عزت مآب ،  ڈاکٹر پیٹرک ہرمائنی،

دونوں ممالک کے مندوبین ،

میڈیا کے  ساتھیو ،

نمسکار ،

صدر ہرمائنی اور ان کے وفد کا  ، بھارت میں خیرمقدم کرتے ہوئے مجھے بے حد خوشی ہو رہی ہے۔

سیشلز کے صدر کے طور پر منتخب ہونے پر میں انہیں  140   کروڑ بھارتیوں کی طرف سے دلی مبارکباد اور نیک خواہشات پیش کرتا ہوں۔

صدر کے طور پر یہ ان کا بھارت کا پہلا دورہ ہے۔ یہ دورہ ایسے خوشگوار سال میں ہو رہا ہے  ، جب سیشلز کا  50 واں یومِ آزادی اور ہمارے سفارتی تعلقات کی 50 ویں سالگرہ منائی جا رہی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ یہ سنگ میل ہمیں مسلسل نئی بلندیوں  حاصل کرنے کے تئیں  تحریک دیتے رہیں گے۔

ساتھیو ،

بھارت اور سیشلز کے تعلقات صرف سفارتی رابطوں تک محدود نہیں ہیں۔  بحرِ ہند کی لہریں صدیوں سے ہمارے لوگوں کو جوڑتی آئی ہیں۔ ان کے ساحلوں پر دونوں ممالک کے درمیان تجارت میں اضافہ ہوا ، ثقافتیں ملیں اور اعتماد کی روایتیں مضبوط ہوئیں۔

بھارت اور سیشلز صرف جغرافیائی اعتبار  سے  ہی نہیں جڑے، بلکہ تاریخ، اعتماد اور مستقبل کے لیے مشترکہ ویژن سے  بھی جڑے  ہوئے ہیں۔

ہمارا تعلق ماضی، حال اور مستقبل کا ہے۔ ایک بحری ہمسایہ اور قابلِ اعتماد شراکت دار کے طور پر سیشلز، بھارت کے  مہا ساگر  ویژن کا لازمی  جزو  ہے۔ ہمارا تعاون سمندر ، زمین اور ہوا سب کو  مربوط کرتا ہے۔

آج کی بات چیت میں  ، ہم نے اس شراکت داری کو مزید مضبوط کرنے کا راستہ ہموار کیا۔ ہم اپنے اقتصادی تعاون کو اور مضبوط بنانے کے لیے نئے مواقع تلاش کرنے پر متفق ہیں۔

مقامی کرنسیوں میں تجارت بڑھانے کے ساتھ ساتھ ہم فِن ٹیک اور ڈیجیٹل حل کے میدان میں بھی آگے بڑھیں گے۔

ترقیاتی شراکت داری بھارت–سیشلز تعلقات کی مضبوط بنیاد رہی ہے۔ ہمارے تمام اقدامات سیشلز کی ترجیحات اور ضروریات پر مبنی رہے ہیں۔ اس سمت میں آگے بڑھتے ہوئے آج ہم 175 ملین ڈالر کے خصوصی اقتصادی پیکیج کا اعلان کر رہے ہیں۔ یہ پیکیج سوشل ہاؤسنگ، ای-موبیلیٹی، پیشہ ورانہ تربیت، صحت، دفاع اور سمندری سکیورٹی جیسے شعبوں میں عملی منصوبوں کو تعاون فراہم کرے گا۔ ان اقدامات سے سیشلز کے لوگوں، خاص طور پر نوجوانوں کے لیے ملازمت اور مہارت کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔

سیشلز کی صلاحیت سازی  میں  ، بھارت کے  آئی ٹی ای سی  پروگرام کا اہم کردار رہا ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ آج سول سروسز کے اہلکاروں کی بھارت میں تربیت کے لیے  مفاہمت نامہ   کیا جا رہا ہے۔

ٹیکنالوجی کے شعبے میں  ، قریبی تعاون سے ہم اپنے تعاون کو مستقبل  پر مبنی   سمت دے رہے ہیں۔ آج ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پر  مفاہمت نامہ  ہو رہا ہے۔ اس کے تحت  ، ہم بھارت کے کامیاب تجربے کا سیشلز کے ساتھ  اشتراک کریں گے۔

صحت کے شعبے میں  ، بھارت سیشلز کے لیے ایک مستحکم اور قابل اعتماد شراکت دار رہا ہے۔ معقول قیمت اور معیاری دوائیں، میڈیکل ٹورزم اور صحت کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی میں ہم سیشلز کے ساتھ مل کر آگے بڑھیں گے۔

توانائی اور ماحولیاتی شعبے میں ہمارا تعاون پائیدار ترقی    کے مشترکہ  عزم سے  تحریک یافتہ ہے۔ ہم قابل تجدید توانائی،  استحکام اور آب و ہوا  سے متعلق ساز گار حل  پر اپنے تعاون کو مزید  توسیع دیں گے۔

ساتھیو ،

بحری ہمسایہ کے طور پر  سمندری معیشت ہمارے لیے فطری تعاون کا شعبہ ہے۔ ہم بحری تحقیق ، صلاحیت سازی ، ڈیٹا شیئرنگ جیسے شعبوں میں بھارت کی مہارت  کا سیشلز کے ساتھ   اشتراک کریں گے۔

دفاعی تعاون اور سمندری  سکیورٹی ہماری شراکت داری کے اہم ستون ہیں۔ کولمبو سکیورٹی کانکلیو میں مکمل رکن کے طور پر ہم سیشلز کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ اس سے ہماری  باہمی ہم آہنگی  مستحکم ہوگی اور بحرِ ہند میں امن و استحکام کو یقینی بنانے کی کوششوں کو تقویت  حاصل ہو  گی۔

ہم مل کر نہ صرف دو طرفہ تعاون کو بلکہ بحرِ ہند کے لیے مشترکہ مستقبل کو بھی تشکیل دیں گے۔

ساتھیو ،

بھارت–سیشلز تعلقات کی سب سے بڑی طاقت ہمارے عوام سے عوام کے درمیان  رابطے  ہیں۔ سیشلز میں مقیم بھارتی  برادری نے سیشلز کی سماجی اور اقتصادی زندگی میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ ساتھ ہی  ، انہوں نے ہماری دوستی کو نسل در نسل مضبوط بھی کیا ہے۔

آج ہم نے سیاحت، تعلیم، ثقافت اور کھیل کے ذریعے  ، ان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال کیا۔ ہم دونوں ممالک کے نوجوانوں کے درمیان تبادلہ اور روابط بڑھانے پر خاص زور دیں گے۔

ساتھیو ،

آج کی میٹنگ سے یہ واضح ہے کہ بھارت اور سیشلز کی شراکت داری ایک نئے  مرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔ تمام شعبوں میں آگے بڑھنے کے لیے آج ہم  بھارت – سیشلز مشترکہ ویژن  جاری کرنے جا رہے ہیں۔ یہ ویژن آنے والے برسوں میں ہمارے تعاون کا  روڈ میپ بنے گا۔

عزت مآب صدر ،

میں ایک بار پھر آپ کی بھارت آمد اور بھارت کے لیے آپ کی پائیدار دوستی اور وابستگی کے لیے دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔

بہت بہت شکریہ۔

 

 

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
PMAY-U Nears 1.25 Crore Homes: Top 10 States With The Highest PMAY-U Completion Rates

Media Coverage

PMAY-U Nears 1.25 Crore Homes: Top 10 States With The Highest PMAY-U Completion Rates
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
PM chairs 52nd PRAGATI Meeting
June 24, 2026
PM reviews four key infrastructure projects worth around ₹30,000 crore spanning four states across Road, Power, Industrial Corridor and Metro Rail sectors
PM emphasises use of PM GatiShakti National Master Plan and timely updation of project, utility and infrastructure data on the portal for efficient planning
PM asks Ministries and State Governments to resolve pending issues in a mission-mode manner and ensure close monitoring
PM reviews TB Mukt Bharat Abhiyan and emphasizes need to leverage latest digital technologies including AI
PM reviews grievances related to Cyber Crime and Digital Arrest and stresses timely action, coordinated response and e-Zero FIR registration mechanism

Prime Minister Shri Narendra Modi chaired the 52nd meeting of PRAGATI, the ICT-enabled, multi-modal platform aimed at fostering Pro-Active Governance and Timely Implementation, by seamlessly integrating efforts of the Central and State Governments, earlier today at Seva Teerth.

During the meeting, the Prime Minister reviewed four critical infrastructure projects across the Road, Power, Industrial Corridor and Metro Rail sectors, covering four States and costing around ₹30,000 crore. These projects, important for economic growth, regional connectivity, industrial development and public welfare, were reviewed with focus on timelines, inter-agency coordination, issue resolution and timely completion.

Prime Minister underlined that delays in infrastructure projects not only lead to cost escalation, but also deprive people and industries of timely benefits. He asked the concerned Ministries and State Governments to resolve pending issues in a mission-mode manner and ensure close monitoring at the highest level.

Prime Minister emphasised the use of PM GatiShakti National Master Plan for efficient planning and timely implementation of infrastructure projects. He also underlined the need for regular and timely updation of project details, utilities, infrastructure layers, clearances and other field-level information on the portal. He further emphasised that the platform must reflect the latest ground situation so that bottlenecks can be identified in advance, inter-agency coordination can be improved and decisions can be taken on the basis of reliable, real-time data.

Prime Minister reviewed TB Mukt Bharat Abhiyan and emphasised the need to leverage latest digital technologies including Artificial Intelligence. He suggested a team of NCC cadets and MY Bharat volunteers, for awareness, patient follow-up and community mobilisation.

Prime Minister also reviewed grievances related to Cyber Crime and Digital Arrest. He expressed concern over the rising misuse of digital platforms to defraud citizens and stressed that such matters require coordinated, sensitive and time-bound handling by all concerned agencies. He noted that citizens should not be made to run from one department or agency to another. He also emphasized the need for clear ownership, faster response, better coordination among law enforcement agencies, banks and digital platforms, and stronger public awareness campaigns.

Prime Minister observed that in cases involving cyber fraud, timely action is crucial to prevent financial loss and restore public confidence. He asked all stakeholders to work in close coordination to strengthen prevention, reporting, investigation and grievance redressal mechanisms. He also emphasised that States should work towards enabling e-Zero FIR mechanisms for faster registration and response in cyber fraud cases.