Prabhu Ram was also a source of inspiration for the makers of our Constitution: PM Modi
The festivals of our democracy further strengthen India as the ‘Mother of Democracy’: PM Modi
Pran Pratishtha in Ayodhya has woven a common thread, uniting people across the country: PM Modi
India of the 21st century is moving ahead with the mantra of Women-led development: PM Modi
The Padma Awards recipients are doing unique work in their respective fields: PM Modi
The Ministry of AYUSH has standardized terminology for Ayurveda, Siddha and Unani medicine: PM Modi

میرے پیارے ہم وطنو، نمسکار۔ یہ 2024 کا پہلا ’من کی بات‘ پروگرام ہے۔ امرتکال میں ایک نیا جوش و خروش ہے، ایک نئی لہر ہے۔ دو دن پہلے ہم سبھی ہم وطنوں نے 75 واں یوم جمہوریہ بڑی دھوم دھام اور جوش و خروش کے ساتھ منایا تھا۔ اس سال ہمارا دستور بھی 75 سال مکمل کر رہا ہے۔ اور سپریم کورٹ کو بھی 75 سال مکمل ہو رہے ہیں۔ ہماری جمہوریت کے یہ تہوار جمہوریت کی ماں بھارت کو مزید مضبوط کرتے ہیں۔ بھارت کا دستور اس قدر غور و فکر کے بعد وجود میں آیا ہے کہ اسے ایک زندہ دستاویز کہا جاتا ہے۔ اسی دستور کی اصل کاپی کے تیسرے حصے میں بھارت کے شہریوں کے بنیادی حقوق بیان کیے گئے ہیں اور یہ بات قابل ذکر ہے کہ تیسرے حصے کے آغاز میں ہمارے دستور سازوں نے بھگوان رام، ماتا سیتا اور لکشمن جی کی تصویروں کو مناسب جگہ دی تھی۔ پربھو رام کی حکم رانی ہمارے دستور سازوں کے لیے بھی ترغیب کا ذریعہ تھی اور یہی وجہ ہے کہ 22 جنوری کو ایودھیا میں میں نے ’دیو سے دیش‘ کے بارے میں بات کی تھی۔ میں نے ’رام سے راشٹر‘ کا ذکر کیا تھا۔

ساتھیو، ایسا لگتا ہے کہ ایودھیا میں پران پرتشٹھا کا موقع ایک مشترکہ تانے بانے میں پرویا گیا ہے، ملک کے کروڑوں لوگ ایک ساتھ ہیں۔ سب کے جذبات متفق ہیں، سب کی عقیدت یکجا ہے۔۔۔ رام سب کے الفاظ میں ہیں، رام سب کے دل میں ہیں۔ اس دوران ملک کے بہت سے لوگوں نے رام بھجن گائے اور انھیں شری رام کے چرنوں میں وقف کیا۔ 22 جنوری کی شام کو پورے ملک نے رام جیوتی جلائی اور دیوالی منائی۔ اس دوران ملک نے اتحاد کی طاقت دیکھی، جو ترقی یافتہ بھارت کے ہمارے عزم کی ایک بڑی بنیاد بھی ہے۔

میں نے ملک کے لوگوں سے درخواست کی تھی کہ وہ مکر سنکرانتی سے 22 جنوری تک صفائی مہم چلائیں۔ مجھے اچھا لگا کہ لاکھوں لوگ عقیدت کے ساتھ شامل ہوئے اور اپنے علاقے کے مذہبی مقامات کی صفائی کی۔ بہت سے لوگوں نے مجھے اس سے متعلق تصاویر اور ویڈیوز بھیجی ہیں - یہ جذبہ ماند نہیں پڑنا چاہیے۔ یہ مہم بند نہیں ہونی چاہیے۔ اجتماعیت کی یہ طاقت ہمارے ملک کو کام یابی کی نئی بلندیوں پر لے جائے گی۔

میرے پیارے ہم وطنو، اس بار 26 جنوری کی پریڈ شاندار تھی، لیکن سب سے زیادہ زیر بحث عنصر پریڈ میں خواتین کی طاقت کو دیکھنا تھا۔۔۔ جب مرکزی سکیورٹی فورسز اور دہلی پولیس کی خواتین دستوں نے کرتویہ پتھ پر مارچ کرنا شروع کیا تو ہر کوئی فخر سے بھر گیا۔ خواتین کے بینڈ کی مارچنگ دیکھ کر اور ان کی زبردست ہم آہنگی کو دیکھ کر ملک اور بیرون ملک کے لوگ بہت خوش ہوئے۔ اس بار پریڈ میں مارچ کرنے والے 20 دستوں میں سے 11 خواتین تھیں۔ ہم نے دیکھا کہ گزرنے والی جھانکیوں میں بھی سبھی فن کار خواتین تھیں۔ تقریباً ڈیڑھ ہزار بیٹیوں نے ان ثقافتی پروگراموں میں حصہ لیا۔ بہت سی خواتین فن کار کونچ، نادسورم اور ناگدا جیسے بھارتی موسیقی کے آلات بجا رہی تھیں۔ ڈی آر ڈی او سے تعلق رکھنے والی جھانکی نے بھی سب کی توجہ اپنی طرف مبذول کروائی۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ کس طرح خواتین کی طاقت پانی، زمین، آسمان، سائبر اور خلا ہر شعبے میں ملک کی حفاظت کر رہی ہے۔ اس طرح اکیسویں صدی کا بھارت خواتین کی قیادت والی ترقی کے منتر کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔

ساتھیو، آپ نے ابھی کچھ دن پہلے ہی ارجن ایوارڈ کی تقریب دیکھی ہوگی۔ اس میں راشٹرپتی بھون میں ملک کے کئی ہونہار کھلاڑیوں اور ایتھلیٹس کو اعزاز سے نوازا گیا ہے۔ یہاں بھی ارجن ایوارڈ یافتہ بیٹیوں اور ان کی زندگی کے سفر نے لوگوں کی توجہ اپنی طرف مبذول کرائی۔ اس بار 13 خواتین ایتھلیٹس کو ارجن ایوارڈ سے نوازا گیا ہے۔

ان خواتین ایتھلیٹس نے کئی بڑے ٹورنامنٹس میں حصہ لیا اور بھارت کے جھنڈے کو روشن کیا۔ طبعی چیلنج، معاشی چیلنج ان بہادر اور باصلاحیت کھلاڑیوں کو روک نہیں سکے۔ بدلتے ہوئے بھارت میں ہماری بیٹیاں، ملک کی عورتیں ہر میدان میں حیرت انگیز کارکردگی کا مظاہرہ کر رہی ہیں۔ ایک اور شعبہ ہے جہاں خواتین نے اپنی پہچان بنائی ہے، وہ ہے سیلف ہیلپ گروپ۔ آج ملک میں خواتین سیلف ہیلپ گروپس کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا ہے اور ان کے کام کا دائرہ بھی بہت وسیع ہو گیا ہے۔ وہ دن دور نہیں جب آپ ہر گاؤں کے کھیتوں میں ڈرون کا استعمال کرتے ہوئے نمو ڈرون دیدی کو کھیتی میں مدد کرتے ہوئے دیکھیں گے۔ مجھے اتر پردیش کے بہرائچ میں مقامی اجزا کا استعمال کرتے ہوئے بائیو فرٹیلائزر اور بایو پیسٹی سائیڈ تیار کرنے والی خواتین کے بارے میں پتہ چلا۔ سیلف ہیلپ گروپوں سے وابستہ نبیہ بیگم پور گاؤں کی عورتیں گائے کے گوبر، نیم کے پتے اور کئی طرح کے دواؤں کے پودوں کو ملا کر بائیو فرٹیلائزر تیار کرتی ہیں۔ اسی طرح یہ خواتین ادرک، لہسن، پیاز اور مرچ کا پیسٹ تیار کرکے نامیاتی پیسٹی سائیڈ بھی تیار کرتی ہیں۔ ان خواتین نے مل کر ’اونتی جیوک اکائی‘ کے نام سے ایک تنظیم بنائی ہے۔ یہ تنظیم ان خواتین کو بائیو پروڈکٹس تیار کرنے میں مدد کرتی ہے۔ ان کے ذریعے تیار کردہ بائیو کھاد اور بائیو کیڑے مار دوا کی مانگ بھی لگاتار بڑھ رہی ہے۔ آج آس پاس کے گاؤوں کے 6 ہزار سے زیادہ کسان ان سے بائیو پروڈکٹس خرید رہے ہیں۔ اس کے ذریعے سیلف ہیلپ گروپس سے وابستہ ان خواتین کی آمدنی میں اضافہ ہوا ہے، اور ان کی مالی حالت میں بھی بہتری آئی ہے۔

میرے پیارے ہم وطنو، ’من کی بات‘ میں ہم ان ہم وطنوں کی کوششوں کو اجاگر کرتے ہیں جو سماج اور ملک کو مضبوط بنانے کے لیے بے لوث کام کر رہے ہیں۔ ایسے میں جب ملک نے تین دن پہلے ہی پدم ایوارڈ کا اعلان کیا تو ’من کی بات‘ میں ایسے لوگوں کا چرچا ہونا فطری بات ہے۔ اس بار بھی بہت سے ہم وطنوں کو پدم اعزاز سے نوازا گیا ہے جنھوں نے نچلی سطح سے جڑ کر سماج میں بڑی تبدیلی لانے کا کام کیا ہے۔

ان متاثر کن لوگوں کی زندگی کے سفر کے بارے میں جاننے کے لیے ملک بھر میں بہت تجسس دیکھا گیا ہے۔ میڈیا کی شہ سرخیوں سے دور، اخبارات کے پہلے صفحے سے دور، یہ لوگ بغیر کسی لائم لائٹ کے سماجی خدمت میں مشغول رہے ہیں۔ ہم نے ان لوگوں کے بارے میں پہلے شاید ہی کچھ دیکھا یا سنا ہو، لیکن اب مجھے خوشی ہے کہ پدم ایوارڈ کے اعلان کے بعد، اس طرح کے لوگوں کے چرچے ہر جگہ ہو رہے ہیں۔ لوگ ان کے بارے میں زیادہ سے زیادہ جاننے کے خواہشمند ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر پدم ایوارڈ حاصل کرنے والے اپنے متعلقہ شعبوں میں منفرد کام کر رہے ہیں۔ جیسے کوئی ایمبولینس سروس فراہم کر رہا ہے تو کوئی بے سہارا لوگوں کے سر پر چھت کا انتظام کر رہا ہے۔ کچھ ایسے ہیں جو ہزاروں درخت لگا کر فطرت کے تحفظ کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ ایک ایسا بھی ہے، جس نے چاول کی 650 سے زیادہ اقسام کے تحفظ کے لیے کام کیا ہے۔ ایک ایسا بھی ہے جو منشیات اور شراب کی لت کی روک تھام کے لیے معاشرے میں بیداری پھیلا رہا ہے۔ بہت سے لوگ لوگوں کو سیلف ہیلپ گروپس، خاص طور پر ناری شکتی مہم سے جوڑنے میں لگے ہوئے ہیں۔ ہم وطن بھی اس بات سے بہت خوش ہیں کہ یہ اعزاز حاصل کرنے والوں میں 30 خواتین ہیں۔ یہ خواتین نچلی سطح پر اپنے کام کے ذریعے معاشرے اور ملک کو آگے لے جا رہی ہیں۔

ساتھیو، پدم ایوارڈ حاصل کرنے والوں میں سے ہر ایک کا تعاون ہم وطنوں کے لیے ایک تحریک ہے۔ اس بار اعزاز حاصل کرنے والوں کی ایک بڑی تعداد وہ ہے جو کلاسیکی رقص، کلاسیکی موسیقی، لوک رقص، تھیٹر اور بھجن کی دنیا میں ملک کا نام روشن کر رہے ہیں۔ یہ اعزاز ان لوگوں کو بھی دیا گیا ہے جنھوں نے پراکرت، مالوی اور لمباڈی زبانوں میں عمدہ کام کیا ہے۔ بیرون ملک سے بھی بہت سے لوگوں کو پدم ایوارڈ سے نوازا جا چکا ہے، جن کا کام بھارتی ثقافت اور ورثے کو نئی بلندیاں دے رہا ہے۔ ان میں فرانس، تائیوان، میکسیکو اور بنگلہ دیش کے شہری بھی شامل ہیں۔

ساتھیو، مجھے بہت خوشی ہے کہ گذشتہ ایک دہائی میں پدم ایوارڈ کا نظام پوری طرح سے بدل گیا ہے۔ اب یہ عوامی پدم بن گیا ہے۔ پدم ایوارڈ دینے کے نظام میں بہت سی تبدیلیاں لائی گئی ہیں۔ یہاں تک کہ اب لوگوں کے پاس خود کو نامزد کرنے کا بھی موقع ہے۔ یہی وجہ ہے کہ 2014 کے مقابلے میں اس بار 28 گنا زیادہ نامزدگیاں موصول ہوئی ہیں۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ پدم ایوارڈ کا وقار، اس کی ساکھ اور اس کے لیے احترام ہر سال بڑھ رہا ہے۔ میں ایک بار پھر پدم ایوارڈ حاصل کرنے والے سبھی لوگوں کو اپنی نیک خواہشات پیش کرتا ہوں۔

میرے پیارے ہم وطنوں، یہ کہا جاتا ہے کہ ہر زندگی کا ایک مقصد ہوتا ہے۔ ہر کوئی ایک مقصد کو پورا کرنے کے لیے پیدا ہوتا ہے۔ اس کے لیے لوگ پوری لگن کے ساتھ اپنے فرائض انجام دیتے ہیں۔ ہم نے دیکھا ہے کہ کچھ لوگ سماجی خدمت کے ذریعے اپنے فرائض سرانجام دیتے ہیں، کچھ فوج میں شامل ہو کر، کچھ اگلی نسل کو تعلیم دے کر، لیکن ساتھیو، ہم میں سے کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو زندگی کے خاتمے کے بعد بھی معاشرے اور زندگی کے تئیں اپنی ذمہ داریاں پوری کرتے ہیں اور اس کا ذریعہ اعضا کا عطیہ ہے۔ حالیہ برسوں میں ملک میں ایک ہزار سے زائد افراد ایسے ہیں جنھوں نے اپنی موت کے بعد اپنے اعضا کا عطیہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ آسان نہیں، لیکن یہ فیصلہ کئی زندگیاں بچانے والا ہے۔ میں ان خاندانوں کی بھی تعریف کروں گا جنھوں نے اپنے پیاروں کی آخری خواہشات کا احترام کیا۔ آج ملک کی کئی تنظیمیں بھی اس سمت میں بہت متاثر کن کوششیں کر رہی ہیں۔ کچھ تنظیمیں لوگوں کو اعضا کے عطیات کے بارے میں آگاہی دے رہی ہیں، کچھ تنظیمیں اعضا عطیہ کرنے کے خواہشمند افراد کے اندراج میں مدد کر رہی ہیں۔ اس طرح کی کوششوں کی وجہ سے ملک میں اعضا کے عطیات کے حوالے سے مثبت ماحول پیدا ہو رہا ہے اور لوگوں کی زندگیاں بھی بچائی جا رہی ہیں۔

میرے پیارے ہم وطنو، میں اب آپ کے ساتھ بھارت کی ایک کام یابی شیئر کر رہا ہوں جس سے مریضوں کی زندگی آسان ہو جائے گی اور ان کی پریشانیاں ایک حد تک کم ہو جائیں گی۔

آپ میں سے بہت سے لوگ ایسے ہوں گے، جو علاج کے لیے آیوروید، سدھا یا یونانی طب کے نظام سے مدد حاصل کرتے ہیں۔ لیکن ایسے مریضوں کو اس وقت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جب وہ اسی نظام کے کسی دوسرے ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں۔ ان طبی طریقوں میں، بیماریوں، علاج اور ادویات کی اصطلاحات کے لیے ایک عام زبان استعمال نہیں کی جاتی ہے۔ ہر ڈاکٹر بیماری کا نام اور علاج کے طریقے اپنے اپنے انداز میں لکھتا ہے۔ یہ بعض اوقات دوسرے ڈاکٹروں کے لیے سمجھنے کے لیے بہت مشکل بنا دیتا ہے۔ دہائیوں سے جاری اس مسئلے کا حل اب تلاش کر لیا گیا ہے۔ مجھے یہ بتاتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ آیوش کی وزارت نے عالمی ادارہ صحت کی مدد سے آیوروید، سدھا اور یونانی طب سے متعلق اعداد و شمار اور اصطلاحات کی درجہ بندی کی ہے۔ دونوں کی کوششوں سے آیوروید، یونانی اور سدھا طب میں بیماری اور علاج سے متعلق اصطلاحات کو کوڈ کیا گیا ہے۔ اس کوڈنگ کی مدد سے اب تمام ڈاکٹر اپنے نسخوں یا پرچیوں پر ایک ہی زبان لکھیں گے۔ اس کا ایک فائدہ یہ ہوگا کہ اگر آپ اس پرچی کے ساتھ کسی دوسرے ڈاکٹر کے پاس جائیں گے تو ڈاکٹر کو صرف اسی پرچی سے اس کے بارے میں مکمل معلومات مل جائیں گی۔ یہ پرچی کسی کی بیماری، علاج، کون سی دوائیں لے رہی ہے، کتنے عرصے سے علاج چل رہا ہے، کن چیزوں سے الرجی ہے، یہ جاننے میں مدد ملے گی۔ اس کا ایک اور فائدہ ان لوگوں کو ہوگا، جو تحقیقی کام سے وابستہ ہیں۔ دوسرے ممالک کے سائنس داں بھی اس بیماری، ادویات اور ان کے اثرات کے بارے میں مکمل معلومات حاصل کریں گے۔ جیسے جیسے تحقیق وسیع ہوگی اور بہت سے سائنس داں اکٹھے ہوں گے، ان طبی نظاموں کے بہتر نتائج سامنے آئیں گے اور لوگوں کا ان کی طرف جھکاؤ بڑھے گا۔ مجھے یقین ہے کہ ان آیوش نظاموں سے جڑے ہمارے ڈاکٹر جلد از جلد اس کوڈنگ کو اپنائیں گے۔

میرے ساتھیو، جب میں آیوش نظام طب کا ذکر کر رہا ہوں، تو میری آنکھوں کے سامنے یانونگ جموہ لیگو کی تصاویر بھی آ رہی ہیں۔ محترمہ یانونگ اروناچل پردیش کی رہنے والی ہیں اور جڑی بوٹیوں کی ماہر ہیں۔

انھوں نے آدی قبیلے کے روایتی طبی نظام کو بحال کرنے کے لیے بہت کام کیا ہے۔ اس بار انھیں اس تعاون کے لیے پدم ایوارڈ سے بھی نوازا گیا ہے۔ اسی طرح اس بار چھتیس گڑھ کے ہیم چند مانجھی کو بھی پدم ایوارڈ سے نوازا گیا ہے۔ ویدیاراج ہیم چند مانجھی آیوش نظام طب کی مدد سے بھی لوگوں کا علاج کرتے ہیں۔ وہ پانچ دہائیوں سے زیادہ عرصے سے نارائن پور، چھتیس گڑھ میں غریب مریضوں کی خدمت کر رہے ہیں۔ محترمہ یانونگ اور ہیم چند جی جیسے لوگوں کا ہمارے ملک میں چھپے آیوروید اور جڑی بوٹیوں کے خزانے کو محفوظ رکھنے میں بڑا رول ہے۔

میرے پیارے ہم وطنو، ’من کی بات‘ کے ذریعے ہمارا باہمی تعلق اب ایک دہائی پرانا ہے۔ سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ کے اس دور میں بھی ریڈیو پورے ملک کو جوڑنے کا ایک طاقتور ذریعہ ہے۔ ریڈیو کی طاقت کتنی تبدیلی لاسکتی ہے اس کی ایک انوکھی مثال چھتیس گڑھ میں دیکھی جا رہی ہے۔ گذشتہ تقریباً 7 سال سے یہاں ریڈیو پر ایک مقبول پروگرام نشر کیا جا رہا ہے جس کا نام ’ہمار ہاتھی- ہمار گوٹھ‘ ہے۔ نام سن کر آپ سوچ سکتے ہیں کہ ریڈیو اور ہاتھی کے درمیان کیا تعلق ہوسکتا ہے! لیکن یہی تو ریڈیو کی خوب صورتی ہے۔ چھتیس گڑھ میں یہ پروگرام آکاش وانی کے چار اسٹیشنوں امبیکا پور، رائے پور، بلاس پور اور رائے گڑھ سے ہر شام نشر کیا جاتا ہے اور آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ چھتیس گڑھ اور اس کے آس پاس کے علاقوں کے جنگلوں میں رہنے والے لوگ اس پروگرام کو بڑی توجہ سے سنتے ہیں۔ پروگرام ’ہمار ہاتھی - ہمار گوٹھ‘ میں یہ اعلان کیا جاتا ہے کہ ہاتھیوں کا ایک جھنڈ جنگل کے کس علاقے سے گزر رہا ہے۔ یہ معلومات یہاں کے لوگوں کے لیے بہت مفید ہیں۔ جیسے ہی لوگوں کو ہاتھیوں کے جھنڈ کی آمد کے بارے میں ریڈیو کے ذریعے جانکاری ملتی ہے، وہ ہوشیار ہو جاتے ہیں۔ ہاتھی جن راستوں سے گزرتے ہیں ان کو پار کرنے کا خطرہ ٹل جاتا ہے۔ ایک طرف، یہ ہاتھیوں کے ریوڑ سے ہونے والے نقصان کے امکان کو کم کرتا ہے۔ دوسری طرف، یہ ہاتھیوں کے بارے میں اعداد و شمار جمع کرنے میں مدد کرتا ہے۔ اس ڈیٹا کے استعمال سے مستقبل میں ہاتھیوں کے تحفظ میں بھی مدد ملے گی۔

یہاں ہاتھیوں سے متعلق معلومات بھی سوشل میڈیا کے ذریعے لوگوں تک پہنچائی جا رہی ہیں۔ اس سے جنگل کے آس پاس رہنے والے لوگوں کے لیے ہاتھیوں کے ساتھ توازن قائم کرنا آسان ہو گیا ہے۔ ملک کے دیگر جنگلاتی علاقوں میں رہنے والے لوگ بھی چھتیس گڑھ کی اس انوکھی پہل اور اس کے تجربات سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

میرے پیارے ہم وطنو، اسی 25 جنوری کو ہم سبھی نے قومی یومِ رائے دہندگاں منایا ہے۔ یہ ہماری شاندار جمہوری روایات کے لیے ایک اہم دن ہے۔ آج ملک میں تقریباً 96 کروڑ رائے دہندگان ہیں۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ یہ اعداد و شمار کتنے بڑے ہیں؟ یہ امریکہ کی کل آبادی سے تقریباً تین گنا زیادہ ہے۔ یہ پورے یورپ کی کل آبادی سے تقریباً ڈیڑھ گنا زیادہ ہے۔ اگر ہم پولنگ اسٹیشنوں کی بات کریں تو آج ملک میں ان کی تعداد تقریباً 10۔5 لاکھ ہے۔ بھارت کے ہر شہری کو اپنے جمہوری حقوق کا استعمال کرنے کے قابل بنانے کے لیے، ہمارا انتخابی کمیشن ان جگہوں پر بھی پولنگ بوتھ قائم کرتا ہے جہاں صرف ایک ووٹر ہوتا ہے۔ میں انتخابی کمیشن کی ستائش کرنا چاہتا ہوں جس نے ملک میں جمہوری اقدار کو مستحکم کرنے کے لیے انتھک کوششیں کی ہیں۔

ساتھیو، آج یہ ملک کے لیے جوش و خروش کی بات ہے کہ جہاں دنیا کے کئی ممالک میں ووٹنگ فیصد کم ہو رہا ہے، وہیں بھارت میں ووٹنگ فیصد بڑھ رہا ہے۔ 1951-52 میں جب ملک میں پہلی بار انتخابات ہوئے تو صرف 45 فیصد رائے دہندگان نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا تھا۔ آج اس تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ملک میں نہ صرف رائے دہندگان کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے بلکہ ٹرن آؤٹ میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ حکومت نے قانون میں بھی ترامیم کی ہیں تاکہ ہمارے نوجوان ووٹروں کو رجسٹریشن کے زیادہ مواقع مل سکیں۔ مجھے یہ جان کر بھی خوشی ہوئی ہے کہ رائے دہندگان میں بیداری بڑھانے کے لیے کمیونٹی کی سطح پر بہت سی کوششیں کی جارہی ہیں۔ کچھ جگہوں پر لوگ گھر گھر جاتے ہیں اور رائے دہندگان کو ووٹ ڈالنے کے بارے میں بتاتے ہیں۔

دوسری جگہوں پر نوجوانوں کو پینٹنگ کے ذریعے راغب کیا جا رہا ہے۔ گلیوں کے ڈراموں کے ذریعے کہیں اور۔ اس طرح کی ہر کوشش ہماری جمہوریت کے جشن میں بے شمار رنگ ڈال رہی ہے۔ ’من کی بات‘ کے ذریعے میں اپنے پہلی بار ووٹ ڈالنے والوں سے کہوں گا کہ وہ اپنے نام ووٹر لسٹ میں ضرور شامل کروائیں۔ وہ نیشنل ووٹر سروس پورٹل اور ووٹر ہیلپ لائن ایپ کے ذریعے اسے آسانی سے آن لائن مکمل کرسکتے ہیں۔ آپ کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے کہ آپ کا ایک ووٹ ملک کی تقدیر بدل سکتا ہے۔ ملک کی تقدیر بدل سکتے ہیں۔

میرے پیارے ہم وطنو، آج 28 جنوری کو بھارت کی دو عظیم شخصیات کا یوم پیدائش بھی ہے جنھوں نے مختلف ادوار میں حب الوطنی کی مثال قائم کی ہے۔ آج ملک پنجاب کیسری لالہ لاجپت رائے جی کو خراج عقیدت پیش کر رہا ہے۔ لالہ جی ایک مجاہد آزادی تھے، جنھوں نے ہمیں غیر ملکی حکم رانی سے آزاد کرانے کے لیے اپنی جان قربان کر دی۔ لالہ جی کی شخصیت صرف جدوجہد آزادی تک محدود نہیں رہ سکتی۔ وہ بے حد دور اندیش تھا۔ انھوں نے پنجاب نیشنل بینک اور کئی دیگر اداروں کے قیام میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کا مقصد نہ صرف غیر ملکیوں کو ملک سے بے دخل کرنا تھا بلکہ ملک کو معاشی طاقت دینے کا وژن بھی ان کی سوچ کا ایک اہم حصہ تھا۔ ان کی سوچ اور ان کی قربانی نے بھگت سنگھ کو بہت متاثر کیا۔ آج کا دن فیلڈ مارشل کے ایم کریاپا جی کو عقیدت کے ساتھ خراج عقیدت پیش کرنے کا بھی دن ہے۔ انھوں نے تاریخ کے ایک اہم دور میں ہماری فوج کی قیادت کرکے جرات اور بہادری کی مثال قائم کی۔ ہماری فوج کو مضبوط بنانے میں ان کا اہم کردار ہے۔

میرے پیارے ہم وطنو، آج بھارت کھیلوں کی دنیا میں ہر روز نئی بلندیوں کو چھو رہا ہے۔ کھیلوں کی دنیا میں آگے بڑھنے کے لیے ضروری ہے کہ کھلاڑیوں کو کھیلنے کے زیادہ سے زیادہ مواقع ملیں اور ملک میں اچھی طرح سے منظم کھیلوں کے ٹورنامنٹ منعقد کیے جائیں۔ اسی سوچ کو ذہن میں رکھتے ہوئے آج بھارت میں کھیلوں کے نئے ٹورنامنٹ منعقد کیے جارہے ہیں۔

ابھی کچھ دن پہلے ہی چنئی میں کھیلو انڈیا یوتھ گیمز کا افتتاح کیا گیا تھا۔ اس میں ملک کے 5 ہزار سے زائد ایتھلیٹس حصہ لے رہے ہیں۔ مجھے خوشی ہے کہ آج بھارت میں مسلسل ایسے نئے پلیٹ فارم بنائے جا رہے ہیں، جن میں کھلاڑیوں کو اپنی صلاحیتوں کو ظاہر کرنے کا موقع مل رہا ہے۔ ایسا ہی ایک پلیٹ فارم جو بنایا گیا ہے – بیچ گیمز، دیو میں منعقد کیا گیا تھا۔ آپ یقینی طور پر جانتے ہیں کہ ’دیو‘ ایک مرکز کے زیر انتظام علاقہ ہے، جو سومناتھ کے بہت قریب ہے۔ ان بیچ گیمز کا انعقاد اس سال کے آغاز میں ہی دیو میں کیا گیا تھا۔ یہ بھارت کا پہلا ملٹی اسپورٹس بیچ گیمز تھا۔ ان مقابلوں میں رسا کشی، سمندری تیراکی، پینکاک سیلات، ملکھمب، بیچ والی بال، بیچ کبڈی، بیچ فٹ بال اور بیچ باکسنگ جیسے مقابلے شامل تھے۔ اس میں ہر کھلاڑی کو اپنا ٹیلنٹ دکھانے کا کافی موقع ملا اور آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ اس ٹورنامنٹ میں بہت سے کھلاڑی ان ریاستوں سے آئے تھے جن کا سمندر سے کوئی تعلق ہی نہیں ہے۔ مدھیہ پردیش نے اس ٹورنامنٹ میں سب سے زیادہ تمغے جیتے، جہاں کوئی سمندری ساحل نہیں ہے۔ کھیلوں کے تئیں یہی مزاج کسی بھی ملک کو کھیلوں کی دنیا کا بادشاہ بناتا ہے۔

میرے پیارے ہم وطنو،’من کی بات‘ میں آج میرے ساتھ بس اتنا ہی۔ فروری میں ایک بار پھر آپ سے بات کروں گا۔ ہماری توجہ اس بات پر ہوگی کہ ملک کے عوام کی اجتماعی اور انفرادی کوششوں سے ملک کس طرح آگے بڑھ رہا ہے۔ ساتھیو، کل 29 تاریخ کو صبح 11 بجے ہم پریکشا پر چرچا بھی کریں گے۔ یہ ’پریکشا پر چرچا‘ کا ساتواں ایڈیشن ہوگا۔ یہ ایک ایسا پروگرام ہے، جس کا میں ہمیشہ انتظار کرتا ہوں۔ اس سے مجھے طلبہ کے ساتھ گفت و شنید کرنے کا موقع ملتا ہے، اور میں ان کے امتحان سے متعلق تناؤ کو کم کرنے کی بھی کوشش کرتا ہوں۔ گذشتہ 7 برسوں میں ’پریکشا پر چرچا‘ تعلیم اور امتحانات سے متعلق مختلف مسائل پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے ایک بہت اچھے ذریعہ کے طور پر ابھرا ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ اس بار 2.25 کروڑ سے زیادہ طلبہ نے اس کے لیے اندراج کرایا ہے اور اپنی رائے بھی پیش کی ہے۔ 2018 میں جب ہم نے پہلی بار یہ پروگرام شروع کیا تھا تو یہ تعداد صرف 22 ہزار تھی۔

طلبہ کی حوصلہ افزائی کرنے اور امتحان سے متعلق تناؤ کے بارے میں بیداری پھیلانے کے لیے بہت ساری اختراعی کوششیں بھی کی گئی ہیں۔ میں آپ سبھی، خاص طور پر نوجوانوں اور طلبہ سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ کل ریکارڈ تعداد میں شامل ہوں۔ میں بھی آپ سے بات کرنا پسند کروں گا۔ ان الفاظ کے ساتھ میں ’من کی بات‘ کی اس قسط میں آپ سے رخصت لیتا ہوں۔ جلد ہی دوبارہ ملیں گے۔ شکریہ۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

Explore More
لال قلعہ کی فصیل سے 77ویں یوم آزادی کے موقع پر وزیراعظم جناب نریندر مودی کے خطاب کا متن

Popular Speeches

لال قلعہ کی فصیل سے 77ویں یوم آزادی کے موقع پر وزیراعظم جناب نریندر مودی کے خطاب کا متن
Lok Sabha polls: J&K's Baramulla sees highest voter turnout in over 4 decades

Media Coverage

Lok Sabha polls: J&K's Baramulla sees highest voter turnout in over 4 decades
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
PM Modi's interview to News X
May 21, 2024

In an interview to News X, Prime Minister Modi addressed the issue of toxic language in elections, explained why the Opposition frequently discussed him, and shared his views on job creation. He criticized the Congress' tax plans and appeasement politics.

Rishabh Gulati: A very warm welcome to the viewers of NewsX and India News. I’m Rishabh Gulati and with me is Aishwarya Sharma of The Sunday Guardian and Rana Yashwant. In today’s special episode, we proudly welcome a renowned ‘rashtra sevak’, and the Prime Minister of India in this Amrit Kaal, Hon’ble Shri Narendra Modi. Mr Prime Minister, you took the time to speak to us, we are very grateful.

Prime Minister: Namaskar, my warm greetings to all your viewers.

 

Rishabh Gulati: Mr Prime Minister, the first question that comes to mind is about the Opposition, and it seems that the biggest item on their poll agenda is Narendra Modi. Why, in your opinion, do they talk so much about Narendra Modi?

Prime Minister: To understand why they discuss Narendra Modi, we must first understand the Opposition. To understand them, one can examine the administration between 2004 and 2014.

The Opposition has not been able to play a strong role. Even as the Opposition, the way they are falling apart, they did not play a constructive role of any kind. Despite deep discussions, they haven’t been able to bring serious issues to the public attention. They thought that by their antics, taking up space in the media, they would be able to keep their boat afloat. Even in this election, I have seen that they make fresh attempts every day to acquire media space, be it by making videos, nonsensical statements, or behaving in a way that people don’t normally behave. So they do this to acquire space in the media. Now abusing Modi is one such antic, where, if nothing else, they are guaranteed publicity. Even a small-time politician, if he bad-mouths me, will get about an hour of media attention. Perhaps they see Modi as a ladder to climb up in their political career.

 

Aishwarya Sharma: Mr Prime Minister, the I.N.D.I. alliance is talking about wealth redistribution. Do you think this is possible, and will the voters of the country be influenced by such a scheme?

Prime Minister: You can’t examine this in isolation. You must look at their overall thought process. When their (Congress) manifesto was released, I had said the manifesto had the imprint of the Muslim League. There was a statement made by Dr Manmohan Singh… I had attended the meeting in which he said that ‘Muslims have the first right to India’s resources.’ Now when I raised this in public, their media ecosystem raised a storm saying that ‘Modi is lying,’. So two days later, I brought Manmohan Singh’s press conference forward and put it in front of them. Then they stopped talking. So this was one example. Now in their Manifesto, they have said that they will give reservation (to Muslims) even when allotting government contracts.

So today, when a bridge is to be built somewhere, what is the criteria for awarding the contract? The company bidding is evaluated based on how resourceful they are, their experience, their capability, their ability to deliver on time, all these things. Now they say that they want to give reservations to the minorities, to the Muslims, in this process as well. It all adds up. Now when they say that they will impose inheritance tax, it means that taxes that go to the government, who will stand to benefit from it? It’s the same people that Manmohan Singh ji talked about. If you join the dots, this is the logic that comes from it. How will the country accept this? Secondly, has any developing country in the world indulged in such madness? Today, India needs to work hard to rise above its problems. We have made this attempt and pulled 25 crore people out of poverty. Where there used to be a few hundred start-ups, there are now over 1.25 lakh start-ups, and there are Unicorns. You must go among the people and work with energy, and that will bring the right result.

 

Rana Yashwant: Mr Prime Minister, the Ram Mandir has been built in Ayodhya, the consecration of Ram Lalla took place and there was joy among the people. In all this, there is Iqbal Ansari, who has fought the legal battle, and is an important person. He comes, holding a placard that says ‘Modi ka Parivaar’. Today, the minority community identifies with your policies and welfare schemes. Your opinion?

Prime Minister: Since you’ve brought up Ram Mandir and Iqbal Ansari, I will narrate an incident. Ram Mandir should have been built right after Independence. In all these years, it wasn’t built because they (Congress) felt it would affect their vote bank. Attempts were made in the Courts till the very end to stop it. It is a fact that Congress hindered the building of the Ram Mandir. Despite this, when the Supreme Court judgment came through, the Court constituted a trust, and the trust members, let go of all past differences and went to invite the Congress Party members to the consecration ceremony. They rejected the invitation. The same people went to invite Iqbal Ansari. The ironic thing is, that Iqbal Ansari, who fought the Babri Masjid case his entire life, respected the Supreme Court’s verdict and attended the ‘Shilanyas’ and the ‘Pran Prathistha’ ceremony as well. This is what I think, as far as Iqbal Ansari is concerned.

Now if you want to talk about secularism, it is my very serious allegation, that for over 75 years, through a very well-crafted conspiracy, a false narrative has been fed to the nation. It has been embedded in the nation from before our birth. Sardar Patel was targeted by this narrative, and maybe, today it may be my turn, tomorrow someone else… Why do they cry out ‘secularism’ over and over again? It’s because they want to divert the world’s attention from their communal activities.

They cry ‘thief’ over and over when they have defrauded the people, and they do this because they think crying ‘thief’ will divert the public’s attention. This is their ploy. I have called them out in front of everyone, that they are the ones who are communal. India’s constitution does not allow you to indulge in such sectarian acts, and I have brought out several such examples, like I mentioned earlier that they called the Muslims the rightful inheritors of India’s wealth. I am exposing them. They (Congress) hide behind their politics of appeasement and instead accuse me of being communal. I am talking about those communal parties that wear the ‘nikab’ of secularism and indulge in hardcore communalism. I find three things common among these people. They are hardcore sectarians, they are extremely casteist, and they are hardcore dynasts. They are so full of these three things that they can’t come out of it.

 

Rishabh Gulati: Mr Prime Minister, you have spoken about lifting 25 crore people out of poverty. 80 crore poor people are receiving ration – it is necessary now and will be so in the future as well. What do you have to say about how crucial it will be in the future?

Prime Minister: When Manmohan Singh ji was the Prime Minister, news was rife with reports of food grains getting spoilt. So, the Supreme Court asked the government as to why the grains were not being distributed among the poor. Manmohan Singh ji, who was the Prime Minister then, stated on record that they could not distribute the grains and that it was impossible to do it. That is the consequence of his thinking. I faced the same issue, especially during COVID-19. My first goal was to ensure that a stove should be lit in every poor household. So, I started working on it. I have stated this for the next five years as well because in the lives of those who come out of poverty…

For example, one returns home from the hospital. The treatment has been done but precaution is necessary. A doctor advises you to take rest for a particular duration after returning home, tells you what to eat and what to refrain from consuming, and what to take care of. Why? The illness has already been addressed, but if anything is jeopardized then the condition of the person would return to what it was. That is why poor people who escape poverty need handholding. They should not return to that state in any condition. Once they escape poverty, they should be empowered to stand strong. In my understanding, in the next five years, those who have escaped poverty should be able to firmly stand on their feet. Any unfortunate incident in their family, should not push them to poverty again. And only then will the country eradicate poverty.

 

Aishwarya Sharma: Mr Prime Minister, our country is the youngest country. Under your tenure, 10 lakh government jobs have been filled. Now, the Opposition has vowed to fill 30 lakh government jobs. In your third term, how do you plan to boost employment opportunities for the youth?

Prime Minister: You must have read the SKOCH report that was released. I hope your TV channel studies the SKOCH report in detail and conducts a TV debate on this. They have analysed some 20 to 22 schemes of the government. They have published statistics about how many person-year-hours have been obtained. They have revealed how many hours it takes to build 4 crore houses and how many people it employs. They have published data for about 22 different parameters.

They have stated that 50 crore people have accrued benefits. Secondly, we brought the Mudra Yojana. We give bank loans without any guarantee. We have disbursed loans worth Rs 23 Lakh Crore. 80% of those who have received these loans are first-timers. Some have started their businesses and have employed a few people in this process. Start-ups used to be in the thousands and now they are in lakhs. People have been employed in this process, right? Consider that a 1000-kilometre road is being built and think about how many jobs are created. So, if a 2000-kilometre road is being built more people will be employed, right? Today, road and rail construction has doubled, electrification has doubled, and mobile towers are reaching every corner of India. All this is being created by people who have received jobs. That is why a lie is being peddled.

 What’s important is that we must move towards creating jobs for ourselves. The youth in this country are in the mood to do something and be productive and we must help them. We must encourage them. Our Mudra Yojana does exactly that. We also run the SVANidhi scheme. There are countless street hawkers, who are poor people. But today, they are taking money from the bank to run their businesses. Due to this, they can save money and expand their business. Earlier, a street hawker would sit on the footpath and now his goal is to buy a lorry. One who would owned a lorry earlier now wishes to provide home delivery services. Their aspirations are rising. This is why I believe that while people receive the benefits of government schemes, which will eventually result in development, we must also focus on several other areas.

 

Rana Yashwant: Prime Minister, your government works on the principle of ‘Sabka Saath, Sabka Vikas’. Beneficiaries avail welfare schemes without any discrimination – caste, religion, or community. Yet, the Opposition maintains that Muslims do not accrue the same benefits from these welfare schemes.

Prime Minister: You are the first person from whom I’ve heard this. The unique aspect of my government, in terms of delivering welfare schemes, has not raised any questions regarding discrimination.

 

Rana Yashwant: The Opposition has to say this.

Prime Minister: Even the Opposition does not say this. You are the first person from whom I’ve heard this. I have never heard this from anybody because everyone knows… and Muslims themselves say that they receive all benefits.

The primary reason is that I have two principles. First, 100% saturation. For example, if poor people must be given houses, complete delivery must take place. If 100% delivery is the goal, then where does the scope of discrimination even arise? Whether it is providing gas connections, building toilets, ensuring tap water connections, I believe in 100% delivery. Yes, some people will receive the benefits in January, some in April and some in November, but the scheme will apply to all and 100%. I believe that true secularism is when 100% delivery is done. Social justice is when 100% is done. So, if my mission is 100% saturation… and nobody has made this charge yet. They don’t have the courage to say it. I have lived in Gujarat as well, and on this topic, nobody can prop up any charges against me.

 

Rishabh Gulati: Mr Prime Minister, you have taken out time to sit with us and relay your ‘Mann Ki Baat’. Thank you so much. Best of luck for the polls ahead.

Prime Minister: I thank you all. I have been campaigning day and night…

 

Rana Yashwant: You are constantly on the move. We see you morning until night on the run…

Rishabh Gulati: Today, you had a big rally at 8 in the morning.

Prime Minister: I started my day at 6 am and went to Jagannath Puri temple to offer my prayers. Since then I have been traveling and have at last got time to meet you.

 

Rana Yashwant: Where ever you go, Jagannath or Kashi, there is a sea of people that comes to greet you. You have experienced it yourself.

Prime Minister: I realise that my responsibilities are now increasing. I also see that the public has taken ownership of elections. Political parties are not fighting the elections. The public has taken ownership of this election. And the results will be as desired by the public.

Thank you!