وزیراعظم نے نیوز9 گلوبل سمٹ سے خطاب کیا

Published By : Admin | February 26, 2024 | 19:50 IST
"اگر آج دنیا یہ سمجھتی ہے کہ ہندوستان ایک بڑی چھلانگ لگانے کے لیے تیار ہے، تو اس کے پس پشت 10 سال کا طاقتور لانچ پیڈ ہے"
"آج 21ویں صدی کے ہندوستان نے چھوٹے پیمانے پر سوچنا چھوڑ دیا ہے۔ آج ہم جو کچھ کر رہے ہیں وہ بہترین اور سب سے بڑا ہے"
ہندوستان میں حکومت اور نظام پر اعتماد بڑھ رہا ہے
’سرکاری دفاتر اب کوئی مسئلہ نہیں بلکہ اہل وطن کے اتحادی بن رہے ہیں‘
"ہماری حکومت نے دیہاتوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے انفرااسٹرکچر بنایا"
"بدعنوانی پر روک لگا کر، ہم نے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ ترقی کے فوائد ہندوستان کے ہر خطہ میں یکساں طور پر پہنچیں"
"ہم تکمیل کی حکمرانی پر یقین رکھتے ہیں، کمی کی سیاست پر نہیں"
"ہماری حکومت نیشن فرسٹ کے اصول کو مقدم رکھتے ہوئے آگے بڑھ رہی ہے"
’’ہمیں 21ویں صدی کے ہندوستان کو اس کی آنے والی دہائیوں کے لیے آج ہی تیار کرنا ہے‘‘۔
"بھارت مستقبل ہے"

وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج نئی دہلی میں نیوز 9 گلوبل سمٹ سے خطاب کیا۔ اس سمٹ کا تھیم ’’بھارت: بڑی چھلانگ کے لیے تیار‘‘ ہے۔

حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ ٹی وی 9 کی رپورٹنگ ٹیم ہندوستان کے تنوع کی نمائندگی کرتی ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ان کے کثیر لسانی خبروں کے پلیٹ فارموں نے ٹی وی 9 کو ہندوستان کی متحرک جمہوریت کا نمائندہ بنا دیا ہے۔

 

وزیر اعظم نے اس چوٹی کانفرنس کے موضوع  ’ہندوستان: بڑی چھلانگ کے لیے تیار‘پر روشنی ڈالی اور اس بات پر زور دیا کہ ایک بڑی چھلانگ صرف اسی وقت لگائی جا سکتی ہے جب کوئی جذبہ اور جوش سے لبریز ہو۔ انہوں نے کہا کہ یہ تھیم 10 سال میں تیارہوئے  لانچ پیڈ کی وجہ سے ہندوستان کی خود اعتمادی اور خواہشات کو اجاگر کرتا ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ان 10 سالوں میں ذہنیت، خود اعتمادی اور اچھی حکمرانی تبدیلی کے بڑے عوامل رہے ہیں۔

وزیر اعظم نے ہندوستان کی تقدیر میں شہریوں کی مرکزیت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ شکست کی ذہنیت جیت کا باعث نہیں بن سکتی، اس کی روشنی میں انہوں نے کہا کہ ذہنیت اور چھلانگ میں جو تبدیلی آئی ہے وہ ناقابل یقین ہے۔ وزیر اعظم مودی نے ماضی کی قیادت کی طرف سے سامنے آنے والے منفی نقطہ نظر کو یاد کیا اور کہا کہ بدعنوانی، گھپلوں، پالیسی فالج زدگی اور خاندانی سیاست نے ملک کی بنیاد کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ وزیر اعظم نے تبدیلی اور ہندوستان کے دنیا کی ٹاپ 5 معیشتوں میں داخل ہونے کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہاکہ 21ویں صدی کا ہندوستان چھوٹے پیمانے پرنہیں سوچتا۔ ہم جو بھی کرتے ہیں، ہم بہترین اور سب سے بڑا کرتے ہیں۔ دنیا حیران ہے اور ہندوستان کے ساتھ آگے بڑھنے کا فائدہ دیکھتی ہے۔

2014 سے پہلے کے دس سالوں کے مقابلے پچھلے 10 سالوں کی کامیابیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے، وزیر اعظم نے ایف ڈی آئی میں 300 بلین امریکی ڈالر سے 640 بلین امریکی ڈالر تک ریکارڈ اضافہ، ہندوستان کا ڈیجیٹل انقلاب، ہندوستان کے کووڈ ویکسین پر اعتماد اور ملک میں ٹیکس دہندگان کی بڑھتی ہوئی تعداد کا ذکر کیا، جو حکومت پر عوام کے بڑھتے ہوئے اعتماد کی علامت ہیں۔ ملک میں میوچل فنڈ کی سرمایہ کاری کے بارے میں بات کرتے ہوئے وزیر اعظم نے بتایا کہ لوگوں نے 2014 میں 9 لاکھ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی تھی جبکہ 2024 میں یہ 52 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ گئی ہے۔ "یہ شہریوں پر ثابت کرتا ہے کہ قوم طاقت کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے"، وزیر اعظم مودی نے مزید کہا کہ خود پر اور حکومت کے تئیں اعتماد کی سطح برابر ہے۔

 

 

وزیراعظم نے کہا کہ حکومت کا ورک کلچر اور گورننس اس تبدیلی کی وجہ ہے۔انہوں نے کہا کہ سرکاری دفاتر اب کوئی مسئلہ نہیں رہے بلکہ ہم وطنوں کے حلیف بن رہے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ اس چھلانگ کے لیے گیئر میں تبدیلی کی ضرورت تھی۔ انہوں نے اتر پردیش میں سریو کینال پروجیکٹ، سردار سروور یوجنا اور مہاراشٹر کے کرشنا کوئینا پریوجنا جیسے طویل عرصے سے زیر التواء پروجیکٹوں کی مثالیں دیں جو کئی دہائیوں سے زیر التوا تھے اور حکومت نےجنہیں مکمل کیا۔ وزیر اعظم نے اٹل ٹنل کی طرف توجہ مبذول کروائی جس کا سنگ بنیاد 2002 میں رکھا گیا تھا لیکن 2014 تک نامکمل رہا اور یہ موجودہ حکومت ہی ہے جس نے 2020 میں اس کے افتتاح کے ساتھ ہی اس کام کو پایہ تکمیل تک پہنچایا۔ انہوں نے آسام میں بوگی بیل پل کی مثال بھی دی، جس کا آغاز1998 میں کیا گیا لیکن آخر کار 20 سال بعد 2018 میں اس کی تکمیل ہوئی۔ انہوں نے ایسٹرن ڈیڈیکیٹڈ فریٹ کوریڈور کا بھی ذکر کیا ، جس کا آغاز 2008 میں ہوا لیکن جس کی تکمل 15 سال بعد 2023 میں ہوئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ حکومت کے 2014 میں اقتدار میں آنے کے بعد ایسے سیکڑوں زیر التوا منصوبے پایہ تکمل کو پہنچے ہیں۔ وزیر اعظم نے پرگتی کے تحت بڑے پروجیکٹوں کی باقاعدہ نگرانی کے اثرات کی بھی وضاحت کی اور بتایا کہ پچھلے 10 سالوں میں میکانزم کے تحت 17 لاکھ کروڑ کے پروجیکٹوں کا جائزہ لیا گیا ہے۔ وزیر اعظم نے چند پروجیکٹوں کی مثالیں بھی دیں جو بہت تیزی سے مکمل ہوئے جیسے اٹل سیتو، پارلیمنٹ بلڈنگ، جموں ایمس، راجکوٹ ایمز، آئی آئی ایم سنبل پور، تریچی ہوائی اڈے کا نیا ٹرمنل، آئی آئی ٹی بھیلائی، گوا ہوائی اڈہ، لکشدیپ تک زیر سمندر کیبل، وارانسی میں بناس ڈیری، دوارکا سدرشن سیتو وغیرہ۔ ان تمام منصوبوں کا سنگ بنیاد وزیراعظم نے رکھا اور انہیں قوم کے نام وقف بھی کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب ٹیکس دہندگان کے پیسے کے تئیں قوت ارادی اور احترام ہو، تب ہی قوم آگے بڑھتی ہے اور ایک بڑی چھلانگ لگانے کے لیے تیار ہوتی ہے۔

 

وزیر اعظم نے صرف ایک ہفتے کی سرگرمیوں کی فہرست دے کر اس کو واضح کیا۔ انہوں نے 20 فروری کو جموں سے آئی آئی ٹی، آئی آئی ایم اور آئی آئی آئی ٹی جیسے درجنوں اعلیٰ تعلیمی اداروں کی سمت میں ہوئی پیش رفت کا ذکر کیا۔ 24 فروری کو انہوں نے راجکوٹ سے 5 ایمس  کو قوم کے نام وقف کیا اور 500 سے زیادہ امرت اسٹیشنوں کی بازیابی سمیت 2000 سے زیادہ پروجیکٹوں کو آج انجام تک پہنچایاگیا۔ انہوں نے بتایا کہ آنے والے دو دنوں میں تین ریاستوں کے دورے کے دوران یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہم پہلے، دوسرے اور تیسرے انقلاب میں پیچھے رہے، اب ہمیں چوتھے انقلاب میں دنیا کی قیادت کرنی ہے۔

انہوں نے ملک کی ترقی کی تفصیلات پیش کرتے ہوئے اپنی بات  جاری رکھی۔ انہوں نے روزانہ 2 نئے کالج، ہر ہفتے ایک نئی یونیورسٹی، روزانہ 55 پیٹنٹ اور 600 ٹریڈ مارکس، روزانہ 1.5 لاکھ مدرا لون، روزانہ 37 اسٹارٹ اپ، یومیہ 16 ہزار کروڑ روپے کا یو پی آئی لین دین، 3 نئے جن اوشدھی کیندر، روزانہ 14 کلومیٹر سڑک کی تعمیر، روزانہ 50 ہزار ایل پی جی کنکشن، ہر سیکنڈ میں ایک نل کنکشن اور روزانہ 75 ہزار لوگوں کے غربت سے باہر آنے کا ذکر  کیا۔

ملک میں کھپت کے انداز پر ایک حالیہ رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے، وزیر اعظم نے اس حقیقت کو اجاگر کیا کہ غریبی اب تک کی سب سے نچلی سطح پر سنگل ہندسہ تک پہنچ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اعداد و شمار کے مطابق ایک دہائی پہلے کے مقابلے میں کھپت میں 2.5 گنا اضافہ ہوا ہے کیونکہ لوگوں کی مختلف اشیا اور خدمات پر خرچ کرنے کی صلاحیت میں اضافہ ہوا ہے۔ گزشتہ 10 سالوں میں، دیہاتوں میں کھپت شہروں کے مقابلے میں بہت تیز رفتاری سے بڑھی ہے۔ انہوں نے کہا اس کا مطلب یہ ہے کہ گاؤں کے لوگوں کی معاشی طاقت بڑھ رہی ہے، ان کے پاس خرچ کرنے کے لیے زیادہ پیسے ہیں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت نے دیہی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے بنیادی ڈھانچہ تیار کیا ہے جس کے نتیجے میں بہتر رابطے، روزگار کے نئے مواقع اور خواتین کی آمدنی میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے دیہی ہندوستان مضبوط ہوا ہے۔ وزیراعظم نے مزید کہاکہ ہندوستان میں پہلی بار کھانے کے اخراجات کل اخراجات کے 50 فیصد سے بھی کم ہو گئے ہیں۔ یعنی، وہ خاندان جو پہلے اپنی تمام تر توانائی خوراک کے حصول میں صرف کرتا تھا، آج اس کے ارکان دوسری چیزوں پر پیسہ خرچ کرنے کے اہل ہیں۔

 

پچھلی حکومت کی طرف سے اپنائے گئے ووٹ بینک کی سیاست کے رجحان کی نشاندہی کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان ، پچھلے 10 سالوں میں بدعنوانی کو ختم کرکے اور ترقی کے فوائد کو مساوی طور پر تقسیم کئے جانے کو یقینی بنا کر کمی کی ذہنیت سے باہر نکلا ہے۔ وزیر اعظم نے زور دے کر کہا کہ ہم نے تشٹیکرن (نازبرداری) کی بجائے لوگوں کی سنتشٹی (اطمینان) کا راستہ چنا ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ یہ گزشتہ ایک دہائی سے حکومت کا منتر ہے۔ "یہ سب کا ساتھ سب کا وکاس ہے"، وزیر اعظم نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے ووٹ بینک کی سیاست کو کارکردگی کی سیاست میں بدل دیا ہے۔ مودی کی گارنٹی گاڑی پر روشنی ڈالتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ آج کی حکومت گھر گھر جا رہی ہے اور مستحقین کو سہولیات فراہم کر رہی ہے۔ وزیر اعظم مودی نے کہا کہ جب سیچوریشن ایک مشن بن جائے تو کسی قسم کے امتیاز کی کوئی گنجائش نہیں رہتی۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ہماری حکومت نیشن فرسٹ کے اصول کو مقدم رکھتے ہوئے آگے بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے پرانے چیلنجوں کو حل کرنے کے لیے حکومت کی جانب سے کیے گئے اہم فیصلوں کا ذکر کیا۔ انہوں نے آرٹیکل 370 کی منسوخی، رام مندر کی تعمیر، تین طلاق کے خاتمے، ناری شکتی وندن ادھینیم، ون رینک ون پنشن اور چیف آف ڈیفنس اسٹاف کے عہدے کی تخلیق کے بارے میں گفتگو کی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت نے ایسے تمام ادھورے کاموں کو نیشن فرسٹ کی سوچ سے مکمل کیا۔

 

وزیر اعظم نے 21ویں صدی کے ہندوستان کو تیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور تیزی سے آگے بڑھ رہے منصوبوں پر روشنی ڈالی۔انہوں نے کہا کہ خلا سے سیمی کنڈکٹر تک، ڈیجیٹل سے ڈرون تک، اے آئی  سے صاف توانائی تک، 5 جی  سے فن ٹیک تک، ہندوستان آج دنیا میں سب سے آگے پہنچ گیا ہے۔انہوں نے عالمی دنیا میں ڈیجیٹل ادائیگیوں میں سب سے بڑی قوتوں میں سے ایک ہونے،فن ٹیک اپنانے کی شرح میں سب سے تیزی سے ترقی کرنے والا ملک ہونے، چاند کے جنوبی قطب پر روور اتارنے والا پہلا ملک بننے ،شمسی توانائی سے نصب صلاحیت میں دنیا کے پیش پیش رہنے والے ممالک میں سے ایک ہونے،5جی نیٹ ورک کی توسیع کے معاملے میں یوروپ کو پیچھے چھوڑدینے، سیمی کنڈکٹر کے شعبے  میں تیز رفتار ترقی اور سبز ہائیڈروجن جیسے مستقبل کے ایندھن کے معاملے میں تیزرفتار ترقی کے طور پر ہندوستان کی بڑھتی ہوئی صلاحیت کو اجاگر کیا۔

خطاب کے اختتام پر وزیر اعظم نے کہاکہ آج ہندوستان اپنے روشن مستقبل کے لیے سخت محنت کر رہا ہے۔ ہندوستان کی نظر  مستقبل  پرہے۔ آج ہر کوئی کہہ رہا ہے کہ ہندوستان مستقبل ہے۔ انہوں نے اگلے 5 سالوں کی اہمیت کی طرف بھی توجہ مبذول کروائی۔ انہوں نے تیسری میعاد میں ہندوستان کی صلاحیت کو نئی بلندیوں تک لے جانے کے یقین کا اعادہ کیا اور خواہش ظاہر کی کہ آنے والے 5 سال وکست بھارت کے سفر میں ترقی اور ستائش کے سال ہوں ۔

 

تقریر کا مکمل متن پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

Explore More
لال قلعہ کی فصیل سے 77ویں یوم آزادی کے موقع پر وزیراعظم جناب نریندر مودی کے خطاب کا متن

Popular Speeches

لال قلعہ کی فصیل سے 77ویں یوم آزادی کے موقع پر وزیراعظم جناب نریندر مودی کے خطاب کا متن
Make in India: Google to manufacture drones in Tamil Nadu, may export it to US, Australia, others

Media Coverage

Make in India: Google to manufacture drones in Tamil Nadu, may export it to US, Australia, others
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
PM Modi addresses a vivacious crowd in Pataliputra, Bihar
May 25, 2024
INDI alliance aims to play musical chairs with the Prime Minister's seat: PM Modi in Pataliputra, Bihar
The RJD-Congress are conspiring to allocate SC/ST/OBC quotas to their vote bank: PM Modi in Bihar
Congress allowed grains to rot while refusing to feed the poor: PM Modi taking a jibe at the Opposition

Prime Minister Narendra Modi graced the historic land of Pataliputra, Bihar, vowing to tirelessly drive the nation’s growth and prevent the opposition from dividing the country on the grounds of inequality.

As PM Modi further delved into his spirited address, he praised the dedication of BJP workers, attributing the party's success to their tireless efforts. He humorously noted the popularity of Maner ladoos, urging supporters to have them ready for June 4th. PM Modi also pointed out that the opposition's complaints about EVMs are the best indicator of NDA's impending victory. He confidently declared that new records would be set in Pataliputra and across the nation, echoing the sentiment, "Phir Ek Baar...Modi Sarkar!"

PM Modi highlighted the stark contrast between his vision and the opposition's focus. On one side, he is dedicated to building a Viksit and Aatmanirbhar Bharat by 2047, “working tirelessly to enhance national security and modernize infrastructure.” On the other side, “the INDI Alliance has no agenda but to criticize Modi and cater to their vote bank. The choice is clear: progress and development with Modi, or constant negativity with the INDI Alliance.”

PM Modi emphasized the importance of the upcoming election, not just for choosing MPs but for selecting the right PM. He underscored India's need for a strong leader who can showcase the nation's power on the global stage. Contrasting this vision, the PM highlighted the INDI Alliance’s plan to deliver five different PMs in five years, “The contenders? A parade of family members: sons and daughters from the Gandhi, SP, National Conference, NCP, TMC, AAP, fake Shiv Sena, and RJD families. Their aim is to play musical chairs with the Prime Minister's seat, driven by dynastic politics rather than national interest.”

In his address, PM Modi also underscored Bihar's historic role in championing social justice and the right to reservation for SC/ST/OBC communities. However, he revealed a bitter truth. “The RJD-Congress and their allies are betraying these very communities. The Constitution and Baba Saheb Ambedkar clearly state there should be no reservation based on religion. Yet, the RJD-Congress are conspiring to allocate SC/ST/OBC quotas to their vote bank, undermining constitutional principles,” he remarked.

PM Modi also exposed this betrayal, stating, “Every caste, including Yadav, Kurmi, Kushwaha, Kalwar, Teli, Suri, Kanu, Nishad, Paswan, Ravidas, and Musahar, has been robbed of their rightful reservation. These actions are not just unconstitutional but also a grave injustice to the children of Dalits, backward classes, and tribals, whose admission quotas have been unfairly reduced in favour of Muslims.” This, he emphasized, is a stark violation of the principles of social justice and the Constitution.

PM Modi shared his understanding of what it means to have one's rights taken away. This empathy drives his commitment to ensuring the poor receive their due. He reminded the crowd of the days “when Congress allowed grains to rot while refusing to feed the poor”, contrasting it with his own “policy of opening warehouse doors to every needy person, ensuring no mother stays awake worrying about feeding her child.”

PM Modi also announced plans to build more pucca houses, equipped with toilets, electricity, cheap gas cylinders, and tap water. He mentioned about the PM Suryaghar Yojana, which aims to reduce electricity bills to zero and install solar panels, allowing families to use free electricity and even earn by selling the surplus to the government.

As he concluded his speech, PM Modi urged everyone to visit local temples and seek blessings for a Viksit Bharat. He passionately encouraged the crowd to vote for the BJP, saying, "Let's ensure victory for a stronger, prosperous nation!"