نہ صرف تسلیم کیا بلکہ سراہا بھی۔

ایس اینڈ پی گلوبل نے دو دہائیوں کے بعد ہندوستان کی کریڈٹ ریٹنگ کو اپ گریڈ کیا ہے۔

دنیا صرف ہندوستان کو نہیں دیکھ رہی ہے، وہ ہندوستان پر اعتماد کر رہی ہے۔

ساتھیو،

انڈیا-جاپان بزنس فورم کی رپورٹ ابھی پیش کی گئی۔ کمپنیوں کے درمیان کاروبارکو بڑی تفصیل سے بیان کیا گیا۔ میں آپ سب کو اس پیش رفت کے لیے مبارکباد پیش کرتا ہوں۔

ہماری شراکت داری کے لیے، میں آپ کے سامنے عاجزی کے ساتھ کچھ تجاویز رکھنا چاہوں گا۔

سب سے پہلے مینوفیکچرنگ ہے۔ آٹو سیکٹر میں ہماری شراکت داری انتہائی کامیاب رہی ہے اور وزیر اعظم نے اسے بڑی تفصیل سے بیان کیا۔ ہم ایک ساتھ مل کر، وہی  میجک ، بیٹریز، روبوٹکس، سیمی –کنڈکٹر، جہاز سازی اور نیو کلیائی  توانائی میں بھی دوہرا سکتے ہیں۔ مل کر، ہم گلوبل ساؤتھ، خاص طور پر افریقہ کی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

میں آپ سب سے گزارش کرتا ہوں - آؤ، میک ان انڈیا، میک فار دی ورلڈ۔ ‘سوزوکی ’اور ‘ڈائکن ’کی کامیابی کی کہانیاں آپ کی کامیابی کی کہانیاں بھی بن سکتی ہیں۔

دوسرا ٹیکنالوجی اور اختراع ہے۔ جاپان ایک ‘‘ٹیک پاور ہاؤس’’ ہے۔ اور ہندوستان ایک ‘‘ٹیلنٹ پاور ہاؤس’’ ہے۔ ہندوستان نے اے آئی، سیمی کنڈکٹرز، کوانٹم کمپیوٹنگ، بایوٹیک اور خلا میں جرأت مندانہ اور پرجوش اقدامات کیے ہیں۔ جاپان کی ٹیکنالوجی اور ہندوستان کا ہنر مل کر اس صدی کے ٹیک انقلاب کی قیادت کر سکتے ہیں۔

 

تیسرا شعبہ گرین انرجی ٹرانزیشن ہے۔ ہندوستان تیزی سے 2030 تک 500 گیگا واٹ قابل تجدید توانائی کے ہدف کی طرف بڑھ رہا ہے۔ ہم نے 2047 تک 100 گیگا واٹ جوہری توانائی کا ہدف بھی مقرر کیا ہے۔ سولر سیل ہوں یا گرین ہائیڈروجن، شراکت داری کے بے پناہ امکانات ہیں۔

ہندوستان اور جاپان کے درمیان مشترکہ کریڈٹ میکانزم پر معاہدہ ہوا ہے۔ اس سے فائدہ اٹھا کر کلین اور گرین مستقبل کی تعمیر میں تعاون کیا جا سکتا ہے۔

چوتھا نیکسٹ جنریشن انفراسٹرکچر ہے۔ پچھلی دہائی میں، ہندوستان نے اگلی نسل کی نقل و حرکت اور لاجسٹکس کے بنیادی ڈھانچے میں بے مثال ترقی کی ہے۔ ہماری بندرگاہوں کی گنجائش دوگنی ہو گئی ہے۔ 160 سے زیادہ ہوائی اڈے ہیں۔ 1000 کلومیٹر طویل میٹرو لائن بنائی گئی ہے۔ جاپان کے تعاون سے ممبئی اور احمد آباد ہائی سپیڈ ریل پر کام جاری ہے۔

لیکن ہمارا سفر یہیں نہیں رکتا۔ جاپان کی مہارت اور ہندوستان کا پیمانہ ایک بہترین شراکت قائم کر سکتا ہے۔

پانچویں نمبر پر اسکل ڈیولپمنٹ اور عوام سے عوام کے تعلقات ہیں۔ ہندوستان کا ہنر مند نوجوان ٹیلنٹ عالمی ضروریات کو پورا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ جاپان بھی اس سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ آپ ہندوستانی ٹیلنٹ کو جاپانی زبان اور سافٹ اسکلس میں ٹریننگ دیں  اور مل کر ایک ‘‘جاپان ریڈی’’ افرادی قوت تیار کریئے۔ایک  مشترکہ افرادی قوت مشترکہ خوشحالی کا باعث بنے گی۔

ساتھیو،

آخر میں، میں یہی کہنا چاہوں گا - ہندوستان اور جاپان کی شراکت داری اسٹریٹجک اور اسمارٹ ہے۔ معاشی منطق کے ذریعے ہم نے مشترکہ مفادات کو مشترکہ خوشحالی میں بدل دیا ہے۔

بھارت ، جاپانی کاروبار کے لیے گلوبل ساؤتھ تک پہنچنے کا اسپرنگ بورڈ ہے۔ مل کر ہم ایشیائی صدی کو استحکام، ترقی اور خوشحالی کی سمت دیں گے۔

انہیں الفاظ کے ساتھ، میں وزیر اعظم اشیبا  جی اور آپ سب کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔

Arigatou Gozaimasu!

بہت بہت شکریہ۔

 

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
Total Urea stocks currently at 61.14 LMT, up from 55.22 LMT in March 2025

Media Coverage

Total Urea stocks currently at 61.14 LMT, up from 55.22 LMT in March 2025
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
PM chairs CCS Meeting to review the situation and mitigating measures in the context of ongoing West Asia Conflict
March 22, 2026
Short, Medium and Long term measures to ensure continued availability of essential needs discussed in detail
Alternate sources of fertilizers for farmers were also discussed to ensure continued availability in the future
Several measures discussed to diversify sources of imports required by chemicals, pharmaceuticals, petrochemicals and other industrial sectors
New export destinations to promote Indian goods to be developed in near future
PM instructs that all arms of government should work together to ensure least inconvenience to citizens
PM directs that a group of Ministers and Secretaries be created to work dedicatedly in a whole of government approach
PM instructs for sectoral groups to work in consultation with all stakeholders
PM asks for proper coordination with state governments to ensure no black-marketing and hoarding of important commodities

Prime Minister Shri Narendra Modi chaired a meeting of the Cabinet Committee on Security to review the situation and ongoing and proposed mitigating measures in the context of ongoing West Asia Conflict.

The Cabinet Secretary gave a detailed presentation on the global situation and mitigating measures taken so far and being planned by all concerned Ministries/Departments of Government of India. The expected impact and measures taken to address it across sectors like agriculture, fertilisers, food security, petroleum, power, MSMEs, exporters, shipping, trade, finance, supply chains and all affected sectors were discussed. The overall macro-economic scenario in the country and further measures to be taken were also discussed.

The ongoing conflict in West Asia will have significant short, medium and long term impact on the global economy and its effect on India were assessed and counter-measures, both immediate and long-term, were discussed.

Detailed assessment of availability for critical needs of the common man, including food, energy and fuel security was made. Short term, Medium term and Long term measures to ensure continued availability of essential needs were discussed in detail.

The impact on farmers and their requirement for fertiliser for the Kharif season was assessed. The measures taken in the last few years to maintain adequate stocks of fertilizers will ensure timely availability and food security. Alternate sources of fertilizers were also discussed to ensure continued availability in the future.

It was also determined that adequate supply of coal stocks at all power plants will ensure no shortage of electricity in India.

Several measures were discussed to diversify sources of imports required by chemicals, pharmaceuticals, petrochemicals and other industrial sectors. Similarly new export destinations to promote Indian goods will be developed in the near future.

Several measures proposed by different ministries will be prepared and implemented in the coming days after consultation with all stakeholders.

PM directed that a group of ministers and secretaries be created to work dedicatedly in a whole of government approach. PM also instructed for sectoral groups to work in consultation with all stakeholders.

PM said that the conflict is an evolving situation and the entire world is affected in some form. In such a situation, all efforts must be made to safeguard the citizens from the impact of this conflict. PM instructed that all arms of government should work together to ensure least inconvenience to the citizens. PM also asked for proper coordination with state governments to ensure no black-marketing and hoarding of important commodities.