انہوں نے بانس کمیونٹی ریڈیو اسٹیشن کا افتتاح کیا
بانس کانتھا ضلع کے دایودر میں نیا ڈیری کمپلیکس اور آلو کا پروسیسنگ پلانٹ ، 600 کروڑروپے سے زیادہ کی لاگت سے تیار کیا گیا ہے
پالن پور میں بانس ڈیری پلانٹ میں پنیر کی مصنوعات اور وھے پاؤڈر کے لئے سہولیات میں توسیع کی
گجرات کے داما میں نامیاتی کھاد اور بایو گیس کے پلانٹ کا قیام
کھمانا ، رتنا پورہ – بھلڈی ، رادھن پور اور تھور میں قائم کئے جانے والے 100 ٹن کی صلاحیت کے ، چار گوبر گیس پلانٹوں کا سنگ بنیاد رکھا
‘‘ گزشتہ بہت سے سالوں میں بانس ڈیری مقامی برادریوں خاص طورپرکسانوں اور خواتین کو بااختیار بنانے کے لئے ایک ہب بن گیا ہے’’
‘‘جس طریقے سے زراعت میں بانس کانتھا نے اپنا مقام بنایا ہے وہ قابل ستائش ہے ۔ کسانوں نے نئی ٹکنالوجیاں اپنائیں ، آبی تحفظ پر توجہ مرکوز کی اور اس کا نتیجہ ہم سب دیکھ سکتے ہ
پالن پور میں بانس ڈیری پلانٹ میں پنیر کی مصنوعات اور وھے پاؤڈر کے لئے سہولیات میں توسیع کی
گجرات کے داما میں نامیاتی کھاد اور بایو گیس کے پلانٹ کا قیام

وزیراعظم جناب نریندرمودی نے ،آج  بانس  کنتھا ضلع میں دایودر کے مقام پر  ایک نئے ڈیری کمپلیکس  اور آلو کے پروسیسنگ کے ایک  پلانٹ کو  قوم کے نام وقف کیا،جسے  600 کروڑرو پے سے زیادہ لاگت سے تعمیر کیا گیا ہے۔ یہ نیا ڈیری کمپلیکس ایک گرین فیلڈ  پروجیکٹ ہے۔یہ تقریباََ 30 لاکھ لیٹر دودھ کی پروسیسنگ   کرسکے گا،  تقریباََ  80  ٹن مکھن  پیداکرسکے گا،  ایک لاکھ لیٹر  آئس کریم  ،  اور 20 ٹن کنڈنس ملک  (کھویا) اور 6 ٹن  چاکلیٹ   روزانہ  پیدا کرسکے گا۔ آلو کی پروسیسنگ  کا پلانٹ  مختلف  طرح کی  پروسیسنگ  آلو کی مصنوعات تیار کرے گا ، جن میں  فرنچ فرائز، پٹاٹو چیپس، آلو ٹکی ، پٹیز  وغیرہ شامل ہیں۔ ان میں بہت  سی اشیاء  کو  دیگر ممالک  کو  برآمد کیا جاتا ہے۔ یہ پلانٹ  مقامی کسانوں کو با اختیار بنائیں گے اور خطے میں   دیہی  معیشت  کو فرو غ دیں گے۔ وزیراعظم نے  بانس  کمیونٹی ریڈیو اسٹیشن بھی قوم کے نام وقف  کیا۔ یہ کمیونٹی ریڈیو اسٹیشن کسانوں  کو زراعت اور مویشی  پروری  سے متعلق کلیدی سائنسی معلومات فراہم کرنے کے لئے قائم کیا گیا ہے۔ توقع   ہے کہ  یہ ریڈیو  اسٹیشن تقریبا  1700  گاؤوں   کے 5  لاکھ سے زیادہ کسانوں  کو منسلک کرے گا۔ وزیراعظم نے  پنیر کی مصنوعات کی پیدا وار  کے لئے  توسیع  شدہ سہولیات  اور  پالنپور میں بانس ڈیری پلانٹ پر  وھے پاؤڈر  کی  سہولیات  کو بھی قوم کے نام وقف کیا۔  علاوہ ازیں وزیراعظم  نے گجرات کے داما  میں نامیاتی کھاد  اور  بائیو گیس  پلانٹ  کو بھی  قوم کے نام وقف  کیا۔ وزیراعظم نے 100 ٹن  کی صلاحیت  کے  4  گوبر  گیس   کے پلانٹوں کا سنگ بنیاد بھی رکھا ، جنہیں  کھمانا ، رتن پورا- بھلڈی ،  رادھن پور اور تھور میں قائم کیا جائے گا۔ گجرات کے وزیراعلی جناب بھوپند ربھائی  پٹیل بھی اس  موقع پر موجود تھے۔

اس تقریب سے پہلے  وزیراعظم نے بانس ڈیری  کے ساتھ اپنے  انسلاک کے  بارے میں ٹوئیٹ کیا  اور  2013  اور  2016  میں  اپنے دورو ں کی تصاویر  اشتراک کیں۔  وزیراعظم نے کہا  ‘‘گزشتہ  سات برسوں میں بانس ڈیری مقامی برادریوں ، خاص  طور پر کسانوں اور خواتین کو با اختیار بنانے کا ایک مرکز   بن گئی  ہے۔ میں خاص طور پر  ڈیری  کے  اس اختراعی کامیابی پر فخر محسوس کرتا ہوں، جو اس نے اپنی مختلف  مصنوعات میں حاصل کی ہیں۔ شہد  پر  ان کی  جاری توجہ  بھی قابل ستائش  ہے’’۔

جنوب مودی  نے بانس کانتھا  کے  لوگوں کی  کاوشوں اور جذبے کی ستائش بھی کی ۔ انہو ں نے کہا کہ ‘‘ میں بانس کانتھا کے لوگوں کی ان کی محنت ومشقت  اور  لچک دار  جذبے  کے لئے  ستائش کرنا چاہوں گا۔ اس ضلع میں  جس طریقے سے  زراعتی شعبے نے اپنا  مقام بنایا ہے وہ قابل ستائش  ہے۔ کسانوں نے نئی  ٹیکنالوجیاں اختیار کی ہیں،  آبی تحفظ  پر توجہ مرکوز کی ہے اور  ان اقدام کے نتائج سب کے سامنے ہیں‘‘۔

آج خطا کرتے ہوئے  وزیراعظم نے ماں امباجی  کی مقد س سرزمین کو  تعظیم پیش کرتے ہوئے آغاز کیا۔ انہوں نے بانس کی خواتین کی  رحمتوں کا ذکر کیا اور  ان کے لازوال جذبے کے تئیں تعظیم کا اظہار کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ یہاں پر  کوئی بھی شخص اس بات کو براہ راست محسوس کر سکتا ہے کہ کس طرح  گاؤں کی معیشت اور  ہندوستان میں ماؤں اور بہنوں کو  با اختیار بنانے کے عمل کو  کس طرح مستحکم کیا جاسکتا ہے اور  کس طرح  خود  کفیل ہندوستان کی مہم  تعاون کی تحریک کو مستحکم کرسکتی ہے۔ کاشی کے  رکن پارلیمان ہونے کے ناطے  وزیراعظم نے بانس  ڈیری اور بنسا کانتھا کے عوام کو ، وارانسی میں بھی ایک کمپلیکس قائم کرنے کے لئے سلام کیا۔

بانس ڈیری  نے سرگرمیوں کی توسیع کا ذکر کرتے ہوئے  وزیراعظم نے کہا کہ  ایک جانب بانس ڈیری کمپلیکس ، پنیر اور وھے پلانٹ سب کے سب ڈیری سیکٹر کی توسیع میں اہمیت کے حامل ہیں۔ ‘‘بانس ڈیری نے بھی یہ ثابت کردیا ہے کہ  مقامی کسانوں کی آمدنی میں اضافہ کرنے کے لئے  دیگر وسائل کو استعمال کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آلو ، شہد  اور دیگر متعلقہ  مصنوعات کسانوں کی قسمت  تبدیل کر رہی ہیں۔

 ڈیری  کا  کھانے  کے تیل  اور مونگ  پھلی کے شعبے میں  توسیع   کا  ذکر کرتے ہوئے  انہوں نے  کہا کہ  یہ اقدام  ووکل فار لوکل کی مہم کو  بھی استحکام بخش  رہا ہے۔ انہوں نے گوبردھن میں ڈیری کے پروجیکٹوں کی ستائش کی اور  ملک بھر میں اس طرح کے پلانٹوں  کو قائم کرکے فضلہ  سے کارآمد اشیاء بنانے کی  حکومت کی کاوشوں میں مدد کرنے کے لئے ڈیری پروجیکٹوں  کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ  یہ پلانٹس  گاؤوں میں  صفائی ستھرائی برقرار رکھ کر  مستفید  ہوں گے،  گوبر  کے لئے کسانوں کو  آمدنی فراہم کریں گے، بجلی پیدا کریں گے اور  قدرتی طور پر  کرہ ارض کا تحفظ  کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کا وشیں ہمارے گاؤوں  ہماری  خواتین  کو مستحکم کرتی ہیں اور  ہماری  دھرتی  ماں کا تحفظ کرتی ہیں۔ گجرات کے ذریعہ کی گئی  کوششوں  سے متعلق  اظہار فخر کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ  کل ودیا سمکشا  کیندر کے  دورے پر انہیں   فخر   ہے۔ انہوں نے کہا کہ  وزیراعلیٰ  کے  زیر قیادت  یہ کیندر  نئی کامیابی حاصل کر رہا ہے۔  آج یہ کیندر  گجرات  کے 54  ہزار اسکولوں ، 4.5 لاکھ اساتذہ  اور 1.4  طلباء  کی  افرادی قوت  کا ایک مرتعش  مرکز  بن گیا ہے۔ یہ   کیندر  مصنوعی انٹلیجنس ، مشینی آموزش اور  بڑے اعداد وشمار  کی  اینالیٹکس  سے لیس ہے۔ اس پہل  کے ذریعہ  اٹھائے گئے  اقدامات سے  اسکولوں میں حاضری میں 26  فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ اس طرح کے پروجیکٹوں سے ملک کے  تعلیمی منظر نامے میں  پیش رسائی  کی تبدیلی کی جاسکتی ہے۔ انہوں نے  تعلیم سے  متعلق  شراکت داروں، عہدیداروں اور  دیگر ریاستوں سے  اس طرح کی سہولت کا مطالعہ کرنے اور اسے اختیار کرنے پر زور دیا ہے۔

وزیراعظم نے گجراتی زبان میں بھی خطاب کیا۔ انہوں نے  بانس ڈیری  کے ذریعہ کی گئی  سخت کاوشوں پر اظہار مسرت کیا اور بانس کی خواتین کے جذبے کی ستائش کی۔ انہوں نے بانس کانتھا کی خواتین کو  تعظیم دی جو  اپنے مویشیوں  کی اپنے بچوں کی طرح ہی دیکھ بھال کرتی  ہیں۔ وزیراعظم نے  بانسا کانتھا  کے عوام کے لئے اپنے  پیار  کا اعادہ کیا اور  کہا کہ  وہ کہیں بھی جائیں ، وہ ہمیشہ  ان کےساتھ منسلک رہیں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ‘‘میں آپ کے کھیت کھلیان میں آپ کے ساتھ ایک شراکت دار کی طرح رہوں گا۔’’

 انہوں نے کہا کہ بانس ڈیری نے ملک میں ایک نئی اقتصادی قوت  وضع کی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ بانس ڈیری تحریک، اتر پردیش ، ہریانہ، راجستھان، اڈیشہ، (سومناتھ سے جگن ناتھ)، آندھرا پردیش  اور  جھارکھنڈ جیسی ریاستوں میں کسانوں اور  مویشی پروری  کی برادریوں کی مدد کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ  ڈیری  آج  کسانوں کی آمدنی میں اضافہ کر رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ  8.5  کروڑ روپے  لاگت کے دودھ کی پیداوار  کے ساتھ،  ڈیری  کسانوں کی آمدنی کا  ایک  وسیع  تر میڈیم بن کر ابھر رہی ہے، جو روایتی کھانے  کے اناجوں ، خاص طور پر جہاں کم اراضی والے کسان ہیں اور  صورت حال سخت ترین ہے، ایسے علاقوں میں آمدنی میں اضافہ کر رہی ہے۔ کسانوں کے کھاتوں میں براہ راست  فائدے کی منتقلی کا حوالہ دیتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ  اب  تمام فوائد  مستفدین  کو  اس صورت حال کے برخلاف  پہنچ  رہے ہیں، جس کا  بیان  ایک سابق  وزیراعظم نے کیا  تھا کہ  ماضی میں  مستفید کو  ایک روپے میں سے  صرف 15  پیسے کا ہی فائدہ پہنچتا ہے۔

قدرتی کاشتکاری  پر  اپنی توجہ کا اعادہ کرتے ہوئےو زیراعظم نےبانس کانتھا کی  آبی تحفظ اور  ڈرپ آبپاشی کی  یاد دہانی کرائی۔ انہوں نے کہا کہ جب وہ  پانی کو  پرساد  اور سونا سمجھتے ہوئے اس کا سیون کرتے ہیں، تو انہیں 2023  میں آزادی کے دن تک ، آزادی کے امرت مہوتسو کے سال میں 75  وسیع  آبی ذخائر تعمیر کرنے چاہیں۔

 

 

 

 

 

 

تقریر کا مکمل متن پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
India records highest-ever startup surge with 55,200 recognised in FY26

Media Coverage

India records highest-ever startup surge with 55,200 recognised in FY26
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Cabinet approves two railway projects in Uttar Pradesh and Andhra Pradesh worth Rs 24,815 crore
April 18, 2026

The Cabinet Committee on Economic Affairs, chaired by the Prime Minister Shri Narendra Modi, today has approved 02 (Two) projects of Ministry of Railways with total cost of Rs. 24,815 crore (approx.). These projects include:

Name of Project

Route Length (in km)

Track Length (in km)

Completion Cost (Rs. in Cr.)

Ghaziabad – Sitapur 3rd and 4th Line

403

859

14,926

Rajahmundry (Nidadavolu) – Visakhapatnam (Duvvada) 3rd and 4th Line

 

198

 

458

 

9,889

Total

601

1,317

24,815

The increased line capacity will significantly enhance mobility, resulting in improved operational efficiency and service reliability for Indian Railways. These multi-tracking proposals are poised to streamline operations and alleviate congestion. The projects are in line with the Prime Minister Shri Narendra Modiji’s Vision of a New India which will make people of the region “Atmanirbhar” by way of comprehensive development in the area which will enhance their employment/ self-employment opportunities.

The projects are planned on PM-Gati Shakti National Master Plan with focus on enhancing multi-modal connectivity & logistic efficiency through integrated planning and stakeholder consultations. These projects will provide seamless connectivity for movement of people, goods, and services.

The 02 (Two) projects covering 15 Districts across the states of Uttar Pradesh and Andhra Pradesh will increase the existing network of Indian Railways by about 601 Kms.

The proposed capacity enhancement will improve rail connectivity to several prominent tourist destinations across the country, including Dudheshwarnath Temple, Garhmukteshwar Ganga Ghat, Dargah Shah Wilayat Jama Masjid (Amroha), Naimisharanya (Sitapur), Annavaram, Antarvedi, Draksharamam, etc.

The proposed projects are essential routes for transportation of commodities such as coal, foodgrains, cement, POL, iron and steel, container, fertilizers, sugar, chemical salts, limestone, etc. The Railways being environment friendly and energy efficient mode of transportation, will help both in achieving climate goals and minimizing logistics cost of the country lowering CO2 emissions (180.31Crore Kg) which is equivalent to plantation of 7.33 Crore trees.

Ghaziabad – Sitapur 3rd and 4th Line (403 Km)

  • Ghaziabad – Sitapur is an existing double line section forming a key part of Delhi- Guwahati High Density Network (HDN 4).
  • The project is crucial for improving connectivity between the Northern and Eastern region of the country.
  • The existing line capacity utilization of the section is up to 168% and is projected to be up to 207% in case the project is not taken up.
  • Transverses through Ghaziabad, Hapur, Amroha, Moradabad, Rampur, Bareilly, Sahjahanpur, Lakhimpur Kheri and Sitapur districts of Uttar Pradesh.
  • The project route passes through major industrial centres - Ghaziabad (machinery, electronics, pharmaceuticals), Moradabad (brassware and handicrafts), Bareilly (furniture, textiles, engineering), Shahjahanpur (carpets and cement-related industries), and Roza (thermal power plant).
  • For seamless transportation, the project alignment is planned to bypass congested stations of Hapur, Simbhaoli, Moradabad, Rampur, Bareilly, Shahjahanpur, and Sitapur and accordingly, six new stations are proposed on the bypassing sections.
  • Key tourist/religious places along/near to the project section are Dudheshwarnath Temple, Garhmukteshwar Ganga Ghat, Dargah Shah Wilayat Jama Masjid (Amroha), and Naimisharanya (Sitapur) among others.
  • Anticipated additional freight traffic of 35.72 MTPA consisting of Coal, Foodgrains, Chemical Manures, Finished Steel, etc.
  • Estimated Cost: Rs.14,926 crore (approx.)
  • Employment generation: 274 lakh human-days.
  • CO2 emissions saved: About 128.77 crore Kg CO2 equivalent to 5.15 Cr trees.

  • Logistic cost saving: Rs. 2,877.46 crore every year vis-a vis road transportation.

Ghaziabad – Sitapur 3rd and 4th Line (403 Km)

Rajahmundry (Nidadavolu) – Visakhapatnam (Duvvada) 3rd and 4th Line (198 Km)

  • Rajahmundry (Nidadavolu) – Visakhapatnam (Duvvada) section forms part of the Howrah – Chennai High Density Network (HDN).
  • The proposed project is part of quadrupling initiative of Howrah – Chennai High Density Network (HDN) route.
  • The project traverses through East Godavari, Konaseema, Kakinada, Anakapalle and Vishakapatnam districts of Andhra Pradesh.
  • Visakhapatnam is identified as an Aspirational District in the Aspirational Districts Programme.
  • It provides connectivity to major ports along the East Coast such as Visakhapatnam, Gangavaram, Machilipatnam and Kakinada.
  • The project route runs along the eastern coastline and is among the busiest, predominantly freight-oriented sections of the East Coast Rail Corridor.
  • The line capacity utilization of the section has already reached up to 130%, leading to frequent congestion and operational delays. The line capacity is expected to increase further due to proposed expansion of ports and industries in the region.
  • Project section includes 4.3 km rail bridge over Godavari River, 2.67 km viaduct, 3 bypasses and the new alignment is around 8 km shorter than the existing route, improving connectivity and operational efficiency.
  • The proposed section will also boost tourism by improving access to key destinations such as Annavaram, Antarvedi and Draksharamam etc.
  • Anticipated additional freight traffic of 29.04 MTPA consisting of Coal, Cement, Chemical Manures, Iron and Steel, Foodgrains, Containers, Bauxite, Gypsum, Limestone, etc.
  • Estimated Cost: Rs.9,889 crore (approx.)
  • Employment generation: 135 lakh human-days.
  • CO2 emissions saved: About 51.49 crore Kg CO2 equivalent to 2.06 Cr trees.

  • Logistic cost saving: Rs. 1,150.56 crore every year vis-a vis road transportation.

 

आर्थिक सशक्तिकरण:

Aspirational districts - Visakhapatnam district will get improved connectivity

Additional economic opportunities in the region through tourism & industries.

Better healthcare and education for the citizens due to enhanced rail connectivity.


Rajahmundry (Nidadavolu) – Visakhapatnam (Duvvada) 3rd and 4th Line (198 Km)

Prime Minister’s focus on railways:

  • Record budget allocation of Rs. 2,65,000 crore for FY 26-27.
  • Manufacturing more than 1600 locomotives- surpassed US and Europe in manufacturing of locomotive production
  • In FY 26, Indian Railways is expected to rank among the top three freight carriers globally, moving 1.6 billion tonnes of cargo.

  • India starts exporting metro coaches to Australia and bogie to United Kingdom, Saudi Arabia, France and Australia.