Share
 
Comments
ہمارا ہدف بھارت کو تیل اور گیس سیکٹر میں خود کفیل بنانا ہے:وزیراعظم
وزیراعظم نے بھارت میں تیل اور گیس کی تلاش اوراس سیکٹر کے فروغ کے لئے چیف ایگزیکٹو افسران کو مدعو کیا
صنعتی حلقے کے اہم لیڈروں نے توانائی تک رسائی، سستی توانائی اور توانائی کے تحفظ میں بہتری کے لئے حکومت کے ذریعہ اٹھائے گئے اقدامات کی تعریف کی

وزیراعظم جناب نریندر مودی نے دنیاکے تیل اور گیس سیکٹر کے چیف ایگزیکٹو افسران اور ماہرین کے ساتھ ویڈیو کانفرنسنگ کے توسط سے  بات چیت کی۔

وزیراعظم نے پچھلے سات برسوں کے دوران تیل اور گیس سیکٹر میں بہتری لانے کی کوششوں کے بارے میں تفصیلی تبادلہ  خیال کیا، جس میں تیل ا ور گیس کی تلاش  اور لائسنس پالیسی ، گیس مارکیٹنگ ، کوئلے کی کانوں سے ملنے و الی قدرتی گیس ، کوئلے کو گیس میں تبدیل کرنے  اور حال میں انڈین گیس   ایکسچینج میں کی گئی ا  صلاحات شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ‘  بھارت کو تیل اور گیس سیکٹر میں خود کفیل بنانے کے لئے ’ اس طرح کی اصلاحات جاری رہیں گی۔

تیل سیکٹر کے موضوع پر اظہارخیال کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ  ‘ریوینیو’ بڑھانے کے بجائے  ‘ پروڈکشن’ بڑھانے پر توجہ دی جارہی ہے۔ انہو ں نے اس بات  کا بھی ذکر کیا ہے کہ خام تیل کو ذخیرہ کرنے کی سہولت بڑھانے کی بھی ضرورت ہے۔ انہوں نے آگے کہاکہ ملک میں  قدرتی گیس کی مانگ تیزی سے بڑھ رہی ہے ۔ انہوں نے موجودہ گیس  انفراسٹرکچر اور اس کے امکانات کا بھی ذکر کیا، جس میں پائپ لائن، شہری گیس کی تقسیم اور ایل این جی کو دوبارہ گیس میں تبدیل کرنے والے ٹرمنل جیسے موضوعات شامل تھے۔

وزیراعظم نے ذکر کیا کہ 2016 سے  ایسی میٹنگوں میں جو تجاویز پیش کی جاتی رہی ہیں وہ تیل اور گیس سیکٹر کے سامنے آنے والے چیلنجوں کو سمجھنے میں  کافی مدد گاررہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت  کشادگی، امید پروری او رمواقع کی سرزمین ہے، اور یہاں نئے خیالات، امکانات اور اختراعات کی فراوانی ہے۔ انہوں نے  چیف ایگزیکٹو افسران اور ماہرین کو دعوت دی کہ وہ بھارت میں تیل اور گیس کی تلاش اوراس سیکٹر کے فروغ کے لئے بھارت کے ساتھ شراکت داری کریں۔

اس تبادلہ خیال میں  دنیا بھر سے صنعتی حلقے کی سرکردہ شخصیات نے حصہ لیا، ان میں روز نیفٹ کے صدر اور سی ای او  ڈاکٹر ای گورسیچن، سعودی ارامکو کے چیئرمین او ر سی ای او جناب امین ناصر، برٹش پٹرولیم کے سی ای او جناب برنارڈ لونی، آئی ایچ ایس  مارکیٹ کے نائب چیئرمین ڈاکٹر ڈینیل ایئرگن،سلوم برجر لمیٹڈ کے سی ای او جناب اولیویئر لی پیوش، ریلائنس انڈسٹریز لمیٹڈ کے چیئرمین اور منیجنگ ڈائریکٹر  جناب مکیش انبانی، ودانتا لمیٹڈ کے چیئرمین جناب انل اگروال اور دیگر شامل تھے۔

سبھی چیف ایگزیکٹو افسران اور ماہرین نے توانائی تک رسائی ، سستی توانائی اور توانائی کے تحفظ میں بہتری کے لئے حکومت کے ذریعہ اٹھائے گئے اقدامات کی تعریف کی ۔ انہوں نے وزیراعظم کی قیادت کی تعریف کی کہ ان کے ذریعہ  ویژنری اور حوصلہ مندانہ مقصد کے ذریعہ بھارت میں  صاف ستھری توانائی کی طرف قدم بڑھائیں۔ صنعتی حلقے کی سرکردہ شخصیات نے کہاکہ بھارت صاف ستھری توانائی ٹکنالوجی کو تیزی سے اپنا رہا ہے اور وہ عالمی توانائی سپلائی چین کو شکل دینے میں اہم رول اد ا کرسکتا ہے۔ ان سبھی نے کہا کہ توانائی میں تبدیلی کو  پائیدار اور مساوات پر مبنی بنانے کو یقینی کیا جانا چاہئے۔ انہوں نے صاف ستھری ترقی اور پائیداریت کو مزید فروغ دینے کے لئے اپنی تجاویز اور خیالات بھی پیش کئے۔

 

'من کی بات ' کے لئے اپنے مشوروں سے نوازیں.
وزیر اعظم نے ’پریکشا پے چرچا 2022‘ میں شرکت کے لیے مدعو کیا
Explore More
اترپردیش کے وارانسی میں کاشی وشوناتھ دھام کے افتتاح کے موقع پر وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

اترپردیش کے وارانسی میں کاشی وشوناتھ دھام کے افتتاح کے موقع پر وزیر اعظم کی تقریر کا متن
How Ministries Turned Dump into Cafeterias, Wellness Centres, Gyms, Record Rooms, Parking Spaces

Media Coverage

How Ministries Turned Dump into Cafeterias, Wellness Centres, Gyms, Record Rooms, Parking Spaces
...

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
India has close relations with all the Central Asian countries: PM Modi
January 27, 2022
Share
 
Comments

Excellencies,

I welcome you all to the first India-Central Asia Summit.

The diplomatic relations between India and Central Asia countries have completed 30 meaningful years.

Our cooperation has achieved many successes over the past three decades.

And now, at this crucial juncture, we must define an ambitious vision for the coming years as well.

A vision that can fulfil the aspirations of our people, especially the younger generation, in the changing world.

Excellencies,

At the bilateral level, India has close relations with all the Central Asian countries.

Excellencies,

Kazakhstan has become a vital partner for India's energy security. I express my condolences for the recent loss of life and property in Kazakhstan.

Our state governments are also active partners in our growing cooperation with Uzbekistan. This includes my home state of Gujarat as well.

We have an active partnership with Kyrgyzstan in the field of education and high-altitude research. Thousands of Indian students are studying there.

With Tajikistan, we have a longstanding cooperation in the field of security. And we are continuously strengthening it.

Turkmenistan is an important part of Indian vision in the field of regional connectivity, which is evident from our participation in the Ashgabat Agreement.

Excellencies,

We all have the same concerns and objectives for regional security. We are all concerned about the developments in Afghanistan.

In this context also, our mutual cooperation has become even more important for regional security and stability.

Excellencies,

Today's summit has three main objectives.

First, to make it clear that cooperation between India and Central Asia is essential for regional security and prosperity.

From Indian point of view, I would like to emphasise that Central Asia is central to India’s vision of an integrated and stable extended neighbourhood.

The second objective is to give an effective structure to our cooperation. This will establish a framework of regular interactions at different levels and among various stakeholders.

And, the third objective is to create an ambitious roadmap for our cooperation.

Through this, we will be able to adopt an integrated approach for regional connectivity and cooperation for the next 30 years.

Excellencies,

I once again warmly welcome you to the first meeting of the India-Central Asia Summit.