سڈنی مذاکرات میں وزیراعظم کا کلیدی خطاب

Published By : Admin | November 18, 2021 | 09:19 IST
ہندوستان میں ہورہی پانچ اہم تبدیلیوں کی فہرستیں
جمہوریت کی سب سے بڑی طاقت کھلاپن ہے-ساتھ ہی ساتھ ہمیں کچھ مفاد پرست عناصر کو کھلے پن کا غلط استعمال کرنے کی اجازت نہیں دینی چاہئے
ہندوستان کے ڈجیٹل انقلاب کی جڑیں ہماری جمہوریت ، ہماری آبادی کا تناسب اور ہماری معیشت کے پیمانے میں پیوست ہے
ہم، عوام کو بااختیار بنانے کے وسیلے کے طورپر ڈیٹا کا استعما ل کرتے ہیں، ہندوستان انفرادی حقوق کی مضبوط ضمانت کے ساتھ ایک جمہوری فریم ورک میں اس کام کو کرنے میں زبردست اور بے مثال تجربہ رکھتا ہے
ہندوستان کی جمہوری روایات کافی قدیم ہیں ، اس کے جدید ادارے بہت مضبوط ہیں اور ہم نے ہمیشہ دنیا کوایک کنبے کے طوپر سمجھا ہے
مل کر کام کرنے کی خاطر جمہوریتوں کو ایک ایسا روڈ میپ دیا جائے جس سے قومی حقوق تسلیم کئے جاسکیں اور ساتھ ہی ساتھ تجارت ، سرمایہ کاری اور عوامی بھلائی کو فروغ دیا جاسکے
یہ ضروری ہے کہ کرپٹو کرنسی پر تمام جمہوری ممالک مل کر کام کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ یہ غلط ہاتھوں میں نہ جاپائے ،جس سے ہمارے نوجوان برباد ہوجائیں

دوستو!

نمسکار!

ہندوستان کے عوام کے لئے یہ بڑے افتخار کی بات ہے کہ آپ لوگوں نے مجھے سڈنی مذاکرات کے افتتاحی اجلاس میں کلیدی خطبہ دینے کے لئے مدعو کیا ہے۔میں اس دعوت  کو ہند بحرالکاہل خطے  اور ابھرتی ہوئی ڈیجیٹل دنیا میں ہندوستان کے مرکزی کردار کے اعتراف کے طور پر دیکھتا ہوں۔یہ ایک طریقہ سے ہمارے دونوں ملکوں کے درمیان جامع  کلیدی شراکت داری سے عقیدت کا اظہار بھی ہے اوراس خطے اوردنیا کے لئے ایک نیک  شگون بھی۔میں سڈنی مذاکرات میں اہتمام کرنے والوں کو ابھرتی ہوئی، اہم اور سائبر ٹیکنالوجیوں پر توجہ مرکوز کرنے کے لئے مبارک باد دیتا ہوں۔

دوستو!

ہم تبدیلی کے ایک ایسے دور سے گزر رہے ہیں جو ایک عہد میں ایک بار ہوتا ہے۔ڈیجیٹل عہد ہمارے ارد گرد موجود ہر چیز کو تبدیل کررہا ہے۔اس نے سیاسیات ، اقتصادیات اور معاشرے کی نئی تاریخ پیش کی ہے۔یہ خود مختاری، طرز حکمرانی، اخلاقیات، قانون، حقوق اور سلامتی کے عبور پر نئے سوالات قائم کررہا ہے۔یہ عہد بین الاقوامی مسابقت، اقتدار اور لیڈر شپ کو نئی شکل دے رہا ہے۔اس کے ذریعے ترقی اور خوشحالی کے لئے مواقع کے ایک نئے دور کاآغاز ہوا ہے۔لیکن اسی کے ساتھ ہم مختلف قسم کے خطرات اور تصادمات جیسی صورت حال کا سامنا کررہے ہیں اور یہ سمندر کی تہہ سے لے کر سائبر اور خلاء تک ہر جگہ موجود ہیں۔ٹیکنالوجی پہلے ہی  عالم مسابقت  کے لئے ایک  بڑے وسیلے اور مستقبل کے عالمی نظام کی تشکیل کے لئے ایک کلیدی حیثیت اختیار کرچکی ہے۔ٹیکنالوجی اور ڈیٹا نئے ہتھیار بن چکے ہیں۔جمہوریت کی سب سے بڑی مضبوطی اس کا کھلا پن ہے۔اسی کے ساتھ ساتھ ہمیں مفاد پرستوں کو اس کھلے پن کے استحصال کا موقع نہیں دینا چاہئے۔

دوستو!

ایک جمہوری حکومت اور ایک ڈیجیٹل لیڈر کی حیثیت سے ہندوستان شراکتداروں کے ساتھ ہماری مشترکہ خوشحالی  اور سلامتی کے لئے کام کرنے کو تیار ہے۔ ہندوستان کے ڈیجیٹل انقلاب کی جڑے ہماری جمہوریت، ہمار ے  آبادی کے تنوع  اور ہماری معیشت کی وسعت میں پیوست ہے۔اس کو طاقت ہمارے نوجوانوں کے لئے کاروبار اور اختراعات سے ملتی ہے۔ ہم ماضی کے چیلنجوں کو، مستقبل میں تیز رفتاری سے داخل ہونے کے لئے مواقع میں تبدیل کررہے ہیں۔ہندوستان میں پانچ طرح کی  خاص تبدیلیاں سامنے آرہی ہیں۔ایک:ہم دنیا کا وسیع ترین عوامی اطلاعات کا بنیادی ڈھانچہ تعمیر کررہے ہیں۔1.3 بلین سے زیادہ ہندوستانیوں کے پاس منفرد ڈیجیٹل شناختی کارڈ موجود ہے۔ ہم 6 لاکھ دیہات کو براڈ بینڈ کے ساتھ منسلک کرنے کی راہ پر گامزن ہے۔ہم نے دنیا کا سب سے زیادہ کارگر ادائیگی کا بنیادی ڈھانچہ تعمیر کیا ہے جس کا نام یو پی آئی ہے۔80 کروڑ سے زیادہ ہندوستانی انٹر نیٹ کااستعمال کرتے ہیں،جبکہ 75 کروڑ اسمارٹ فون سے جڑے ہوئے ہیں۔ہم فی کس سب سے زیادہ ڈاٹا کااستعمال کرنے والے ہیں اور دنیا میں سب سے سستا ڈیٹا ہمارے پاس ہے۔دو:ہم طرز حکمرانی، شمولیت، تفویض اختیارات، مربوط کاری، منافع کی فراہمی اور فلاح و بہبود کے لئے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کااستعمال کرتے ہوئے لوگوں کی زندگیوں میں انقلاب برپا کررہے ہیں۔ہر شخص نے ہندوستان کے مالیاتی شمولیت ، بینکنگ اور ڈیجیٹل ادائیگی کے انقلاب کے بارے میں سن رکھا ہے۔ ابھی حال ہی میں ہم نے آر وگیہ سیتو اور کووِن پلیٹ فارموں کا استعمال کرتے ہوئے، ہندوستان کے وسیع وعریض علاقے میں ویکسین کی 1.1 بلین خوراکیں دینے کے لئے ٹیکنالوجی کااستعمال کیا ہے۔ہم اپنی ایک ارب سے زیادہ سستی اور عالمی پیمانے کی طبی سہولیات مہیا کرنے کی غرض سے،ایک نیشنل ڈیجیٹل ہیلتھ مشن کی تعمیر بھی کررہے ہیں۔ہمارا ایک ملک ایک کارڈ پروگرام ملک میں ہر جگہ کروڑوں مزدوروں کو فائدہ پہنچائے گا۔تین:ہندوستان کے پاس دنیا کا سب سے وسیع تر اور تیز ترین ترقی پذیر اسٹارٹ اپ ماحولیاتی نظام ہے۔ہر چند ہفتوں کے پاس ہمارے یہاں ایک نیا ادارہ وجود میں آجاتا ہے۔یہ ادارے صحت اور تعلیم سے مل کر قومی سلامتی تک ہر مسئلے کے لئے تدابیر فراہم کرتے ہیں۔

چار:ہندوستان کی صنعت اور خدمات کا شعبے، جن میں زراعت بھی شامل ہے،زبردست ڈیجیٹل تبدیلی سے گزررہے ہیں۔ہم صاف شفاف توانائی کی منتقلی، وسائل کی تبدیلی اور حیاتی تنوع کے تحفظ کے لئے بھی ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کا  استعمال کررہے ہیں۔پانچ:ہندوستان کو مستقبل میں آگے بڑھنے کے لئے تیار کرنے کی غرض سے بڑے پیمانے پر اقدامات کئے جارہے ہیں۔ہم 5 جی اور 6 جی جیسی ٹیلی مواصلاتی ٹیکنالوجی میں دیسی صلاحیتوں کو ترقی دینے کے پروگرام میں سرمایہ کاری کررہے ہیں۔ ہندوستان مصنوعی ذہانت اور مشین کی تعلیم کے میدان میں، خاص طور پر  مصنوعی ذہانت کے انسان محوری اوراخلاقی استعمال میں ہندوستان سرفہرست ممالک میں سے  ایک ہے۔ہم کلاؤڈ پلیٹ فارموں اور کلاؤڈ کمپوٹنگ میں زبردست استعداد حاصل  کررہے ہیں۔

یہ لچک داری اور ڈیجیٹل خود مختاری کے لئے کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ ہم  کوانٹم  کمپوٹنگ  کے میدان میں عالمی سطح کی صلاحیت سازی کررہے ہیں۔

ہندوستان کا خلائی پروگرام ہماری معیشت اور سیکوریٹی کا اہم ستون ہے۔اب اس میں نجی شعبے کی طرف سے اختراعات اور سرمایہ کاری کے راستے بھی کھلے ہوئے ہیں۔ہندوستان پہلے ہی دنیا بھر کے کارپوریٹوں کو سائبر سیکوریٹی کی سہولیات اور خدمات فراہم کرنے کے لئے ایک بڑا مرکز بن چکا ہے۔ہم نے ہندوستان کو سائبر سیکوریٹی کے سلسلے میں ایک عالمی ہب بنانے کے لئے صنعتی دنیا کے ساتھ مل کر ایک ٹاسک فورس تشکیل دی ہے۔ہمیں اپنی ہنر مندیوں اور عالمی اعتماد کا فائدہ حاصل ہے اور اب ہم ہارڈ ویئر کی طرف توجہ  مرکوز کررہے ہیں۔سیمی کنڈیکٹرس کا ایک کلیدی مینوفیکچرل بننے کے لئے ہم ترغیبات کا ایک پیکج مرتب کررہے ہیں۔الیکٹرانکس اور ٹیلی کام کے شعبے میں پیداوار سے جڑی ہماری ترغیباتی اسکیمیں عالمی اداروں کو پہلے ہی سے اپنی طرف راغب کررہی ہیں کہ وہ ہندوستان میں اپنی کمپنیاں قائم کریں۔

دوستو!

آج کے دور میں ٹیکنالوجی کی عظیم ترین پیداوار ڈیٹا ہے۔ہندوستان میں ہم نے ڈیٹا کے تحفظ، رازداری اور سیکوریٹی کا عظیم الشان فریم ورک تیار کیا ہے۔اسی کے ساتھ ساتھ، ہم ڈیٹا کااستعمال لوگوں کو تفویض اختیارات کے ایک وسیلے کے طور پر کرتے ہیں۔ہندوستان نے انفرادی حقوق کی مضبوط ضمانت کے ساتھ ایک جمہوری فریم ورک میں اس کام کو انجام دینے کا بے مثال تجربہ کیا ہے۔

دوستو!

کوئی بھی ملک ٹیکنالوجی کا کس طرح استعمال کرتا ہے،  یہ اس کی اقدار اور تصورات پر منحصر ہے۔ہندوستان کی جمہوری روایات قدیم ہیں،اس کے جدید ادارے مضبوط ہے۔اسی کے ساتھ ہم نے پوری دنیا کو  ہمیشہ ایک خاندان تصور کیا ہے۔ہندوستان کی اطلاعاتی ٹیکنالوجی کی صلاحیت نے عالمی ڈیجیٹل اقتصادیات کی تشکیل میں مدد کی ہے۔یہ وائی 2 کے مسئلے سے نمٹنے میں مددگار ثابت ہوئی ہے۔اس نے ان ٹیکنالوجیوں اور خدمات کے ارتقاء میں بہت خدمات انجام دی ہیں، جن کا استعمال ہم اپنی روز مرہ زندگی میں کرتے ہیں۔آج ہم نے پوری دنیا کے لئے کووِن پلیٹ فارم کو بلا کسی قیمت کے پیش کیا ہےاور اس کو ایک اوپن سورس سافٹ ویئر بنا دیا ہے۔ٹیکنالوجی کے استعمال کے ساتھ ہندوستان کا وسیع تجربہ، عوامی بہتری کے پالیسی، شمولیت والی ترقی اور سماجی اختیارات کی تفویض جیسی چیزیں ترقی پذیر دنیا کے لئے بہت مددگار ثابت ہوسکتی ہیں۔ ہم ملکوں اور ان کے عوام  کو با اختیار بنانے کے لئے مل کر کام کرسکتے ہیں اور اس ملک میں موجود مواقع سے استفادہ کرنے کے لئے انہیں آمادہ کرسکتے ہیں۔اس دنیا کے مستقبل کو تعمیر کرنے کے لئے بھی یہ بہت اہم ہے۔ جس سے ہمارے جمہوری نظریات اور اقدار کی عکاسی ہوتی ہے۔ یہ چیز اتنی ہی اہم ہے جتنی ہماری اپنی قومی سلامتی اور خوشحالی۔

دوستو!

اس بنا پر جمہوری حکومتوں کے لئے یہ ضروری ہوجاتا ہے کہ وہ ساتھ مل کر کام کریں۔مستقبل کی ٹیکنالوجی کے حوالے سے تحقیق اور ترقی کے شعبے میں مل کر سرمایہ کاری کریں،بھروسے مند مینوفیکچرنگ کے ادارے اور قابل اعتماد سپلائی چین تیار کریں،سائبر سیکیوریٹی کے معاملے میں خفیہ معلومات اور فعال تعاون کو مزید گہرا کریں، اہم معلوماتی بنیادی ڈھانچے کی حفاظت کریں، عوامی رائے عامہ کو بھٹکانے کی کوششوں  پر قدغن لگائیں،تکینکی اور طرز حکمرانی والے معیارات اور ضوابط وضع کریں جو ہماری جمہوری اقدار سے مطابقت رکھتے ہوں،ڈاٹا کے نظم ونسق اور کراس بارڈر فلو کے لئے معیارات اور ضابطے مرتب کریں، جن سے ڈیٹا کی حفاظت اور نگرانی ہوتی ہے۔اُ نہیں قومی حقوق کو تسلیم کرناچاہئے اور اس کے ساتھ ہی ساتھ تجارت ، سرمایہ کاری اور وسیع تر عوامی فلاح و بہبود کو فروغ دیناچاہئے۔یہ بات بہت اہم ہے کہ تمام جمہوری حکومتوں کو اس پر مل کر کام کرناچاہئے اور اس بات کو یقینی بنانا چاہئے کہ یہ چیز غلط ہاتھوں میں نہ پڑ جائے جو آپ کے نوجوانوں کو غلط راہ پر ڈال سکتی ہے۔

دوستو!

ہم اپنی پسند کے حوالے سے تاریخی لمحات سے گزررہے ہیں۔ہمارے دور کی ٹیکنالوجی سے لیس بڑی طاقتیں تعاون کی راہ اختیار کریں گی یا تصادم کی، غلبے کی راہ اختیار کریں گی یا ترقی کی، ظلم کو اپنائیں  گی یا مواقع پیدا  کریں گی،ہندوستان آسٹریلیا اور ہند بحرالکاہل خطے میں  اور اس سے پرے ہمارے شراکت دار ، ہمارے عہد کی آواز کو سن رہے ہیں۔ ہم اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے لئے اُٹھنے کو تیار ہیں۔مجھے پورا یقین ہے کہ سڈنی مذاکرات اس عہد کے لئے ہماری شراکت داری کی تشکیل میں ہماری مدد کرے گا اور ہمارے ملکوں اور دنیا کے مستقبل کے تئیں ہماری ذمہ داریوں کو پورا کرنے میں ہمیں تعاون دے گا۔

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
How PLI schemes, design in India and manufacturing excellence are transforming the architectural lighting industry

Media Coverage

How PLI schemes, design in India and manufacturing excellence are transforming the architectural lighting industry
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Prime Minister Narendra Modi Chairs Second High-Level Meeting with Secretaries of Government of India
July 28, 2026
Sectors discussed: Finance and Economy, Commerce and Industry, and Technology
PM emphasises the need to break both horizontal and vertical silos within the Government
PM emphasises the importance of technological self-reliance and building domestic capabilities in critical sectors
PM encourages greater participation of young innovators and entrepreneurs in cybersecurity ecosystem
PM Stresses Proactive Outreach on Strategic Sectors to Counter Misinformation
PM says Govt must always remain youthful, dynamic and forward-looking, continuously adapting to new challenges and opportunities with agility and innovation
Secretaries share experiences and perspectives on key initiatives, emerging opportunities and implementation challenges

Prime Minister Shri Narendra Modi chaired the second high-level meeting with Secretaries to the Government of India at his residence at 7, Lok Kalyan Marg earlier today. He reviewed the future action agenda of Ministries and Departments dealing with Finance and Economy, Commerce and Industry, and Technology sectors. The meeting focused on accelerating progress towards the goals of Viksit Bharat.

Prime Minister called for a strong focus on team building across Ministries and Departments, urging officers to work with a shared sense of purpose. He emphasised the need to break both horizontal and vertical silos within the Government so that departments function in close coordination and deliver integrated outcomes.

Highlighting the importance of citizen-centric governance, Prime Minister said that the people of India must remain at the centre of governance. He reminded that every decision and policy should be guided by the interests and aspirations of the common citizen.

Prime Minister stressed that while India is making significant investments in infrastructure, equal priority must be given to developing indigenous technologies. He underscored the importance of technological self-reliance and building domestic capabilities in critical sectors.

Prime Minister underlined that energy security is closely linked with national security, economic stability and citizens’ welfare. Prime Minister said India must achieve self-reliance in the energy sector through innovation, diversification and accelerated capacity creation.

Emphasising that reforms are not merely a fashionable term but a continuous necessity for effective governance, Prime Minister stressed the need to reform processes, improve work culture and strengthen institutional efficiency.

Prime Minister said that growing use of technology must be accompanied by a strong focus on cybersecurity to safeguard digital systems and infrastructure. He stressed the need for constant vigilance against emerging cyber threats. He called for encouraging greater participation of young innovators and entrepreneurs in the cybersecurity ecosystem and emphasised that it should evolve into a nationwide movement.

Prime Minister also emphasised the importance of proactive communication on strategic sectors where the country is undertaking major initiatives, to counter misinformation and unfounded fears surrounding such efforts.

Prime Minister says that new academic courses should be planned in partnership with industry to equip the workforce with skills required by emerging and future industries. He also observed that a government must always remain youthful, dynamic and forward-looking, continuously adapting to new challenges and opportunities with agility and innovation.

The meeting featured detailed discussions by Secretaries on the progress, priorities and implementation issues across their respective domains. The meeting was attended by the Cabinet Secretary, Secretaries of key Ministries and Departments, and senior officials from the Prime Minister’s Office.