Share
 
Comments
”تمام برادریاں اپنی اپنی صلاحیت کے مطابق اپنا کردار ادا کرتی ہیں اور پاٹیدار برادری سماج کے لیے اپنا کردار ادا کرنے میں کبھی پیچھے نہیں رہتی“
”اسٹیچو آف یونیٹی میں، وزیر اعظم نے کہا، ہندوستان نے سردار پٹیل کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا ہے“
”غذائیت کی کمی اکثر خوراک کی کمی کے بجائے خوراک کے بارے میں علم کی کمی کا نتیجہ ہوتی ہے“
”گجرات کو صنعت 4.0 کے معیار کو حاصل کرنے میں ملک کی قیادت کرنی چاہیے، کیونکہ ریاست میں ایسا کرنے کی صلاحیت اور خمیر موجود ہے“

وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے گجرات کے ادلاج میں شری اناپورنا دھام ٹرسٹ کے ہاسٹل اور ایجوکیشنل کمپلیکس کا افتتاح کیا۔ وزیر اعظم نے تقریب کے دوران جن سہایک ٹرسٹ کے ہیرامنی آروگیہ دھام کا بھومی پوجن بھی کیا۔ اس موقع پر گجرات کے وزیر اعلیٰ بھوپیندر بھائی پٹیل بھی موجود تھے۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے شری اناپورنا دھام کے روحانی اور سماجی اداروں سے طویل عرصے تک منسلک رہنے پر خوشی کا اظہار کیا۔ انھوں نے کہا کہ گجرات کی فطرت رہی ہے کہ وہ صحت، تعلیم اور غذائیت کے شعبے میں اپنا تعاون کرتا ہے۔ تمام برادریاں اپنی صلاحیت کے مطابق اپنا کردار ادا کرتی ہیں اور پاٹیدار برادری سماج کے لیے اپنا کردار ادا کرنے میں کبھی پیچھے نہیں رہتی۔

وزیر اعظم نے کہا کہ خوشحالی کی دیوی ما انا پورنا کی ہر کوئی اور خاص طور پر پاٹیدار برادری کی طرف سے گہری تعظیم کی جاتی ہے جو روزمرہ کی زندگی کی حقیقتوں سے گہرا تعلق رکھتی ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ماں اناپورنا کی مورتی کو حال ہی میں کینیڈا سے کاشی واپس لایا گیا تھا۔ انھوں نے کہا کہ ہماری ثقافت کی ایسی درجنوں علامتیں گزشتہ چند سالوں میں بیرون ملک سے واپس لائی گئی ہیں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ہماری ثقافت میں خوراک، صحت اور تعلیم کو ہمیشہ بہت اہمیت دی جاتی ہے اور آج شری اناپورنا دھام نے ان عناصر کو وسعت دی ہے۔ جو نئی سہولتیں سامنے آرہی ہیں ان سے گجرات کے عام لوگوں کو بہت زیادہ فائدہ پہنچے گا، خاص طور پر ایک وقت میں 14 افراد کی ڈائلیسس کی سہولت، 24 گھنٹے خون کی فراہمی کے ساتھ بلڈ بینک ایک بڑی ضرورت کو پورا کرے گا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ مرکزی حکومت نے ضلع اسپتالوں میں مفت ڈائلیسس کی سہولت شروع کی ہے۔

گجراتی زبان میں بات کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے اچھے کام کے لیے ٹرسٹ اور اس کی قیادت کی تعریف کی۔ انھوں نے کہا کہ ان معززین کی بڑی خوبی تحریک (آندولن) کو تعمیری کاموں کے ساتھ ملانا ہے۔ ’نرم لیکن پرعزم‘ وزیر اعلیٰ کی ان کی قیادت اور قدرتی کھیتی پر زور دینے کی تعریف کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے اجتماع سے کہا کہ جہاں بھی ممکن ہو قدرتی کھیتی کو آگے بڑھایا جائے۔ وزیر اعظم نے گجرات میں ترقی کی شاندار روایت کو بیان کیا جہاں ترقی کے نئے معیارات قائم کیے گئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ترقی کی اس روایت کو وزیر اعلیٰ آگے لے جا رہے ہیں۔

اسٹیچیو آف یونیٹی میں، وزیر اعظم نے کہا، ہندوستان نے سردار پٹیل کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا ہے، جن کا نام پوری دنیا میں مشہور ہوا ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ گجرات میں، جو ماں اناپورنا کی سرزمین ہے، وہاں غذائی قلت کے لیے کوئی جگہ نہیں ہونی چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ اکثر غذائیت کی کمی لاعلمی کی وجہ سے بھی ہوتی ہے۔ انھوں نے متوازن غذا کے بارے میں آگاہی پھیلانے کی ضرورت پر زور دیا۔ خوراک کو صحت کی سمت میں پہلا قدم قرار دیتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ غذائیت کی کمی اکثر خوراک کی کمی کے بجائے خوراک کے بارے میں علم کی کمی کا نتیجہ ہوتی ہے۔ وزیر اعظم نے عالمی وبا کا تذکرہ کیا، حکومت نے 80 کروڑ سے زیادہ لوگوں کے لیے مفت خوراک کی فراہمی کو یقینی بنایا ہے۔ کل رات امریکی صدر سے اپنی بات چیت کا حوالہ دیتے ہوئے جناب مودی نے کہا کہ انھوں نے امریکی صدر سے کہا کہ اگر ڈبلیو ٹی او کے قوانین میں اجازت دینے میں نرمی کی جاتی ہے تو ہندوستان دوسرے ممالک کو بھیجنے کے لیے اناج کی پیشکش کر سکتا ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ماں انا پورنا کی مہربانی سے ہندوستانی کسان پہلے ہی دنیا کی دیکھ بھال کر رہے ہیں۔

وزیر اعظم نے گجرات میں ویکسینیشن مہم کی تعریف کی۔ انھوں نے صنعتی ترقی کے جدید رجحانات کی ضروریات کے مطابق ہنر مندی کو فروغ دینے کی ضرورت کا اعادہ کیا۔ فارمیسی کالج بنانے کے ابتدائی محرک کا حوالہ دیتے ہوئے جس کی وجہ سے فارما انڈسٹری میں ریاست کا نمایاں کردار سامنے آیا، انھوں نے کہا کہ ہنر کو فروغ دینے میں کمیونٹی اور حکومت کی کوششوں کا بہت زیادہ اثر ہوتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ گجرات کو صنعت 4.0 کے معیارات کو حاصل کرنے میں ملک کی قیادت کرنی چاہیے، کیونکہ ریاست میں ایسا کرنے کی صلاحیت اور خمیر موجود ہے۔

ڈائلیسس کے مریضوں کی مالیات پر پڑنے والے منفی اثرات کو نوٹ کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے ملک کے تمام اضلاع میں مفت ڈائلیسس کی سہولت کو پھیلانے پر زور دیا۔ اسی طرح انھوں نے بتایا کہ جن اوشدھی کیندر سستی دوا فراہم کرکے مریضوں کے لیے لاگت کو کم کر رہے ہیں۔ سوچھتا، پوشن، جن اوشدھی، ڈائلیسس مہم، اسٹینٹ اور گھٹنے کے امپلانٹ کی قیمتوں میں کمی جیسے اقدامات نے عام لوگوں پر پڑنے والے بوجھ کو کم کیا ہے۔ اسی طرح آیوشمان بھارت اسکیم نے غریب اور متوسط طبقے کے مریضوں خصوصاً خواتین کی مدد کی ہے۔

ہاسٹل اور ایجوکیشن کمپلیکس میں 600 طلبا کے لیے 150 کمروں کی رہائش اور بورڈنگ کی سہولت موجود ہے۔ دیگر سہولیات میں جی پی ایس سی کے لیے تربیتی مرکز، یو پی ایس سی امتحانات، ای لائبریری، کانفرنس روم، اسپورٹس روم، ٹی وی روم اور طلبا کے لیے بنیادی صحت کی سہولیات وغیرہ شامل ہیں۔

جن سہایک ٹرسٹ ہیرامنی آروگیہ دھام کو فروغ دے گا۔ اس میں جدید ترین طبی سہولتیں ہوں گی جن میں ایک وقت میں 14 افراد کی ڈائلیسس کی سہولت، 24 گھنٹے خون کی فراہمی کے ساتھ بلڈ بینک، چوبیس گھنٹے کام کرنے والا میڈیکل اسٹور، جدید پیتھالوجی لیبارٹری اور ہیلتھ چیک اپ کے لیے اعلیٰ درجے کا سامان شامل ہے۔ یہ ایک ڈے کیئر سنٹر ہو گا جس میں آیوروید، ہومیوپیتھی، ایکیوپنکچر، یوگا تھراپی وغیرہ کے لیے جدید سہولیات موجود ہوں گی۔ یہ فرسٹ ایڈ ٹریننگ، ٹیکنیشن ٹریننگ اور ڈاکٹر کی تربیت کے لیے سہولیات بھی فراہم کرے گا۔

تقریر کا مکمل متن پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

Share beneficiary interaction videos of India's evolving story..
Explore More
وزیر اعظم کی پریکشا پہ چرچا پی  ایم مودی کے ساتھ کا متن

Popular Speeches

وزیر اعظم کی پریکشا پہ چرچا پی ایم مودی کے ساتھ کا متن
Smriti Irani writes: On women’s rights, West takes a backward step, and India shows the way

Media Coverage

Smriti Irani writes: On women’s rights, West takes a backward step, and India shows the way
...

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
وزیراعظم کی جی۔7 سربراہ کانفرنس کے پہلو بہ پہلو ارجنٹینا کے صدر سے ملاقات
June 27, 2022
Share
 
Comments

وزیراعظم جناب نریندر مودی نے  ارجنٹینا  کے صدر عزت مآب جناب البرٹوفرنانڈیز سے 26 جون 2022 کو میونخ میں  جی -7 سربراہ کانفرنس کے شا نہ بشانہ ملاقات کی ۔

دونوں رہنماؤں کے درمیان یہ پہلی دوطرفہ ملاقات تھی۔ ا نہوں نے  2019 میں قائم شدہ دوطرفہ منصوبہ جاتی شراکت  داری پر عمل درآمد میں پیش رفت کا جائزہ لیا۔اس ملاقات میں مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا ، جن میں تجارت اور سرمایہ کاری، جنوب – جنوب تعاون ، خاص طور پر ادویہ سازی کے شعبے میں ، ماحولیاتی تبدیلی سے متعلق کارروائی ، قابل تجدید توانائی، نیو کلیائی طریقہ علاج، برقی نقل وحرکت، دفاعی تعاون،  زراعت اور غذائی تحفظ، روایتی طریقہ علاج، ثقافتی تعاون اوراس کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی اداروں کے درمیان تال میل شامل ہیں ۔ دونوں فریقوں نے ان تمام شعبہ جات میں دوطرفہ رابطہ کاری کو  فروغ دینے پر اتفاق کیا۔