وزیراعظم نے افسروں کو ہدایت دی کہ وہ لوگوں کو محفوظ طریقے سے باہر نکالے جانے کو یقینی بنانے کے لئے تمام ضروری اقدامات کریں
تمام ضروری خدمات برقرار رکھنے کو یقینی بنائیں اور ان میں خلل کی صورت میں جلد ہی انہیں بحال کریں: وزیراعظم
سمندری طوفان کے اثر کا فعال طریقے سے سامنا کرنے کے لئے تمام متعلقہ وزارتیں اور ایجنسیاں ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کررہی ہیں
این ڈی آر ایف نے ریاستوں میں کشتیوں، درخت کاٹنے کے اوزاروں ، ٹیلی کام آلات وغیرہ سے لیس 29 ٹیمیں تعینات کی ہیں، 33 ٹیموں کو تیار رکھا گیا ہے
انڈین کوسٹ گارڈ اور بحریہ نے راحت، تلاش اور بچاؤ کی کارروائیوں کے لئے جہاز اور ہیلی کاپٹر تعینات کئے ہیں
فضائیہ اور فوج کی انجینئر ٹاسک فورس یونٹوں کو تعیناتی کے لئے تیار رکھا گیا ہے
مشرقی ساحل کے ساتھ ساتھ ڈیزاسٹر ریلیف ٹیمیں اور میڈیکل ٹیموں کو تیار رکھا گیا ہے

وزیراعظم جناب نریندر مودی نے ممکنہ  سمندری طوفان سے پیدا ہونے والی صورتحال کا سامنا کرنے  کے لئے ریاستوں، مرکزی وزارتوں اور   متعلقہ ایجنسیوں کی  تیاری کا جائزہ لینے کے لئے  ایک اعلی سطحی میٹنگ  کی صدارت کی۔

وزیراعظم نے افسروں کو ہدایت دی کہ وہ  لوگوں کو محفوظ طریقے سے باہر نکالے جانے کو یقینی بنانے اور ے  تمام ضروری اقدامات مثلاً بجلی، ٹیلی مواصولات، صحت ، پینے کا پانی وغیرہ   کو   برقرار  رکھنے  جانے کو یقینی بنانے اور ان میں رخنہ پڑنے کی صورت میں ان کو  فوری طور پر  بحال کرنے کے لئے ہر ممکن اقدام اٹھائیں۔ انہوں نے  افسروں کو مزید ہدایت دی کہ وہ  ضروری ادویات اور سپلائز کے وافر ذخیرے کو یقینی بنائیں  اور  اس کو بلا روک ٹوک لانے لے جانے کا منصوبہ تیار کریں۔ انہوں نے کنٹرول رومز کے ہفتے کے  ساتوں چوبیس گھنٹے کام کرنے کی بھی ہدایت  دی۔

بھارتی محکمہ موسمیات  (آئی ایم ڈی) نے  بتایا کہ  خلیج بنگال میں  کم دباؤ کے خطے  کے  سمندری طوفان  جواد  کے طور پر  شدید ہونے  اور  4 دسمبر 2021  ہفتے کی صبح کو  اس کے  شمالی آندھرا پردیش۔ اڈیشہ کے  ساحل پر پہنچنے کی توقع ہے، جس میں  ہوا کی رفتار  100 کلو میٹر فی گھنٹہ تک ہوسکتی ہے۔ اس سے آندھرا پردیش، اوڈیشہ اور مغربی بنگال کے ساحلی اضلاع میں  شدید بارش کا امکان ہے۔ آئی ایم ڈی تمام متعلقہ ریاستوں کو  جدید ترین پیش گوئی  کے ساتھ مستقل طور پر بلیٹن جاری کررہا ہے۔

کابینہ سکریٹری نے  تمام  متعلقہ ساحلی ریاستوں اور  مرکزی وزارتوں / ایجنسیوں  کے چیف سکریٹریوں کے ساتھ  حالات اور تیاری کا جائزہ لیا۔

وزارت داخلہ ہفتے کے ساتوں دن 24 گھنٹے صورتحال کا جائزہ لے رہی ہے اور  متعلقہ ریاستی حکومتوں / مرکز کے زیر انتظام خطوں اور  اور مرکزی ایجنسیوں کے رابطے میں ہے۔ وزارت داخلہ نے تمام ریاستوں کو  ایس ڈی آر ایف کی پہلی قسط   پیشگی ، پہلے ہی جاری کردی ہے۔ این ڈی آر ایف نے ریاستوں میں   کشتیوں،  درخت کاٹنے  کے اوزاروں ، ٹیلی کام آلات وغیرہ سے لیس 29 ٹیمیں  تعینات کی ہیں اور 33 ٹیموں کو تیار رکھا گیا۔

انڈین کوسٹ گارڈ اور بحریہ نے  راحت، تلاش اور بچاؤ کی کارروائیوں کے لئے  جہاز اور ہیلی کاپٹر تعینات کئے ہیں۔ فضائیہ اور فوج کی انجینئر ٹاسک فورس یونٹوں کو  کشتیوں اور بچاؤ کے آلات کے ساتھ تعیناتی کے لئے تیار رکھا گیا ہے۔ نگرانی طیارے اور ہیلی کاپٹر  ساحل کے ساتھ ساتھ  سلسلے وار نگرانی کا کام کررہے ہیں۔ مشرقی ساحل کے ساتھ ساتھ مقامات پر  ڈیزاسٹر ریلیف ٹیمیں اور  میڈیکل ٹیموں کو  تیار رکھا گیا ہے۔

بجلی کی وزارت نے  ایمرجنسی رسپانس سسٹم  کو  سرگرم کردیا   ہے اور وہ  بجلی کی فوری بحالی کےلئے  ٹرانسفارمرس، ڈی جی سیٹ اور آلات وغیرہ   تیار  رکھے ہیں۔ مواصلات کی وزارت  تمام ٹیلی فون ٹاورز اور  ایکسچنجوں  کی مسلسل نگرانی کررہی ہے اور  ٹیلی کام نیٹ ورک کی بحالی کے لئے پوری طرح تیار ہے۔ صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت نے  ممکنہ طور پر متاثر  ہونے والی ریاستوں / مرکز کے زیر انتظام خطوں کو صحت کے شعبے میں تیاری اور  متاثرہ علاقوں میں کووڈ سے متعلق کارروائی کے لئے  ایک مشاورتی نوٹ جاری کیا ہے۔

بندرگاہ، جہاز رانی اور  آبی گزر گاہوں کی  وزارت نے   تمام جہاز رانی کے جہازوں کو محفوظ  کرنے اور ایمرجنسی جہازوں کو تعینات کرنے کے لئے  اقدامات کئے ہیں۔ ریاستوں سے بھی کہا گیا ہے کہ وہ  ساحل کے قریب  واقع صنعتی تنصیبات  مثلاً کیمیکل اور پیٹرو کیمیکل یونٹوں کو  ہوشیار کردیں۔

این ڈی آر ایف  خطرے والے مقامات سے لوگوں کو نکالنے کے واسطے  ریاستی ایجنسیوں کی تیاری میں  مدد کررہی ہے اور اس معاملے میں  عوامی بیداری کے لئے مسلسل  مہم چلا رہی ہے کہ سمندری طوفان سے پیدا ہونے والی صورتحال  کا سامنا کس طرح کریں۔

اس میٹنگ میں  وزیراعظم کے پرنسپل سکریٹری، کابینہ سکریٹری، داخلہ سکریٹری ، ڈی جی ، این ڈی آر ایف اور ڈی جی، آئی ایم ڈی نے شرکت کی۔

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
PMAY-U Nears 1.25 Crore Homes: Top 10 States With The Highest PMAY-U Completion Rates

Media Coverage

PMAY-U Nears 1.25 Crore Homes: Top 10 States With The Highest PMAY-U Completion Rates
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
PM chairs 52nd PRAGATI Meeting
June 24, 2026
PM reviews four key infrastructure projects worth around ₹30,000 crore spanning four states across Road, Power, Industrial Corridor and Metro Rail sectors
PM emphasises use of PM GatiShakti National Master Plan and timely updation of project, utility and infrastructure data on the portal for efficient planning
PM asks Ministries and State Governments to resolve pending issues in a mission-mode manner and ensure close monitoring
PM reviews TB Mukt Bharat Abhiyan and emphasizes need to leverage latest digital technologies including AI
PM reviews grievances related to Cyber Crime and Digital Arrest and stresses timely action, coordinated response and e-Zero FIR registration mechanism

Prime Minister Shri Narendra Modi chaired the 52nd meeting of PRAGATI, the ICT-enabled, multi-modal platform aimed at fostering Pro-Active Governance and Timely Implementation, by seamlessly integrating efforts of the Central and State Governments, earlier today at Seva Teerth.

During the meeting, the Prime Minister reviewed four critical infrastructure projects across the Road, Power, Industrial Corridor and Metro Rail sectors, covering four States and costing around ₹30,000 crore. These projects, important for economic growth, regional connectivity, industrial development and public welfare, were reviewed with focus on timelines, inter-agency coordination, issue resolution and timely completion.

Prime Minister underlined that delays in infrastructure projects not only lead to cost escalation, but also deprive people and industries of timely benefits. He asked the concerned Ministries and State Governments to resolve pending issues in a mission-mode manner and ensure close monitoring at the highest level.

Prime Minister emphasised the use of PM GatiShakti National Master Plan for efficient planning and timely implementation of infrastructure projects. He also underlined the need for regular and timely updation of project details, utilities, infrastructure layers, clearances and other field-level information on the portal. He further emphasised that the platform must reflect the latest ground situation so that bottlenecks can be identified in advance, inter-agency coordination can be improved and decisions can be taken on the basis of reliable, real-time data.

Prime Minister reviewed TB Mukt Bharat Abhiyan and emphasised the need to leverage latest digital technologies including Artificial Intelligence. He suggested a team of NCC cadets and MY Bharat volunteers, for awareness, patient follow-up and community mobilisation.

Prime Minister also reviewed grievances related to Cyber Crime and Digital Arrest. He expressed concern over the rising misuse of digital platforms to defraud citizens and stressed that such matters require coordinated, sensitive and time-bound handling by all concerned agencies. He noted that citizens should not be made to run from one department or agency to another. He also emphasized the need for clear ownership, faster response, better coordination among law enforcement agencies, banks and digital platforms, and stronger public awareness campaigns.

Prime Minister observed that in cases involving cyber fraud, timely action is crucial to prevent financial loss and restore public confidence. He asked all stakeholders to work in close coordination to strengthen prevention, reporting, investigation and grievance redressal mechanisms. He also emphasised that States should work towards enabling e-Zero FIR mechanisms for faster registration and response in cyber fraud cases.