"راشٹرپتی جی کے خطاب نے ہندوستان کے بڑھتے ہوئے اعتماد، امید افزا مستقبل اور یہاں کے عوام کی بے پناہ صلاحیت پر زور دیا"
"ہندوستان نازک پانچ اور پالیسی پیرالائسس کے دنوں سے نکل کر سر فہرست5 معیشتوں میں شامل ہونے کے دور میں آگیا ہے"
گزشتہ 10 سال حکومت کے تاریخی فیصلوں کی وجہ سے جانے جاتے ہیں
"سب کا ساتھ، سب کا وکاس کوئی نعرہ نہیں ہے۔ یہ مودی کی ضمانت ہے"
’’مودی 3.0 وکست بھارت کی بنیادوں کو مضبوط کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑے گا‘‘

وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج راجیہ سبھا میں پارلیمنٹ سے صدرجمہوریہ  کے خطاب پر شکریہ کی تحریک کا جواب دیا۔

ایوان سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ 75 واں یوم جمہوریہ ملک کے سفر میں ایک اہم سنگ میل ہے اور صدر جمہوریہ نے اپنے خطاب کے دوران ہندوستان کی خود اعتمادی کے بارے میں بات کی ہے۔ وزیر اعظم مودی نے اس بات پر زور دیا کہ اپنے خطاب میں صدر جمہوریہ نے ہندوستان کے روشن مستقبل کے بارے میں اعتماد کا اظہار کیا اور ہندوستان کے شہریوں کی قابلیت کو تسلیم کیا۔ انہوں نے صدر جمہوریہ کا ان کے متاثر کن خطاب کے لئے شکریہ ادا کیا جس نے وکست بھارت کے عزم کو پورا کرنے کے لئے قوم کو رہنمائی فراہم کی۔ وزیر اعظم  مودی نے صدر جمہوریہ  کے خطاب پر ’شکریہ کی تحریک‘  پر نتیجہ خیز بحث کے لیے ایوان کے ارکان کا شکریہ بھی ادا کیا۔ وزیر اعظم نے کہا "راشٹرپتی جی کے خطاب نے ہندوستان کے بڑھتے ہوئے اعتماد، امید افزا مستقبل اور یہاں کے لوگوں کی بے پناہ صلاحیتوں پر زور دیا" ۔

ایوان کے ماحول کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے  کہا کہ ‘حزب مخالف میری آواز کو دبا نہیں سکتی کیونکہ ملک کے عوام نے اس آواز کو طاقت دی ہے’۔ وزیر اعظم نے پبلک فنانس کے لیکیج، 'نازک پانچ' اور 'پالیسی پیرالائسس' کے وقت کو یاد کیا اور کہا کہ موجودہ حکومت نے ملک کو پہلے کی گندگی سے نکالنے کے لیے بہت غور و فکر سے کام کیا۔ "کانگریس حکومت کے 10 سال کے اقتدار کے دوران، پوری دنیا نے ہندوستان کے لیے 'نازک پانچ' اور' پالیسی پیرا لائسس' جیسے الفاظ استعمال کیے تھے۔ اور ہمارے 10 سالوں میں - سرفہرست 5 معیشتوں میں۔ اس طرح آج دنیا ہمارے بارے میں بات کرتی ہے"۔

وزیر اعظم نے نوآبادیاتی ذہنیت کے آثار کو دور کرنے کے لیے حکومت کی کوششوں پر بھی زور دیا جنہیں سابقہ حکومتوں نے نظر انداز کیا تھا۔ انہوں نے دفاعی افواج کے لیے نئے نشان، کرتویہ پتھ ، جزائر انڈمان کے نام بدلنے، نوآبادیاتی قوانین کے خاتمہ اور ہندوستانی زبان کو فروغ دینے اور اس طرح کے بہت سے دوسرے اقدامات کی فہرست دی۔ وزیر اعظم نے دیسی مصنوعات، روایات اور مقامی اقدار کے بارے میں ماضی کے احساس کمتری کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان سب کو اب سنجیدگی سے حل کیا جا رہا ہے۔

چار سب سے اہم ذاتوں یعنی ناری شکتی، یووا شکتی، غریب اور ان داتا کے بارے میں صدر جمہوریہ کے خطاب کے بارے میں بصیرت فراہم کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ہندوستان کے ان چار اہم ستونوں کی ترقی اور پیشرفت قوم کو ترقی یافتہ بنائے گی۔ وزیر اعظم نے کہا کہ اگر ہم 2047 تک وکست بھارت حاصل کرنا چاہتے ہیں تو 20ویں صدی کا طریقہ کار نہیں آئے گا۔

وزیر اعظم نے ایس سی، ایس ٹی اور او بی سی برادریوں کے حقوق اور ترقی پر بھی بات کی اور کہا کہ آرٹیکل 370 کی منسوخی نے اس بات کو یقینی بنایا کہ ان برادریوں کو جموں و کشمیر میں باقی ملک کے برابر حقوق حاصل ہوں۔ اسی طرح، جنگلات کے حقوق ایکٹ، مظالم کی روک تھام کا ایکٹ، اور ریاست میں بالمیکی برادری کے لیے ڈومیسائل کے حقوق بھی منسوخی کے بعد ہی نافذ کیے گئے۔ انہوں نے ریاست کے بلدیاتی اداروں میں او بی سی ریزرویشن کے بل کی منظوری کا بھی ذکر کیا۔

وزیراعظم نے بابا صاحب کو عزت بخشنے کے اقدامات کا بھی ذکر کیا اور قبائلی خواتین کے صدر جمہوریہ بننے کے واقعہ کی بھی نشاندہی کی۔ غریبوں کی بہبود کے لیے حکومت کی پالیسیوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے، وزیر اعظم مودی نے ایس سی، ایس ٹی، او بی سی اور قبائلی برادریوں کی ترقی کو ترجیح دینے پر زور دیا۔ انہوں نے پکے مکانات، صحت کو بہتر بنانے کے لیے صفائی مہم، اجولا گیس اسکیم، مفت راشن اور آیوشمان یوجنا کا ذکر کیا تاکہ ان برادریوں کو بااختیار بنایا جاسکے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ گزشتہ 10 سالوں میں، ایس سی اور ایس ٹی طلباء کے لئے اسکالرشپ میں اضافہ کیا گیا، اسکولوں میں داخلے کی تعداد میں اضافہ ہوا، ڈراپ آؤٹ کی شرح میں نمایاں کمی آئی، ایک نئی سینٹرل ٹرائبل یونیورسٹی قائم کی گئی جس کی تعداد 1 سے 2 ہوگئی اور ایکلویہ کی تعداد 2 ہوگئی۔ ماڈل اسکولوں کی تعداد 120 سے بڑھ کر 400 ہوگئی۔ انہوں نے بتایا کہ اعلیٰ تعلیم میں ایس سی طلباء کے اندراج میں 44 فیصد، ایس ٹی طلباء کے اندراج میں 65 فیصد اور او بی سی کے اندراج میں 45 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

جناب مودی نے کہا’’سب کا ساتھ سب کا وکاس صرف ایک نعرہ نہیں ہے، یہ مودی کی ضمانت ہے‘‘۔ وزیر اعظم نے جھوٹے بیانیہ پر مبنی مایوسی کا ماحول بنانے سے خبردار کیا۔ وزیر اعظم نے مزید کہا کہ وہ ایک آزاد ہندوستان میں پیدا ہوئے تھے اور ان کے خیالات اور خواب آزاد ہیں قوم میں نوآبادیاتی ذہنیت کے لیے کوئی گنجائش نہیں ہوتی ۔

وزیر اعظم نے کہا کہ پبلک سیکٹر کے اداروں کی پہلے کی گڑبڑ ی کے برعکس، اب بی ایس این ایل  جیسے ادارے 4جی  اور 5جی کو آگے بڑھا رہے ہیں، ایچ اے ایل  ریکارڈ مینوفیکچرنگ کر رہا ہے اور ایشیا کی سب سے بڑی ہیلی کاپٹر فیکٹری کرناٹک میں ایچ اے ایل ہے۔ ایل آئی سی بھی ریکارڈ حصص کی قیمتوں کے ساتھ ترقی کر رہا ہے۔ وزیر اعظم  مودی نے ایوان کو بتایا کہ ملک میں پی ایس یو کی تعداد 2014 میں 234 سے بڑھ کر آج 254 ہو گئی ہے، اور ان میں سے زیادہ تر سرمایہ کاروں کی توجہ اپنی طرف مبذول کر کے ریکارڈ منافع دے رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں پی ایس یو انڈیکس میں گزشتہ سال کے اندر دو گنا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ پچھلے 10 سالوں میں، پی ایس یو کا نیٹ منافع 2004 اور 2014 کے درمیان 1.25 لاکھ کروڑ روپے سے بڑھ کر 2.50 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ گیا، اور پی ایس یو کی نیٹ قیمت 9.5 لاکھ کروڑ روپے سے بڑھ کر 17 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ گئی۔

وزیر اعظم نے کہا کہ وہ علاقائی امنگوں کو اچھی طرح سمجھتے ہیں کیونکہ وہ ایک ریاست کے وزیر اعلیٰ کے طور پر اس عمل سے گزر چکے ہیں۔ وزیر اعظم  مودی نے ’ملک کی ترقی کے لیے ریاستوں کی ترقی‘ کے منتر کو دہرایا۔ انہوں نے یقین دلایا کہ ریاستوں کی ترقی کے لئے مرکز کی طرف سے مکمل تعاون فراہم کیا جائے گا۔ ریاستوں کے درمیان ترقی کے لیے صحت مند مسابقت کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے وزیر اعظم نے مسابقتی تعاون پر مبنی وفاقیت پر زور دیا۔

زندگی میں ایک بار آنے والے کووڈ وبائی مرض کے چیلنجوں پر روشنی ڈالتے ہوئے، وزیر اعظم  مودی نے تمام ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ کے ساتھ 20 میٹنگوں کی صدارت کی اور اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے پوری مشینری کو سہرا دیا۔

انہوں نے جی 20 کی نمائش اور شان کو تمام ریاستوں میں پھیلانے کا بھی ذکر کیا کیونکہ پورے ملک میں تقریبات کا اہتمام کیا گیا تھا۔ انہوں نے غیر ملکی معززین کو مختلف ریاستوں میں لے جانے کے اپنے عمل کی بھی نشاندہی کی۔

ریاستوں کے کردار کو جاری رکھتے ہوئے، وزیر اعظم نے خواہش مند ضلع پروگرام کی کامیابی کا کریڈٹ ریاستوں کو دیا۔ انہوں نے کہا کہ "ہمارے پروگرام کا ڈیزائن ریاستوں کو ساتھ لے کر جاتا ہے اور اقوام کو اجتماعی طور پر آگے لے جانے کے لیے ہے۔"

ملک کے کام کاج کو انسانی جسم سے تشبیہ دیتے ہوئے وزیر اعظم نے اس بات کا اعادہ کیا کہ اگر ایک ریاست محروم اور پسماندہ رہتی ہے تو بھی قوم کو اس طرح ترقی یافتہ نہیں سمجھا جا سکتا جس طرح ایک غیر فعال جسم کا حصہ پورے جسم کو متاثر کرتا ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ملک کی پالیسیوں کا رخ سب کے لیے بنیادی سہولیات کو یقینی بنانا اور معیار زندگی بلند کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آنے والے دنوں میں ہماری توجہ زندگی میں آسانی سے آگے بڑھ کر معیار زندگی کو بہتر بنانے پر مرکوز رہے گی۔ انہوں نے نئے متوسط طبقے کو نئے مواقع فراہم کرنے کے اپنے عزم پر زور دیا جو کہ حال ہی میں غربت سے نکلا ہے۔ انہوں نے مزید کہا، ’’ہم سماجی انصاف کے ’’مودی کَوچ‘‘ کو مزید طاقت فراہم کریں گے۔

غریبی سے پیدا ہونے والوں کے لیے حکومت کی حمایت کو اجاگر کرتے ہوئے جناب مودی نے اعلان کیا کہ مفت راشن اسکیم، آیوشمان اسکیم، دوائیوں پر 80 فیصد چھوٹ، کسانوں کے لیے پی ایم سمان ندھی، غریبوں کے لیے پکے مکانات، نلکے کے پانی کے کنکشن، بیت الخلاء اور نئی تعمیرات تیز رفتاری سے جاری رہیں گے۔ "مودی 3.0 وکست بھارت کی بنیادوں کو مضبوط کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑے گا" ۔

وزیر اعظم نے کہا کہ اگلے 5 سالوں میں میڈیکل انفراسٹرکچر میں پیشرفت جاری رہے گی اور علاج مزید سستا ہو گا، ہر گھر میں پائپ کا پانی ہو گا، پی ایم آواس کی سیر ہو جائے گی، کروڑوں گھروں کے بجلی کے بل زیرو ہو جائیں گے۔ پورے ملک میں سولر پاور، پائپڈ کوکنگ گیس، اسٹارٹ اپ بڑھیں گے، پیٹنٹ فائلنگ نئے ریکارڈ توڑیں گے۔ پی ایم مودی نے ایوان کو یقین دلایا کہ اگلے 5 سالوں میں دنیا کھیلوں کے ہر بین الاقوامی مقابلے میں ہندوستانی نوجوانوں کی صلاحیتوں کا مشاہدہ کرے گی، پبلک ٹرانسپورٹ سسٹم کو تبدیل کیا جائے گا، خود انحصار ہندوستان مہم نئی بلندیوں کو چھوئے گی، میڈ ان انڈیا سیمی کنڈکٹرز اور الیکٹرانکس کا غلبہ ہوگا۔ دنیا، اور ملک دوسرے ممالک پر توانائی کے انحصار کو کم کرنے کے لیے کام کرے گا۔ انہوں نے گرین ہائیڈروجن اور ایتھنول کی ملاوٹ کی طرف آگے بڑھنے کا بھی ذکر کیا۔ وزیر اعظم مودی نے خوردنی تیل کی پیداوار میں خود کفیل بننے کے ہندوستان کے یقین کی بھی تصدیق کی۔

اگلے 5 سالوں کے وژن کو جاری رکھتے ہوئے وزیراعظم نے قدرتی کاشتکاری اور باجرے کو بطور سپر فوڈ فروغ دینے کی بات کی۔ زراعت میں ڈرون کے استعمال میں نیا اضافہ دیکھنے کو ملے گا۔ اسی طرح نینو یوریا کوآپریٹو کے استعمال کو عوامی تحریک کے طور پر فروغ دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے ماہی گیری اور مویشی پالن میں نئے ریکارڈ کے بارے میں بھی بات کی۔

وزیر اعظم مودی نے سیاحت کے شعبے کی طرف بھی توجہ مبذول کرائی جو اگلے 5 سالوں میں روزگار کا ایک بہت بڑا ذریعہ بنے گا۔ انہوں نے ملک کی کئی ریاستوں کی اپنی معیشت کو صرف سیاحت کے ذریعہ چلانے کی صلاحیت پر زور دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ "ہندوستان دنیا کے لیے ایک بڑا سیاحتی مقام بننے جا رہا ہے۔"

وزیر اعظم نے ڈیجیٹل انڈیا اور فنٹیک کے میدان میں ہونے والی پیش رفت پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ اگلے 5 سال ہندوستان کی ڈیجیٹل معیشت کے لیے ایک مثبت مستقبل پیش کرتے ہیں۔ "ڈیجیٹل خدمات ہندوستان کی ترقی کو آگے بڑھائیں گی"، انہوں نے مزید کہا۔ وزیراعظم نے کہا کہ مجھے پورا یقین ہے کہ ہمارے سائنسدان ہمیں خلائی ٹیکنالوجی کے میدان میں نئی بلندیوں پر لے جائیں گے۔

نچلی سطح پر معیشت کی تبدیلی کے بارے میں بات کرتے ہوئے وزیر اعظم نے سیلف ہیلپ گروپوں کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا، "3 کروڑ لکھ پتی دیدی خواتین کو بااختیار بنانے کا ایک نیا اسکرپٹ لکھیں گے۔" وزیر اعظم نے وکست بھارت کے لیے حکومت کے عزم کو اجاگر کرتے ہوئے کہا "2047 تک، ہندوستان اپنے سنہری دور کو دوبارہ زندہ کرے گا" ۔

اپنے خطاب کے اختتام پر، وزیر اعظم نے ایوان اور قوم کے سامنے حقائق پیش کرنے کے موقع پر راجیہ سبھا کے چیئرمین کا شکریہ ادا کیا اور صدر جمہوریہ ہند کا بھی ان کے متاثر کن خطاب کے لیے شکریہ ادا کیا۔

 

 

 

 

 

 

 

Click here to read full text speech

Explore More
لال قلعہ کی فصیل سے 77ویں یوم آزادی کے موقع پر وزیراعظم جناب نریندر مودی کے خطاب کا متن

Popular Speeches

لال قلعہ کی فصیل سے 77ویں یوم آزادی کے موقع پر وزیراعظم جناب نریندر مودی کے خطاب کا متن
India a 'green shoot' for the world, any mandate other than Modi will lead to 'surprise and bewilderment': Ian Bremmer

Media Coverage

India a 'green shoot' for the world, any mandate other than Modi will lead to 'surprise and bewilderment': Ian Bremmer
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
PM Modi's Interview to Navbharat Times
May 23, 2024

प्रश्न: वोटिंग में मत प्रतिशत उम्मीद के मुताबिक नहीं रहा। क्या, कम वोट पड़ने पर भी बीजेपी 400 पार सीटें जीत सकती है? ये कौन से वोटर हैं, जो घर से नहीं निकल रहे?

उत्तर: किसी भी लोकतंत्र के लिए ये बहुत आवश्यक है कि लोग मतदान में बढ़चढ कर हिस्सा लें। ये पार्टियों की जीत-हार से बड़ा विषय है। मैं तो देशभर में जहां भी रैली कर रहा हूं, वहां लोगों से मतदान करने की अपील कर रहा हूं। इस समय उत्तर भारत में बहुत कड़ी धूप है, गर्मी है। मैं आपके माध्यम से भी लोगों से आग्रह करूंगा कि लोकतंत्र के इस महापर्व में अपनी भूमिका जरूर निभाएं। तपती धूप में लोग ऑफिस तो जा ही रहे हैं, हर व्यक्ति अपने काम के लिए घर से बाहर निकल रहा है, ऐसे में वोटिंग को भी दायित्व समझकर जरूर पूरा करें। चार चरणों के चुनाव के बाद बीजेपी ने बहुमत का आंकड़ा पा लिया है, आगे की लड़ाई 400 पार के लिए ही हो रही है। चुनाव विशेषज्ञ विश्लेषण करने में जुटे हैं, ये उनका काम है, लेकिन अगर वो मतदाताओं और बीजेपी की केमिस्ट्री देख पाएं तो समझ जाएंगे कि 400 पार का नारा हकीकत बनने जा रहा है। मैं जहां भी जा रहा हूं, बीजेपी के प्रति लोगों के अटूट विश्वास को महसूस रहा हूं। एनडीए को 400 सीटों पर जीत दिलाने के लिए लोग उत्साहित हैं।

प्रश्न: लेकिन कश्मीर में वोट प्रतिशत बढ़े। कश्मीर में बढ़ी वोटिंग का संदेश क्या है?

उत्तर: : मेरे लिए इस चुनाव में सबसे सुकून देने वाली घटना यही है कि कश्मीर में वोटिंग प्रतिशत बढ़ी है। वहां मतदान केंद्रों के बाहर कतार में लगे लोगों की तस्वीरें ऊर्जा से भर देने वाली हैं। मुझे इस बात का संतोष है कि जम्मू-कश्मीर के बेहतर भविष्य के लिए हमने जो कदम उठाए हैं, उसके सकारात्मक परिणाम सामने आ रहे हैं। श्रीनगर के बाद बारामूला में भी बंपर वोटिंग हुई है। आर्टिकल 370 हटने के बाद आए परिवर्तन में हर कश्मीरी राहत महसूस कर रहा है। वहां के लोग समझ गए हैं कि 370 की आड़ में इतने वर्षों तक उनके साथ धोखा हो रहा था। दशकों तक जम्मू-कश्मीर के लोगों को विकास से दूर रखा गया। सिस्टम में फैले भ्रष्टाचार से वहां के लोग त्रस्त थे, लेकिन उन्हें कोई विकल्प नहीं दिया जा रहा था। परिवारवादी पार्टियों ने वहां की राजनीति को जकड़ कर रखा था। आज वहां के लोग बिना डरे, बिना दबाव में आए विकास के लिए वोट कर रहे हैं।

प्रश्न: 2014 और 2019 के मुकाबले 2024 के चुनाव और प्रचार में आप क्या फर्क महसूस कर रहे हैं?

उत्तर: 2014 में जब मैं लोगों के बीच गया तो मुझे देशभर के लोगों की उम्मीदों को जानने का अवसर मिला। जनता बदलाव चाहती थी। जनता विकास चाहती थी। 2019 में मैंने लोगों की आंखों में विश्वास की चमक देखी। ये विश्वास हमारी सरकार के 5 साल के काम से आया था। मैंने महसूस किया कि उन 5 वर्षों में लोगों की आकांक्षाओं का विस्तार हुआ है। उन्होंने और बड़े सपने देखे हैं। वो सपने उनके परिवार से भी जुड़े थे, और देश से भी जुड़े थे। पिछले 5 साल तेज विकास और बड़े फैसलों के रहे हैं। इसका प्रभाव हर व्यक्ति के जीवन पर पड़ा है। अब 2024 के चुनाव में मैं जब प्रचार कर रहा हूं तो मुझे लोगों की आंखों में एक संकल्प दिख रहा है। ये संकल्प है विकसित भारत का। ये संकल्प है भ्रष्टाचार मुक्त भारत का। ये संकल्प है मजबूत भारत का। 140 करोड़ भारतीयों को भरोसा है कि उनका सपना बीजेपी सरकार में ही पूरा हो सकता है, इसलिए हमारी सरकार की तीसरी पारी को लेकर जनता में अभूतपूर्व उत्साह है।

प्रश्न: 10 साल की सबसे बड़ी उपलब्धि आप किसे मानते हैं और तीसरे कार्यकाल के लिए आप किस तरह खुद को तैयार कर रहे हैं?

उत्तर: पिछले 10 वर्षों में हमारी सरकार ने अर्थव्यवस्था, सामाजिक न्याय, गरीब कल्याण और राष्ट्रहित से जुड़े कई बड़े फैसले लिए हैं। हमारे कार्यों का प्रभाव हर वर्ग, हर समुदाय के लोगों पर पड़ा है। आप अलग-अलग क्षेत्रों का विश्लेषण करेंगे तो हमारी उपलब्धियां और उनसे प्रभावित होने वाले लोगों के बारे में पता चलेगा। मुझे इस बात का बहुत संतोष है कि हम देश के 25 करोड़ लोगों को गरीबी से बाहर ला पाए। करोड़ों लोगों को घर, शौचालय, बिजली-पानी, गैस कनेक्शन, मुफ्त इलाज की सुविधा दे पाए। इससे उनके जीवन में जो बदलाव आया है, उसकी उन्होंने कल्पना तक नहीं की थी। आप सोचिए, कि अगर करोड़ों लोगों को ये सुविधाएं नहीं मिली होतीं तो वो आज भी गरीबी का जीवन जी रहे होते। इतना ही नहीं, उनकी अगली पीढ़ी भी गरीबी के इस कुचक्र में पिसने के लिए तैयार हो रही होती।

हमने गरीब को सिर्फ घर और सुविधाएं नहीं दी हैं, हमने उसे सम्मान से जीने का अधिकार दिया है। हमने उसे हौसला दिया है कि वो खुद अपने पैरों पर खड़ा हो सके। हमने उसे एक विश्वास दिया कि जो जीवन उसे देखना पड़ा, वो उसके बच्चों को नहीं देखना पड़ेगा। ऐसे परिवार फिर से गरीबी में न चले जाएं, इसके लिए हम हर कदम पर उनके साथ खड़े हैं। इसीलिए, आज देश के 80 करोड़ लोगों को मुफ्त राशन दिया जा रहा है, ताकि वो अपनी आय अपनी दूसरी जरूरतों पर खर्च कर सकें। हम कौशल विकास, पीएम विश्वकर्मा और स्वनिधि जैसी योजनाओं के माध्यम से उन्हें आगे बढ़ने में मदद कर रहे हैं। हमने घर की महिला सदस्य को सशक्त बनाने के भी प्रयास किए। लखपति दीदी, ड्रोन दीदी जैसी योजनाओं से महिलाएं आर्थिक रूप से मजबूत हुई हैं। मेरी सरकार के तीसरे कार्यकाल में इन योजनाओं को और विस्तार मिलेगा, जिससे ज्यादा महिलाओं तक इनका लाभ पहुंचेगा।

प्रश्न: हमारे रिपोर्टर्स देशभर में घूमे, एक बात उभर कर आई कि रोजगार और महंगाई पर लोगों ने हर जगह बात की है। जीतने के बाद पहले 100 दिनों में युवाओं के लिए क्या करेंगे? रोजगार के मोर्चे पर युवाओं को कोई भरोसा देना चाहेंगे?

उत्तर: पिछले 10 वर्षों में हम महंगाई दर को काबू रख पाने में सफल रहे हैं। यूपीए के समय महंगाई दर डबल डिजिट में हुआ करती थी। आज दुनिया के अलग-अलग कोनों में युद्ध की स्थिति है। इन परिस्थितियों का असर देश की अर्थव्यवस्था और महंगाई पर पड़ा है। हमने दुनिया के ताकतवर देशों के सामने अपने देश के लोगों के हित को प्राथमिकता दी, और पेट्रोल-डीजल की कीमतें बढ़ने नहीं दीं। पेट्रोल-डीजल की कीमतें बढ़तीं तो हर चीज महंगी हो जाती। हमने महंगाई का बोझ कम करने के लिए हर छोटी से छोटी चीज पर फोकस किया। आज गरीब परिवारों को अच्छे से अच्छे अस्पताल में 5 लाख रुपये तक इलाज मुफ्त मिलता है। जन औषधि केंद्रों की वजह से दवाओं के खर्च में 70 से 80 प्रतिशत तक राहत मिली है। घुटनों की सर्जरी हो या हार्ट ऑपरेशन, सबका खर्च आधे से ज्यादा कम हो गया है। आज देश में लोन की दरें सबसे कम हैं। कार लेनी हो, घर लेना हो तो आसानी से और सस्ता लोन उपलब्ध है। पर्सनल लोन इतना आसान देश में कभी नहीं था। किसान को यूरिया और खाद की बोरी दुनिया के मुकाबले दस गुना कम कीमत पर मिल रही है। पिछले 10 वर्षों में रोजगार के अनेक नए अवसर बने हैं। लाखों युवाओं को सरकारी नौकरी मिली है। प्राइवेट सेक्टर में रोजगार के नए मौके बने हैं। EPFO के मुताबिक पिछले सात साल में 6 करोड़ नए सदस्य इसमें जुड़े हैं।

PLFS का डेटा बताता है कि 2017 में जो बेरोजगारी दर 6% थी, वो अब 3% रह गई है। हमारी माइक्रो फाइनैंस की नीतियां कितनी प्रभावी हैं, इस पर SKOCH ग्रुप की एक रिपोर्ट आई है। इस रिपोर्ट के मुताबिक पिछले 10 साल में हर वर्ष 5 करोड़ पर्सन-ईयर रोजगार पैदा हुए हैं। युवाओं के पास अब स्पेस सेक्टर, ड्रोन सेक्टर, गेमिंग सेक्टर में भी आगे बढ़ने के अवसर हैं। देश में डिजिटल क्रांति से भी युवाओं के लिए अवसर बने हैं। आज भारत में डेटा इतना सस्ता है तभी देश की क्रिएटर इकनॉमी बड़ी हो रही है। आज देश में सवा लाख से ज्यादा स्टार्टअप्स हैं, इनसे बड़ी संख्या में रोजगार के अवसर बन रहे हैं। हमने अपनी सरकार के पहले 100 दिनों का एक्शन प्लान तैयार किया है, उसमें हमने अलग से युवाओं के लिए 25 दिन और जोड़े हैं। हम देशभर से आ रहे युवाओं के सुझाव पर गौर कर रहे हैं, और नतीजों के बाद उस पर तेजी से काम शुरू होगा।

प्रश्न: सोशल मीडिया में एआई और डीपफेक जैसे मसलों पर आपने चिंता जताई है। इस चुनाव में भी इसके दुरुपयोग की मिसाल दिखी हैं। मिसइनफरमेशन का ये टूल न बने, इसके लिए क्या किया जा सकता है? कई एक्टिविस्ट और विपक्ष का कहना रहा है कि इन चीजों पर सख्ती की आड़ में कहीं फ्रीडम ऑफ एक्सप्रेशन पर पाबंदी तो नहीं लगेगी? इन सवालों पर कैसे आश्वस्त करेंगे?

उत्तर: तकनीक का इस्तेमाल जीवन में सुगमता लाने के लिए किया जाना चाहिए। आज एआई ने भारत के युवाओँ के लिए अवसरों के नए द्वार खोल दिए हैं। एआई, मशीन लर्निगं और इंटरनेट ऑफ थिंग्स अब हमारे रोज के जीवन की सच्चाई बनती जा रही है। लोगों को सहूलियत देने के लिए कंपनियां अब इन तकनीकों का उपयोग बढ़ा रही हैं। दूसरी तरफ इनके माध्यम से गलत सूचनाएं देने, अफवाह फैलाने और लोगों को भ्रमित करने की घटनाएं भी हो रही हैं। चुनाव में विपक्ष ने अपने झूठे नरैटिव को फैलाने के लिए यही करना शुरू किया था। हमने सख्ती करके इस तरह की कोशिश पर रोक लगाने का प्रयास किया। इस तरह की प्रैक्टिस किसी को भी फायदा नहीं पहुंचाएगी, उल्टे तकनीक का गलत इस्तेमाल उन्हें नुकसान ही पहुंचाएगा। अभिव्यक्ति की आजादी का फेक न्यूज और फेक नरैटिव से कोई लेना-देना नहीं है। मैंने एआई के एक्सपर्ट्स के सामने और अंतरराष्ट्रीय मंचों पर डीप फेक के गलत इस्तेमाल से जुड़े विषयों को गंभीरता से रखा है। डीप फेक को लेकर वर्ल्ड लेवल पर क्या हो सकता है, इस पर मंथन चल रहा है। भारत इस दिशा में गंभीरता से प्रयास कर रहा है। लोगों को जागरूक करने के लिए ही मैंने खुद सोशल मीडिया पर अपना एक डीफ फेक वीडियो शेयर किया था। लोगों के लिए ये जानना आवश्यक है कि ये तकनीक क्या कर सकती है।

प्रश्न:देश के लोगों की सेहत को लेकर आपकी चिंता हम सब जानते हैं। आपने अंतरराष्ट्रीय योग दिवस शुरू किया, योगा प्रोटोकॉल बनवाया, आपने आयुष्मान योजना शुरू की है। तीसरे कार्यकाल में क्या इन चीज़ों पर भी काम करेंगे, जो हमारी सेहत खराब होने के मूल कारक हैं। जैसे लोगों को साफ हवा, पानी, मिट्टी मिले।

उत्तर: देश 2047 तक विकसित भारत का लक्ष्य लेकर आगे बढ़ रहा है। इस सपने को शक्ति तभी मिलेगी, जब देश का हर नागरिक स्वस्थ हो। शारीरिक और मानसिक रूप से मजबूत हो। यही वजह है कि हम सेहत को लेकर एक होलिस्टिक अप्रोच अपना रहे हैं। एलोपैथ के साथ ही योग, आयुर्वेद, भारतीय परंपरागत पद्धतियां, होम्योपैथ के जरिए हम लोगों को स्वस्थ रखने की दिशा में काम कर रहे हैं। राजनीति में आने से पहले मैंने लंबा समय देश का भ्रमण करने में बिताया है। उस समय मैंने एक बात अनुभव की थी कि घर की महिला सदस्य अपने खराब स्वास्थ्य के बारे छिपाती है। वो खुद तकलीफ झेलती है, लेकिन नहीं चाहती कि परिवार के लोगों को परेशानी हो। उसे इस बात की भी फिक्र रहती है कि डॉक्टर, दवा में पैसे खर्च हो जाएंगे। जब 2014 में मुझे देश की सेवा करने का अवसर मिला तो सबसे पहले मैंने घर की महिला सदस्य के स्वास्थ्य की चिंता की। मैंने माताओं-बहनों को धुएं से मुक्ति दिलाने का संकल्प लिया और 10 करोड़ से ज्यादा महिलाओं को मुफ्त गैस कनेक्शन दिए। मैंने बुजुर्गों की सेहत पर भी ध्यान दिया है। हमारी सरकार की तीसरी पारी में 70 साल से ऊपर के सभी बुजुर्गों को आयुष्मान भारत योजना का लाभ मिलने लगेगा। यानी उनके इलाज का खर्च सरकार उठाएगी। साफ हवा, पानी, मिट्टी के लिए हम काम शुरू कर चुके हैं। सिंगल यूज प्लास्टिक पर हमारा अभियान चल रहा है। जल जीवन मिशन के तहत हम देश के लाखों गांवों तक साफ पानी पहुंचा रहे हैं। सॉयल हेल्थ कार्ड, आर्गेनिक खेती की दिशा में काम हो रहा है। हम मिशन लाइफ को प्राथमिकता दे रहे हैं और इस विचार को आगे बढ़ा रहे हैं कि हर व्यक्ति पर्यावरण के अनुकूल जीवन पद्धति को अपनाए।

प्रश्न: विदेश नीति आपके दोनों कार्यकाल में काफी अहम रही है। इस वक्त दुनिया काफी उतार चढ़ाव से गुजर रही है, चुनाव नतीजों के तुरंत बाद जी7 समिट है। आप नए हालात में भारत के रोल को किस तरह देखते हैं?

उत्तर: शायद ये पहला चुनाव है, जिसमें भारत की विदेश नीति की इतनी चर्चा हो रही है। वो इसलिए कि पिछले 10 साल में दुनियाभर में भारत की साख मजबूत हुई है। जब देश की साख बढ़ती है तो हर भारतीय को गर्व होता है। जी20 समिट में भारत ग्लोबल साउथ की मजबूत आवाज बना, अब जी7 में भारत की भूमिका बहुत महत्वपूर्ण होने वाली है। आज दुनिया का हर देश जानता है कि भारत में एक मजबूत सरकार है और सरकार के पीछे 140 करोड़ देशवासियों का समर्थन है। हमने अपनी विदेश नीति में भारत और भारत के लोगों के हित को सर्वोपरि रखा है। आज जब हम व्यापार समझौते की टेबल पर होते हैं, तो सामने वाले को ये महसूस होता है कि ये पहले वाला भारत नहीं है। आज हर डील में भारतीय लोगों के हित को प्राथमिकता दी जाती है। हमारे इस बदले रूप को देखकर दूसरे देशों को हैरानी हुई, लेकिन धीरे-धीरे उन्होंने इसे स्वीकार कर लिया। ये नया भारत है, आत्मविश्वास से भरा भारत है। आज भारत संकट में फंसे हर भारतीय की मदद के लिए तत्पर रहता है। पिछले 10 वर्षों में अनेक भारतीयों को संकट से बाहर निकालकर देश में ले आए। हम अपनी सांस्कृतिक धरोहरों को भी देश में वापस ला रहे हैं। युद्ध में आमने-सामने खड़े दोनों देशों को भारत ने बड़ी मजबूती से ये कहा है कि ये युद्ध का समय नहीं है, ये बातचीत से समाधान का समय है। आज दुनिया मानती है कि भारत का आगे बढ़ना पूरी दुनिया और मानवता के लिए अच्छा है।

प्रश्न: अमेरिका भी चुनाव से गुजर रहा है। आपके रिश्ते ट्रम्प और बाइडन दोनों के साथ बहुत अच्छे रहे हैं। आप कैसे देखते हैं अमेरिका के साथ भारतीय रिश्तों को इन संदर्भ में?

उत्तर: हमारी विदेश नीति का मूल मंत्र है इंडिया फर्स्ट। पिछले 10 वर्षों में हमने इसी को ध्यान में रखकर विभिन्न देशों और प्रभावशाली नेताओं से संबंध बनाए हैं। भारत-अमेरिका संबंधों की मजबूती का आधार 140 करोड़ भारतीय हैं। हमारे लोग हमारी ताकत हैं, और दुनिया हमारी इस शक्ति को बहुत महत्वपूर्ण मानती है। अमेरिका में राष्ट्रपति चाहे ट्रंप रहे हों या बाइडन, हमने उनके साथ मिलकर दोनों देशों के संबंध को और मजबूत बनाने का प्रयास किया है। भारत-अमेरिका के संबंधों पर चुनाव से कोई अंतर नहीं आएगा। वहां जो भी राष्ट्रपति बनेगा, उसके साथ मिलकर नई ऊर्जा के साथ काम करेंगे।

प्रश्न: BJP का पूरा प्रचार आप पर ही केंद्रित है, क्या इससे सांसदों के खुद के काम करने और लोगों के संपर्क में रहने जैसे कामों को तवज्जो कम हो गई है और नेता सिर्फ मोदी मैजिक से ही चुनाव जीतने के भरोसे हैं। आप इसे किस तरह काउंटर करते हैं?

उत्तर: बीजेपी एक टीम की तरह काम करती है। इस टीम का हर सदस्य चुनाव जीतने के लिए जी-तोड़ मेहनत कर रहा है। चुनावी अभियान में जितना महत्वपूर्ण पीएम है, उतना ही महत्वपूर्ण कार्यकर्ता है। ये परिवारवादी पार्टियों का फैलाया गया प्रपंच है। उनकी पार्टी में एक परिवार या कोई एक व्यक्ति बहुत अहम होता है। हमारी पार्टी में हर नेता और कार्यकर्ता को एक दायित्व दिया जाता है।

मैं पूछता हूं, क्या हमारी पार्टी के राष्ट्रीय अध्यक्ष रोज रैली नहीं कर रहे हैं। क्या हमारे मंत्री, मुख्यमंत्री, पार्टी पदाधिकारी रोड शो और रैलियां नहीं कर रहे। मैं पीएम के तौर पर जनता से कनेक्ट करने जरूर जाता हूं, लेकिन लोग एमपी उम्मीदवार के माध्यम से ही हमसे जुड़ते हैं। मैं लोगों के पास नैशनल विजन लेकर जा रहा हूं, उसे पूरा करने की गारंटी दे रहा हूं, तो हमारा एमपी उम्मीदवार स्थानीय आकांक्षाओं को पूरा करने का भरोसा दे रहा है। हमने उन्हीं उम्मीदवारों का चयन किया है, जो हमारे विजन को जनता के बीच पहुंचा सकें। विकसित भारत की सोच से लोगों को जोड़ने के लिए जितनी अहमियत मेरी है, उतनी ही जरूरत हमारे उम्मीदवारों की भी है। हमारी पूरी टीम मिलकर हर सीट पर कमल खिलाने में जुटी है।

प्रश्न: महिला आरक्षण पर आप ने विधेयक पास कराए। क्या नई सरकार में हम इन पर अमल होते हुए देखेंगे?

उत्तर: ये प्रश्न कांग्रेस के शासनकाल के अनुभव से निकला है, तब कानून बना दिए जाते थे लेकिन उसे नोटिफाई करने में वर्षों लग जाते थे। हमने अगले 5 वर्षों का जो रोडमैप तैयार किया है, उसमें नारी शक्ति वंदन अधिनियम की महत्वपूर्ण भूमिका है। हम देश की आधी आबादी को उसका अधिकार देने के लिए प्रतिबद्ध हैं। इंडी गठबंधन की पार्टियों ने दशकों तक महिलाओं को इस अधिकार से वंचित रखा। सामाजिक न्याय की बात करने वालों ने इसे रोककर रखा था। देश की संसद और विधानसभा में महिलाओं की भागीदारी बढ़ने से महिला सशक्तिकरण का एक नया दौर शुरू होगा। इस परिवर्तन का असर बहुत प्रभावशाली होगा।

प्रश्न: महाराष्ट्र की सियासी हालत इस बार बहुत पेचीदा हो गई है। एनडीए क्या पिछली दो बार का रिकॉर्ड दोहरा पाएगा?

उत्तर: महाराष्ट्र समेत पूरे देश में इस बार बीजेपी और एनडीए को लेकर जबरदस्त उत्साह है। महाराष्ट्र में स्थिति पेचीदा नहीं, बल्कि बहुत सरल हो गई है। लोगों को परिवारवादी पार्टियों और देश के विकास के लिए समर्पित महायुति में से चुनाव करना है। बाला साहेब ठाकरे के विचारों को आगे बढ़ाने वाली शिवसेना हमारे साथ है। लोग देख रहे हैं कि नकली शिवसेना अपने मूल विचारों का त्याग करके कांग्रेस से हाथ मिला चुकी है। इसी तरह एनसीपी महाराष्ट्र और देश के विकास के लिए हमारे साथ जुड़ी है। अब जो महा ‘विनाश’ अघाड़ी की एनसीपी है, वो सिर्फ अपने परिवार को आगे बढ़ाने के लिए वोट मांग रही है। लोग ये भी देख रहे हैं कि इंडी गठबंधन अभी से अपनी हार मान चुका है। अब वो चुनाव के बाद अपना अस्तित्व बचाने के लिए कांग्रेस में विलय की बात कर रहे हैं। ऐसे लोगों को मतदान करना, अपने वोट को बर्बाद करना है। इस बार हम महाराष्ट्र में अपने पिछले रिकॉर्ड को तोड़ने वाले हैं।

प्रश्न: पश्चिम बंगाल में भी बीजेपी ने बहुत प्रयास किए हैं। पिछली बार बीजेपी 18 सीटें जीतने में कामयाब रही थी। बाकी राज्यों की तुलना में यह आपके लिए कितना कठिन राज्य है और इस बार आपको क्या उम्मीद है?

उत्तर: TMC हो, कांग्रेस हो, लेफ्ट हो, इन सबने बंगाल में एक जैसे ही पाप किए हैं। बंगाल में लोग समझ चुके हैं कि इन पार्टियों के पास सिर्फ नारे हैं, विकास का विजन नहीं हैं। कभी दूसरे राज्यों से लोग रोजगार के लिए बंगाल आते थे, आज पूरे बंगाल से लोग पलायन करने को मजबूर हैं। जनता ये भी देख रही है कि बंगाल में जो पार्टियां एक-दूसरे के खिलाफ चुनाव लड़ रही हैं, दिल्ली में वही एक साथ नजर आ रही हैं। मतदाताओं के साथ इससे बड़ा छल कुछ और नहीं हो सकता। यही वजह है कि इंडी गठबंधन लोगों का भरोसा नहीं जीत पा रहा। बंगाल के लोग लंबे समय से भ्रष्टाचार, हिंसा, अराजकता, माफिया और तुष्टिकरण को बर्दाश्त कर रहे हैं। टीएमसी की पहचान घोटाले वाली सरकार की बन गई है। टीएमसी के नेताओं ने अपनी तिजोरी भरने के लिए युवाओं के सपनों को कुचला है। यहां स्थिति ये है कि सरकारी नौकरी पाने के बाद भी युवाओं को भरोसा नहीं है कि उनकी नौकरी रहेगी या जाएगी। लोग बंगाल की मौजूदा सरकार से पूरी तरह हताश हैं।अब उनके सामने बीजेपी का विकास मॉडल है। मैं बंगाल में जहां भी गया, वहां लोगों में बीजेपी के प्रति अभूतपूर्व विश्वास नजर आया। विशेष रुप से बंगाल में मैंने देखा कि माताओं-बहनों का बहुत स्नेह मुझे मिल रहा है। मैं उनसे जब भी मिलता हूं, वो खुद तो इमोशनल हो ही जाती हैं, मैं भी अपने भावनाओं को रोक नहीं पाता हूं। इस बार बंगाल में हम पहले से ज्यादा सीटों पर जीत हासिल करेंगे।

प्रश्न: शराब मामले को लेकर अरविंद केजरीवाल को जेल जाना पड़ा है। उनका कहना है कि ईडी ने जबरदस्ती उन्हें इस मामले में घसीटा है जबकि अब तक उनके पास से कोई पैसा बरामद नहीं हुआ?

उत्तर: आपने कभी किसी ऐसे व्यक्ति को सुना है जो आरोपी हो और ये कह रहा हो कि उसने घोटाला किया था। या कह रहा हो कि पुलिस ने उसे सही गिरफ्तार किया है। अगर एजेंसियों ने उन्हें गलत पकड़ा था, तो कोर्ट से उन्हें राहत क्यों नहीं मिली। ईडी और एजेसिंयो पर आरोप लगाने वाला विपक्ष आज तक एक मामले में ये साबित नहीं कर पाया है कि उनके खिलाफ गलत आरोप लगा है। वो कुछ दिन के लिए जमानत पर बाहर आए हैं, लेकिन बाहर आकर वो और एक्सपोज हो गए। वो और उनके लोग गलतियां कर रहे हैं और आरोप बीजेपी पर लगा रहे हैं। लेकिन जनता उनका सच जानती है। उनकी बातों की अब कोई विश्वसनीयता नहीं रह गई है।

प्रश्न: इस बार दिल्ली में कांग्रेस और आम आदमी पार्टी मिलकर चुनाव लड़ रहे हैं। इससे क्या लगातार दो बार से सातों सीटें जीतने के क्रम में बीजेपी को कुछ दिक्कत हो सकती है? इस बार आपने छह उम्मीदवार बदल दिए

उत्तर: इंडी गठबंधन की पार्टियां दिल्ली में हारी हुई लड़ाई लड़ रहे हैं। उनके सामने अपना अस्तित्व बचाने का संकट है। चुनाव के बाद वैसे भी इंडी गठबंधन नाम की कोई चीज बचेगी नहीं। दिल्ली की जनता ने बहुत पहले कांग्रेस को बाहर कर दिया था, अब दूसरे दलों के साथ मिलकर वो अपनी मौजूदगी दिखाना चाहते हैं। क्या कभी किसी ने सोचा था कि देश पर इतने लंबे समय तक शासन करने वाली कांग्रेस के ये दिन भी आएंगे कि उनके परिवार के नेता अपनी पार्टी के नहीं, बल्कि किसी और उम्मीदवार के लिए वोट डालेंगे।

दिल्ली में इंडी गठबंधन की जो पार्टियां हैं, उनकी पहचान दो चीजों से होती है। एक तो भ्रष्टाचार और दूसरा बेशर्मी के साथ झूठ बोलना। मीडिया के माध्यम से ये जनता की भावनाओं को बरगलाना चाहते हैं। झूठे वादे देकर ये लोगों को गुमराह करना चाहते हैं। ये जनता के नीर-क्षीर विवेक का अपमान है। जनता आज बहुत समझदार है, वो फैसला करेगी। बीजेपी ने लोगों के हित को ध्यान में रखते हुए अपने उम्मीदवार उतारे हैं। बीजेपी में कोई लोकसभा सीट नेता की जागीर नहीं समझी जाती। जो जनहित में उचित होता है, पार्टी उसी के अनुरूप फैसला लेती है। हमारे लिए राजनीति सेवा का माध्यम है। यही वजह है कि हमारे कार्यकर्ता इस बात से निराश नहीं होते कि टिकट कट गया, बल्कि वो पूरे मनोयोग से जनता की सेवा में जुट जाते हैं।

प्रश्न: विपक्ष का कहना है कि लोकतंत्र खतरे में है और अगर बीजेपी जीतती है तो लोकतंत्र औपचारिक रह जाएगा। आप उनके इन आरोपों को कैसे देखते हैं?

उत्तर: कांग्रेस और उसका इकोसिस्टम झूठ और अफवाह के सहारे चुनाव लड़ने निकला है। पुराने दौर में उनका यह पैंतरा कभी-कभी काम कर जाता था, लेकिन आज सोशल मीडिया के जमाने में उनके हर झूठ का मिनटों में पर्दाफाश हो जाता है।

उन्होंने राफेल पर झूठ बोला, पकड़े गए। एचएएल पर झूठ बोला, पकड़े गए। जनता अब इनकी बातों को गंभीरता से नहीं लेती है। देश जानता है कि कौन संविधान बदलना चाहता है। आपातकाल के जरिए देश के लोकतंत्र को खत्म करने की साजिश किसने की थी। कांग्रेस के कार्यकाल में सबसे ज्यादा बार संविधान की मूल प्रति को बदल दिया। कांग्रेस पहले संविधान संसोधन का प्रस्ताव अभिव्यक्ति की आजादी पर पहरा लगाने के लिए लाई थी। 60 वर्षों में उन्होंने बार-बार संविधान की मूल भावना पर चोट की और एक के बाद एक कई राज्य सरकारों को बर्खास्त किया। सबसे ज्यादा बार राष्ट्रपति शासन लगाने का रेकॉर्ड कांग्रेस के नाम है। उनकी जो असल मंशा है, उसके रास्ते में संविधान सबसे बड़ी दीवार है। इसलिए इस दीवार को तोड़ने की कोशिश करते रहते हैं। आप देखिए कि संविधान निर्माताओं ने धर्म के आधार पर आरक्षण का विरोध किया था। लेकिन कांग्रेस अपने वोटबैंक को खुश करने के लिए बार-बार यही करने की कोशिश करती है। अपनी कोई कोशिशों में नाकाम रहने के बाद आखिरकार उन्होंने कर्नाटक में ओबीसी आरक्षण में सेंध लगा ही दी।

कांग्रेस और इंडी गठबंधन के नेता लोकतंत्र की दुहाई देते हैं, लेकिन वास्तविकता ये है कि लोकतंत्र को कुचलने के लिए, जनता की आवाज दबाने के लिए ये पूरी ताकत लगा देते हैं। ये लोग उनके खिलाफ बोलने वालों के पीछे पूरी मशीनरी झोंक देते हैं। इनके एक राज्य की पुलिस दूसरे राज्य में जाकर कार्रवाई कर रही है। इस काम में ये लोग खुलकर एक-दूसरे का साथ दे रहे हैं। जनता ये सब देख रही है, और समझ रही है कि अगर इन लोगों के हाथ में ताकत आ गई तो ये देश का, क्या हाल करेंगे।

प्रश्न: आप एकदम चुस्त-दुरुस्त और फिट दिखते हैं, आपकी सेहत का राज, सुबह से रात तक का रूटीन?

उत्तर: मैं यह मानता हूं कि मुझ पर किसी दैवीय शक्ति की बहुत बड़ी कृपा है, जिसने लोक कल्याण के लिए मुझे माध्यम बनाया है। इतने वर्षों में मेरा यह विश्वास प्रबल हुआ है कि ईश्वर ने मुझे विशेष दायित्व पूरा करने के लिए चुना है। उसे पूरा करने के लिए वही मुझे सामर्थ्य भी दे रहा है। लोगों की सेवा करने की भावना से ही मुझे ऊर्जा मिलती है।

प्रश्न: प्रधानमंत्री जी, आप काशी के सांसद हैं। बीते 10 साल में आप ने काशी को खूब प्रमोट किया है। आज काशी देश में सबसे प्रेफर्ड टूरिज्म डेस्टिनेशमन बन रही है। इसके अलावा आप ने जो इंफ्रास्ट्रक्चर के काम किए हैं, उससे भी बनारस में बहुत बदलाव आया है। इससे बनारस और पूर्वांचल की इकोनॉमी और रोजगार पर जो असर हुआ है, उसे आप कैसे देखते हैं?

उत्तर: काशी एक अद्भूत नगरी है। एक तरफ तो ये दुनिया का सबसे प्राचीन शहर है। इसकी अपनी पौराणिक मान्यता है। दूसरी तरफ ये पूर्वी उत्तर प्रदेश और बिहार की आर्थिक धुरी भी है। 10 साल में हमने काशी में धार्मिक पर्यटन का खूब विकास किया। शहर की गलियां, साफ-सफाई, बाजारों में सुविधाएं, ट्रेन और बस के इंतजाम पर फोकस किया। गंगा में सीएनजी बोट चली, शहर में ई-बस और ई-रिक्शा चले। यात्रियों के लिए हमने स्टेशन से लेकर शहर के अलग-अलग स्थानों पर तमाम सुविधाएं बढ़ाई।

इन सब के बाद जब हम बनारस को प्रमोट करने उतरे, तो देशभर के श्रद्धालुओं में नई काशी को देखने का भाव उमड़ आया। यह यहां सालभर पहले से कई गुना ज्यादा पर्यटक आते हैं। इससे पूरे शहर में रोजगार के नए अवसर तैयार हुए।

हमने बनारस में इंडस्ट्री लानी शुरू की है। TCS का नया कैंपस बना है, बनास डेयरी बनी है, ट्रेड फैसिलिटी सेंटर बना है, काशी के बुनकरों को नई मशीनें दी जा रही है, युवाओं को मुद्रा लोन मिले हैं। इससे सिर्फ बनारस ही नहीं, आसपास के कई जिलों की अर्थव्यवस्था को नई गति मिली।

प्रश्न: आपने कहा कि वाराणसी उत्तर प्रदेश की राजनीतिक धुरी जैसा शहर है। बीते 10 वर्षों में पू्र्वांचल में जो विकास हुआ है, उसको कैसे देखते हैं?

उत्तर: देखिए, पूर्वांचल अपार संभावनाओं का क्षेत्र है। पिछले 10 वर्षों में हमने केंद्र की तमाम योजनाओं में इस क्षेत्र को बहुत वरीयता दी है। एक समय था, जब पूर्वांचल विकास में बहुत पिछड़ा था। वाराणसी में ही कई घंटे बिजली कटौती होती थी। पूर्वांचल के गांव-गांव में लालटेन के सहारे लोग गर्मियों के दिन काटते थे। आज बिजली की व्यवस्था में बहुत सुधार हुआ है, और इस भीषण गर्मी में भी कटौती का संकट करीब-करीब खत्म हो चला है। ऐसे ही पूरे पूर्वांचल में सड़कों की हालत बहुत खराब थी। आज यहां के लोगों को पूर्वांचल एक्सप्रेस-वे की सुविधा मिली है। गाजीपुर, आजमगढ़, मऊ, बलिया, चंदौली जैसे टियर थ्री कहे जाने वाले शहरों में हजारों की सड़कें बनी हैं।

आजमगढ़ में अभी कुछ दिन पहले मैंने एयरपोर्ट की शुरुआत की है। महाराजा सुहेलदेव के नाम पर यूनिवर्सिटी बनाई गई है। पूरे पूर्वांचल में नए मेडिकल कॉलेज बन रहे हैं। बनारस में इनलैंड वाटर-वे का पोर्ट बना है। काशी से ही देश की पहली वंदे भारत ट्रेन चली थी। देश का पहला रोप-वे ट्रांसपोर्ट सिस्टम बन रहा है।

कांग्रेस की सरकार में पूर्वांचल के लोग ऐसी सुविधाएं मिलने के बारे में सोचते तक नहीं थे। क्योंकि लोगों को बिजली-पानी-सड़क जैसी मूलभूत सुविआधाओं में ही उलझाकर रखा गया था। यह स्थिति तब थी जब इनके सीएम तक पूर्वांचल से चुने जाते थे। तब पूर्वांचल में सिर्फ नेताओं के हेलिकॉप्टर उतरते थे, आज जमीन पर विकास उतर आया है।

प्रश्न: आप कहते हैं कि बनारस ने आपको बनारसी बना दिया है। मां गंगा ने आपको बुलाया था, अब आपको अपना लिया है। आप काशी के सांसद हैं, यहां के लोगों से क्या कहेंगे?

उत्तर: मैं एक बात मानता हूं कि काशी में सबकुछ बाबा की कृपा से होता है। मां गंगा के आशीर्वाद से ही यहां हर काम फलीभूत होते हैं! 10 साल पहले मैंने जब ये कहा था कि मां गंगा ने मुझे बुलाया है, तो वो बात भी मैंने इसी भावना से कही थी। जिस नगरी में लोग एक बार आने को तरसते हैं, वहां मुझे दो बार सांसद के रूप में सेवा करने का अवसर मिला। जब पार्टी ने तीसरी बार मुझे काशी की उम्मीदवारी करने को कहा, तभी मेरे मन में यह भाव आया कि मां गंगा ने मुझे गोद ले लिया है। काशी ने मुझे अपार प्रेम दिया है। उनका यह स्नेह और विश्वास मुझ पर एक कर्ज है। मैं जीवनभर काशी की सेवा करके भी इस कर्ज को नहीं उतार पाऊंगा।

Following is the clipping of the interview:

 

 

Source: Navbharat Times