جناب وزیر اعظم اور میرے دوست نیتن یاہو،

محترمہ نیتن یاہو،

دونوں ممالک کے مندوبین

میڈیا کے دوستوں،

نمسکار!

شلوم!

میں ایک بار پھر وزیر اعظم نیتن یاہو کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں کہ میرے اوربھارتیہ وفد کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔

نو سال پہلے، مجھے اسرائیل کا دورہ کرنے والا پہلا بھارتیہ وزیر اعظم بننے کا شرف حاصل ہوا۔ اسرائیل کی تاریخی سرزمین پر ایک بار پھر قدم رکھنا میرے لیے فخر اور جذباتی لمحہ ہے۔

 

گزشتہ روز مجھے اسرائیلی پارلیمنٹ سے خطاب کا موقع بھی ملا۔ وہاں مجھے اسپیکر آف دی کنیسٹ میڈل سے نوازا گیا۔ میں اس اعزاز کے لیے کنیسیٹ، اسپیکر، میرے دوست وزیر اعظم نیتن یاہو اور اسرائیل کے عوام کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔ میں اسے ایک ارب 40کروڑبھارتیوںاور بھارت اسرائیل دوستی کو وقف کرتا ہوں۔

دوستوں

ہمارے تعلقات گہرے اعتماد، مشترکہ جمہوری اقدار اور انسانی حساسیت کی مضبوط بنیاد پر قائم ہیں۔ ہمارا رشتہ وقت کی کسوٹی پر کھڑا ے۔

آج، ہم نے تاریخی فیصلہ لیا ہے کہ ہم نے وقت کی کسوٹی پرکھڑا اترنے والی  شراکت داری کو’خصوصی اسٹریٹجک پارٹنرشپ‘ کا درجہ دیا ہے۔ یہ فیصلہ دونوں ممالک کے عوام کی امنگوں کی عکاسی کرتا ہے۔

دوستوں

آج کی میٹنگ میں، ہم نے اپنے تعاون کو نئی سمت دینے اور رفتار کو تیز کرنے پر تبادلہ خیال کیا۔ ہمارا اقتصادی تعاون ترقی، اختراع اور مشترکہ خوشحالی کا انجن بنا ہوا ہے۔

گزشتہ سال، ہم نے باہمی سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے دو طرفہ سرمایہ کاری کے معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ ہم جلد ہی ایک باہمی فائدہ مند آزاد تجارتی معاہدے کو بھی حتمی شکل دیں گے۔

ٹیکنالوجی ہماری مستقبل کی شراکت میں مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔ آج، ہم نے ایک اہم اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز پارٹنرشپ قائم کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس سے اے آئی، کوانٹم اور کریٹیکل منرلز جیسے شعبوں میں تعاون کو نئی تحریک ملے گی۔

مجھے خوشی ہے کہ اسرائیل میںیوپی آئی کے استعمال کے لیے ایک معاہدہ طے پا گیا ہے۔ ہم ڈیجیٹل صحت کے شعبے میں اپنے تجربات کا اشتراک کرکے لوگوں کی زندگیوں کو بہتر بنانے کے لیے بھی پرعزم ہیں۔

دفاعی شعبے میں ہمارا کئی دہائیوں پرانا بھروسہ مند تعاون ہے۔ گزشتہ سال دستخط کیے گئے ایم او یو سے اس میں نئی جہتیں شامل ہوں گی۔ ہم مل کر مشترکہ ترقی، مشترکہ پیداوار اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کی طرف بڑھیں گے۔

 

ہم سول نیوکلیئر توانائی اور خلا جیسے شعبوں میں بھی تعاون کو آگے بڑھائیں گے۔

دوستوں

ہمارے دونوں ممالک کے درمیان زرعی تعاون کی ایک طویل اور کامیاب تاریخ ہے۔ آج، ہم نے اس تعاون کو مستقبل کی سمت دینے کا عزم کیا ہے۔

اسرائیل کے تعاون سےبھارت میں قائم کیے گئے سینٹر آف ایکسیلنس ہماری دوستی کی بہترین مثالیں ہیں۔ ان کی کامیابی کو دیکھتے ہوئے، ہم نے ان کی تعداد کو 100 تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔

اس سمت میں ایک قدم آگے بڑھاتے ہوئے، ہم بہترین گاؤں بنانے پر کام کر رہے ہیں۔ اس سےبھارت کے ہر گاؤں میں اسرائیلی ٹیکنالوجی پہنچ جائے گی، جس سے لاکھوں کسانوں کی آمدنی اور پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوگا۔

ساتھ ساتھ، ہم مستقبل کے لیے تیار کھیتی کے حل بھی تیار کریں گے۔ بھارت میں’انڈیا-اسرائیل انوویشن سینٹر فار ایگریکلچر‘ کا قیام اس تعاون کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرے گا۔

دوستوں

ہمارے عوام سے عوام کے تعلقات ہمارے تعلقات کا ایک اہم ستون ہیں۔ 2023 افرادی قوت کی نقل و حرکت کے معاہدے کے ذریعے،بھارت نے اسرائیل کی تعمیر اور دیکھ بھال کرنے والے شعبوں میں اہم شراکت کی ہے۔ بھارتیہ کارکنوں نے اپنی محنت، عزم اور مہارت سے اعتماد حاصل کیا ہے۔

مجھے خوشی ہے کہ اس تعاون کو تجارت اور خدمات جیسے شعبوں تک پھیلایا جا رہا ہے۔ دونوں ممالک کے نوجوانوں، محققین اور اختراع کاروں کو جوڑنا ایک اہم ترجیح رہی ہے۔ اس مقصد کے لیے آج ہم انڈیا-اسرائیل اکیڈمک فورم قائم کر رہے ہیں۔

دوستوں

آج ہم نے علاقائی اور عالمی مسائل پر جامع بات چیت کی۔ علاقائی روابط کو فروغ دیتے ہوئے، ہم انڈیا،مڈل ایسٹ یوروپ اکناک کوریڈور(آئی میک) اور انڈیا اسرائیل،یواے ای ،یوایس اے پہل کی نئی رفتار کے ساتھ آگے بڑھیں گے۔

 

دوستوں

بھارت اور اسرائیل بالکل واضح ہیں کہ

دہشت گردی کی دنیا میں کوئی جگہ نہیں۔

کسی بھی شکل میں، کسی بھی مظہر میں،

دہشت گردی کو برداشت نہیں کیا جا سکتا۔

ہم دہشت گردی اور اس کے حامیوں کے خلاف کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہیں اورکھڑےرہیں گے۔

بھارت کی سلامتی کے مفادات کا براہ راست تعلق مغربی ایشیا میں امن اور استحکام سے ہے۔ اس لیے ہم نے شروع ہی سے بات چیت اور پرامن حل کی حمایت کی ہے۔ یہ گلوبل ساؤتھ اور پوری انسانیت کی پکار ہے۔

بھارت کی سوچ واضح ہے:

انسانیت کو کبھی بھی تصادم کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔ غزہ امن منصوبے نے امن کا راستہ کھول دیا ہے۔بھارت نے ان کوششوں کی مکمل حمایت کی ہے۔ ہم مستقبل میں تمام ممالک کے ساتھ بات چیت اور تعاون جاری رکھیں گے۔

محترم، میرے پیارے دوست،

آپ کے لگاؤ اور گرمجوشی نے میرے دورے کو یادگار بنا دیا ہے۔ میں ایک بار پھر آپ اور اسرائیل کے لوگوں سے جو محبت، پیار اور احترام ملا ہے اس کے لیے میں تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔

آپ کا بہت بہت شکریہ۔

تودا ربا

 

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
UPI — an eventful journey

Media Coverage

UPI — an eventful journey
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
PM chairs 53rd PRAGATI Meeting
August 25, 2026
PM reviews six key infrastructure projects across the Railway, Road and Power sectors
Projects reviewed span across 9 States with cumulative investment of more than ₹30,000 crore
PM says Infrastructure projects should be viewed as an integrated whole, rather than as individual sections or packages
PM calls for continuous reforms across all stages of project implementation and a proactive work culture across Ministries and States
PM says Speed must go hand-in-hand with quality
While reviewing AgriStack, PM emphasises the need to leverage the latest digital technologies including AI to derive greater value from agricultural data
On cyber fraud and ‘digital arrest’, PM stresses training, public awareness, cyber-safety education and coordinated action

Prime Minister Shri Narendra Modi chaired the 53rd meeting of PRAGATI, the ICT-enabled, multi-modal platform for Pro-Active Governance and Timely Implementation, at Seva Teerth earlier today.

During the meeting, Prime Minister reviewed six key infrastructure projects across the Railway, Road and Power sectors, spanning nine States with a cumulative cost of more than ₹30,000 crore. The projects, significant for strengthening connectivity, supporting industrial and economic activity and improving public services, were reviewed with particular emphasis on adherence to timelines, inter-agency coordination, resolution of pending issues and expeditious completion.

Prime Minister emphasised that delays in infrastructure projects have consequences beyond cost escalation, as they also postpone the benefits intended for citizens, businesses and the economy. He said that infrastructure projects should be viewed and monitored as an integrated whole, rather than as isolated sections, stretches or packages. He noted that progress in individual packages should ultimately translate into timely completion and operationalisation of the entire project. Ministries and States were therefore asked to adopt an end-to-end approach, and address critical gaps that could delay the overall commissioning and delivery of benefits. He called for fostering a proactive work culture across Ministries and State Governments, with greater ownership at every level of project implementation.

Prime Minister stressed the need to explore common utility corridors for infrastructure services, wherever feasible, particularly while planning major transport and infrastructure projects. He called upon Ministries and States to examine such integrated approaches at the planning stage itself, keeping in view their technical and economic feasibility.

Prime Minister said that speed of execution must be accompanied by uncompromising quality. He called upon Ministries, States and implementing agencies to adopt modern technologies and strengthen quality assurance and supervision at every stage.

While reviewing AgriStack under the Digital Agriculture Mission, Prime Minister emphasised the need to leverage the latest digital technologies, including Artificial Intelligence, to derive greater value from agricultural data. He stressed that the data ecosystem should be effectively utilised across the agricultural value chain, from input planning to processing, enabling more informed interventions, better targeting and data-driven decision-making. He appreciated the efforts of the States and the Central Government in building the AgriStack ecosystem and called for further strengthening its use for delivering better outcomes for farmers.

During the review of cyber fraud cases, including incidents of digital arrest, Prime Minister said that prevention must be strengthened through a sustained focus on training, awareness and education. He stressed the need for continuous and targeted public-awareness campaigns, particularly for senior citizens, youth and other vulnerable sections, to familiarise them with common fraud techniques, warning signs and safe digital practices. He also called for regular capacity-building of personnel involved so that emerging modes of cyber fraud are identified and acted upon swiftly.