سی ای اوز نے ہندوستان کی ترقی کی رفتار پر مضبوط اعتماد کا اظہار کیا
سی ای اوز کاہندوستان میں اپنی کاروباری موجودگی کو بڑھانے میں گہری دلچسپی کا اظہار
وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ ہندوستان عالمی توانائی کی طلب اور رسد کے توازن میں فیصلہ کن کردار ادا کرے گا
وزیر اعظم نے حکومت کی طرف سے متعارف کرائی گئی سرمایہ کار دوست پالیسی اصلاحات کا حوالہ دیتے ہوئے دریافت اور پیداوار میں تقریباً 100 بلین امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کی صلاحیت کو اجاگر کیا
وزیر اعظم نے توانائی کی قدر کے سلسلے میں جدت، تعاون اور گہری شراکت داری پر زور دیا

وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج صبح جاری انڈیا انرجی ویک(آئی ای ڈبلیو)- 2026 کے حصے کے طور پر لوک کلیان مارگ پر واقع اپنی رہائش گاہ پر عالمی توانائی کے شعبے سے تعلق رکھنے والے سی ای اوز کے ساتھ بات چیت کی۔

بات چیت کے دوران، سی ای اوز نے ہندوستان کی ترقی کے سفر پر غیر متزلزل اعتماد کا اظہار کیا۔ انہوں نے ملک کے پالیسی استحکام، مسلسل اصلاحات، اور طویل مدتی مانگ کی دستیابی کو دیکھتے ہوئے ہندوستان میں اپنے کاروبار کو بڑھانے اور مزید مضبوط کرنے میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔

سی ای اوز کا خیرمقدم کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ یہ گول میز کانفرنس صنعت اور حکومت کے درمیان ہم آہنگی کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم کے طور پر ابھری ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ عالمی صنعت کے رہنماؤں کی جانب سے براہ راست تاثرات پالیسی فریم ورک کو بہتر بنانے، علاقائی چیلنجوں سے زیادہ مؤثر طریقے سے نمٹنے اور سرمایہ کاری کے ایک پرکشش مقام کے طور پر ہندوستان کی پوزیشن کو مضبوط بنانے میں مدد کرتا ہے۔

 

ہندوستان کی مضبوط اقتصادی رفتار کو اجاگر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ ہندوستان تیزی سے دنیا کی تیسری سب سے بڑی معیشت بننے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ہندوستان عالمی توانائی کی طلب اور رسد کے درمیان توازن برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

وزیر اعظم نے ہندوستان کے توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری کے اہم مواقع کو اجاگر کیا۔ حکومت کی طرف سے متعارف کرائی گئی سرمایہ کار دوست پالیسی اصلاحات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے دریافت  اور پیداوار میں تقریباً 100 بلین امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کی صلاحیت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کمپریسڈ بایو گیس (سی بی جی) سیکٹر میں 30 بلین امریکی ڈالرز کو بھی اجاگر کیا۔ مزید برآں، انہوں نے وسیع تر توانائی کی قدر کی  چین میں وسیع مواقع کا خاکہ پیش کیا،  جس میں گیس پر مبنی معیشت، ریفائنری-پیٹرو کیمیکل انضمام، اور سمندری اور جہاز سازی شامل ہیں۔

 

وزیر اعظم نے کہا کہ جہاں توانائی کا عالمی شعبہ غیر یقینی صورتحال سے  دوچار ہے وہیں اس میں بے پناہ مواقع بھی موجود ہیں۔ انہوں نے اختراع، تعاون اور گہری شراکت داری پر زور دیا اور اس بات کا اعادہ کیا کہ ہندوستان پوری توانائی کی قدر کی  چین میں ایک بھروسہ مند اور قابل اعتماد پارٹنر کے طور پر تیار ہے۔

اعلیٰ سطحی گول میز کانفرنس میں 27 سی ای اوز اور اعلیٰ کارپوریٹ معززین نے شرکت کی جو معروف عالمی اور ہندوستانی توانائی کمپنیوں اور اداروں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان میں ٹوٹل انرجیز،بی پی، ایچ ڈی ہنڈوئی،ایچ ڈی کے ایس او ای،اکیر، لینزا ٹیک،ویدانتا،انٹر نیشنل انرجی فورم(آئی ای ایف)، ایکسلریٹ، ووڈ میکنزی، ٹرافیگورا،اسٹاٹسولی،پراج،ری نیو اور  ایم او ایل جیسی معروف کمپنیاں شامل تھیں۔ اس بات چیت کے دوران پٹرولیم اور قدرتی گیس کے مرکزی وزیر جناب ہردیپ سنگھ پوری، پٹرولیم اور قدرتی گیس کے وزیر مملکت جناب سریش گوپی اور وزارت کے سینئر افسران بھی موجود تھے۔

 

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
'Rare to see a policy land so correctly and so rapidly': Ather CEO Tarun Mehta hails RDI fund

Media Coverage

'Rare to see a policy land so correctly and so rapidly': Ather CEO Tarun Mehta hails RDI fund
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Prime Minister shares Sanskrit Subhashitam highlighting respect for nature and environmental stewardship
July 30, 2026

The Prime Minister, Shri Narendra Modi, said that respect for nature, the environment and the entire creation lies at the very core of our existence. He called upon everyone to participate, with a spirit of gratitude and selfless service towards nature, in building a healthy, prosperous and strong nation.

The Prime Minister shared a Sanskrit Subhashitam-

“शं नो द्यावापृथिवी पूर्वहूतौ शमन्तरिक्षं दृशये नो अस्तु।

शं न ओषधीर्वनिनो भवन्तु शं नो रजसस्पतिरस्तु जिष्णुः॥”

The Subhashitam conveys that May Dyuloka and the Earth, which have been revered since the beginning of creation, always be auspicious for us. May the intermediate space between the Earth and the Sun be beneficial and enlightening for our lives. May all medicinal herbs and forest plants provide us with health, nourishment, and happiness. May the all-pervading and victorious Lord of all worlds ever grant us welfare, peace, and prosperity.

The Prime Minister wrote on X;

“प्रकृति, पर्यावरण और समस्त सृष्टि का सम्मान हमारे अस्तित्व के मूल में है। आइए, हम इनके प्रति पूरी कृतज्ञता और सेवाभाव के साथ एक स्वस्थ, समृद्ध और सशक्त राष्ट्र के निर्माण में सहभागी बनें।

शं नो द्यावापृथिवी पूर्वहूतौ शमन्तरिक्षं दृशये नो अस्तु।

शं न ओषधीर्वनिनो भवन्तु शं नो रजसस्पतिरस्तु जिष्णुः॥”