وزیر اعظم نریندر مودی بھگوان برسا منڈا کی جائے پیدائش اولیہاتو گاؤں کا دورہ کرنے والے پہلے وزیر اعظم ہوں گے
جنجاتیہ گورو دوس کے موقع پر وزیر اعظم اہم سرکاری اسکیموں کو یقینی بنانے کے لیے وکست بھارت سنکلپ یاترا کا آغاز کریں گے۔
وزیر اعظم تقریباً 24,000 کروڑ روپے کے بجٹ کے ساتھ پردھان منتری خاص طور پر کمزور قبائلی گروپوں کے ترقیاتی مشن کا بھی آغاز کریں گے
وزیر اعظم پی ایم کسان کے تحت تقریباً 18,000 کروڑ روپے کی 15 ویں قسط جاری کریں گے
وزیر اعظم جھارکھنڈ میں تقریباً 7200 کروڑ روپے کی مالیت کے منصوبوں کا افتتاح کریں گے، ملک کے نام وقف کریں گے اور سنگ بنیاد رکھیں گے

وزیر اعظم جناب نریندر مودی 14-15 نومبر، 2023 کو جھارکھنڈ کا دورہ کریں گے۔ وزیر اعظم 15 نومبر کو صبح تقریباً 9:30 بجے رانچی میں بھگوان برسا منڈا میموریل پارک اور فریڈم فائٹر میوزیم کا دورہ کریں گے۔ اس کے بعد وہ بھگوان برسا منڈا کی جائے پیدائش اولیہاتو گاؤں پہنچیں گے، جہاں وہ بھگوان برسا منڈا کے مجسمے پر گلہائے عقیدت پیش کریں گے۔ وزیر اعظم نریندر مودی بھگوان برسا منڈا کی جائے پیدائش اولیہاتو گاؤں کا دورہ کرنے والے پہلے وزیر اعظم ہوں گے۔ وزیر اعظم کھنٹی میں صبح تقریباً 11:30 بجے تیسرے جنجاتیہ گورو دوس 2023 کے جشن کے موقع پر ایک پروگرام میں شرکت کریں گے۔ پروگرام کے دوران وزیر اعظم ’وکست بھارت سنکلپ یاترا‘ اور پردھان منتری خاص طور پر کمزور قبائلی گروپوں کے ترقیاتی  مشن کا آغاز کریں گے۔ وہ پی ایم-کسان کی 15ویں قسط بھی جاری کریں گے اور جھارکھنڈ میں متعدد ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح کریں گے، ملک کے نام وقف کریں گے اور سنگ بنیاد رکھیں گے۔

وکست بھارت سنکلپ یاترا

وزیر اعظم کی یہ مسلسل کوشش رہی ہے کہ حکومت کی اہم اور بڑی اسکیموں کو یقینی بناتے ہوئے ان اسکیموں کے فوائد تمام ٹارگٹ استفادہ کنندگان تک مقررہ وقت میں پہنچیں۔ اسکیموں کو مکمل کرنے کے اس مقصد کو حاصل کرنے کی سمت میں ایک اہم قدم کے طور پر وزیر اعظم جنجاتیہ گورو دوس کے موقع پر‘وکست بھارت سنکلپ یاترا’ کا آغاز کریں گے۔

یاترا کے دوران لوگوں تک پہنچنے اور بیداری پیدا کرنے اور فلاحی اسکیموں مثلاً صفائی کی سہولیات، ضروری مالی خدمات، بجلی کے کنکشن، ایل پی جی سلنڈر تک رسائی، غریبوں کے لیے رہائش، خوراک کی حفاظت، مناسب تغذیہ، قابل اعتماد حفظان صحت، پینے کے صاف پانی وغیرہ پر توجہ مرکوز ہوگی۔ ممکنہ مستفیدین کا اندراج یاترا کے دوران حاصل کی گئی تفصیلات کے ذریعے کیا جائے گا۔

وزیر اعظم کھونٹی، جھارکھنڈ میں آئی ای سی (انفارمیشن، ایجوکیشن اینڈ کمیونیکیشن) گاڑی کو ہری جھنڈی دکھائیں گے، جس میں ’وکست بھارت سنکلپ یاترا‘ کا آغاز ہوگا۔ یاترا ابتدائی طور پر قابل ذکر قبائلی آبادی والے اضلاع سے شروع ہوگی اور 25 جنوری 2024 تک ملک بھر کے تمام اضلاع کا احاطہ کرے گی۔

پی ایم پی وی ٹی جی مشن

پروگرام کے دوران وزیر اعظم اپنی نوعیت کے پہلے پہل - 'پردھان منتری خاص طور پر کمزور قبائلی گروپوں کے (پی ایم پی وی ٹی جی) ترقیاتی مشن' کا بھی آغاز کریں گے۔ 18 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں 75 پی وی ٹی جی ہیں جو 22,544 گاؤں (220 اضلاع) میں رہتے ہیں جن کی آبادی تقریباً 28 لاکھ ہے۔

یہ قبائل بکھرے ہوئے، دور دراز اور ناقابل رسائی بستیوں میں رہتے ہیں، جن میں سے اکثر جنگلاتی علاقوں میں واقع ہیں اور اس لیے تقریباً 24,000 کروڑ روپے کے بجٹ کے ساتھ ایک مشن پی وی ٹی جی خاندانوں اور بستیوں کو سڑک اور ٹیلی مواصلات کنیکٹیویٹی، بجلی، محفوظ رہائش، پینے کا صاف پانی اور صفائی، تعلیم تک بہتر رسائی، صحت اور غذائیت اور پائیدار معاش کے مواقع جیسی بنیادی سہولیات سے آراستہ کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔

اس کے علاوہ پی ایم جے اے وائی، سکل سیل ڈیزیز کے خاتمے، ٹی بی کے خاتمے، 100 فیصد ٹیکہ کاری ، پی ایم سرکشت ماترتوا یوجنا، پی ایم ماترو وندنا یوجنا، پی ایم پوشن، پی ایم جن دھن یوجنا وغیرہ کے لیے الگ سے انجذاب کو یقینی بنایا جائے گا۔

پی ایم-کسان اور دیگر ترقیاتی اقدامات کی 15ویں قسط

ایک اور اقدام میں جو کسانوں کی فلاح و بہبود کے تئیں وزیر اعظم کے عزم کی ایک اور مثال کو ظاہر کرے گا، پردھان منتری کسان سمان ندھی (پی ایم-کسان) کے تحت 15 ویں قسط کی رقم تقریباً 18,000 کروڑ روپے 8 کروڑ سے زیادہ مستفیدین کو فوائد کی براہ راست منتقلی کے ذریعے جاری کیے جائیں گے۔ اسکیم کے تحت اب تک 2.62 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کسانوں کے کھاتوں میں 14 قسطوں میں منتقل کیے گئے ہیں۔

وزیر اعظم ریل، سڑک، تعلیم، کوئلہ، پٹرولیم اور قدرتی گیس جیسے متعدد شعبوں میں تقریبا 7200 کروڑ روپے کی مالیت کے ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح کریں گے، قوم کے نام وقف کریں گے اور سنگ بنیاد رکھیں گے۔

 

جن پروجیکٹوں کا سنگ بنیاد وزیر اعظم رکھیں گے ان میں قومی شاہراہ 133 کے مہاگما-ہنسڈیہا سیکشن کے 52 کلومیٹر طویل حصے کی چار لیننگ، قومی شاہراہ 114 اے کے باسوکیناتھ-دیوگھر سیکشن کے 45 کلومیٹر طویل حصے کی چار لیننگ؛کے ڈی ایچ-پورنڈیہہ کول ہینڈلنگ پلانٹ؛آئی آئی آئی ٹی رانچی کی نئی تعلیمی اور انتظامی عمارت شامل ہیں۔

جن پروجیکٹوں کا افتتاح اورقوم کو وقف کیا جائے گا ان میں آئی آئی ایم رانچی کا نیا کیمپس شامل ہے۔آئی آئی ٹی    آئی ایس ایم دھنباد کا نیا ہاسٹل؛ بوکارو میں پیٹرولیم آئل اینڈ لبریکنٹس (پی او ایل) ڈپو؛ کئی ریلوے منصوبے جیسے ہٹیا-پکڑا سیکشن، تلگاریہ-بوکارو سیکشن، اور جارنگڈیہ-پتراتو سیکشن کو دوگنا کرنا۔ مزید برآں، جھارکھنڈ ریاست میں ریلوے الیکٹریفیکیشن کی 100فیصد کامیابی کو بھی وزیر اعظم قوم کے نام وقف کریں گے۔

 

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
UPI — an eventful journey

Media Coverage

UPI — an eventful journey
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
PM chairs 53rd PRAGATI Meeting
August 25, 2026
PM reviews six key infrastructure projects across the Railway, Road and Power sectors
Projects reviewed span across 9 States with cumulative investment of more than ₹30,000 crore
PM says Infrastructure projects should be viewed as an integrated whole, rather than as individual sections or packages
PM calls for continuous reforms across all stages of project implementation and a proactive work culture across Ministries and States
PM says Speed must go hand-in-hand with quality
While reviewing AgriStack, PM emphasises the need to leverage the latest digital technologies including AI to derive greater value from agricultural data
On cyber fraud and ‘digital arrest’, PM stresses training, public awareness, cyber-safety education and coordinated action

Prime Minister Shri Narendra Modi chaired the 53rd meeting of PRAGATI, the ICT-enabled, multi-modal platform for Pro-Active Governance and Timely Implementation, at Seva Teerth earlier today.

During the meeting, Prime Minister reviewed six key infrastructure projects across the Railway, Road and Power sectors, spanning nine States with a cumulative cost of more than ₹30,000 crore. The projects, significant for strengthening connectivity, supporting industrial and economic activity and improving public services, were reviewed with particular emphasis on adherence to timelines, inter-agency coordination, resolution of pending issues and expeditious completion.

Prime Minister emphasised that delays in infrastructure projects have consequences beyond cost escalation, as they also postpone the benefits intended for citizens, businesses and the economy. He said that infrastructure projects should be viewed and monitored as an integrated whole, rather than as isolated sections, stretches or packages. He noted that progress in individual packages should ultimately translate into timely completion and operationalisation of the entire project. Ministries and States were therefore asked to adopt an end-to-end approach, and address critical gaps that could delay the overall commissioning and delivery of benefits. He called for fostering a proactive work culture across Ministries and State Governments, with greater ownership at every level of project implementation.

Prime Minister stressed the need to explore common utility corridors for infrastructure services, wherever feasible, particularly while planning major transport and infrastructure projects. He called upon Ministries and States to examine such integrated approaches at the planning stage itself, keeping in view their technical and economic feasibility.

Prime Minister said that speed of execution must be accompanied by uncompromising quality. He called upon Ministries, States and implementing agencies to adopt modern technologies and strengthen quality assurance and supervision at every stage.

While reviewing AgriStack under the Digital Agriculture Mission, Prime Minister emphasised the need to leverage the latest digital technologies, including Artificial Intelligence, to derive greater value from agricultural data. He stressed that the data ecosystem should be effectively utilised across the agricultural value chain, from input planning to processing, enabling more informed interventions, better targeting and data-driven decision-making. He appreciated the efforts of the States and the Central Government in building the AgriStack ecosystem and called for further strengthening its use for delivering better outcomes for farmers.

During the review of cyber fraud cases, including incidents of digital arrest, Prime Minister said that prevention must be strengthened through a sustained focus on training, awareness and education. He stressed the need for continuous and targeted public-awareness campaigns, particularly for senior citizens, youth and other vulnerable sections, to familiarise them with common fraud techniques, warning signs and safe digital practices. He also called for regular capacity-building of personnel involved so that emerging modes of cyber fraud are identified and acted upon swiftly.