چترمایہ شیو پوران گرنتھ کا اجراءکیا
لیلا چترا مندر کا دورہ کیا
’’گیتا پریس صرف ایک پرنٹنگ پریس نہیں ہے،بلکہ ایک زندہ عقیدت ہے‘‘
’’وسودیوا سروم یعنی سب کچھ وسودیو میں ہی ہے‘‘
’’روحانی روشنی جو 1923میں گیتا پریس کی شکل میں جگمگا اٹھی آج پوری انسانیت کے لئے رہنما بن گئی ہے‘‘
’’گیتا پریس ہندوستان کو جوڑتا ہے، ہندوستان کی یکجہتی کو مضبوط کرتا ہے‘‘
’’گیتا پریس ایک طرح سے ’ایک بھارت، شریشٹھ بھارت‘کے جذبی کی نمائندگی کرتا ہے‘‘
’’جب جب بے انصافی اور دہشت مضبوط ہوئی اور سچائی پر خطرے کے بادل چھائے ہیں، بھگوت گیتا ہمیشہ تحریک کا منبع ثابت ہوئی ہے‘‘
’’گیتا پریس جیسے ادارے انسانی قدروں اور اصولوں کا احیا ء کرنے کے لئے پیدا ہوئے ہیں‘‘
’’ہم ایک نیا ہندوستان بنائیں گے اور اپنے دنیا کی بہبود اور فلاح کے وژن کو کامیاب بنائیں گے‘‘

وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج اترپردیش کے گورکھپور میں تاریخی گیتا پریس کی صدی تقریبات کی اختتامی تقریب سے خطاب کیا اور چترامایہ شیو پوران گرنتھ کا اجراء کیا۔وزیر اعظم نے گیتا پریس میں لیلا چتر مندر کا بھی دورہ کیا اور بھگوان شری رام کی تصویر پر گلہائے عقیدت پیش کئے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ ساون کے مقدس مہینے میں اور اندر دیو کے آشیرواد سے انہیں گوکھپور میں گیتا پریس میں حاضر ہونے کا موقع ملا ہے، جو شیو اوتار گورو گورکھ ناتھ کی پوجا استھلی اور کرم بھومی ہے۔ وزیر اعظم نے اپنے گورکھپور دورے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ ترقی اور وراثت اور کے ساتھ ساتھ چلنے کی غیر معمولی مثال ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ گورکھپور ریلوے اسٹیشن کی از سر نو تزئین کاری و ترقی کا سنگ بنیاد رکھنے کے لئے گورکھپور ریلوے اسٹیشن جائیں گے اور گیتا پریس میں پروگرام کے اختتام کے بعد دو وندے بھارت ایکسپریس ٹرینوں کو ہری جھنڈی دکھائیں گے۔ انہوں نے یہ بھی ذکر کیا مجوزہ ریلوے اسٹیشن کی تصویروں نے شہریوں میں جوش پیدا کردیا ہے۔ وندے بھارت ایکسپریس کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہ کہا کہ اس سے متوسط طبقے کے لئے سہولت کی سطح بلند ہوئی ہے۔ اس وقت کو یاد کرتے ہوئے جب وزراء کو اپنے انتخابی حلقے میں ایک ٹرین کے ٹھہراؤ کے لئے خطوط لکھنے پڑتے تھے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ آج وزراء وندے بھارت ٹرینوں کو ہری جھنڈی دکھانے کے لئے خطوط لکھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا’’وندے بھارت ٹرینیں ایک کریز بن گئی ہے۔‘‘جناب مودی نے آج کے پروجیکٹوں کے لئے گورکھپور اور تمام ہندوستان کے لوگوں کو مبارکباد دی۔

 

وزیر اعظم نے کہا’’گیتا پریس محض ایک پرنٹنگ پریس نہیں، بلکہ ایک زندہ عقیدہ ہے۔‘‘انہوں نے کہا کہ گیتا پریس کا دفتر کروڑوں لوگوں کے لئے کسی تیرتھ استھل سے کم نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ گیتا میں کرشن ہے، کرشن کے ساتھ کرونا اور کرم ہے اور ان کے ساتھ ساتھ سائنسی تحقیق کا جذبہ بھی ہے۔ وزیر اعظم نے گیتا کا حوالہ دیتے ہوئے کہا’’واسودیو سروم یعنی سب کچھ واسودیو میں ہی ہے۔‘‘

وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ 1923میں گیتا پریس کی شکل میں روحانیت کی جو روشنی پیدا ہوئی ، وہ آج پوری انسانیت کے لئے راہ نما بن گئی ہے۔ انہوں نے اس انسانی مشن کی صدی کا گواہ بننے کی سعادت حاصل کرنے پر شکریہ ادا کیا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ اس  تاریخی موقع پر سرکار نے گیتا پریس کو گاندھی امن ایوارڈ سے نوازا ہے۔وزیر اعظم نے گیتا پریس سے مہاتماگاندھی کے جذباتی لگاؤ کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ گاندھی جی کبھی کلیان پتریکا کے ذریعے گیتا پریس کے لئے لکھتے تھے۔انہوں نے آگے کہا کہ یہ گاندھی جی ہی تھے ، جنہوں نے یہ مشورہ دیا تھا کہ کلیان پتریکا میں اشتہار شائع نہیں کیا جانا چاہئے اور اس مشورے پر اب بھی عمل کیا جارہا ہے۔وزیر اعظم نے مسرت ظاہر کی کہ ملک نے گاندھی امن ایوارڈ سے نواز کر گیتا پریس کے تئیں اپنا احترام ظاہر کیا۔ کیونکہ یہ تعاون اور اس کی 100سال پرانی وراثت کا احترام کرتا ہے۔ وزیر اعظم نے آگے کہا کہ ان 100برسوں میں گیتا پریس نے کروڑوں کتابیں شائع کی ہیں، جو لاگت سے کم قیمت پر فروخت کی جاتی ہیں۔ انہوں نے اس روحانی اور دانشورانہ اطمینان پر توجہ دی کہ علم کے اس ذریعہ سے بہت سے قاری فیض یاب ہوئے ہوں گے ، ساتھ ہی ساتھ اس میں متعدد وقف شہریوں کی تیاری کا کام کیا ہوگا۔وزیر اعظم نے ان تمام لوگوں کو مبارکباد دی، جو بے لوث جذبے کے ساتھ اس کام میں تعاون دے رہے ہیں۔ انہوں نے سیٹھ جی جے دیال گوئندکا اور بھائی جی شری ہنومان پرساد پوددار جیسی شخصیتوں کو بھی خراج عقیدت پیش کیا۔

وزیر اعظم نے اُجاگر کیا کہ گیتا پریس جیسا ادارہ نہ صرف دھرم اور کرم سے جڑا ہے، بلکہ اس کا قومی کردار بھی ہے۔’’گیتا پریس ہندوستان کو جوڑتا ہے، ہندوستان کی یکجہتی کو مضبوط کرتا ہے۔‘‘ وزیر اعظم نے یہ بات تب کہی جب انہیں ملک بھر میں اس کی 20شاخوں کے بارے میں معلومات دی گئی۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ملک کے ہر ریلوے اسٹیشن پر گیتا پریس کے اسٹال مل جائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ گیتا پریس 15 الگ الگ زبانوں میں 1600ٹائٹل شائع کرتا ہے اور ہندوستان کے بنیادی نظریہ اور خیالات کو مختلف زبانوں میں عوام تک مشتہر کرتا ہے۔انہوں نے کہا’’گیتا پریس ایک طرح سے ’’ایک بھارت ، شریشٹھ بھارت کے جذبے کی نمائندگی کرتاہے۔‘‘

وزیر اعظم نے بتایا کہ یہ کوئی اتفاق نہیں ہے کہ گیتا پریس اپنے 100سال کا سفر ایسے وقت میں مکمل کیا ہے، جب ملک اپنی آزادی کے 75سال منارہا ہے۔ 1947 سے پہلے کے وقت پر روشنی ڈالتے ہوئے جب ہندوستان نے اپنی ازسر نوبیداری کے لئے مختلف شعبوں میں مسلسل کوشش کی۔وزیر اعظم نے کہا کہ ہندوستان کی روح کو زندہ کرنے کے لئے مختلف ادارے وجود میں آئے۔ انہوں نے کہا کہ نتیجے کے طورپر 1947 تک ہندوستان دل اور روح سے غلامی کی زنجیروں کو توڑنے کے لئے پوری طرح سے تیار تھا۔ انہوں نے کہا کہ گیتا پریس کا قیام بھی اس کا ایک بڑا بنیاد بنا۔ وزیر اعظم نے اس وقت پر افسوس ظاہر کیا کہ جب صدیوں کی غلامی نے 100 سال پہلے ہندوستان کی فکر کو مٹا دیا تھا اور غیر ملکی حملہ وروں نے ہندوستان کی لائبریریوں کو جلا دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ برطانوی عہد میں گوروکل اور گورو پرمپراتقریباً تباہ ہوگئی تھی۔ انہوں نے ہندوستان کے مقدس گرنتھوں کے غائب ہونے کی شروعات پر بھی روشنی ڈالی ، کیونکہ اس وقت پرنٹنگ پریس اعلیٰ لاگت کے سبب عام آدمی کی رسائی سے باہر تھے۔ وزیر اعظم نے کہا’’گیتا اور رامائن کے بغیر ہمارا سماج کیسے چلے گا؟جب قدروں اور اصولوں کے ذرائع خشک ہونے لگتے ہیں تو سماج کی روانی اور بہاؤ از خود رُک جاتا ہے۔‘‘ 

وزیر اعظم نے زور دے کر یہ بات کہی کہ  جب اَدھرم اور دہشت مضبوط ہوئے اور سچائی پر خطرے کے بادل چھاگئے تو بھگوت گیتا ہمیشہ تحریک کا ذریعہ بنی ہے۔وزیر اعظم نے گیتا کا حوالہ دیتے ہوئے مزید بتایا کہ جب جب مذہب اور سچائی کی بالادستی پر بحران آتا ہے تب تب بھگوان اس کے تعصب کے لئے زمین پر اوتار لیتے ہیں۔ بھگوان کے کسی بھی شکل میں ظاہر ہونے کے بارے میں بتانے والی گیتا کے دسویں باب کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ بعض اوقات انسانی قدروں اور اصولوں کی احیاء کے لئے گیتا پریس جیسے اداروں کا جنم ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گیتا پریس میں 1923 میں اپنے قیام کے ساتھ ہی ہندوستان میں فکر اور غورو خوض کے بہاؤ کو تیز کردیا ۔ انہوں نے کہا کہ گیتا سمیت ہمارے دھرم گرنتھ ایک بار پھر ہر گھر میں پائے جانے لگے اور ہمارے اذہان ہندوستان کے ذہن کے ساتھ شامل ہوگئے۔انہوں نے کہا’’خاندانی روایتیں اور نئی نسل ان کتابوں سے جڑنے لگی اور اس طرح ہماری یہ مقدس کتابیں آنے والی نسلوں کے لئے ایک بنیاد بن گئی۔‘‘

وزیر اعظم نے کہا’’گیتا پریس اس بات کا ثبوت ہے کہ جب آپ کے مقاصد نیک ہوتے ہیں، آپ کی اقدار خالص ہوتی ہے تو کامیابی لازمی ہوجاتی ہے۔‘‘ انہوں نے اُجاگر کیا کہ ایک ادارے کی شکل میں گیتا پریس نے ہمیشہ سماجی اقدار کو مالا مال کیا ہے اور لوگوں کو فرض کا راستہ دکھایا ہے۔ انہوں نے گنگا ندی کی صفائی، یوگا سائنس،پتنجلی یوگا سوتر کی اشاعت’آروگیہ انک‘کے ساتھ آیوروید ’جیون چریہ انک‘کی اشاعت کا ذکر کیا، جس نے لوگوں کو ہندوستانی طرز زندگی، سماجی خدمت کے اصولوں سے واقف کرایا۔ جناب مودی نے کہا ’’ان تمام کوششوں کے پیچھے قومی خدمت کی تحریک جڑی ہوئی ہے اور قومی تعمیر کا عہد پوشیدہ رہا ہے۔‘‘

جناب مودی نے کہا کے سنتوں کی تپسیہ  کبھی ناکام نہیں ہوتی، ان کے عہد کبھی کھوکھلے نہیں ہوتے۔ غلامی کی ذہنیت سے آزادی اور اپنی وراثت پر فخر کرنے سے لے کر لال قلعہ سے اپنے خطاب کو یاد دلاتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ ملک ترقی اور وراثت  دونوں کو ساتھ لے کر آگے بڑھ رہا ہے۔ ایک طرف جہاں ہندوستان ڈیجیٹل تکنیک میں نئے ریکارڈ بنا رہا ہے، وہیں کاشی کاریڈور کی از سر نو ترقی کے بعد کاشی میں وشوناتھ دھام کا وسیع روپ بھی سامنے آیا ہے۔ وزیر اعظم نے عالمی سطحی بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کا ذکر کیا ، تاکہ کیدارناتھ اور مہاکال مہالوک جیسے مذہبی مقامات کی عظمت کا بھی ذکر کیا ۔ وزیر اعظم نے اس بات کی طرف بھی توجہ دلائی  کہ صدیوں کے بعد ایودھیا میں عظیم الشان رام مندر کا خواب بھی پورا ہونے جارہا ہے۔وزیر اعظم نے چھترپتی شوا جی مہاراج کے وقف کا نشان دکھانے والے نئے بحریہ جھنڈے کا بھی ذکر کیا۔ وزیر اعظم نے فرض کے جذبے کو متحرک کرنے کے لئے راج پتھ کا نام بدل کر کرتویہ پتھ کرنے ، قبائلی روایتوں اور قبائلی مجاہدین آزادی کا اعزاز کرنے کے لئے ملک بھر میں میوزیم کی ترقی اور مقدس قدیم مورتیوں کو دوبارہ نصب کرنے کی بات بھی کہی، جنہیں چوری کرکے ملک کے باہر بھیج دیا گیا تھا۔

خطاب کا اختتام کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ ترقی یافتہ اور روحانیت سے سرشار ہندوستان کا خیال ہمارے رشیوں منیوں نے ہمیں دیا تھا اور آج اسے حقیقت کا روپ اختیار کرتے دیکھا جاسکتا ہے۔وزیر اعظم ے اعتماد ظاہر کیا کہ ہمارے سادھو سنتوں کی سادھنا ہندوستا ن کی اجتماعی ترقی کے لئے اسی طرح توانائی فراہم کرتی رہے گی۔ وزیر نے یہ کہتے ہوئے اپنی بات ختم کی کہ ’’ہم ایک نئے ہندوستان کی تعمیر کریں گے اور عالمی فلاح و بہبود کے وژن کو کامیاب بنائیں گے۔‘‘

اس موقع پر اترپردیش کی گورنر محترمہ آنندی بین پٹیل، اترپردیش کے وزیر اعلیٰ جناب یوگی آدتیہ ناتھ، گورکھپورکے ممبرپارلیمنٹ جناب روی کشن، گیتا پریس کے ٹرسٹ بورڈ کے جنرل سیکریٹری  جناب وشنو پرساد چندگوٹھیا اور چیئرمین کیشورام اگروال دیگر اہم شخصیات کے ساتھ موجود تھے۔ 

تقریر کا مکمل متن پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
Pharma exports rose 2% to over $31 billion in FY26 despite sharp decline in March

Media Coverage

Pharma exports rose 2% to over $31 billion in FY26 despite sharp decline in March
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
India-ROK Comprehensive Framework for Partnership in Shipbuilding, Shipping and Maritime Logistics
April 20, 2026
Shared Vision for Operation of Yard Asssisted Growth with Efficiency and Scale (VOYAGES)

During the meeting between Prime Minister H.E. Shri Narendra Modi of India and H.E. Mr. Lee Jae Myung of the Republic of Korea (ROK) on the occasion of the latter’s state visit to India on 20 April 2026, the two sides had productive and in-depth exchange of views on mutually beneficial cooperation between their government agencies and private entities for partnership in shipbuilding, shipping and maritime logistics.

India and the ROK are both nations with rich maritime traditions and share extensive common interests and complementary strengths in the domain of maritime industries. With India’s rapid economic growth and internationalization of its economy, the maritime sector is extremely critical to India’s security and prosperity.

Both sides agreed that India’s maritime ambitions under Maritime Amrit Kaal 2047 Vision have created considerable opportunities for long-term collaboration with the ROK, a friendly nation with leading shipbuilding and maritime capabilities. Cooperation in shipbuilding, port development and maritime logistics could channelize the India-ROK Special Strategic Partnership towards practical benefits and economic value for both nations, while forging deeper understanding and partnership among their peoples.

The Indian side briefed the ROK side about opportunities to set up large-scale greenfield shipbuilding clusters in the country and the incentives available under the Government of India’s Shipbuilding Development Scheme as well as incentives provided by relevant state governments and Indian financial Institutions for the same. The Indian side invited leading shipbuilders from the ROK as technical and strategic anchors for these clusters through active involvement in design, production engineering, advanced manufacturing, quality and safety frameworks and operation. The ROK side expressed expectation for the advancement of cooperation based on the participation of the business sector.

To this end, both sides took positive note of the collaborations between Korean Industries and India, such as the conclusion of a non-binding MOU among the Korean shipbuilder HD Korea Shipbuilding & Offshore Engineering Co., Ltd. (HD KSOE), the identified cluster developer and facilitator, and the capital provider Maritime Development Fund (MDF) for joint development, financing, implementation, operation of a large greenfield shipyard in southern India. They hoped for early implementation of the project.

India has announced the 400+ vessels acquisition plan by the public agencies in India alone for the foreseeable future with a total value of Rs. 2.2 lakh crore (~USD 25 bn) during the India Maritime Week 2025. Taking note of the Government of India’s production-based financial support to local manufacturing, the two sides supported the cooperation of relevant industries from India and the ROK to establish an effective cooperation mechanism to channel this demand into bilateral partnerships, enhancing sustainable and resilient shipbuilding industry.

In recognition of the financial assistance provided by the Government of India for shipyards undertaking brownfield capacity expansion, the two sides supported the collaboration between Indian and the ROK businesses to upgrade existing Indian shipyards, including on a Block Fabrication Facility being built in southern India to support a new dry dock to construct large and specialized vessels.

The two sides believe that the policy and fiscal support from the Government of India for Indian shipbuilding would generate additional demand for components used in shipbuilding and ancillary industries, providing specialized Korean shipbuilding component manufacturers an attractive market to expand their business through local production. To this end, they welcomed the opening of a branch of the Korea Marine Equipment Association (KOMEA) in Mumbai and the interest of Korea Marine Equipment Research Institute (KOMERI) for related cooperation. They also agreed to enhance cooperation among relevant institutions and enterprises of both countries to support the growth of Indian shipbuilding ecosystem.

The two sides agreed to cooperate on skill training in the shipbuilding sector in India through a project to be implemented by Korea International Cooperation Agency (KOICA) in partnership with the Ministry of Ports, Shipping and Waterways (MoPSW) of India. They noted that this project will contribute to capacity building needed for India’s shipbuilding goals through development cooperation and public-private partnership between the two countries.

Indian side also encouragedKorean shipowners to use India’s GIFT IFSCA and E-Samudra to flag vessels in India, in order to benefit from relaxed ownership structures and available financial incentives.

It was noted that India’s rapidly growing seafarer pool (around 320,000 + with a strong growth in women seafarers) allows Korean ship-owners to recruit manpower to support Korean-flag operations.

The two sides welcomed the signing of an MOU between MoPSW of India and the Ministry of Oceans and Fisheries in the ROK for cooperation for port development, which entails collaboration in infrastructure development, knowledge sharing, etc. This opens opportunities for Korean port developers and terminal operators to participate in India’s strong PPP mechanization pipeline amounting to an estimated USD 13.3 billion in the next 5 years, including the 23 million TEU Vadhvan container port (Maharashtra), 150 MTPA multipurpose terminal in Bahuda (Odisha), 135 MTPA modern terminal of Deendayal Port (Gujarat), among others.

The two sides welcomed an MOU signed between Bharat Earth Movers Limited of India, HD Korea Shipbuilding and Offshore Engineering Co., Ltd (HD KSOE) and HD Hyundai Samho Co., Ltd of the ROK to jointly design, manufacture, and support next-generation conventional and autonomous maritime & port cranes in India.

The two sides took positive note of the ongoing discussions between Indian Maritime University (IMU) and Korea Maritime & Ocean University (KMOU) and encouraged them to finalize a strategic partnership in maritime education, research, and innovation with joint programs in naval architecture, marine engineering, and port management; collaborative R&D on green shipping technologies, autonomous vessels, and crane automation; and innovation hubs for student exchanges, faculty collaborations, and industry-linked projects with involvement of Indian and the ROK businesses.

The two sides also recalled with pride the ancient origins of the two countries’ maritime heritages. The Indian side shared that the National Maritime Heritage Complex (NMHC) is being developed at Lothal in the Gujarat State of India as the world’s largest maritime complex. The two sides welcomed the signing of a Memorandum of Understanding on cooperation in the field of Maritime Heritage to facilitate sharing, exchange of artefacts and information, technological support, joint activities, collaboration with universities, museums, and institutions.

Prime Minister Modi and President Lee expressed satisfaction over the direction and content of the progress made in cooperation between India and the ROK in the fields of shipbuilding, shipping and ports. They expressed confidence that, in the coming years, the India-ROK partnership will deliver benefits for the two countries and the world at large.