وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے ممتاز گلوکار پنکج ادھاس کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ پنکج ادھاس کے ساتھ اپنی مختلف بات چیت کو یاد کرتے ہوئے، جناب مودی نے کہا کہ پنکج ادھاس جی ہندوستانی موسیقی کے ایک مینار تھے، جن کی دھنوں کو نسل درنسل یاد رکھا جائےگا۔ جناب  مودی نے مزید کہاکہ  ان کے جانے سے موسیقی کی دنیا میں ایک ایسی خلا پیدا ہو گئی ہے جو کبھی پر نہیں ہو سکتی ۔

وزیر اعظم نے ایکس پر پوسٹ کیا؛

‘‘ہمیں پنکج ادھاس جی کے انتقال  پر بے افسوس ہے، جن کی گائیکی نے بہت سے جذبات کا اظہار کیا اور جن کی غزلیں روح سے براہ راست بات کرتی تھیں۔ وہ ہندوستانی موسیقی کا ایک مینار تھے، جن کی دھنیں نسلوں سے ماورا تھیں۔ مجھے ان کے ساتھ برسوں کے دوران کی مختلف بات چیت یاد ہے۔

ان کے جانے سے موسیقی کی دنیا میں ایک ایسی خلا پیدا ہو گئی ہے جو کبھی پر نہیں ہو سکتی۔ ان کے اہل خانہ اور مداحوں سے تعزیت۔ اوم شانتی۔’’

 

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
MSMEs’ contribution to GDP rises, exports triple, and NPA levels drop

Media Coverage

MSMEs’ contribution to GDP rises, exports triple, and NPA levels drop
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Prime Minister shares Sanskrit Subhashitam highlighting the importance of grasping the essence of knowledge
January 20, 2026

The Prime Minister, Shri Narendra Modi today shared a profound Sanskrit Subhashitam that underscores the timeless wisdom of focusing on the essence amid vast knowledge and limited time.

The sanskrit verse-
अनन्तशास्त्रं बहुलाश्च विद्याः अल्पश्च कालो बहुविघ्नता च।
यत्सारभूतं तदुपासनीयं हंसो यथा क्षीरमिवाम्बुमध्यात्॥

conveys that while there are innumerable scriptures and diverse branches of knowledge for attaining wisdom, human life is constrained by limited time and numerous obstacles. Therefore, one should emulate the swan, which is believed to separate milk from water, by discerning and grasping only the essence- the ultimate truth.

Shri Modi posted on X;

“अनन्तशास्त्रं बहुलाश्च विद्याः अल्पश्च कालो बहुविघ्नता च।

यत्सारभूतं तदुपासनीयं हंसो यथा क्षीरमिवाम्बुमध्यात्॥”