Your Highness,

Excellencies,

نمسکار،

140 کروڑ ہندوستانیوں کی جانب سے، ہم آپ سب کا تیسری وائس آف گلوبل ساؤتھ سمٹ میں پرتپاک خیرمقدم کرتے ہیں۔ پچھلی دو سربراہی ملاقاتوں میں، مجھے آپ میں سے بہت سے لوگوں کے ساتھ مل کر کام کرنے کا موقع ملا۔ مجھے بے حد خوشی ہے کہ اس سال، ہندوستان میں عام انتخابات کے بعد، مجھے ایک بار پھر اس پلیٹ فارم پر آپ سب سے جڑنے کا موقع مل رہا ہے۔

دوستو ،

2022میں، جب ہندوستان نے جی 20  کی چیئرمین شپ سنبھالی تھی، ہم نے عزم کیا تھا کہ ہم جی-20 کو ایک نئی شکل دیں گے۔ وائس آف گلوبل ساؤتھ سمٹ ایک ایسا پلیٹ فارم بن گیا جہاں ہم نے ترقی سے متعلق مسائل اور ترجیحات پر کھل کر بات کی۔ اور ہندوستان نے گلوبل ساؤتھ کی امیدوں، خواہشات اور ترجیحات پر مبنی ایک جامع اور ترقی پر مرکوز نقطہ نظر کے ساتھ جی -20 کو آگے لے جانے کا ایجنڈا تیار کیا۔ اس کی سب سے بڑی مثال وہ تاریخی لمحہ تھا جب افریقی یونین نے جی-20 میں مستقل رکنیت سنبھالی۔

دوستو ،

آج ہم ایک ایسے وقت میں مل رہے ہیں جب چاروں طرف بے یقینی کا ماحول ہے۔ دنیا ابھی تک کووڈ کے اثرات سے مکمل طور پر باہر نہیں آئی ہے۔ دوسری طرف جنگی صورتحال نے ہمارے ترقی کے سفر کے لیے چیلنجز پیدا کر دیے ہیں۔ ہمیں نہ صرف موسمیاتی تبدیلی کے چیلنجز کا سامنا ہے بلکہ اب صحت کی حفاظت، خوراک کی حفاظت، اور توانائی کی حفاظت کے حوالے سے بھی خدشات ہیں۔ دہشت گردی، انتہا پسندی اور علیحدگی پسندی ہمارے معاشروں کے لیے بدستور سنگین خطرات ہیں۔ ٹیکنالوجی کی تقسیم اور ٹیکنالوجی سے متعلق نئے معاشی اور سماجی چیلنجز بھی ابھر رہے ہیں۔ پچھلی صدی میں بننے والی عالمی گورننس اور مالیاتی ادارے اس صدی کے چیلنجز کا مقابلہ کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

دوستو ،

یہ وقت کی ضرورت ہے کہ گلوبل ساؤتھ کے ممالک متحد ہوں، ایک آواز میں کھڑے ہوں اور ایک دوسرے کی طاقت بنیں۔ آئیے ایک دوسرے کے تجربات سے سیکھیں۔ اپنی صلاحیتوں کا اشتراک کریں۔ ایک ساتھ مل کر اپنے عزم کو کامیابی کی طرف لے جائیں۔ آئیے ہم مل کر دو تہائی انسانیت کو پہچان دیں۔ اور ہندوستان گلوبل ساؤتھ کے تمام ممالک کے ساتھ اپنے تجربات اور اپنی صلاحیتوں کو بانٹنے کے لیے پرعزم ہے۔ ہم باہمی تجارت، جامع ترقی، پائیدار ترقی کے اہداف پر پیشرفت اور خواتین کی زیر قیادت ترقی کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔

 پچھلے کچھ سالوں میں، ہمارے باہمی تعاون کو انفراسٹرکچر، ڈیجیٹل اور انرجی کنیکٹیویٹی سے فروغ ملا ہے۔ مشن لائیف ای کے تحت، ہم نہ صرف ہندوستان میں بلکہ شراکت دار ممالک میں بھی چھت پر شمسی اور قابل تجدید بجلی پیدا کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔

 ہم نے مالی شمولیت، اور آخری میل تک رسائی کے اپنے تجربے کا اشتراک کیا ہے۔ گلوبل ساؤتھ کے مختلف ممالک کو یونیفائیڈ پیمنٹس انٹرفیس یعنی یوپی آئی سے جوڑنے کے لیے ایک پہل کی گئی ہے۔ تعلیم، صلاحیت سازی اور ہنر مندی کے شعبوں میں ہماری شراکت میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ گزشتہ سال گلوبل ساؤتھ ینگ ڈپلومیٹ فورم بھی شروع کیا گیا تھا  اور، 'ساؤتھ' یعنی گلوبل ساؤتھ ایکسی لینس سینٹر، ہمارے درمیان صلاحیت کی تعمیر، ہنر مندی اور علم کے اشتراک پر کام کر رہا ہے۔

 دوستو ،

جامع ترقی میں ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر یعنی ڈی پی آئی کا تعاون کسی انقلاب سے کم نہیں۔ گلوبل ڈی پی آئی ریپوزٹری، جو ہماری جی-20 کی سربراہی میں تشکیل دی گئی تھی، ڈی پی آئی پر پہلی کثیر جہتی اتفاق رائے تھی۔ ہمیں گلوبل ساؤتھ کے 12 شراکت داروں کے ساتھ "انڈیا اسٹیک" کا اشتراک کرنے کے معاہدے پر خوشی ہے۔ گلوبل ساؤتھ میں ڈی پی آئی کو تیز کرنے کے لیے، ہم نے سوشل امپیکٹ فنڈ بنایا ہے۔ ہندوستان 25 ملین ڈالر کا ابتدائی حصہ ڈالے گا۔

دوستو ،

صحت کی حفاظت کے لیے ہمارا مشن ہے - ایک دنیا ایک صحت اور ہمارا وژن ہے - "آروگیہ میتری" یعنی "صحت کے لیے دوستی"۔ ہم نے افریقہ اور بحر الکاہل کے جزیرے کے ممالک میں اسپتالوں، ڈائیلاسز مشینوں، زندگی بچانے والی ادویات اور جن اوشدھی مراکز کی مدد سے اس دوستی کو پروان چڑھایا ہے۔ انسانی بحران کے وقت ہندوستان اپنے دوست ممالک کی مدد پہلے جواب دہندہ کی طرح کر رہا ہے۔ پپوا نیو گنی میں آتش فشاں پھٹنے کا واقعہ ہو یا کینیا میں سیلاب کا واقعہ۔ ہم نے غزہ اور یوکرین جیسے تنازعات والے علاقوں میں انسانی امداد بھی فراہم کی ہے۔

 دوستو ،

وائس آف گلوبل ساؤتھ سمٹ ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں ہم ان لوگوں کی ضرورتوں اور امنگوں کو آواز دے رہے ہیں جنہیں اب تک سنا نہیں گیا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ ہماری طاقت ہمارے اتحاد میں ہے اور اسی اتحاد کے زور پر ہم ایک نئی سمت کی طرف بڑھیں گے۔ آئندہ ماہ اقوام متحدہ میں سمٹ آف دی فیوچر ہو رہا ہے۔ اس میں پیکٹ فار دی فیوچر پر بات چیت جاری ہے۔ کیا ہم سب مل کر ایک مثبت انداز اپنا سکتے ہیں تاکہ اس معاہدے میں گلوبل ساؤتھ کی آواز سنی جائے؟ ان خیالات کے ساتھ، میں نتیجہ اخذ کرتا ہوں۔

اب میں آپ کے خیالات سننے کا منتظر ہوں۔

 آپ کا بہت بہت شکریہ۔

 

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
As Naxalism ends in Chhattisgarh, village gets tap water for first time

Media Coverage

As Naxalism ends in Chhattisgarh, village gets tap water for first time
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
PM to visit Uttarakhand and UP on 14 April
April 13, 2026
PM to inaugurate Delhi–Dehradun Economic Corridor
Corridor to reduce travel time between Delhi and Dehradun from over 6 hours to around 2.5 hours
Corridor has been designed with several features aimed at significantly reducing man-animal conflict
Project include a 12 km long wildlife elevated corridor which is one of the longest in Asia
PM to also visit and undertake review of the Wildlife Corridor

Prime Minister Shri Narendra Modi, will visit Uttarakhand and Uttar Pradesh on 14 April 2026. At around 11:15 AM, the Prime Minister will visit Saharanpur in Uttar Pradesh to undertake a review of the Wildlife Corridor on the elevated section of the Delhi-Dehradun Economic Corridor. At around 11:40 AM, the Prime Minister will perform Darshan and Pooja at Jai Maa Daat Kali Temple near Dehradun. Thereafter, at around 12:30 PM, Prime Minister will inaugurate the Delhi-Dehradun Economic Corridor at a public function in Dehradun and will also address the gathering on the occasion.

The 213 km long six-lane access-controlled Delhi-Dehradun Economic Corridor has been developed at a cost of over ₹12,000 crore. The corridor traverses through the states of Delhi, Uttar Pradesh and Uttarakhand, and will reduce travel time between Delhi and Dehradun from over six hours at present to around two and a half hours.

Implementation of the project also includes the construction of 10 interchanges, three Railway Over Bridges (ROBs), four major bridges and 12 wayside amenities to enable seamless high-speed connectivity. The corridor is equipped with an Advanced Traffic Management System (ATMS) to provide a safer and more efficient travel experience for commuters.

Keeping in view the ecological sensitivity, rich biodiversity and wildlife in the region, the corridor has been designed with several features aimed at significantly reducing man-animal conflict. To ensure the free movement of wild animals, the project incorporates several dedicated wildlife protection features. These include a 12 km long wildlife elevated corridor, which is one of the longest in Asia. The corridor also includes eight animal passes, two elephant underpasses of 200 metres each, and a 370 metre long tunnel near the Daat Kali temple.

The Delhi-Dehradun Economic Corridor will play a pivotal role in strengthening regional economic growth by enhancing connectivity between major tourism and economic centres as well as opening new avenues for trade and development across the region. The project reflects the vision of the Prime Minister to develop next-generation infrastructure that combines high-speed connectivity with environmental sustainability and improved quality of life for citizens.