Share
 
Comments

وزیراعظم جناب نریندر مودی نے  23 ستمبر 2021 کو واشنگٹن ڈی سی امریکہ میں  ہونے و الی کواڈ رہنماؤں کی چوٹی کانفرنس کے موقع پر آسٹریلیائی وزیراعظم عزت مآب اسکاٹ ماریسن کے ساتھ  دوطرفہ میٹنگ کی۔

 عالمی وبا کے بعد سے  دونوں لیڈروں کے درمیان یہ ایسی پہلی میٹنگ تھی جس میں بذات خود شرکت کی گئی۔  وزیراعظم نریند رمودی اوران کے ہم منصب موریسن کے درمیان آخری دوطرفہ میٹنگ رہنماؤں کی  ورچوئل چوٹی کانفرنس تھی جو 4 جون 2020 کو اس وقت منعقد ہوئی تھی جب ہندوستان اورآسٹریلیا کے درمیان کلیدی شراکت داری کو  جامع  کلیدی شراکت داری کی حیثیت تک بڑھا دیا تھا ۔

میٹنگ کے درمیان، دونوں وزرائے اعظم نے  دوطرفہ، علاقائی اور عالمی اہمیت کے بہت سے امور پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان مسلسل ہونے والی  اعلیٰ سطحی ملاقاتوں پر اطمینان کااظہار کیا جن میں  ہندوستان اورآسٹریلیا کے وزرائے خارجہ اور وزائے دفاع کے درمیان حال ہی میں منعقد ہونے والی پہلی 2+2  میٹنگ شامل ہے۔

دونوں وزرائے اعظم نے جون 2020 میں  ہونے وا لی رہنماؤں کی ورچوئل چوٹی کانفرنس کے بعد سے  ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا اور باہمی بہبودی اورایک کھلے، آزاد،  خوشحال اور قانون پر مبنی ہند ۔ بحرالکاہل خطے کے اپنے مشترکہ  مقصد کو آگے بڑھانے کی سمت میں  نزدیکی تعاون کو جاری رکھنے کا پختہ عہد کیا۔

دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ جامع اقتصادی کوآپریشن معاہدے (سی ای سی اے) پر جاری مذاکرات کے حوالے سے اطمینان کااظہار کیا۔ اسی تناظر میں، انہوں نے وزیراعظم اسکاٹ ماریسن کے ہندوستان کے لئے خصوصی تجارتی نمائندے کی حیثیت سے   سابق آسٹریلیائی وزیراعظم جناب ٹونی ایبٹ  کے ہندوستانی دورے پر بھی خوشی کااظہار کیا ساتھ ہی انہوں نے  دسمبر 2021 تک  ہونے والے ایک معاہدہ کے حوالے سے جلد نتائج کی برآمدگی کے اعلان کے لئے بھی اپنے عزم کااظہار کیا۔

دونوں وزرائے اعظم نے  عالمی برادری پر  ہنگامی بنیادوں پر موسومیاتی تبدیلی کے مسئلہ سے نمٹنے کے لئے زور دیا۔  اس سلسلے میں، وزیراعظم جناب مودی نے ماحولیات کے تحفظ کے حوالے سے ایک وسیع تر مذاکرات کی ضرورت کو اجاگر کیا۔  دونوں رہنماؤں نے صاف شفاف ٹکنالوجیوں کی فراہمی کے امکانات پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

دونوں رزرائے اعظم نے  اس بات پر اتفاق کیا کہ چونکہ دونوں ملک خطے کی فعال جموریتیں ہیں ، اس لئے دونوں ملکوں کو  عالمی وبا کے بعد پیدا ہونے والے چیلنجز پر قابو پانے  کے لئے ، مل جل کر اقدامات کرنے چاہئیں  جن میں سپلائی چین میں لچک داری پیدا کرنا بھی شامل ہے۔

دونوں رہنماؤں نے آسٹریلیا کی معیشت اور معاشرے کے لئے ہندوستانی برادری کے زبردست تعاون کی بھی ستائش کی  اور  عوامی رابطوں کو فروغ دینے کے لئے  طور طریقوں پر بھی تبادلہ ٔ خیال کیا۔

وزیراعظم جناب مودی نے ایک بار پھر سے اپنے ہم منصب جناب موریسن کو ہندوستان کا دورہ کرنے کی دعوت دی۔

20 تصاویر سیوا اور سمرپن کے 20 برسوں کو بیاں کر رہی ہیں۔
Mann KI Baat Quiz
Explore More
It is now time to leave the 'Chalta Hai' attitude & think of 'Badal Sakta Hai': PM Modi

Popular Speeches

It is now time to leave the 'Chalta Hai' attitude & think of 'Badal Sakta Hai': PM Modi
Business optimism in India at near 8-year high: Report

Media Coverage

Business optimism in India at near 8-year high: Report
...

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
پارلیمنٹ کے موسم سرما کے اجلاس 2021 سے پہلے میڈیا کے لئے وزیراعظم کے بیان کا متن
November 29, 2021
Share
 
Comments

نمسکار  ساتھیو!

پارلیمنٹ کا یہ اجلاس  انتہائی اہم ہے۔ ملک  آزادی کا امرت مہوتسو  منا رہا ہے۔ ہندوستان میں چارو  ں اطراف  سے اس  آزادی کے  امرت مہو تسو  کے باقاعدہ تخلیقی، تعمیری، عوام کے مفاد کے لئے، قوم  کے مفاد کے لئے، عام شہری  بہت سے پروگرام منعقد کر رہے ہیں، قدم اٹھارہے ہیں،  اور آزادی کے دیوانوں نے ، جو خواب دیکھے تھے، ان  خوابوں کو پورا کرنے کے لئے  عام شہری بھی اس ملک کی اپنی کوئی نہ کوئی ذمہ داری  نبھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ خبریں اپنے آپ  میں بھارت کے  تابناک مستقبل کے لئے خوش آئند اشارے ہیں۔

کل ہم نے  دیکھا ہے کہ  گزشتہ دنوں یوم آئین بھی  نئے عزائم کے ساتھ  آئین کے جذبے کو  عملی شکل دینے کے لئے ہر کسی  کی ذمہ داری  کے سلسلے میں پورے ملک نے   ایک عزم  کیا ہے ۔ ان  سب کے تناظر میں ہم چاہیں گے، ملک بھی چاہے گا، ملک کا ہر عام شہری  چاہے گا کہ بھارت کا پارلیمنٹ کا یہ اجلاس  اور آئندہ   اجلاس بھی آزادے کے دیوانوں کے جو جذبات تھے، جو روح تھی، آزادی کے امرت مہو تسو  کی  جو روح ہے، اس روح  کے مطابق  پارلیمنٹ بھی ملک کے مفاد میں مباحثہ کرے، ملک کی ترقی کے لئے راستے  تلاش کرے، ملک کی ترقی کے لئے نئے طریقہ کار  تلاش کرے،  اور  اس کے لئے یہ اجلاس  بہت  ہی  نظریات کی افراط والا، دیر پا اثر پیدا کرنے والے مثبت فیصلے کرنے والا بنے۔ میں امید کرتا ہوں کہ مستقبل میں پارلیمنٹ کو  کیسا چلا، کتنا اچھا تعاون کیا، اس ترازو پر تولا جائے، نہ کہ کس نے کتنا زور لگا کر  پارلیمنٹ  کے اجلاس  کو روک دیا، یہ معیار نہیں ہو سکتا۔ معیار یہ  ہوگا  کہ پارلیمنٹ میں کتنے گھنٹے کام  ہوا، کتنا تعمیری  کام ہوا۔  ہم چاہتے ہیں کہ حکومت   ہر موضوع پر  مباحثہ کرنے کے لئے تیار ہے، کھلا مباحثہ کرنے کے لئے تیار ہے۔ حکومت  ہر سوال کا جواب  دینے کے لئے تیار ہے اور آزادی کے امرت مہو تسو  میں ہم یہ بھی چاہیں گے کہ پارلیمنٹ میں سوال بھی  ہو ، پارلیمنٹ میں امن بھی ہو۔

ہم چاہتے ہیں پارلیمنٹ میں حکومت کے خلاف، حکومت کی پالیسیوں کے خلاف، جتنی آواز  اٹھنی چاہئے، لیکن پارلیمنٹ  کے وقار، اسپیکر کے  وقار، صدر نشیں کے وقار ، ان سب کے ضمن میں ہم  وہ رویہ اپنائیں، جو آنے والے دنوں میں ملک کی نوجوان نسل کے کام آئے۔ پچھلے اجلاس کے  بعد  کورونا کی  شدید  صورت حال میں بھی ملک  نے 100  کروڑ سے زیادہ  ٹیکے  ، کورونا ویکسین اور اب ہم  150  کروڑ کی طرف  تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ نئی قسم کی خبریں بھی ہمیں اور بھی چوکنا کرتی ہیں اور  بیدار کرتی ہیں۔ میں پارلیمنٹ  کے سبھی ساتھیوں  سے  بھی  چوکنا رہنے کی  درخواست کرتا ہوں۔ آپ سبھی ساتھیوں  سے بھی   چوکس رہنے کی   استدعا کرتا ہوں۔ کیونکہ آپ سب کی  عمدہ  صحت، ہم وطنوں کی عمدہ صحت، ایسی  بحران کی گھڑی میں ہماری ترجیح ہے۔

ملک کے  80  کروڑ سے زیادہ  شہریوں کو  اس کورونا دور کے بحران میں اور زیادہ تکلیف نہ ہو، اس لئے وزیراعظم غریب کلیان یوجنا  سے  اناج  مفت دینے کی  اسکیم  چل رہی ہے۔ اب اسے  مارچ  2022  تک  توسیع دے دی گئی ہے۔ قریب  دو لاکھ 60  ہزار  کروڑ روپے کی لاگت سے ، 80  کروڑ سے زیادہ  ملک کے شہریوں کو  غریب کے گھر  کا  چولہا جلتا رہے، اس کی  فکر کی گئی ہے۔ میں امید کرتا ہوں کہ اس اجلاس میں ملک کے مفاد  میں فیصلے ہم تیزی  سے کریں، مل جل کر کریں۔ عام انسان کی امید ، امنگوں کو  پورا کرنے والے بنیں۔ ایسی  میری  توقع ہے، بہت بہت شکریہ!