’’نئی توانائی، ترغیبات اور عزائم کی روشنی میں ایک نئے باب کا آغاز ہو رہا ہے‘‘
’’آج پوری دنیا کی نظریں بھارت پر ٹکی ہیں۔ بھارت کے تئیں دنیا کا رویہ تبدیل ہو چکا ہے‘‘
’’متعدد اسٹیشنوں کی جدیدکاری سے ملک میں ترقی کا ایک نیا ماحول پیدا ہوگا‘‘
’’یہ امرت ریلوے اسٹیشن ورثے پر فخر کرنے اور ہر شہری میں جذبہ تفاخر پیدا کرنے کی ایک علامت ثابت ہوں گے‘‘
’’ہمارا زور بھارتی ریلوے کو جدید اور ماحول دوست بنانے پر ہے ‘‘
’’اب یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ریل کو ایک بہتر شناخت اور جدید مستقبل سے مربوط کیا جائے‘‘
’’نیو انڈیا میں، ترقی نوجوانوں کے لیے نئے مواقع کے لیے راہ ہموار کر رہی ہے ، اور نوجوان ملک کی ترقی کو نئی پرواز عطا کر رہے ہیں‘‘
’’اگست کرانتی ، شکرگزاری اور فرض شناسی کا مہینہ ہے۔ ماہ اگست میں ایسے کئی تاریخی دن آتے ہیں جنہوں نے بھارت کی تاریخ کو نئی سمت عطا کی‘‘
’’ہمارا یوم آزادی ہمارے ترنگے اور ہمارے ملک کی ترقی کے تئیں ہماری عہد بندگی کا دن ہے۔ گذشتہ برس کی طرح، اس مرتبہ بھی، ہمیں ہر گھر ترنگا لہرانا ہے‘‘

ایک تاریخی قدم اٹھاتے ہوئے، وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج ویڈیوکانفرنسنگ کے توسط سے ملک کے 508 ریلوے اسٹیشنوں کی ازسر نو ترقی کا سنگ بنیاد رکھا۔ 24470 کروڑ روپئے سے زائد کی لاگت سے تیارشدہ یہ 508 ریلوے اسٹیشن 27 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں پھیلے ہوئے ہیں، ان میں دیگر ریاستوں سمیت اترپردیش اور راجستھان میں 55-55، بہار میں 49، مہاراشٹر میں 44، مغربی بنگال میں 37، مدھیہ پردیش میں 34، آسام میں 32، اُڈیشا میں 25، پنجاب میں 22، گجرات اور تلنگانہ میں 21-21، جھارکھنڈ میں 20، آندھرا پردیش اور تمل ناڈو میں 18-18، ہریانہ میں 15، کرناٹک میں 13 ریلوے اسٹیشن شامل ہیں۔

مجمع سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ نیو انڈیا جو تیزی سے ترقی یافتہ بھارت کے ہدف کی جانب بڑھ رہا ہے امرت کال کا آغاز ہے۔ اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ یہ بھارتی ریلوے کی تاریخ میں ایک نئے باب کا آغاز ہے، وزیر اعظم نے بتایا کہ ’’ایک نئی توانائی، نئی امنگیں اور نئے عزائم پائے جاتے ہیں۔‘‘ملک کے تقریباً 1300 پرائمری ریلوے اسٹیشنوں کو اب جدیدیت سے ہمکنار کرکے ’امرت بھارت اسٹیشنز‘ کے طور پر ازسر نو ترقی دی جائے گی اور انہیں نئی زندگی حاصل ہوگی۔ وزیر اعظم نے بتایا کہ 1300 ریلوے اسٹیشنوں میں سے تقریباً 25,000 کروڑ روپے کی لاگت سے 508 امرت بھارت اسٹیشنوں کا آج سنگ بنیاد رکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا ازسر نو ترقی کا منصوبہ ملک میں ریلوے کے ساتھ ساتھ عام شہریوں کے لیے بھی بنیادی ڈھانچے کی ترقی سے متعلق ایک بہت بڑی مہم ہو گی۔ اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ اس کے فوائد ملک میں تمام ریاستوں تک پہنچیں گے، وزیر اعظم نے کہا کہ اترپردیش اور راجستھان میں تقریباً 4000 کروڑ روپئے کی لاگت سے 55 امرت اسٹیشنز تیار کیے جائیں گے، مدھیہ پردیش میں تقریباً 1000 کروڑ روپئے کی لاگت سے 34 اسٹیشنز، مہاراشٹر میں 1500 کروڑ روپئے کی لاگت سے 44 اسٹیشنزکو ترقی دی جائے گی، اور تمل ناڈو، کرناٹک اور کیرلا سمیت دیگر ریاستوں میں بڑے ریلوے اسٹیشنوں کو ازسر نو ترقی دی جائے گی۔ وزیراعظم نے وزارت ریلوے کی ستائش کی اور شہریوں کو اس تاریخی منصوبے پر مبارکباد دی۔

وزیر اعظم نے دنیا میں بھارت کے بڑھتے ہوئے قد اور دنیا میں بھارت کے تئیں بڑھتی دلچسپی کو اجاگر کیا۔ انہوں نے اس کا سہرا دو بڑے عوامل کے سرباندھا۔ پہلا، بھارت کے عوام کی جانب سے ایک مستحکم مکمل اکثریت والی حکومت کا انتخاب اور دوسرا، حکومت نے اولوالعزم فیصلے لیے اور لوگوں کی امنگوں کے مطابق ان کی ترقی کے لیے انتھک محنت کی۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ بھارتی ریلوے بھی اس کی علامت ہے۔ انہوں نے اپنی بات کی وضاحت کے لیے ریلوےکے شعبے کی توسیع کے حقائق پیش کیے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 9 برسوں میں ملک میں بچھائے گئے ٹریک کی طوالت جنوبی افریقہ، یوکرین، پولینڈ، برطانیہ اور سویڈن کے مشترکہ ریلوے نیٹ ورک سے زیادہ ہے۔ بھارتی ریلوے میں توسیع کے پیمانے کو تناظر میں رکھتے ہوئے وزیر اعظم نے مزید کہا کہ پچھلے سال ہی بھارت نے جنوبی کوریا، نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا کے مشترکہ ریلوے نیٹ ورک سے زیادہ ریلوے ٹریک بچھائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج، حکومت ریل سفر کو قابل رسائی اور خوشگوار بنانے کے لیے کام کر رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’’کوشش یہ ہے کہ ٹرین سے اسٹیشن تک بہترین ممکنہ تجربہ فراہم کیا جائے۔‘‘انہوں نے پلیٹ فارم پر نشستوں کے بہتر انتظام، تجدید شدہ ویٹنگ رومز اور ہزاروں اسٹیشنوں پر مفت وائی فائی کا ذکر کیا۔

بھارتی ریلوے میں ہونے والی وسیع ترقی کی نشاندہی کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے کہا کہ کوئی بھی وزیر اعظم لال قلعہ سے ان کامیابیوں کے بارے میں بات کرنا چاہے گا۔ تاہم، وزیر اعظم نے اس بات پر بھی زور دیا کہ آج کی تقریب کے شاندار انعقاد کی وجہ سے وہ آج خود ہی ریلوے کی کامیابیوں پر بڑی تفصیل سے روشنی ڈال رہے ہیں۔

وزیراعظم نے ریلوے کی حیثیت کو ملک کی لائف لائن قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے ساتھ شہروں کی شناخت ریلوے اسٹیشنوں سے بھی جڑی ہوئی ہے جو وقت گزرنے کے ساتھ شہر کا قلب بن چکے ہیں۔ اس سے اسٹیشنوں کو جدید شکل فراہم کرنا ناگزیر ہو گیا ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ اتنے سارے اسٹیشنوں کی جدید کاری سے ملک میں ترقی کا ایک نیا ماحول پیدا ہوگا اور یہ زائرین کے درمیان ایک اچھا تاثر پیدا کریں گے۔ تجدید شدہ اسٹیشنوں سے نہ صرف سیاحت میں اضافہ ہوگا بلکہ قریبی علاقوں میں اقتصادی سرگرمیوں کو بھی فروغ حاصل ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ’ون سٹیشن ون پروڈکٹ‘ اسکیم کاریگروں کی مدد کرے گی اور اس سے ضلع کی برانڈنگ میں مدد ملے گی۔

وزیر اعظم نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ملک نے آزادی کے امرت کال میں اپنے ورثے پر فخر کرنے کا عہد بھی کیا ہے ۔ جناب مودی نے کہا، ’’یہ امرت ریلوے اسٹیشن وراثت پر فخر کرنے اور ہر شہری میں جذبہ تفاخر پیدا کرنے کی علامت ہوں گے۔‘‘ وزیر اعظم نے کہا کہ امرت اسٹیشن ہندوستان کے ثقافتی اور مقامی ورثے کی جھلک پیش کریں گے۔ وزیر اعظم نے مثالیں دیتے ہوئے کہا کہ جے پور ریلوے اسٹیشن پر راجستھان کے ہوا محل اور آمیر قلعہ کی جھلکیاں ہوں گی، جموں و کشمیر کا جموں توی ریلوے اسٹیشن مشہور رگھوناتھ مندر سے متاثر ہوگا اور ناگالینڈ کا دیما پور اسٹیشن خطے سے 16 مختلف قبائل کے مقامی فن تعمیر کو پیش کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہر ریلوے سٹیشن اپنے قدیم ورثے کے ساتھ ملک کی جدید امنگوں کی علامت ہو گا۔ وزیر اعظم نے ’بھارت گورو یاترا ٹرینوں‘ کو مضبوط بنانے کا ذکر کیا جو تاریخی اہمیت کے مقامات اور یاترا کو جوڑتی ہے۔

ملک کی اقتصادی ترقی کو رفتار فراہم کرنے میں ریلوے کے کردار کو اجاگر کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ریلوے میں ریکارڈ سرمایہ کاری کی گئی ہے۔ اس سال، ریلوے کو 2.5 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کا بجٹ حاصل ہوا، جو کہ 2014 کے مقابلے میں پانچ گنا زیادہ ہے۔ گذشتہ 9 برسوں میں لوکو موٹیو کی پیداوار میں 9 گنا اضافہ رونما ہوا ہے۔ آج 13 گنا زیادہ ایچ ایل بی کوچز تیار کیے جا رہے ہیں۔

شمال مشرق میں ریلوے کی توسیع کے بارے میں بات کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے کہا، لائنوں کو دوگنا کرنے، گیج کی تبدیلی، برق کاری اور نئے راستوں پر تیزی سے کام جاری ہیں۔ جناب مودی نے کہا کہ ’’جلد ہی شمال مشرق کے تمام ریاستی دارالحکومتوں کو ریلوے نیٹ ورک سے جوڑ دیا جائے گا‘‘۔ انہوں نے بتایا کہ ناگالینڈ کو 100 سال بعد دوسرا اسٹیشن حاصل ہوا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ’’خطے میں نئی ریلوے لائنوں کی تعمیر میں تین گنا اضافہ رونما ہوا ہے‘‘۔

وزیر اعظم نے بتایا کہ گزشتہ 9 برسوں میں 2200 کلومیٹر سے زائد مال بردار گلیارے تعمیر کیے گئے ہیں جس سے مال گاڑی کے سفر کے وقت میں تخفیف واقع ہوئی ہے۔ اب مال دہلی این سی آر سے مغربی بندرگاہوں تک 24 گھنٹے میں پہنچ جاتا ہے، پہلے اس کام میں 72 گھنٹے صرف ہوتے تھے۔ دیگر راستوں پر بھی وقت میں 40 فیصد کمی دیکھی گئی ہے جس سے تاجروں، صنعت کاروں اور کاشتکاروں کو بہت فائدہ ہو رہا ہے۔

ریلوے پلوں کی قلت کی وجہ سے درپیش مشکلات کی نشاندہی کرتے ہوئے وزیر اعظم نے بتایا کہ 2014 سے قبل 6000 سے کم ریلوے اووَر برج اور انڈر برج تھے لیکن آج یہ تعداد 10000 سے تجاوز کر گئی ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ بڑی لائنوں پر بغیر پائلٹ کے لیول کراسنگ کی تعداد اب صفر پر آ گئی ہے۔ مسافروں کی سہولت کے بارے میں بات کرتے ہوئے وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ بزرگوں اور دیویانگ جنوں کی ضروریات پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ’’ہمارا زور بھارتی ریلوے کو جدید اور ماحول دوست بنانے پر ہے‘‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ بہت جلد 100 فیصد ریل لائن برق کاری حاصل کر لی جائے گا جس کے نتیجے میں بھارت میں تمام ریل گاڑیاں صرف بجلی سے چلیں گی۔ وزیراعظم نے یہ بھی بتایا کہ گزشتہ 9 برسوں میں شمسی پینلوں سے بجلی پیدا کرنے والے اسٹیشنوں کی تعداد 1200 سے زائد ہوگئی ہے۔ وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت کا مقصد مستقبل قریب میں ہر ریلوے اسٹیشن سے سبز توانائی پیدا کرنا ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ تقریباً 70000 ڈبوں میں ایل ای ڈی لائٹیں لگائی گئی ہیں اور ریل گاڑیوں میں بائیو ٹوائلٹس کی تعداد 2014 کے مقابلے میں 28 گنا بڑھ گئی ہے۔ جناب مودی نے اس بات پر زور دیا کہ تمام امرت اسٹیشنوں کو سبز عمارتوں کے معیار پر پورا اترنے کے لیے بنایا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’’2030 تک، بھارت ایک ایسا ملک ہوگا جس کا ریلوے نیٹ ورک خالص صفر اخراج پر چلے گا‘‘۔

وزیر اعظم نے کہا، ’’ریل نے ہمیں اپنے عزیزوں سے جوڑنے کے لیے دہائیوں تک کام کیا ہے، اس نے ملک کو جوڑنے کا کام کیا ہے۔ اب یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم ریل کو ایک بہتر شناخت اور جدید مستقبل سے جوڑیں۔ انہوں نے پارلیمنٹ کی نئی عمارت ، کرتویہ پتھ، جنگی میمورئیل اور اسٹیچو آف یونٹی جیسے پروجیکٹوں کی مخالفت پر افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ منفی سیاست سے ہٹ کر ہم نے ملک کی ترقی کو ایک مشن کے طور پر لیا ہے اور ووٹ بینک اور پارٹی کی سیاست سے بالاتر ہو کر اسے اولین ترجیح دی ہے۔

اس بات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہ ریلوے نے 1.5 لاکھ سے زیادہ نوجوانوں کو ملازمتیں فراہم کی ہیں، وزیر اعظم نے کہا کہ بنیادی ڈھانچے پر لاکھوں کروڑوں کی سرمایہ کاری سے بھی روزگار پیدا کیا جا رہا ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ فی الحال، مرکزی حکومت روزگار میلے کے ذریعے 10 لاکھ نوجوانوں کو نوکریاں فراہم کرنے کی مہم بھی چلا رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’’یہ ایک بدلتے ہوئے بھارت کی تصویر ہے جہاں ترقی نوجوانوں کو نئے مواقع فراہم کر رہی ہے، اور نوجوان ملک کی ترقی کو نئی پرواز عطا کر رہے ہیں‘‘۔

وزیر اعظم نے اس پروگرام کو رونق بخشنے کے لیے تشریف لائے متعدد مجاہدین آزادی اور کئی پدم ایوارڈیافتگان کی موجودگی کو تسلیم کیا۔ ہر ہندوستانی کے لیے اگست کے مہینے کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ یہ کرانتی ، شکرگزاری اور فرض شناسی کا مہینہ ہے اور یہ ماہ ایسے متعدد تاریخی دنوں سے بھرا ہوا ہے جنہوں نے بھارت کی تاریخ کو ایک نئی سمت دی۔ وزیر اعظم نے قومی یوم ہتھ کرگھا کا ذکر کیا جو 7 اگست کو منایا جاتا ہے اور سودیشی تحریک کے لیے وقف ہے۔ جناب مودی نے کہا، ’’7 اگست کی یہ تاریخ ہر بھارتی کے لیے ’مقامی اشیاء پر اصرار‘ کے عزم کا اعادہ کرنے کا دن ہے۔ انہوں نے گنیش چترتھی کے مقدس تیوہار کا بھی ذکر کیا اور گنیش چترتھی کو ماحول دوست طریقے سے منانے کی ضرورت پر زور دیا۔ وزیر اعظم نے ماحول دوست اشیاء سے تیار مورتیوں کو خریدنے کا مشورہ دیا۔ انہوں نے مقامی صناعوں، دستکاروں اور چھوٹے صنعت کاروں کی تیار کردہ مصنوعات خریدنے کا مشورہ بھی دیا۔

9 اگست کے بارے میں بات کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ یہ وہ تاریخی دن تھا جب بھارت چھوڑو تحریک شروع ہوئی اور اس نے بھارت کی جدوجہد آزادی میں نئی توانائی پیدا کی۔ وزیر اعظم نے کہا کہ اس سے متاثر ہو کر آج پورا ملک ہر برائی، بدعنوانی، کنبہ پروری اور خوشامد کے خلاف ہندوستان چھوڑو کا نعرہ لگا رہا ہے۔

وزیر اعظم نے آئندہ تقسیم کے ہولناک یادگاری دن کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں ان لاتعداد لوگوں کو یاد کرنا ہے جنہوں نے تقسیم کی بہت بڑی قیمت ادا کی۔ انہوں نے ان لوگوں کے تعاون کا اعتراف کیا جنہوں نے صدمے کے بعد خود کو سنبھالا اور ملک کی ترقی میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ دن ہمیں اپنے اتحاد کو برقرار رکھنے کی ذمہ داری کی یاد دلاتا ہے۔ جناب مودی نے کہا ’’ہمارا یوم آزادی اپنے ترنگے اور اپنے ملک کی ترقی کے تئیں اپنے عزم کو دہرانے کا دن ہے۔ گذشتہ برس کی طرح اس مرتبہ بھی ہمیں ہر گھر پر ترنگا لہرانا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا اور فلیگ مارچ میں لوگوں کے جوش و خروش کا ذکر کیا اور تمام لوگوں سے مہم سے جڑنےکی اپیل کی۔

وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت نے اس تاثر کو بدل دیا ہے کہ شہریوں کی جانب سے ادا کردہ ٹیکس بدعنوانی کی نذر ہو جاتا ہے اور آج لوگ محسوس کر رہے ہیں کہ ان کا پیسہ تعمیر ملک کے کاموں میں استعمال ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بڑھتی ہوئی سہولیات اور زندگی میں آسانی کی وجہ سے ٹیکس ادا کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ وزیر اعظم نے اس وقت کا ذکر کیا جب ملک میں 2 لاکھ روپے کی آمدنی پر ٹیکس لگایا جاتا تھا جبکہ آج 7 لاکھ روپے تک کی آمدنی پر ٹیکس نہیں ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ اس کے باوجود ملک میں جمع ہونے والے انکم ٹیکس کی رقم میں اضافہ ہو رہا ہے اور یہ واضح پیغام جا رہا ہے کہ ملک میں متوسط طبقے کا دائرہ مسلسل بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس سال انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے والوں کی تعداد میں 16 فیصد اضافہ ہوا ہے جو کہ حکومت پر اعتماد میں اضافے اور ملک میں ہونے والی جدت کو ظاہر کرتا ہے۔ آج لوگ دیکھ رہے ہیں کہ کس طرح ملک میں ریلوے کی بحالی ہو رہی ہے، میٹرو کی وسعت میں اضافہ ہو رہا ہے ۔ انہوں نے نئے ایکسپریس وے اور ہوائی اڈوں کی ترقی کا ذکر کیا اور کہا کہ اس طرح کی تبدیلیاں ٹیکس دہندگان کے پیسے سے ایک نئے بھارت کی تعمیر کے احساس کو تقویت فراہم کرتی ہیں۔ خطاب کے اختتام پر، وزیر اعظم نے کہا،’’ان 508 ریلوے اسٹیشنوں کی جدید کاری بھی اسی سمت میں اٹھایا گیا ایک قدم ہے۔ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں، امرت بھارت اسٹیشن بھارتی ریلوے کی اس تبدیلی کو ایک نئی بلندی پر لے جائیں گے۔‘‘

پس منظر

وزیر اعظم نے اکثر جدید ترین عوامی نقل و حمل کی فراہمی پر زور دیا ہے۔ اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ ریلوے پورے ملک کے لوگوں کے لیے نقل و حمل کا پسندیدہ وسیلہ ہے، انہوں نے ریلوے اسٹیشنوں پر عالمی معیار کی سہولیات فراہم کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔ اس تصوریت کی رہنمائی میں، امرت بھارت اسٹیشن اسکیم کو ملک بھر میں 1309 اسٹیشنوں کو ازسر نو ترقی دینے کے لیے شروع کیا گیا تھا۔

اس اسکیم کے ایک حصے کے طور پر، وزیر اعظم نے 508 ریلوے اسٹیشنوں کی تعمیر نو کا سنگ بنیاد رکھا ہے۔ ان اسٹیشنوں کو 24470کروڑ روپئے سے زیادہ کی لاگت سے دوبارہ تیار کیا جائے گا۔ شہر کے دونوں اطراف کے مناسب انضمام کے ساتھ ان اسٹیشنوں کو ’سٹی سینٹرز‘ کے طور پر ترقی دینے کے لیے ماسٹر پلان تیار کیے جا رہے ہیں۔ یہ مربوط نقطہ نظر ریلوے سٹیشن کے ارد گرد مرکوز شہر کی چوطرفہ شہری ترقی کے مجموعی وِژن سے ترغیب یافتہ ۔

یہ 508 اسٹیشن 27 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں پھیلے ہوئے ہیں، جن میں دیگر ریاستوں سمیت اتر پردیش اور راجستھان میں 55-55، بہار میں 49، مہاراشٹر میں 44، مغربی بنگال میں 37، مدھیہ پردیش میں 34، آسام میں 32، اڈیشہ میں 25، پنجاب میں 22 اسٹیشن، گجرات اور تلنگانہ میں 21-21، جھارکھنڈ میں 20، آندھرا پردیش اور تمل ناڈو میں 18-18، ہریانہ میں 15، کرناٹک میں 13 ریلوے اسٹیشن شامل ہیں۔

ازسر نو ترقی مسافروں کی رہنمائی کے لیے اچھی طرح سے ڈیزائن کردہ ٹریفک کے نقل و حمل ، بین ماڈل ارتباط اور اشارے کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ مسافروں کو سہولیات فراہم کرے گی۔ اسٹیشن کی عمارتوں کا ڈیزائن مقامی ثقافت، ورثے اور فن تعمیر سے متاثر ہوگا۔

تقریر کا مکمل متن پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
PM Modi Praises Farmers For Taking India's Rich Mango Heritage To Global Markets

Media Coverage

PM Modi Praises Farmers For Taking India's Rich Mango Heritage To Global Markets
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
India-Myanmar Joint Statement during the Official Visit of the President of Myanmar to India
June 01, 2026

At the invitation of H.E. Shri Narendra Modi, Prime Minister of India, H.E. U Min Aung Hlaing, President of the Republic of the Union of Myanmar paid his first Official Visit to India from 30 May to 3 June 2026.

The President was accompanied by the Union Ministers for President’s Office, Foreign Affairs, Finance & Revenue, Agriculture, Livestock & Irrigation, and Industry & MSME Business Development, and Governor of the Central Bank of Myanmar. A business delegation from diverse sectors including agriculture, pharmaceuticals, energy, banking, construction, IT, communications, trading and logistics, as well as members of the Myanmar-India Friendship Association, were part of the Myanmar delegation.

The Prime Minister of India and the President of Myanmar held talks on 1 June 2026, during which they reviewed bilateral, regional and global issues of mutual interest and charted the way forward for the relationship. The Prime Minister hosted a luncheon in honour of the visiting dignitary. Hon’ble President of India Smt. Droupadi Murmu received the President of Myanmar on the same day. Earlier, External Affairs Minister Dr. S. Jaishankar and National Security Adviser Shri Ajit Doval separately called on the President of Myanmar.

At the commencement of the visit, the President visited Bodh Gaya on 30 May 2026, where he offered prayers at Mahabodhi Temple, Mahabodhi Meditation Centre and Sujata Temple. These visits to deeply revered sites underscored the enduring spiritual and Buddhist ties, as well as the people-to-people links, between the two countries.

The President delivered a keynote speech at the India-Myanmar Business Conclave, jointly organised by the UMFCCI and CII, in New Delhi on 31 May 2026, where business heads from both sides discussed avenues for further strengthening and expanding bilateral trade and commercial opportunities. The President also toured the NTPC Energy Technology Research Alliance (NETRA) complex in Greater Noida to observe advanced R&D work, including in clean energy innovation, energy efficiency, renewable energy integration and grid resilience.

In his interaction with the President, the Prime Minister stated that Myanmar lies at the confluence of India’s Neighbourhood First, Act East and MAHASAGAR (Mutual and Holistic Advancement for Security and Growth Across Regions) policies. The discussions underscored the importance of strengthening bilateral cooperation, including trade and economic ties, defence and security, border management, development assistance and cultural exchanges. Both sides noted ongoing discussions on various bilateral Agreements and Memoranda of Understanding and looked forward to their early conclusion.

The Prime Minister underlined that enhanced connectivity would foster mutually beneficial economic linkages and shared prosperity in the region. In this regard, both sides shared the importance of working closely towards the completion of Kaladan Multi-Modal Transit Transport project and the India-Myanmar-Thailand trilateral highway.

The Prime Minister conveyed that the Mekong Ganga ICCR scholarships for Myanmar students would be enhanced from 36 to 100 from 2026 onwards.

Both sides agreed to facilitate and enhance bilateral trade including through the Rupee-Kyat settlement mechanism, and appreciated the steady growth in the volume of transactions recorded since its operationalisation in May 2024. Both sides also expressed support for closer trade and investment cooperation in the areas of mutual interest such as agro-processing, petroleum, energy, mining sectors, in accordance with their respective national laws and regulations.

The Prime Minister reaffirmed India’s support for the sovereignty and territorial integrity of the Republic of the Union of Myanmar. Both sides underscored the importance of preventing the misuse of sovereign territory for activities inimical to their security interests. The President reiterated Myanmar’s assurance that its territory would not be permitted to be used against India’s security interests. The Prime Minister affirmed that India, as a steadfast and trusted partner of Myanmar, remained committed to deepening security cooperation between the two countries.

The Prime Minister conveyed support for Myanmar-led efforts towards achieving peace, stability, national reconciliation and socio-economic development. He also offered continued assistance and cooperation, based on mutual respect and friendly relations between the two countries. The President appreciated India’s constructive support and cooperation.

The Prime Minister expressed confidence that the meetings of the President with the Governor of Maharashtra and the Chief Minister, as well as his business engagements during his upcoming visit to Mumbai on 02 - 03 June 2026 would further strengthen existing bilateral cooperation and economic ties.

The official visit of President U Min Aung Hlaing reaffirmed the long-standing friendship and close partnership between Myanmar and India and the shared commitment of both countries to further strengthen cooperation for the mutual benefit of the two countries. Both sides agreed to continue close engagement at all levels.

President U Min Aung Hlaing expressed his sincere appreciation to Prime Minister Shri Narendra Modi for the warm hospitality extended to him and to the members of his delegation during their stay in India. The President also extended an invitation to the Prime Minister of India to visit Myanmar at mutually convenient dates.