عزت مآب  شخصیات،

سب سے پہلے، میں صدر رحمن کو ایس سی اواورسی ایس ٹی اومیں افغانستان کی صورتحال کے تعلق سے خصوصی اجلاس منعقد کرنے پر شکریہ ادا کرتا ہوں۔

افغانستان میں حالیہ پیش رفت کا ہم جیسے پڑوسی ممالک پر سب سے زیادہ اثر پڑے گا۔

اور، اسی لیے اس مسئلے پر علاقائی توجہ اورباہمی  تعاون کا ماحول پیدا کرنا بے حد ضروری ہے۔

اس تناظر میں ہمیں چاراہم  مسائل پر توجہ دینا ہوگی۔

پہلا مسئلہ یہ ہے کہ افغانستان میں اقتدار کی منتقلی جامع انداز میں  نہیں  ہوئی ہے اور یہ  مذاکرات اور بات چیت کے بغیر انجام پزیر ہوئی ہے۔

اس وجہ سے نئے نظام کی قبولیت پر سوالات اٹھتے ہیں۔

افغان معاشرے کے تمام طبقات بشمول خواتین اور اقلیتوں کی نمائندگی بھی اہم ہے۔

اور اسی لیے، ضروری ہے کہ ایسے نئے نظام کو تسلیم کرنے کا فیصلہ عالمی برادری اجتماعی طور پر اور مناسب غور وفکرکے بعد کرے۔

ہندوستان اس مسئلے پر اقوام متحدہ کے مرکزی کردار کی حمایت کرتا ہے۔

دوسرا یہ کہ اگر افغانستان میں عدم استحکام اور بنیاد پرستی برقرار رہتی ہے تو یہ پوری دنیا میں دہشت گردانہ اور انتہا پسند نظریات کی حوصلہ افزائی کرے گا۔

دوسرے شدت پسند گروہوں کو بھی تشدد کے ذریعے اقتدار میں آنے کی اس سے ترغیب مل  سکتی ہے۔

ہمارے تمام ممالک ماضی میں دہشت گردی کا شکار رہے ہیں۔

اور اس لیے، ہمیں مل کر اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ افغانستان کی سرزمین کسی دوسرے ملک میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال نہ ہونے پائے۔ شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے رکن ممالک کو اس موضوع پر سخت اور متفقہ اصول وضع کرنے چاہئیں۔

مستقبل میں ، یہ اصول پھر سے عالمی انسداد دہشت گردی تعاون کے لیے نمونہ بن سکتے ہیں۔

یہ اصول دہشت گردی کے خلاف صفر رواداری کے اصول پر مبنی ہونے چاہئیں۔

سرحد پار دہشت گردی اور دہشت گردی کی مالی معاونت جیسی سرگرمیوں کو روکنے کے لیےایک ضابطہ اخلاق مرتب کیاجانا چاہیے اور ان کے نفاذ کا نظام بھی ہونا چاہیے۔

عزت مآب  شخصیات،

افغانستان میں پیش رفت سے متعلق تیسرا مسئلہ منشیات ، غیر قانونی ہتھیاروں اور انسانی اسمگلنگ کا بے قابو بہاؤ ہے۔

جدید ہتھیاروں کی ایک بڑی کھیپ افغانستان میں اب بھی موجود ہے۔ ان کی وجہ سے پورے خطے میں عدم استحکام کا خطرہ  برقرار رہے  گا۔

شنگھائی تعاون تنظیم  کا RATS میکانزم ان بہاؤ کی نگرانی اور معلومات کے تبادلے کو فروغ دینے  میں تعمیری کردار ادا کرسکتا ہے۔

اس ماہ سے ، ہندوستان SCO-RATS کونسل کی صدارت کر رہا ہے۔ ہم نے اس موضوع پر عملی تعاون کے لیے تجاویز تیار کی ہیں۔

چوتھا مسئلہ افغانستان میں سنگین انسانی بحران ہے۔

مالی اور تجارت و کاروبار میں درپیش  رکاوٹوں کی وجہ سے افغانستان کی  عوام کی معاشی محرومی اور اقتصادی بحران  بڑھ رہا ہے۔

اسی کے ساتھ ساتھ ، کووڈ-19 کا چیلنج بھی ان کے لیے پریشانی کا باعث ہے۔

بھارت کئی سالوں سے ترقی اور انسانی امداد میں افغانستان کا قابل اعتماد پارٹنر رہا ہے۔ انفراسٹرکچر سے لے کر تعلیم ،صحت اور صلاحیت کی تعمیر و ہنرمندی کے فروغ  تک، ہر شعبے میں ہم نے افغانستان کی ترقی میں اپنا بھرپور تعاون ادا کیا ہے۔

آج بھی، ہم اپنے افغان دوستوں کو کھانے پینے کی اشیاء ، ادویات وغیرہ پہنچانے کے لیے بے تاب ہیں۔

ہمیں اس بات کو یقینی بنانے کے لیے مل کر کام کرنا چاہیے کہ انسانی امداد بغیر کسی رکاوٹ کے افغانستان پہنچے۔

عزت مآب  شخصیات،

افغانوں اور ہندوستانیوں کے مابین صدیوں سے ایک خاص رشتہ قائم ہے۔

بھارت افغان معاشرے کی مدد کے لیے ہر علاقائی یا عالمی اقدام میں مکمل تعاون کرے گا۔

 بہت شکریہ!

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
Indian public relations industry pegged to reach ₹4,500 cr by 2030: Report

Media Coverage

Indian public relations industry pegged to reach ₹4,500 cr by 2030: Report
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Prime Minister’s visit to Indonesia, Australia and New Zealand
July 03, 2026

At the invitation of the President of the Republic of Indonesia, H.E. Mr. Prabowo Subianto, Prime Minister Shri Narendra Modi will pay a visit to Indonesia from 6-8 July, 2026. This will be Prime Minister’s fourth visit to Indonesia and his first bilateral visit since the elevation of India-Indonesia ties to the level of Comprehensive Strategic Partnership in May 2018. During the visit, Prime Minister will hold bilateral discussions with President Prabowo and review the progress made in the partnership. In Jakarta, Prime Minister will address a large gathering of the Indian Diaspora. India and Indonesia share historical and warm people-to-people ties. In keeping with these special bonds, Prime Minister will visit the Prambanan Temple complex at Yogyakarta, a prominent UNESCO world heritage site in Indonesia.

From Indonesia, at the invitation of the Prime Minister of Australia, the Honourable Anthony Albanese MP, Prime Minister will travel to Melbourne from 8-10 July, 2026. In Melbourne, Prime Minister will hold bilateral discussions with Prime Minister Albanese. He will also call on the Governor General of Australia, the Honourable Ms Sam Mostyn AC. During his visit, Prime Minister will also participate in the India-Australia CEOs Forum, where he will address a gathering of top business leaders from both countries. Prime Minister will also address a large gathering of the Indian Diaspora, who constitute a strong pillar of the India-Australia relationship.

From Melbourne, at the invitation of the Prime Minister of New Zealand, Rt Honourable Christopher Luxon, Prime Minister will travel to Auckland for a state visit from 10-11 July, 2026. This will be the first state visit of an Indian Prime Minister to New Zealand in four decades. In Auckland, Prime Minister will hold bilateral discussions with Prime Minister Luxon and review the entire gamut of the bilateral relationship, which has seen significant progress in the last two years, especially in the areas of trade and commerce and defence. While in Auckland, Prime Minister will also interact with prominent business and sports personalities. In a reflection of the strong people-to-people ties that exist between India and New Zealand, Prime Minister will address a large gathering of the Indian Diaspora during the visit.