منی پور میں ریل رابطہ بڑھ رہا ہے: وزیر اعظم
ہم منی پور میں غریبوں کے فائدے کے ترقیاتی اقدامات کو آگے بڑھا رہے ہیں: وزیر اعظم
منی پور میں امید اور اعتماد کی ایک نئی کرن ابھر رہی ہے: وزیر اعظم
ہم منی پور کو امن، خوشحالی اور ترقی کی علامت بنانے کے مقصد کے ساتھ کام کر رہے ہیں: وزیر اعظم

وزیر اعظم نریندر مودی نے آج منی پور کے چوراچاندپور میں 7,300 کروڑ روپے سے مالیت کے کئی ترقیاتی پروجیکٹوں کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر عوام سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ منی پور کی سرزمین بہادری اور عزم کی سرزمین ہے اور اس بات کا اجاگر کیا کہ منی پور کی پہاڑیاں قدرت کا قیمتی تحفہ ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ پہاڑیاں عوام کی مسلسل محنت کی علامت بھی ہیں۔ منی پور کے لوگوں کے حوصلے کو سلام پیش کرتے ہوئے، جناب مودی  نے اتنی بڑی تعداد میں آنے اور ان کے پُر تپاک استقبال کے لئے عوام کا شکریہ ادا کیا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ اس خطے کی ثقافت، روایات، تنوع اور زندگی سے بھرپور ماحول بھارت کی بڑی طاقت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’منی پور‘‘ کے نام میں ہی ’’منی‘‘ یعنی قیمتی نگینے کا حوالہ ہے، جو مستقبل میں پورے شمال مشرق کی چمک کو اور بڑھائے گا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت ہند نے منی پور کے ترقیاتی سفر کو تیز کرنے کے لیے مسلسل کام کیا ہے۔ اسی جذبے کے تحت وہ آج منی پور کے عوام کے درمیان موجود ہیں۔ جناب مودی نے بتایا کہ تقریباً 7,000 کروڑ روپے مالیت کے منصوبے عوام کے لیے وقف کیے گئے ہیں، جو خاص طور پر پہاڑوں میں رہنے والی قبائلی برادریوں کی زندگی بہتر بنائیں گے۔ یہ منصوبے صحت اور تعلیم میں نئی سہولتیں پیدا کریں گے۔ انہوں نے منی پور اور چوراچاندپور کے عوام کو ان اقدامات پر مبارکباد دی۔

 

وزیر اعظم نے کہا کہ منی پور ایک سرحدی ریاست ہے جہاں رابطے کی کمی ہمیشہ سے ایک بڑی رکاوٹ رہی ہے۔ خراب سڑکوں کی وجہ سے لوگوں کو جو مشکلات پیش آتی ہیں وہ انہیں بخوبی سمجھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 2014 سے ہی حکومت نے منی پور میں رابطہ بہتر بنانے پر خصوصی توجہ دی ہے۔ اس مقصد کے لیے دو سطحوں پر کام کیا گیا: پہلی سطح پر ریل اور سڑک کے ڈھانچے کے بجٹ میں کئی گنا اضافہ کیا گیا اور دوسری سطح پر صرف شہروں تک نہیں بلکہ دیہی علاقوں تک بھی سڑک رابطے کو وسعت دی گئی۔

انہوں نے کہا کہ حالیہ برسوں میں قومی شاہراہوں پر 3,700 کروڑ روپے خرچ کیے جا چکے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ 8,700 کروڑ روپےمالیت کے نئی شاہراہوں سے متعلق پروجیکٹوں پر تیزی سے کام جاری ہے۔ پہلے گاؤں تک پہنچنا انتہائی مشکل تھا لیکن اب سڑک رابطہ سینکڑوں دیہی علاقوں تک پھیل گیا ہے، جس سے پہاڑی دیہات اور قبائلی برادریوں کو بہت فائدہ ہوا ہے۔

جناب مودی نے کہا، ’’ہماری حکومت کے تحت منی پور میں ریل رابطے کو بڑھایا جا رہا ہے۔ جیریبام۔امپھال ریلوے لائن جلد ہی دارالحکومت امپھال کو قومی ریلوے نیٹ ورک سے جوڑ دے گی۔‘‘ اس منصوبے پر 22,000 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی گئی ہے۔انہو ں نے کہا کہ 400 کروڑ روپے سے تعمیر شدہ نیا امپھال ایئرپورٹ فضائی رابطے میں اضافہ کر رہا ہےاور یہاں سے ملک کے دیگر حصوں کے لیے ہیلی کاپٹر سروسز بھی شروع کی گئی ہیں۔ یہ سہولتیں عوام کی زندگی آسان بنا رہی ہیں اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع فراہم کر رہی ہیں۔

 

وزیر اعظم نے کہا، ’’بھارت تیزی سے ترقی کر رہا ہے اور جلد ہی دنیا کی تیسری سب سے بڑی معیشت بننے جا رہا ہے۔ ہمارا مقصد یہ ہے کہ ترقی کے فوائد ملک کے ہر کونے تک پہنچیں۔‘‘ انہوں نے یاد دلایا کہ ایک وقت ایسا تھا جب دہلی میں ہونے والے اعلانات کو منی پور تک پہنچنے میں دہائیاں لگ جاتی تھیں۔ مگر آج چوراچاندپور اور منی پور ملک کے باقی حصوں کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر ترقی کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے غریبوں کے لیے پکے مکانات بنانے کی اسکیم شروع کی ہے جس سے منی پور میں ہزاروں کنبے مستفید ہوئے ہیں اور تقریباً 60,000 گھر تعمیر کیے جاچکے ہیں۔ بجلی کی قلت کو دور کرنے کے لیے ایک لاکھ سے زائد کنبوں کو مفت بجلی کنکشن دیے گئے ہیں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ خواتین کو پانی کی قلت کا طویل عرصے سے سامنا تھا۔ اس کے حل کے لیے ’’ہر گھر نل سے جل‘‘ اسکیم شروع کی گئی ہے۔پچھلے کچھ برسوں میں ملک بھر کے 15 کروڑ سے زیادہ شہریوں کو نل سے پانی کے کنیکشن ملے ہیں۔ جناب مودی نے یہ بھی کہا کہ سات آٹھ سال پہلے تک صرف 25-30 ہزار گھروں تک پائپ سے پانی پہنچتا تھا، مگر آج 3.5 لاکھ گھروں تک نل کا پانی پہنچ رہا ہے۔ انہوں اس اعتماد کا اظہار کیاکہ جلد ہی ہر گھر تک یہ سہولت پہنچ جائے گی۔

سماجی بنیادی ڈھانچے کا ذکر کرتے ہوئے،وزیر اعظم نے کہا کہ پہلے پہاڑی اور قبائلی علاقوں میں اسکول، کالج اور اسپتال محض خواب ہوا کرتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی بیمار پڑجاتا تھا تو اُسے اسپتال تک پہنچنے میں بہت وقت لگتا تھا۔ جناب مودی نے اس پر زور دیا کہ اب حکومت ہند کی کوششوں کی بدولت صورتِ حال بدل رہی ہے۔ چوراچاندپور میں میڈیکل کالج قائم ہو چکا ہے۔انہوں نے بتایا کہ نئے ڈاکٹروں کو تربیت دی جارہی ہے اور طبی نگہداشت سے متعلق خدمات بہتر ہورہی ہیں۔وزیر اعظم نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ اس حقیقت پر غور کریں کہ آزادی کے بعد کئی دہائیوں تک منی پور کے پہاڑی علاقوں میں کوئی میڈیکل کالج نہیں تھا ۔ انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ یہ کامیابی موجودہ حکومت نے ممکن بنائی ہے ۔ اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ پی ایم-ڈیوائن اسکیم کے تحت، انہوں نے کہا کہ حکومت پانچ پہاڑی اضلاع میں جدید صحت خدمات تیار کر رہی ہے۔ جناب مودی نے مزید کہا کہ آیوشمان بھارت اسکیم کے تحت حکومت غریب کنبوں کو 5 لاکھ روپے تک کا مفت علاج فراہم کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ منی پور میں تقریبا 2.5 لاکھ مریضوں نے اس اسکیم کے تحت مفت علاج کا فائدہ اٹھایا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس سہولت کے بغیر ریاست کے غریب کنبوں کو اپنی جیبوں سے 350 کروڑ روپے خرچ کرنے پڑتے۔ وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ پورا خرچ حکومت ہند نے برداشت کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہر غریب شہری کے خدشات کو دور کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

 

وزیر اعظم نے کہا کہ ’’منی پور کی سرزمین اور خطہ امید اور امنگوں کی سرزمین ہے‘‘ اس کا ذکر کیا کہ بدقسمتی سے، تشدد نے اس قابل ذکر علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تھوڑی دیر پہلے انہوں نے کیمپوں میں رہنے والے متاثرہ افراد سے ملاقات کی۔ اپنی بات چیت کے بعد، وزیر اعظم نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ منی پور میں امید اور اعتماد کی ایک نئی کرن ابھر رہی ہے۔

وزیر اعظم نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ ’’کسی بھی خطے میں ترقی کے لیے امن کا قیام ضروری ہے اور گزشتہ گیارہ سال میں شمال مشرق میں بہت سے دیرینہ تنازعات اور جھگڑوں کو حل کیا گیا ہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں نے امن کا راستہ منتخب کیا ہے اور ترقی کو ترجیح دی ہے۔ جناب مودی نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ حال ہی میں پہاڑیوں اور وادی کے علاقوں میں مختلف گروپوں کے ساتھ بات چیت ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کوششیں حکومت ہند کے نقطۂ نظر کا حصہ ہیں، جو امن قائم کرنے کے لیے بات چیت، احترام اور باہمی افہام و تفہیم پر زور دیتی ہے۔ وزیر اعظم نے تمام تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ امن کی راہ پر آگے بڑھیں اور اپنی خواہشات کو پورا کریں۔ انہوں نے اپنی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ لوگوں کے ساتھ کھڑے ہیں اور حکومت ہند منی پور کے ساتھ ہے۔

اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے کہ حکومت ہند منی پور میں زندگی کو دوبارہ پٹری پر لانے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے، جناب مودی نے بتایا کہ حکومت بے گھر ہونے والے کنبوں کے لیے 7000 نئے مکانات بنانے کے لیے مدد فراہم کر رہی ہے۔ وزیر اعظم نے اعلان کیا کہ حال ہی میں تقریبا 3000 کروڑ روپے کے خصوصی پیکج کو منظوری دی گئی ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ بے گھر افراد کی مدد کے لیے 500 کروڑ روپے خصوصی طور پر مختص کیے گئے ہیں۔

 

اس بات کو تسلیم کرتے ہوئے کہ وہ منی پور میں قبائلی نوجوانوں کے خوابوں اور جدوجہد سے بخوبی واقف ہیں، وزیر اعظم نے بتایا کہ ان کے خدشات کو دور کرنے کے لیے متعدد حل نافذ کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ حکومت مقامی گورننس اداروں کو مضبوط کرنے کے لیے کام کر رہی ہے اور ان کی ترقی کے لیے مناسب فنڈز کا انتظام کیا جا رہا ہے۔

اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے کہ ’’ہر قبائلی برادری کی ترقی قومی ترجیح ہے‘‘، وزیر اعظم نے کہا کہ پہلی بار قبائلی علاقوں کی ترقی کے لیے دھرتی آبا جن جاتیہ گرام اتکرش ابھیان نافذ کیا جا رہا ہے۔ اس پہل کے تحت منی پور کے 500 سے زیادہ دیہاتوں میں ترقیاتی کام جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں ایکلویہ ماڈل رہائشی اسکولوں کی تعداد میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔ جناب مودی نے یہ بھی کہا کہ منی پور میں 18 ایکلویہ ماڈل رہائشی اسکول بنائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ اسکولوں اور کالجوں کی جدید کاری سے پہاڑی اضلاع میں تعلیمی سہولیات میں نمایاں اضافہ ہوگا۔

 

اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ منی پور کی ثقافت نے ہمیشہ خواتین کو بااختیار بنانے کو فروغ دیا ہے، جناب مودی نے زور دے کر کہا کہ حکومت خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے سرگرمی سے کام کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت منی پور کی بیٹیوں کی مدد کے لیے ورکنگ ویمنز ہاسٹل تعمیر کر رہی ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ ہم منی پور کو امن، خوشحالی اور ترقی کی علامت بنانے کے مقصد کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے لوگوں کو یقین دلاتے ہوئے اپنی بات ختم کی کہ منی پور کی ترقی، بے گھر کنبوں کی بازآباد کاری اور امن کے قیام کے لیے حکومت ہند منی پور حکومت کی ہر ممکن مدد کرتی رہے گی۔

منی پور کے گورنر جناب اجے کمار بھلا اس تقریب میں دیگر معززین کے ساتھ موجود تھے۔

پس منظر:

ان منصوبوں میں 3,600 کروڑ روپے سے زیادہ مالیت کی شہری سڑکیں، پانی کی نکاسی کا نظام اور اثاثہ جاتی بندوبست کہ بہتر بنانے کی اصلاحات؛ 2,500 کروڑ روپے سے زیادہ کی 5 قومی شاہراہیں؛ منی پور انفوٹیک ڈیولپمنٹ (ایم آئی این ڈی) پروجیکٹ اور 9 مقامات پر ورکنگ وومن ہوسٹل شامل ہیں۔

 

تقریر کا مکمل متن پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
38 Per Cent Women In Rural And Semi-Urban Use UPI Weekly For Daily Essentials: Survey

Media Coverage

38 Per Cent Women In Rural And Semi-Urban Use UPI Weekly For Daily Essentials: Survey
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
The government places great emphasis on bringing a 'technology culture' to agriculture: PM Modi
March 06, 2026
This year’s Union Budget gives a strong push to agriculture and rural transformation : PM
Government has continuously strengthened the agriculture sector ,major efforts have reduced the risks for farmers and provided them with basic economic security: PM
If we scale high-value agriculture together, it will transform agriculture into a globally competitive sector: PM
As export-oriented production increases, employment will be created in rural areas through processing and value addition: PM
Fisheries can become a major platform for export growth, a high-value, high-impact sector of rural prosperity: PM
The government is developing digital public infrastructure for agriculture through AgriStack: PM
Technology delivers results when systems adopt it, institutions integrate it, and entrepreneurs build innovations on it: PM

नमस्कार !

बजट वेबिनार सीरीज के तीसरे वेबिनार में, मैं आप सभी का अभिनंदन करता हूं। इससे पहले, टेक्नोलॉजी, रिफॉर्म्स और इकोनॉमिक ग्रोथ जैसे अहम विषयों पर दो वेबिनार हो चुके हैं। आज, Rural Economy और Agriculture जैसे अहम सेक्टर पर चर्चा हो रही है। आप सभी ने बजट निर्माण में अपने मूल्यवान सुझावों से बहुत सहयोग दिया, और आपने देखा होगा बजट में आप सबके सुझाव रिफ्लेक्ट हो रहे हैं, बहुत काम आए हैं। लेकिन अब बजट आ चुका है, अब बजट के बाद उसके full potential का लाभ देश को मिले, इस दिशा में भी आपका अनुभव, आपके सुझाव और सरल तरीके से बजट का सर्वाधिक लोगों को लाभ हो। बजट का पाई-पाई पैसा जिस हेतु से दिया गया है, उसको परिपूर्ण कैसे करें? जल्द से जल्द कैसे करें? आपके सुझाव ये वेबिनार के लिए बहुत अहम है।

साथियों,

आप सभी जानते हैं, कृषि, एग्रीकल्चर, विश्वकर्मा, ये सब हमारी अर्थव्यवस्था का मुख्य आधार है। एग्रीकल्चर, भारत की लॉन्ग टर्म डेवलपमेंट जर्नी का Strategic Pillar भी है, और इसी सोच के साथ हमारी सरकार ने कृषि सेक्टर को लगातार मजबूत किया है। करीब 10 करोड़ किसानों को 4 लाख करोड़ रुपए से अधिक की पीएम किसान सम्मान निधि मिली है। MSP में हुए Reforms से अब किसानों को डेढ़ गुना तक रिटर्न मिल रहा है। इंस्टिट्यूशनल क्रेडिट कवरेज 75 प्रतिशत से अधिक हो चुका है। पीएम फसल बीमा योजना के तहत लगभग 2 लाख करोड़ रुपए के क्लेम सेटल किए गए हैं। ऐसे अनेक प्रयासों से किसानों का रिस्क बहुत कम हुआ है, और उन्हें एक बेसिक इकोनॉमिक सिक्योरिटी मिली है। इससे कृषि क्षेत्र का आत्मविश्वास भी बढ़ा है। आज खाद्यान्न और दालों से लेकर तिलहन तक देश रिकॉर्ड उत्पादन कर रहा है। लेकिन अब, जब 21वीं सदी का दूसरा क्वार्टर शुरू हो चुका है, 25 साल बीत चुके हैं, तब कृषि क्षेत्र को नई ऊर्जा से भरना भी उतना ही आवश्यक है। इस साल के बजट में इस दिशा में नए प्रयास हुए हैं। मुझे विश्वास है, इस वेबिनार में आप सभी के बीच हुई चर्चा, इससे निकले सुझाव, बजट प्रावधानों को जल्द से जल्द जमीन पर उतारने में मदद करेंगे।

साथियों,

आज दुनिया के बाजार खुल रहे हैं, ग्लोबल डिमांड बदल रही है। इस वेबिनार में अपनी खेती को एक्सपोर्ट ओरिएंटेड बनाने पर भी ज्यादा से ज्यादा चर्चा आवश्य़क है। हमारे पास Diverse Climate है, हमें इसका पूरा फायदा उठाना है। एग्रो क्लाइमेटिक जोन, उस विषय में हम बहुत समृद्ध है। इस साल का बजट इन सब बातों के लिए अनगिनत नए अवसर देने वाला बजट है। प्रोडक्टिविटी बढ़ाने की दिशा तय करता है, और एक्सपोर्ट स्ट्रेंथ को बढ़ावा देता है। बजट में हमने high value agriculture पर फोकस किया है। नारियल, काजू, कोको, चंदन, ऐसे उत्पादों के regional-specific promotion की बात कही है, और आपको मालूम है, दक्षिण के हमारे जो राज्य हैं खासकर केरल है, तमिलनाडु है, नारियल की पैदावार बहुत करते हैं। लेकिन अब वो क्रॉप, वो सारे पेड़ इतने पुराने हो चुके हैं कि उसकी वो क्षमता नहीं रही है। केरल के किसानों को अतिरिक्त लाभ हो, तमिलनाडु के किसानों को अतिरिक्त लाभ हो। इसलिए इस बार कोकोनट पर एक विशेष बल दिया गया है, जिसका फायदा आने वाले दिनों में हमारे इन किसानों को मिलेगा।

साथियों,

नॉर्थ ईस्ट की तरफ देखें, अगरवुड बहुत कम लोगों को मालूम है, जो ये अगरबत्ती शब्द है ना, वो अगरवुड से आया हुआ है। अब हिमालयन राज्यों में टेम्परेट नट क्रॉप्स, और इन्हें बढ़ावा देने का प्रस्ताव बजट में रखा गया है। जब एक्सपोर्ट ओरिएंटेड प्रोडक्शन बढ़ेगा, तो ग्रामीण क्षेत्रों में प्रोसेसिंग और वैल्यू एडिशन के जरिए रोजगार सृजन होगा। इस दिशा में एक coordinated action कैसे हो, आप सभी स्टेकहोल्डर्स मिलकर जरूर मंथन करें। अगर हम मिलकर High Value Agriculture को स्केल करते हैं, तो ये एग्रीकल्चर को ग्लोबली कंपेटिटिव सेक्टर में बदल सकता है। एग्री experts, इंडस्ट्री और किसान एक साथ कैसे आएं, किसानों को ग्लोबल मार्केट से जोड़ने के लिए किस तरह से गोल्स सेट किए जाएं, क्वालिटी, ब्रांडिंग और स्टैंडर्ड्स, ऐसे हर पहलू, इन सबको कैसे प्रमोट किया जाए, इन सारे विषयों पर चर्चा, इस वेबिनार को, इसके महत्व को बढ़ाएंगे। मैं एक और बात आपसे कहना चाहूंगा। आज दुनिया हेल्थ के संबंध में ज्यादा कॉनशियस है। होलिस्टिक हेल्थ केयर और उसमें ऑर्गेनिक डाइट, ऑर्गेनिक फूड, इस पर बहुत रुचि है। भारत में हमें केमिकल फ्री खेती पर बल देना ही होगा, हमें नेचुरल फार्मिंग पर बल देना होगा। नेचुरल फार्मिंग से, केमिकल फ्री प्रोडक्ट से दुनिया के बाजार तक पहुंचने में हमारे लिए एक राजमार्ग बन जाता है। उसके लिए सर्टिफिकेशन, लेबोरेटरी ये सारी व्यवस्थाएं सरकार सोच रही है। लेकिन आप लोग इसमें भी जरूर अपने विचार रखिए।

साथियों,

एक्सपोर्ट बढ़ाने में एक बहुत बड़ा फैक्टर फिशरीज सेक्टर का पोटेंशियल भी है। भारत दुनिया का दूसरा सबसे बड़ा मछली उत्पादक देश भी है। आज हमारे अलग-अलग तरह के जलाशय, तालाब, ये सब मिलाकर लगभग 4 लाख टन मछली उत्पादन होता है। जबकि इसमें 20 लाख टन अतिरिक्त उत्पादन की संभावना मौजूद है। अब विचार कीजिए आप, 4 लाख टन से हम अतिरिक्त 20 लाख टन जोड़ दें, तो हमारे गरीब मछुआरे भाई-बहन हैं, उनकी जिंदगी कैसी बदल जाएगी। हमारे पास Rural Income को डायवर्सिफाई करने का अवसर है। फिशरीज एक्सपोर्ट ग्रोथ का बड़ा प्लेटफॉर्म बन सकता है, दुनिया में इसकी मांग है। इस वेबिनार से अगर बहुत ही प्रैक्टिकल सुझाव निकलते हैं, तो कैसे रिज़रवॉयर, उसकी पोटेंशियल की सटीक मैपिंग की जाए, कैसे क्लस्टर प्लानिंग की जाए, कैसे फिशरीज डिपार्टमेंट और लोकल कम्युनिटी के बीच मजबूत कोऑर्डिनेशन हो, तो बहुत ही उत्तम होगा। हैचरी, फीड, प्रोसेसिंग, ब्रांडिंग, एक्सपोर्ट, उसके लिए आवश्यक लॉजिस्टिक्स, हर स्तर पर हमें नए बिजनेस मॉडल विकसित करने ही होंगे। ये Rural Prosperity, ग्रामीण समृद्धि के लिए, वहां की हाई वैल्यू, हाई इम्पैक्ट सेक्टर के रूप में परिवर्तित करने का एक अवसर है हमारे लिए, और इस दिशा में भी हम सबको मिलकर काम करना है, और आप आज जो मंथन करेंगे, उसके लिए, उस कार्य के लिए रास्ता बनेगा।

साथियों,

पशुपालन सेक्टर, ग्रामीण इकोनॉमी का हाई ग्रोथ पिलर है। भारत आज दुनिया का सबसे बड़ा मिल्क प्रोड्यूसर है, Egg प्रोडक्शन में हम दूसरे स्थान पर है। हमें इसे और आगे ले जाने के लिए ब्रीडिंग क्वालिटी, डिजीज प्रिवेंशन और साइंटिफिक मैनेजमेंट पर फोकस करना होगा। एक और अहम विषय पशुधन के स्वास्थ्य का भी है। मैं जब One Earth One Health की बात करता हूं, तो उसमें पौधा हो या पशु, सबके स्वास्थ्य की बात शामिल है। भारत अब वैक्सीन उत्पादन में आत्मनिर्भर है। फुट एंड माउथ डिजीज, उससे पशुओं को बचाने के लिए सवा सौ करोड़ से अधिक डोज पशुओं को लगाई जा चुकी है। राष्ट्रीय गोकुल मिशन के तहत टेक्नोलॉजी का विस्तार किया जा रहा है। हमारी सरकार में अब पशुपालन क्षेत्र के किसानों को किसान क्रेडिट कार्ड का भी लाभ मिल रहा है। निजी निवेश को प्रोत्साहित करने के लिए एनिमल हसबेंड्री इंफ्रास्ट्रक्चर डेवलपमेंट फंड की शुरुआत भी की गई है, और आपको ये पता है हम लोगों ने गोबरधन योजना लागू की है। गांव के पशुओं के निकलने वाला मलमूत्र है, गांव का जो वेस्ट है, कूड़ा-कचरा है। हम गोबरधन योजना में इसका उपयोग करके गांव भी स्वच्छ रख सकते हैं, दूध से आय होती है, तो गोबर से भी आय हो सकती है, और एनर्जी सिक्योरिटी की दिशा में गैस सप्लाई में भी ये गोबरधन बहुत बड़ा योगदान दे सकता है। ये मल्टीपर्पज बेनिफिट वाला काम है, और गांव के लिए बहुत उपयोगी है। मैं चाहूंगा कि सभी राज्य सरकारें इसको प्राथमिकता दें, इसको आगे बढ़ाएं।

साथियों,

हमने पिछले अनुभवों से समझा है कि केवल एक ही फसल पर टिके रहना किसान के लिए जोखिम भरा है। इससे आय के विकल्प भी सीमित हो जाते हैं। इसलिए, हम crop diversification पर फोकस कर रहे हैं। इसके अलावा, National Mission on Edible Oils And Pulses, National Mission on Natural Farming, ये सभी एग्रीकल्चर सेक्टर की ताकत बढ़ा रहे हैं।

साथियों,

आप भी जानते हैं एग्रीकल्चर स्टेट सब्जेक्ट है, राज्यों का भी एक बड़ा एग्रीकल्चर बजट होता है, हमें राज्यों को भी निरंतर प्रेरित करना है कि वो अपना दायित्व निभाने में, हम उनको कैसे मदद दें, हमारे सुझाव उनको कैसे काम आएं। राज्य का भी एक-एक पैसा जो गांव के लिए, किसान के लिए तय हुआ है, वो सही उपयोग हो। हमें बजट प्रावधानों को जिला स्तर तक मजबूत करना होगा। तभी नई पॉलिसीज का ज्यादा से ज्यादा फायदा उठाया जा सकता है।

साथियों,

ये टेक्नोलॉजी की सदी है और सरकार का बहुत जोर एग्रीकल्चर में टेक्नोलॉजी कल्चर लाने पर भी है। आज e-NAM के माध्यम से मार्केट एक्सेस का डेमोक्रेटाइजेशन हुआ है। सरकार एग्रीस्टैक के जरिए, एग्रीकल्चर के लिए डिजिटल पब्लिक इंफ्रास्ट्रक्चर विकसित कर रही है। इसके तहत डिजिटल पहचान, यानी किसान आईडी बनाई जा रही है। अब तक लगभग 9 करोड़ किसानों की किसान आईडी बन चुकी है, और लगभग 30 करोड़ भूमि पार्सलों का डिजिटल सर्वे किया गया है। भारत-विस्तार जैसे AI आधारित प्लेटफॉर्म, रिसर्च इंस्टीट्यूशंस और किसानों के बीच की दूरी कम कर रहे हैं।

लेकिन साथियों,

टेक्नोलॉजी तभी परिणाम देती है, जब सिस्टम उसे अपनाएं, संस्थाएं उसे इंटीग्रेट करें और एंटरप्रेन्योर्स उस पर इनोवेशन खड़ा करें। इस वेबिनार में आपको इससे जुड़े सुझावों को मजबूती से सामने लाना होगा। हम टेक्नोलॉजी को कैसे सही तरीके से इंटीग्रेट करें, इस दिशा में इस वेबिनार से निकले सुझावों की बहुत बड़ी भूमिका होगी।

साथियों,

हमारी सरकार ग्रामीण समृद्धि के निर्माण के लिए प्रतिबद्ध है। प्रधानमंत्री आवास योजना, स्वामित्व योजना, पीएम ग्रामीण सड़क योजना, स्वयं सहायता समूहों को आर्थिक मदद, इसने रूरल इकोनॉमी को निरंतर मजबूत किया है। लखपति दीदी अभियान की सफलता को भी हमें नई ऊंचाई देनी है। अभी तक गांव की 3 करोड़ महिलाओं को लखपति दीदी बनाने में हम सफल हो चुके हैं। अब 2029 तक, 2029 तक 3 करोड़ में और 3 करोड़ जोड़ना है, और 3 करोड़ और लखपति दीदियां बनाने का लक्ष्य तय किया गया है। ये लक्ष्य और तेजी से कैसे प्राप्त किया जाए, इसे लेकर भी आपके सुझाव महत्वपूर्ण होंगे।

साथियों,

देश में स्टोरेज का बहुत बड़ा अभियान चल रहा है। लाखों गोदाम बनाए जा रहे हैं। स्टोरेज के अलावा एग्री एंटरप्रेन्योर्स प्रोसेसिंग, सप्लाई चैन, एग्री-टेक, एग्री-फिनटेक, एक्सपोर्ट, इन सब में इनोवेशन और निवेश बढ़ाना आज समय की मांग है। मुझे विश्वास है आज जो आप मंथन करेंगे, उससे निकले अमृत से ग्रामीण अर्थव्यवस्था को नई ऊर्जा मिलेगी। आप सबको इस वेबिनार के लिए मेरी बहुत-बहुत शुभकामनाएं हैं, और मुझे पूरा विश्वास है कि जमीन से जुड़े हुए विचार, जड़ों से जुड़े हुए विचार, इस बजट को सफल बनाने के लिए, गांव-गांव तक पहुंचाने के लिए बहुत काम आएंगे। आपको बहुत-बहुत शुभकामनाएं।

बहुत-बहुत धन्यवाद। नमस्कार।