Government will keep taking decisions to achieve the goal of 5 trillion dollar economy: PM Modi
This year’s Budget has given utmost thrust to Manufacturing and Ease of Doing Business: PM
GeM has made it easier for small enterprises to sell goods to the government, says PM

نئی دلّی، 16 جنوری / وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے کہا کہ حکومت پانچ ٹریلین کی معیشت کے نشانے کے حصول کے لئے مسلسل فیصلے لیتی رہے گی۔ وارانسی میں بعد دو پہر ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ روایتی دستکاری کے کاریگروں، فنکاروں اور ایم ایس ایم ای کو سہولیات فراہم کر کے اور مستحکم کرنے پانچ ٹریلین ڈالر کی معیشت کے نشانے کو حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔

            وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے وارانسی کے بڑا لال پور میں دین دیال اپادھیائے تجارتی سہولیات مرکز کے زیر اہتمام منعقدہ ایک تقریب ’کاشی ایک روپ انیک‘ میں شرکت کی۔ تقریب میں شرکت کے دوران انہوں نے کاشی اور اتر پردیش کے دیگر اضلاع کے بنکروں اور دستکاروں کے ذریعہ تیار کردن مختلف مصنوعات کی نمائش کا بھی دورہ کیا۔ انہوں نے وہاں ایک ضلع ایک پروڈکٹ کے تحت نہ صرف ہتھ کرگھہ اسٹال، گلابی مینا کاری، لکڑی کے کھلونے، چندولی کالا چاول، قنوج کے عطر، مراد آباد ی دھات کے برتن، آگرہ کے چمڑے کے جوتے، لکھنو کی چکن کاری اور اعظم گڑھ کے سیاہ برتنوں کا معائنہ کیا بلکہ ان مصنوعات کے فنکاروں اور دستکاروں سے ملاقات بھی کی۔ انہوں نے مختلف ہنر سے وابستہ فنکاروں اور دستکاروں کو کٹ اور مالی امداد بھی تقسیم کی۔

            وزیر اعظم نے متعدد اسکیموں کے تحت بنکروں اور دستکاروں کو ملکی اور بین الاقوامی مارکیٹ کے لئے ضروریات مثلاپ مشینیں اور قرض وغیرہ فراہم کراکے مزید مواقع پیدا کر نے اور متعدد پہل قدمیوں کے لئے اتر پردیش حکومت کی ستائش کی۔ وزیر اعظم نے واضح کیا کہ اتر پردیش حکومت کے پروگراموں مثلاً ایک ضلع، ایک پروڈکٹ پروگرام، اتر پردیش سے بر امدات وغیرہ نے گزشتہ دو برسوں کے دوران تیزی سے پیش رفت حاصل کی ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ اتر پردیش کی مصنوعات کے بیرون ملک پہنچنے اور دنیا کی آن لائن مارکیٹ تک پہنچنے سے تمام ملک استفادہ کرے گا۔          وزیر اعظم نے کہا کہ بھارت کے ہر ضلع کو آرٹ، پیداوار مثلاً مختلف قسم کی سلک اور مصالحہ جات وغیرہ کی منفرد اقسام کے ذریعہ شناخت کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میک ان انڈیا اور ایک ضلع ایک پروڈکٹ کے پس پشت زبر دست تحریک و ترغیب کار فرما ہے۔

            انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو برسوں میں 30 اضلاع سے زائد از 3500 فنکار بنکروں کو یو پی انسٹی ٹیوٹ آف ڈیزائن (یو پی آئی ڈی) سے مدد اور حمایت ملی ہے۔ زائد از ایک ہزار ورکروں کو اوزاروں کے تھیلے تقسیم کئے گئے ہیں۔

            وزیر اعظم نے بھارت میں تیار کی جانے والی مصنوعات کے معیار کو اکیسویں صدی کی مانگ کے مطابق بہتر بنانے کے لئے  روایتی صنعتوں کو ادارہ جاتی مدد، مالی امداد، نئی تکنالوجی اور مارکیٹنگ کی سہولیات کی فراہمی پر زور دیا۔ انہوں نے کہا گزشتہ پانچ برسوں میں ہم نے اس سمت میں کوششیں کی ہیں۔ ہم ملک میں ہر فرد کو با اختیار بنانے پر اپنی توجہ مرکوز کر رہے ہیں۔

            وزیر اعظم نے بھارت میں تیار کی جانے والی مصنوعات کے معیار کو اکیسویں صدی کی مانگ کے مطابق بہتر بنانے کے لئے  روایتی صنعتوں کو ادارہ جاتی مدد، مالی امداد، نئی تکنالوجی اور مارکیٹنگ کی سہولیات کی فراہمی پر زور دیا۔ انہوں نے کہا گزشتہ پانچ برسوں میں ہم نے اس سمت میں کوششیں کی ہیں۔ ہم ملک میں ہر فرد کو با اختیار بنانے پر اپنی توجہ مرکوز کر رہے ہیں۔

            وزیر اعظم نے صنعتوں اور صنعت کاروں کو سہولیات کی فراہمی کے لئے کئے گئے متعدد اقدامات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ رواں سال کے بجٹ میں مینوفیکچرنگ اور ایز آف ڈوئنگ بزنس پر انتہائی زور دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل ٹیکنیکل ٹیکسٹائل مشن کے لئے 1500 کروڑ روپئے مختص کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اتر پردیش میں ڈیفنس کوریڈور کے لئے 3700 کروڑ روپئے مختص کئے گئے ہیں۔ اس کوریڈور سے چھوٹی صنعتیں فیض یاب ہوں گی اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔

            وزیر اعظم نے واضح کیا کہ جی ای ایم (گورنمنٹ ای۔ مارکیٹ پلیس) نے چھوٹے صنعت کاروں کے لئے حکومت کو سامان فروخت کرنا آسان تر بنا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یونیفائیڈ پروکیورمنٹ سسٹم سے چھوٹی صنعتوں کے لئے ایک واحد پلیٹ فارم پر حکومت کو سامان فروخت کرنا مزید آسان ہوجائے گا۔

            وززیر اعظم نے کہا کہ ملک میں پہلی بار نیشنل لوجسٹک پالیسی تیار کی جا رہی ہے، جس کے تحت واحد ای۔ لوجسٹک ونڈو تیار کی جائے گی اور چھوٹے پیمانے کی صنعتوں کو مزید مقابلہ جاتی بنایا جائے گا اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں مدد ملے گی۔

            وزیر اعظم نے ہر فرد سے بھارت کو ایک مینوفیکچرنگ پاور ہاؤس بنانے کے لئے کنکریٹ کوششیں کرنے پر زور دینے کے ساتھ اپنے خطاب کا اختتام کیا۔

 

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
PM Modi Praises Farmers For Taking India's Rich Mango Heritage To Global Markets

Media Coverage

PM Modi Praises Farmers For Taking India's Rich Mango Heritage To Global Markets
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Prime Minister hold talks with Myanmar President U Min Aung Hlaing
June 01, 2026

The Prime Minister, Shri Narendra Modi, today held productive talks with the President of Myanmar, U Min Aung Hlaing.

The Prime Minister noted that India is honoured that President U Min Aung Hlaing chose India for his first foreign visit as President. He also expressed happiness that the President began his programme in India from Bodh Gaya with the blessings of Lord Buddha.

During the talks, the two leaders reviewed the full range of India-Myanmar relations and discussed ways to further strengthen bilateral cooperation.

The discussions covered avenues to deepen cooperation in trade, rare earths, healthcare, connectivity, heritage restoration and capacity building. The two sides also agreed to work closely in areas such as maritime security, cyber security and other sectors of mutual interest.

The Prime Minister underlined that Myanmar is vital to India’s ‘Neighbourhood First’, ‘Act East’ and Indo-Pacific policies, reaffirming the importance India attaches to its relations with Myanmar.

The Prime Minister wrote on X;

“Had a productive meeting with President U Min Aung Hlaing of Myanmar. We in India are honoured that he has chosen India for his first foreign visit as President. Equally gladdening is the fact that he began the visit from Bodh Gaya, with the blessings of Lord Buddha. We reviewed the full range of India-Myanmar relations. Myanmar is vital to India’s policies of ‘Neighbourhood First’, ‘Act East’ and Indo-Pacific.”

“Our talks covered ways to deepen cooperation in trade, rare earths, healthcare, connectivity, heritage restoration and capacity building. We also agreed to work closely in areas such as maritime security, cyber security and more.”