کھلونے کی معیشت میں بہتر مفاہمت کی ضرورت پر زور
کھلونے کے سیکٹر کی ترقی کی اہمیت کی ضرورت پر زور دیا گیا
ہمیں مقامی کھلونوں کے لیے ووکل کی ضرورت ہے: وزیراعظم
دنیا چاہتی ہے کہ ہندوستان کی صلاحیتوں ، فن اور ثقافت اور معاشرے سے کچھ سیکھے، کھلونے اس سمت میں بڑا رول ادا کرسکتے ہیں : وزیراعظم
ہندوستان کے پاس ڈیجیٹل گیم کے لیے کافی متن اورمسابقت موجود ہے
ہندوستان کی آزادی کی 75ویں سالگرہ کھلونے کی صنعت کے اختراع کاروں اور بنانے والوں کے لیے ایک زبردست موقع ہے: وزیراعظم

نئی دہلی ،24 جون : وزیراعظم جناب نریندر مودی نے آج ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ ٹوائے کیتھون – 2021 کے شرکاء کے ساتھ گفتگو کی۔ اس موقع پر مرکزی وزراء جناب پیوش گوئل اور جناب سنجے دھوترے بھی موجود تھے۔

اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ گذشتہ 5-6 سالوں میں ملک کے نوجوانوں کو ہیکا تھون کے پلیٹ فارم کے ذریعہ ملک کے کلیدی چیلنجوں کے ساتھ جوڑا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ  اس سوچ کے پیچھے ملک کی صلاحیتوں کا اہتمام کرنا ہے اور انہیں ایک وسیلہ فراہم کرنا ہے۔

بچوں کے پہلے دوست کی حیثیت سے کھلونوں کی اہمیت کے علاوہ وزیراعظم نے کھلونوں اور گیمنگ کے معاشی پہلوؤں پر بھی زور دیا۔ انہوں نے اسے کھلونا معیشت قرار دیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ کھلونوں کی عالمی منڈی تقریباً 100 ارب ڈالر کی ہے۔ اور بھارت کے پاس اس مارکٹ کا صرف 1.5 فیصد ہے۔ بھارت تقریباً 80 فیصد کھلونے درآمد کرتا ہے اس کا مطلب یہ ہوا کہ کروڑوں روپیے ملک سے باہر جا رہے ہیں۔ اب اس چیز کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ وزیراعظم جناب مودی نے کہا کہ اس شعبے میں ترقی لانے کی صلاحیت موجود ہے۔اور کھلونے کی صنعت کی اپنی چھوٹے پیمانے کی صنعت ہے جودیہی آبادی ،دستکاروں ، دلتوں ،غریب لوگوں اور قبائلی آبادی پر مشتمل ہے۔وزیراعظم نے اس سیکٹر میں خواتین کی خدمات کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان عناصر سے استفادہ کرنے کی بھی ضرورت ہے اور ہمیں ضرورت ہے کہ مقامی کھلونوں کی خریداری کے لیے  بھی زور دیں۔وزیراعظم نے  اختراع کے نئے ماڈلس کی ضرورت پر زور دیا اور عالمی سطح پر ہندوستانی کھلونوں کو مقابلہ جاتی بنانے کے لیے مالی تعاون کی ضرورت کا ذکرکیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ نئے خیالات کی ضرورت ہے تاکہ نئی اسٹارٹ اپ کو فروغ دیا جا سکے اور نئی تکنیک کو روایتی کھلونا بنانے والوں تک لے جایا جاسکے اور نئی مارکٹ  کی مانگ کو پورا کیا جاسکے۔ یہ ٹوائے کیتھون جیسی تقریبات کے پیچھے ایک تحریک ہے۔

 

وزیراعظم نے سستے ڈیٹا کا حوالہ دیا اور انٹرنیٹ  پر مبنی دیہی کنکٹیویٹی کی ترقی کا بھی ذکر کیا اور ہندوستان میں ورچوئل ، ڈیجیٹل اور آن لائن گیمنگ میں امکانات کا پتہ لگانے کے لیے کہا۔ وزیراعظم نے اس حقیقت کی طرف توجہ دلائی کہ مارکٹ میں دستیاب بیشتر آن لائن اور ڈیجیٹل گیمس ہندوستانی سوچ پر مبنی نہیں ہے اور اس طرح کے کئی گیمس تشدد کو فروغ دیتے ہیں اور ذہنی تناؤ کی وجہ بنتے ہیں۔ وزیراعظم نے اس بات کو اجاگر کیا کہ دنیا ہندوستان کی صلاحتیوں ، فن اور ثقافت اور معاشرے کے بارے میں جاننا اور سیکھنا چاہتی ہے اور کھلونے اس سمت میں ایک نمایاں رول ادا کرسکتے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہندوستان کے پاس ڈیجیٹل گیمنگ کے لیے کافی متن اور صلاحیت موجود ہے۔ جناب مودی نے نوجوان اختراع کاروں اور اسٹارٹ اپ سے کہا کہ وہ دنیا بھر میں ہندوستا ن کی صلاحیتوں اور خیالات کی سچی تصویر پیش کرنے کے لیے اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں۔

 

وزیراعظم نے کہا کہ ہندوستان کی آزادی کے 75 سال کھلونا صنعت کے اختراع کاروں اور اس کے بنانے والوں کے لیے ایک بڑا موقع ہے۔ بہت سے واقعات ، ہمارے مجاہدین آزادی کی داستانیں اوران کی بہادری اور قیادت کو گیمنگ تصورات میں ڈھالا جا سکتا ہے۔ ان اختراع کاروں کا مستقل کے ساتھ رقص کو جوڑنے میں ایک بڑا رول ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ دلچسپ اور انٹر ایکٹیو گیمس بنانے کی ضرورت ہے جو مشغول  کرسکیں اور تفریح و تعلیم فراہم کرسکیں۔

 

 

تقریر کا مکمل متن پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
One district one product: Uttar Pradesh pushes artisan goods onto global markets

Media Coverage

One district one product: Uttar Pradesh pushes artisan goods onto global markets
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
PM Modi’s departure statement ahead of his visit to France and Slovak Republic
June 13, 2026

At the invitation of H.E. Mr. Emmanuel Macron, President of the French Republic and H.E. Mr. Robert Fico, Prime Minister of the Slovak Republic, I will be undertaking a visit to France and the Slovak Republic from 13 to 18 June 2026.

France occupies a special place in India’s strategic vision. Earlier this year, President Macron visited India and we elevated our relationship to a Special Global Strategic Partnership. When I meet President Macron in Nice, we will review the progress made since February, and chart the next steps in our cooperation. I look forward to our discussions on pressing global issues of mutual interest as well.

In Nice, I also eagerly look forward to inaugurating ‘Bharat Innovates’ along with President Macron on 14 June 2026. This landmark event, being held against the backdrop of the India-France Year of Innovation, will connect India’s most promising start-ups with global investment and serve as a major accelerator for innovations emerging from India's higher education ecosystem.

From Nice, I will travel to the Slovak Republic for a State Visit from 14-15 June 2026, the first ever visit by an Indian Prime Minister since Slovakia’s independence in 1993. This historic visit builds on the strong momentum in our bilateral relationship. I look forward to holding discussions with President Pellegrini and Prime Minister Fico in Bratislava. I will also have the opportunity to interact with Slovak business leaders. Building on the momentum of the India-EU Free Trade Agreement, the visit will further energize our Strategic Partnership with the European Union, of which Slovakia is an important and valued member.

From Slovakia, I will travel to Evian, where I will participate in the G7 Summit on 16 and 17 June 2026. India’s presence at the G7 reflects the trust our partners place in us and our growing global profile. This is the 8th consecutive G7 Summit to which India has been invited. At the G7, India will not only speak for itself, but it will also give voice to the aspirations of the Global South.

I will conclude my visit to France in Paris on 18 June 2026 where I will attend the VivaTech 2026 alongside President Macron. VivaTech is Europe’s foremost gathering of technology and innovation, and India will have the largest national pavilion at this edition, a fitting symbol of the enormous potential for partnership between Indian and European innovation ecosystems. I also look forward to meeting the members of the vibrant Indian community in Paris, who have been a living bridge between our two nations.

I am confident that my visits to France and the Slovak Republic will reinforce India’s deepening engagement with both Europe and the G7, and showcase our steadfast commitment to expanding the horizon of our partnerships with the continent and beyond.