نیا ہندوستان’ترقی کے ساتھ ساتھ وراثت‘ کے منتر کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے: وزیر اعظم
ہمارا ملک رشی، دانشور اور سنتوں کی سرزمین ہے، جب بھی ہمارا معاشرہ کسی مشکل دور سے گزرتا ہے، کوئی نہ کوئی رشی یا دانشور اس سرزمین پر اتر کر سماج کو ایک نئی سمت دیتا ہے: وزیراعظم
غریبوں اور محروموں کی بہتری کا عزم، ’سب کا ساتھ، سب کا وکاس‘ کا منتر، خدمت کا یہی جذبہ حکومت کی پالیسی اور عزم ہے: وزیراعظم
ہندوستان جیسے ملک میں ہماری ثقافت نہ صرف ہماری شناخت سے جڑی ہوئی ہے، یہ ہماری ثقافت ہے جو ہماری صلاحیت کو مضبوط کرتی ہے: وزیر اعظم

ہندوستان کے ثقافتی اور روحانی ورثے کو آگے بڑھانے کے اپنے عزم کے مطابق، وزیر اعظم نے آج مدھیہ پردیش کے اشوک نگر ضلع میں تحصیل عیسیٰ گڑھ کے آنند پور دھام کا دورہ کیا۔ انہوں نے گرو جی مہاراج مندر میں درشن اور پوجا بھی کی اور آنند پور دھام میں مندر کے احاطے کا دورہ کیا۔ اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے، انہوں نے بڑی تعداد میں عقیدت مندوں کا خیرمقدم کیا جنہوں نے دہلی، ہریانہ، پنجاب اور ملک بھر سے وہاں پہنچے تھے۔ انہوں نے شری آنند پور دھام کا دورہ کرنے پر اپنی خوشی کا اظہار کیا، گروجی مہاراج کے مندر میں پوجا ارچنا کرنے کے اپنے تجربے کو مشترک کیا جس سے ان کا دل خوشی سے بھر گیا۔

سنتوں کی تپسیا سےنشو ونما حاصل کرنے والی سرزمین کے تقدس پر تبصرہ کرتے ہوئے، جہاں پرہیزگاری ایک روایت بن گئی ہے اور خدمت کا عزم انسانیت کی فلاح و بہبود کی راہ ہموار کرتا ہے، جناب مودی نے اس سرزمین کی انفرادیت کو اجاگر کرتے ہوئے سنتوں کا حوالہ دیا جنہوں نے کہا کہ اشوک نگر میں دکھ داخل ہونے سے ڈرتا ہے۔ انہوں نے بیساکھی کی تقریبات اور شری گرو مہاراج جی کے یوم پیدائش میں شرکت کرنے پر اپنی خوشی کا اظہار کیا، پرتھم پادشاہی شری شری 108 شری سوامی ادویت آنند جی مہاراج اور دیگر پادشاہی سنتوں کو خراج عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے اس دن کی تاریخی اہمیت کو نوٹ کیا، جس میں 1936 میں شری دویتیہ پادشاہی جی کی مہاسمادھی اور 1964 میں شری ترتیہ پادشاہی جی کے ان کی حقیقی شکل کے ساتھ مل گئے تھے۔ انہوں نے بیساکھی اور شری گرو مہاراج جی کے یوم پیدائش کی تقریبات کے موقع پر سب کو اپنی مبارکباد پیش کی۔

 

’’ہندوستان رشیوں،  دانشوروں اور سنتوں کی سرزمین ہے، جنہوں نے ہمیشہ مشکل وقت میں معاشرے کی رہنمائی کی ہے‘‘ وزیر اعظم نے اس بات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ قابل احترام سوامی ادویت آنند جی مہاراج کی زندگی اس روایت کی عکاسی کرتی ہے۔ انہوں نے اس دور کو یاد کیا جب آدی شنکراچاریہ جیسے آچاریہ نے ادویت  کےفلسفہ کے گہرے علم کی وضاحت کی تھی۔ انہوں نے کہ نوآبادیاتی دور میں، معاشرہ اس حکمت سے  محروم  ہونا شروع ہوگیا۔ تاہم، یہ وہ وقت تھا جب ادویت کے اصولوں کے ذریعے قوم کی روح کو بیدار کرنے کے لیے رشی منیوں کی آمد ہوئی، انہوں نے اس بات پر زور دیتے ہوئے مزید کہا کہ قابل احترام  ادویت آنند جی مہاراج نے ادویت کے علم کو عام لوگوں کے لیے قابل رسائی اور آسان بنا کر، عوام تک اس کی پہنچ کو یقینی بناتے ہوئے اس وراثت کو آگے بڑھایا۔

مادی ترقی کے درمیان جنگ، تصادم اور انسانی اقدار کے زوال کے عالمی خدشات کو دور کرتے ہوئے، جناب مودی نے ان چیلنجوں کی بنیادی وجہ کو ’’اپنااور پرایا ‘‘  پر مبنی تقسیم کی ذہنیت کے طور پر شناخت کیا  جو انسانوں کو ایک دوسرے سے دور کرتی ہے۔ ’’ان مسائل کا حل ادویت کے فلسفہ میں مضمر ہے، جہاں  کسی کو پرایا سمجھنے کا تصور نہیں ہے‘‘ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ادویت ہر جاندار میں الوہیت دیکھنے کا عقیدہ ہے اور اس کے علاوہ، پوری تخلیق کو الوہیت کے مظہر کے طور پر سمجھنا۔ انہوں نے پرمہنس دیال مہاراج کا حوالہ دیا، جنہوں نے اس اصول کو خوبصورتی سے آسان بنایا’جو تم ہو، میں ہوں‘۔ انہوں نے اس سوچ کی گہرائی پر تبصرہ کیا، جو ’تیرا اور میرا‘ کی تقسیم کو ختم کرتا ہے اور کہا کہ اگر اسے عالمی طور پر قبول کیا جائے تو یہ تمام تنازعات کو حل کر سکتا ہے۔

 

وزیر اعظم نے چاٹے پادشاہی سوامی شری وچار پورن آنند جی مہاراج کے ساتھ اپنی ابتدائی بات چیت کو مشترک کیا، جنہوں نے پرتھم پادشاہی پرمہنس دیال مہاراج جی کی تعلیمات اور آنند دھام کی خدمت کے اقدامات کے بارے میں بات کی۔ انہوں نے آنند دھام میں قائم  دھیان  لگانے سے متعلق  پانچ اصولوں پر روشنی ڈالی، ان میں سے ایک کے طور پر بے لوث خدمت پر زور دیا۔ انہوں نے نارائن کو انسانیت کی خدمت کے عمل میں دیکھتے ہوئے بے لوث رویہ کے ساتھ پسماندہ لوگوں کی خدمت کرنے کے جذبے پر تبصرہ کیا جو ہندوستانی ثقافت کی بنیاد ہے۔ انہوں نے خوشی کا اظہار کیا کہ آنند پور ٹرسٹ لگن کے ساتھ خدمت کے اس کلچر کو آگے بڑھا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ ٹرسٹ ہزاروں مریضوں کا علاج کرنے والے اسپتال چلاتا ہے، مفت طبی کیمپوں کا اہتمام کرتا ہے، گائے کی بہبود کے لیے ایک جدید گؤ شالہ چلاتا ہے، اور نئی نسل کی ترقی کے لیے اسکولوں کا انتظام کرتا ہے۔ انہوں نے ماحولیاتی تحفظ کے ذریعے انسانیت کے لیے آنند پور دھام کی اہم شراکت کی بھی تعریف کی، جس میں آشرم کے پیروکاروں کی ہزاروں ایکڑ بنجر زمین کو ہریالی میں تبدیل کرنے کی کوششوں پر روشنی ڈالی، جس میں آشرم کے لگائے گئے ہزاروں درخت اب پرہیزگاری کے مقاصد کی تکمیل کر رہے ہیں۔

’’ حکومت کی طرف سے شروع کی گئی ہر پہل کا مرکز خدمت کا جذبہ ہے‘‘، جناب مودی نے اس بات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ پردھان منتری غریب کلیان ان یوجنا کے تحت، ہر ضرورت مند فرد کھانے کی فکر سے  بجات مل گئی ہے۔ اسی طرح، آیوشمان بھارت اسکیم نے غریبوں اور بزرگوں کو صحت کی دیکھ بھال سے متعلق خدشات سے نجات دلائی ہے، جبکہ پی ایم آواس یوجنا پسماندہ افراد کے لیے محفوظ رہائش کو یقینی بنا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جل جیون مشن گاؤں میں پانی کے مسائل کو حل کر رہا ہے،اور نئے ایمس، آئی آئی ٹی، اور آئی آئی ایم کی ریکارڈ تعداد کا قیام غریب ترین بچوں کو بھی ان کے خوابوں کو پورا کرنے میں مدد کر رہا ہے۔ انہوں نے ’ایک پیڑ ماں کے نام‘ مہم کے ذریعے ماحولیاتی تحفظ کے لیے حکومت کے عزم کو دہرایا، جس کے تحت ملک بھر میں کروڑوں درخت لگائے گئے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ ان کامیابیوں کا پیمانہ خدمت کے جذبے سے کارفرما ہے۔ انہوں نے ’سب کا ساتھ، سب کا وکاس‘ کے منتر سے رہنمائی کرتے ہوئے غریبوں اور پسماندہ لوگوں کی بہتری کے لیے حکومت کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے زور دے کہا کہ ’’خدمت کا یہ جذبہ حکومت کی پالیسی اور عزم دونوں ہے۔‘‘

 

اس حقیقت پر زور دیتے ہوئے کہ خدمت کے عزم کو اپنانے سے نہ صرف دوسروں کو فائدہ ہوتا ہے بلکہ کسی کی شخصیت میں بھی اضافہ ہوتا ہے اور نقطہ نظر کو وسیع کرتا ہے ، وزیر اعظم نے کہا کہ خدمت کا جذبہ افراد کو معاشرے ، قوم اور انسانیت کے بڑے مقاصد سے جوڑتا ہے ۔ انہوں نے خدمت میں مصروف افراد کی لگن کو تسلیم کرتے ہوئے اس بات پر روشنی ڈالی کہ کس طرح بے لوث خدمت کے ذریعے مشکلات پر قابو پانا دوسری فطرت بن جاتا ہے ۔ انہوں نے خدمت کو ایک روحانی عمل قرار دیتے ہوئے اسے مقدس گنگا سے تشبیہ دی جس میں ہر ایک کو ڈبکی لگانی چاہیے ۔ انہوں نے اشوک نگر اور آنند پور دھام جیسے ترقی پذیر خطوں کی ذمہ داری پر تبصرہ کیا ، جنہوں نے ملک کے لیے بے پناہ تعاون کیا ہےاور ان علاقوں میں فن ، ثقافت اور قدرتی خوبصورتی کے بھرپور ورثے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ان کی ترقی اور ورثے کی وسیع صلاحیت کا ذکر کیا ۔ وزیر اعظم نے مدھیہ پردیش اور اشوک نگر میں پیش رفت کو فروغ دینے کی کوششوں پر مزید روشنی ڈالی ، جن میں چندری ساڑیوں کے لیے جیوگرافیکل انڈیکیشن (جی آئی) ٹیگ کے ذریعے چندری ہینڈلوم کو فروغ دینا اور خطے میں اقتصادی ترقی کو تیز کرنے کے لیے پران پور میں کرافٹ ہینڈلوم ٹورازم ولیج کا قیام شامل ہے ۔ انہوں نے یہ بھی ذکر کیا کہ مدھیہ پردیش حکومت نے اجین سمہستھ کے لیے تیاریاں شروع کر دی ہیں ۔

رام نومی کے شاندار تہوار کے حالیہ جشن کو تسلیم کرتے ہوئے جناب مودی نے "رام ون گمن پتھ" کی جاری ترقی پر روشنی ڈالی اور کہا کہ اس راستے کا ایک اہم حصہ مدھیہ پردیش سے گزرے گا ۔ انہوں نے مدھیہ پردیش کی قابل ذکر اور منفرد شناخت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدامات اس کی امتیازی حیثیت کو مزید مضبوط کریں گے ۔

وزیر اعظم نے 2047 تک ترقی یافتہ ہندوستان بننے کے ملک کے اہم ہدف کی تصدیق کی اور اسے حاصل کرنے پر اعتماد کا اظہار کیا ۔ انہوں نے اس سفر کے دوران ہندوستان کی قدیم ثقافت کو محفوظ رکھنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ بہت سے ممالک ترقی کے حصول میں اپنی روایات سے رابطہ کھو چکے ہیں ، لیکن ہندوستان کو اپنے ورثے کو برقرار رکھنا چاہیے ۔ وزیر اعظم نے آنند پور دھام ٹرسٹ کو اس سلسلے میں اہم تعاون کے لیے سراہا اور اس اعتماد کا اظہار کیا کہ ٹرسٹ کے خدماتی پہلو وکست بھارت کے وژن میں نئی توانائی کا اضافہ کریں گے ۔ انہوں نے بیساکھی اور شری گرو مہاراج جی کے یوم پیدائش کی تقریبات کے موقع پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے اپنی بات کا اختتام کیا ۔

 

اس تقریب میں مدھیہ پردیش کے گورنر جناب منگو بھائی پٹیل ، مدھیہ پردیش کے وزیر اعلی جناب موہن یادو ، مرکزی وزیر جناب جیوترادتیہ سندھیا اور دیگر افراد  موجود تھے ۔

 

پس منظر

آنند پور دھام روحانی اور انسان دوست مقاصد کے لیے قائم کیا گیا ہے ۔ 315 ہیکٹر پر محیط اس میں 500 سے زیادہ گایوں کے ساتھ ایک جدید گئوشالہ ہے اور شری آنند پور ٹرسٹ کیمپس کے تحت زرعی سرگرمیاں چلائی جا رہی ہیں ۔ یہ ٹرسٹ سکھ پور گاؤں میں ایک خیراتی اسپتال ، سکھ پور اور آنند پور میں اسکول اور ملک بھر میں مختلف ستسنگ مراکز چلا رہا ہے ۔

 

تقریر کا مکمل متن پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
PM Modi Praises Farmers For Taking India's Rich Mango Heritage To Global Markets

Media Coverage

PM Modi Praises Farmers For Taking India's Rich Mango Heritage To Global Markets
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
India-Myanmar Joint Statement during the Official Visit of the President of Myanmar to India
June 01, 2026

At the invitation of H.E. Shri Narendra Modi, Prime Minister of India, H.E. U Min Aung Hlaing, President of the Republic of the Union of Myanmar paid his first Official Visit to India from 30 May to 3 June 2026.

The President was accompanied by the Union Ministers for President’s Office, Foreign Affairs, Finance & Revenue, Agriculture, Livestock & Irrigation, and Industry & MSME Business Development, and Governor of the Central Bank of Myanmar. A business delegation from diverse sectors including agriculture, pharmaceuticals, energy, banking, construction, IT, communications, trading and logistics, as well as members of the Myanmar-India Friendship Association, were part of the Myanmar delegation.

The Prime Minister of India and the President of Myanmar held talks on 1 June 2026, during which they reviewed bilateral, regional and global issues of mutual interest and charted the way forward for the relationship. The Prime Minister hosted a luncheon in honour of the visiting dignitary. Hon’ble President of India Smt. Droupadi Murmu received the President of Myanmar on the same day. Earlier, External Affairs Minister Dr. S. Jaishankar and National Security Adviser Shri Ajit Doval separately called on the President of Myanmar.

At the commencement of the visit, the President visited Bodh Gaya on 30 May 2026, where he offered prayers at Mahabodhi Temple, Mahabodhi Meditation Centre and Sujata Temple. These visits to deeply revered sites underscored the enduring spiritual and Buddhist ties, as well as the people-to-people links, between the two countries.

The President delivered a keynote speech at the India-Myanmar Business Conclave, jointly organised by the UMFCCI and CII, in New Delhi on 31 May 2026, where business heads from both sides discussed avenues for further strengthening and expanding bilateral trade and commercial opportunities. The President also toured the NTPC Energy Technology Research Alliance (NETRA) complex in Greater Noida to observe advanced R&D work, including in clean energy innovation, energy efficiency, renewable energy integration and grid resilience.

In his interaction with the President, the Prime Minister stated that Myanmar lies at the confluence of India’s Neighbourhood First, Act East and MAHASAGAR (Mutual and Holistic Advancement for Security and Growth Across Regions) policies. The discussions underscored the importance of strengthening bilateral cooperation, including trade and economic ties, defence and security, border management, development assistance and cultural exchanges. Both sides noted ongoing discussions on various bilateral Agreements and Memoranda of Understanding and looked forward to their early conclusion.

The Prime Minister underlined that enhanced connectivity would foster mutually beneficial economic linkages and shared prosperity in the region. In this regard, both sides shared the importance of working closely towards the completion of Kaladan Multi-Modal Transit Transport project and the India-Myanmar-Thailand trilateral highway.

The Prime Minister conveyed that the Mekong Ganga ICCR scholarships for Myanmar students would be enhanced from 36 to 100 from 2026 onwards.

Both sides agreed to facilitate and enhance bilateral trade including through the Rupee-Kyat settlement mechanism, and appreciated the steady growth in the volume of transactions recorded since its operationalisation in May 2024. Both sides also expressed support for closer trade and investment cooperation in the areas of mutual interest such as agro-processing, petroleum, energy, mining sectors, in accordance with their respective national laws and regulations.

The Prime Minister reaffirmed India’s support for the sovereignty and territorial integrity of the Republic of the Union of Myanmar. Both sides underscored the importance of preventing the misuse of sovereign territory for activities inimical to their security interests. The President reiterated Myanmar’s assurance that its territory would not be permitted to be used against India’s security interests. The Prime Minister affirmed that India, as a steadfast and trusted partner of Myanmar, remained committed to deepening security cooperation between the two countries.

The Prime Minister conveyed support for Myanmar-led efforts towards achieving peace, stability, national reconciliation and socio-economic development. He also offered continued assistance and cooperation, based on mutual respect and friendly relations between the two countries. The President appreciated India’s constructive support and cooperation.

The Prime Minister expressed confidence that the meetings of the President with the Governor of Maharashtra and the Chief Minister, as well as his business engagements during his upcoming visit to Mumbai on 02 - 03 June 2026 would further strengthen existing bilateral cooperation and economic ties.

The official visit of President U Min Aung Hlaing reaffirmed the long-standing friendship and close partnership between Myanmar and India and the shared commitment of both countries to further strengthen cooperation for the mutual benefit of the two countries. Both sides agreed to continue close engagement at all levels.

President U Min Aung Hlaing expressed his sincere appreciation to Prime Minister Shri Narendra Modi for the warm hospitality extended to him and to the members of his delegation during their stay in India. The President also extended an invitation to the Prime Minister of India to visit Myanmar at mutually convenient dates.