تقریباً 5000 کروڑ روپے کے قومی مجموعی زرعی ترقی کے پروگرام کو قوم کے نام وقف کیا
سودیش درشن اور پرشاد اسکیم کے تحت 1400 کروڑ روپے سے زیادہ کے 52 سیاحتی شعبے کے پروجیکٹوں کو وقف اور لانچ کیا
سری نگر کی ‘حضرت بل درگاہ کی مربوط ترقی’ کے منصوبے کو قوم کے لیے وقف کیا
چیلنج بیسڈ ڈیسٹینیشن ڈیولپمنٹ اسکیم کے تحت منتخب کردہ سیاحتی مقامات کا اعلان کیا
‘دیکھو اپنا دیش پیپلز چوائس 2024’ اور ‘چلو انڈیا گلوبل ڈائیسپورامہم’ کا آغاز کیا
جموں و کشمیر کی نئی سرکاری بھرتیوں کے تقرر نامے تقسیم کئے
‘‘مودی اس پیار کا قرض چکانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے۔ میں یہ ساری محنت آپ کا دل جیتنے کے لیے کر رہا ہوں اور مجھے یقین ہے کہ میں صحیح راستے پر ہوں’’
‘‘ترقی کی طاقت، سیاحت کی صلاحیت، کسانوں کی صلاحیتیں اور جموں و کشمیر کے نوجوانوں کی قیادت وکست جموں کشمیر کی راہ ہموار کرے گی’’
‘‘جموں وکشمیر صرف ایک جگہ نہیں ہے، جموںو کشمیر ہندوستان کا سربراہ ہے اور سرکا اونچا ہونا ترقی اور عزت کی علامت ہے۔ اس لیے وکست جموں و کشمیر وکست بھارت کی ترجیح ہے
‘‘آج جموں و کشمیر سیاحت کے تمام ریکارڈ توڑ رہا
انہوں نے پورے سفر میں اپنی معاشی ترقی پر بھی روشنی ڈالی جہاں انہوں نے دھیرے دھیرے پرائم منسٹر ایمپلائمنٹ جنریشن پروگرام کے تحت 5 لاکھ روپے حاصل کرکے شہد کی مکھیاں پالنے کے لیے 200 خانوں تک توسیع کی
انہوں نے جموں و کشمیر میں جی- 20 سربراہی اجلاس کی کامیاب میزبانی پر روشنی ڈالی۔

وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج جموں و کشمیر کے سری نگر میں وکست بھارت وکست جموں کشمیر پروگرام سے خطاب کیا۔ انہوں نے تقریباً 5000 کروڑ روپے مالیت کے ہولیسٹک ایگریکلچر ڈیولپمنٹ پروگرام کو قوم کے لیے وقف کیا اور سودیش درشن اور پرشاد اسکیم کے تحت 1400 کروڑ روپے سے زیادہ مالیت کے سیاحت کے شعبے سے متعلق متعدد پروجیکٹوں کا آغاز کیا جس میں ‘حضرت بل درگاہ کی مربوط ترقی’، سری نگر کا منصوبہ بھی شامل ہے۔ وزیر اعظم نے ‘دیکھو اپنا دیش عوام کی پسند کے سیاحتی مقام پول’ اور ‘چلو انڈیا گلوبل ڈائس پورامہم’ کا بھی آغاز کیا اور چیلنج بیسڈ ڈیسٹینیشن ڈیولپمنٹ (سی بی ڈی ڈی) اسکیم کے تحت منتخب کردہ سیاحتی مقامات کا اعلان کیا۔ جموں و کشمیر کے تقریباً 1000 نئی سرکاری بھرتیوں کے تقرری نامے تقسیم کیے اور مختلف سرکاری اسکیموں کے استفادہ کنندگان سے بھی بات چیت کریں گے جن میں خواتین  اچیورس ، لکھ پتی دیدیاں، کسان، کاروباری افراد وغیرہ شامل ہیں۔

 

پلوامہ سے تعلق رکھنے والے ناظم نذیر نے جو شہد کی مکھیوں کے پالنے والے ہیں، نے وزیر اعظم تک حکومت سے فوائد حاصل کرکے اپنے کاروبار کو بڑھانے کے بارے میں اپنے سفر کے بارے میں بتایا کہ کس طرح انہوں نے 50 فیصد سبسڈی پر شہد کی مکھیاں پالنے کے لیے 25 بکس خریدے۔ انہوں نے پورے سفر میں اپنی معاشی ترقی پر بھی روشنی ڈالی جہاں انہوں نے دھیرے دھیرے پرائم منسٹر ایمپلائمنٹ جنریشن پروگرام کے تحت 5 لاکھ روپے حاصل کرکے شہد کی مکھیاں پالنے کے لیے 200 خانوں تک توسیع کی۔ اس کی وجہ سے مسٹر نذیر نے اپنے لیے ایک برانڈ بنایا اور ایک ویب سائٹ بنائی جس نے ملک بھر میں تقریباً 5000 کلو گرام کے ہزاروں آرڈرز حاصل کیے، اپنے کاروبار کو تقریباً 2000 شہد کی مکھیاں پالنے والے خانوں تک بڑھایا اور علاقے کے تقریباً 100 نوجوانوں کو شامل کیا۔ انہوں نے وزیر اعظم کو 2023 میں ایف پی او حاصل کرنے کے بارے میں مزید بتایا، جس سے انہیں اپنے کاروبار کو بڑھانے میں مدد ملی ہے۔ انہوں نے ڈیجیٹل انڈیا پہل شروع کرنے کے لیے وزیر اعظم کا شکریہ بھی ادا کیا، جس نے ملک میں فن ٹیک کے منظر نامے کو تبدیل کر دیا ہے۔ وزیر اعظم نے جموں و کشمیر میں ایک شیریں انقلاب کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے ناظم کی کوششوں کی تعریف کی اور انہیں ان کی کامیابی پر مبارکباد دی۔ کاروبار کے قیام کے لیے حکومت سے ابتدائی مدد حاصل کرنے کے بارے میں وزیر اعظم کے استفسار پر، ناظم نے کہا کہ اگرچہ انھیں ابتدائی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، لیکن محکمہ زراعت نے آگے آ کر ان کے مقصد کی حمایت کی۔ یہ نوٹ کرتے ہوئے کہ شہد کی مکھیوں کا کاروبار ایک بالکل نیا شعبہ ہے، وزیر اعظم نے اس کے فوائد پر روشنی ڈالی اور کہا کہ شہد کی مکھیاں، ایک طرح سے کھیت مزدوروں کی طرح کام کرتی ہیں جو اسے فصلوں کے لیے فائدہ مند بناتی ہیں۔ ناظم نے کہا کہ زمیندار شہد کی مکھیاں پالنے کے لیے بغیر کسی قیمت کے زمین دینے کے لیے تیار ہیں کیونکہ یہ عمل کسانوں کے لیے بھی فائدہ مند ہے۔ وزیر اعظم نے مسٹر ناظم کو ہندوکش کے پہاڑوں کے ارد گرد وسطی ایشیا میں پیدا ہونے والے شہد کی تحقیق کرنے کا مشورہ دیا اور ان سے کہا کہ وہ خانوں کے ارد گرد مخصوص پھول اگا کر شہد کے لیے ایک نیا ذائقہ تیار کرنے کی طرف دیکھیں کیونکہ یہ ایک بہترین مارکیٹ ہے۔ انہوں نے اتراکھنڈ میں بھی اسی طرح کی کامیاب کوششوں کا ذکر کیا۔ وزیر اعظم مودی نے دنیا بھر میں زیادہ مانگ کی وجہ سے اکیسیا ہنی کی قیمت 400 روپے فی کلو سے بڑھ کر 1000 روپے فی کلو ہونے پر خوشی کا اظہار کیا۔ وزیر اعظم نے فکر و نظر کی واضحیت اور اپنا کاروبار چلانے میں ناظم کی طرف سے دکھائے جانے والی جرأت کی تعریف کی اور ان کے والدین کو بھی مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ ناظم صاحب ہندوستان کے نوجوانوں کو ہدایت بھی دے رہے ہیں اور ایک تحریک بن رہے ہیں۔

 

سری نگر کے احتشام ماجد بھٹ بیکری کے ایک کاروباری ہیں جنہوں نے فوڈ ٹکنالوجی کی مہارت کی ترقی کے پروگرام کے ذریعے بیکری میں نئی اختراعات کیں۔ انہیں  گورنمنٹ پولی ٹیکنک فار ویمن اسکل ڈیولپمنٹ کے انکیوبیشن سنٹر نے سپورٹ کیا۔ حکومت کے سنگل ونڈو سسٹم نے انہیں اور ان کی ٹیم کو مختلف محکموں سے تمام این او سی حاصل کرنے میں مدد کی۔ وزیر اعظم نے انہیں بتایا کہ پچھلے 10 برسوں میں حکومت کروڑوں نوجوانوں کو ان کے اسٹارٹ اپ کے خوابوں کو پورا کرنے میں ہر طرح کی مدد فراہم کر رہی ہے۔ وزیر اعظم نے مختلف اضلاع سے اپنے دوستوں کو اپنے کاروباری منصوبوں میں شامل کرنے پر ان کی تعریف کی۔ وزیر اعظم نے کہا،‘‘ ہماری کوشش ہے کہ ہمارے نوجوانوں کے خیالات وسائل اور مالیات کی کمی کا شکار نہ ہوں۔ انہیں اعتماد کے ساتھ آگے بڑھنا چاہئے۔ جموں و کشمیر کی یہ بیٹیاں پوری قوم کے نوجوانوں کے لیے نئی متاثر کن مثالیں پیدا کر رہی ہیں”۔ انہوں نے غریب بیٹیوں کی دیکھ بھال کرنے پر ان کی تعریف کی۔

گاندربل کی حمیدہ بانو ڈیری کے کاروبار سے وابستہ ہیں۔ انہوں نے وزیر اعظم کو بتایا کہ انہوں نے نیشنل رورل لائیولی ہڈز مشن (این آر ایل ایم) سے فائدہ اٹھایا اور دودھ کی مصنوعات کے لیے ایک پروسیسنگ یونٹ کھولا۔ انہوں نے دوسری خواتین کو بھی ملازمت دی۔ انہوں نے وزیراعظم کو مصنوعات کی کوالٹی چیکنگ، پیکجنگ اور مارکیٹنگ کے بارے میں بھی معلومات دی۔ اس کی دودھ کی مصنوعات پریزرویٹوز سے عاری ہیں اور اس نے وزیر اعظم کو اپنی نازک مصنوعات کی مارکیٹنگ کے وسیع طریقے سے آگاہ کیا۔ وزیر اعظم نے ان کی کاروباری ذہانت اور غذائیت کے کام کو جاری رکھنے کے لیے ان کی تعریف کی۔ انہوں نے معیار کا خیال رکھنے اور ماحول دوست طریقے سے اپنا کاروبار کرنے پر بھی ان کی تعریف کی۔

 

جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ زمین پر جنت میں آنے کے احساس کو الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ فطرت کی یہ بے مثال شکل، ہوا، وادی، ماحول اور کشمیری بھائیوں اور بہنوں کا پیار و محبت۔ انہوں نے پنڈال کے باہر شہریوں کی موجودگی کو بھی تسلیم کیا، اور 285 بلاکس کے 1 لاکھ سے زیادہ لوگ ویڈیو لنک کے ذریعے ایونٹ سے جڑے۔ اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ نیا جموں و کشمیر وہ ہے جس کا کئی دہائیوں سے انتظار کیا جا رہا ہے، وزیر اعظم نے کہا، ’’ڈاکٹر شیاما پرساد مکھر جی نے اس جموں و کشمیر کے لیے قربانی دی تھی۔‘‘ انہوں نے کہا کہ نئے جموں و کشمیر کی آنکھوں میں مستقبل کی چمک ہے اور تمام رکاوٹوں کو دور کرنے کا عزم ہے۔ پی ایم مودی نے کہا ’’140 کروڑ شہری جموں و کشمیر کے لوگوں کے مسکراتے چہرے دیکھ کر سکون محسوس کرتے ہیں’’۔

جموں و کشمیر کے لوگوں کے پیار کے لیے اظہار تشکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا ‘‘مودی اس پیار کا قرض چکانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے۔ میں یہ ساری محنت آپ کا دل جیتنے کے لیے کر رہا ہوں اور مجھے یقین ہے کہ میں صحیح راستے پر ہوں۔ میں آپ کا دل جیتنے کی کوشش جاری رکھوں گا۔ یہ مودی کی گارنٹی ہے اور آپ سب جانتے ہیں کہ مودی کی گارنٹی کا مطلب گارنٹی کی تکمیل کی گارنٹی ہے۔’’

جموں کے اپنے حالیہ دورہ کو یاد کرتے ہوئے جہاں انہوں نے 32,000 کروڑ روپے کے بنیادی ڈھانچے اور تعلیم کے منصوبوں کا آغاز کیا، پی ایم مودی نے آج کے تقرری خطوط کے ساتھ سیاحت اور ترقی اور زراعت سے متعلق منصوبوں کا ذکر کیا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ‘‘ترقی کی طاقت، سیاحت کی صلاحیت، کسانوں کی صلاحیتیں اور جموں و کشمیر کے نوجوانوں کی قیادت وِکست جموں کشمیر کی راہ ہموار کرے گی’’۔ وزیر اعظم نے مزید کہا، ‘‘جموں کشمیر صرف ایک جگہ نہیں ہے، جموں کشمیر ہندوستان کا سربراہ ہے۔ اور سر اونچا ہونا ترقی اور عزت کی علامت ہے۔ لہٰذا، وکست جموں و کشمیر وکست بھارت کی ترجیح ہے”۔

وزیر اعظم نے اس وقت کو یاد کیا جب ملک میں نافذ قوانین جموں و کشمیر میں لاگو نہیں ہوتے تھے اور انہوں نے غریبوں کی فلاح و بہبود کے لیے ان اسکیموں کا ذکر کیا جن سے محروم افراد فائدہ نہیں اٹھا سکتے تھے۔ قسمت کی تبدیلی پر روشنی ڈالتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ آج سری نگر سے پوری قوم کے لیے اسکیمیں شروع کی گئی ہیں اور جموں و کشمیر ملک میں سیاحت کی راہ پر گامزن ہے۔ لہذا، وزیر اعظم نے کہا، ہندوستان میں 50 سے زیادہ مقامات سے لوگ اس موقع پر شامل ہوئے ہیں۔ انہوں نے سودیش درشن اسکیم کے ساتھ ساتھ اس کے اگلے مرحلے کے آغاز کے تحت آج قوم کو وقف کیے جانے والے چھ پروجیکٹوں کا ذکر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ سری نگر سمیت ملک کے مختلف شہروں کے لیے تقریباً 30 پروجیکٹ شروع کیے گئے ہیں جبکہ پرساد اسکیم کے تحت 3 پروجیکٹوں کا افتتاح اور 14 دیگر شروع کیے گئے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ درگاہ حضرت بل میں عوام کی سہولت کے لیے جاری ترقیاتی کام بھی مکمل کر لیے گئے ہیں۔ وزیر اعظم نے ‘دیکھو اپنا دیش عوام کی پسند’ مہم کے بارے میں بتایا جہاں حکومت کی جانب سے 40 مقامات کی نشاندہی کی گئی ہے جو اگلے 2 سالوں میں سیاحتی مقامات کے طور پر تیار کیے جائیں گے۔ مہم کے تحت وزیر اعظم نے وضاحت کی کہ حکومت عوامی رائے کی بنیاد پر پسندیدہ ترین سیاحتی مقامات تیار کرے گی۔ انہوں نے این آر آئیز کو ہندوستان آنے کی ترغیب دینے کے لیے ‘چلو انڈیا’ مہم کا بھی ذکر کیا۔ آج کے ترقیاتی کاموں کے لیے جموں و کشمیر کے شہریوں کو مبارکباد دیتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ اس سے خطے کی سیاحت کی صنعت کو ترقی دینے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے میں مدد ملے گی۔

 

وزیراعظم نے کہا کہ جب ارادے نیک ہوں اور وعدوں کو پورا کرنے کا عزم ہو تو نتائج آنے کے پابندہوتے ہیں۔ انہوں نے جموں و کشمیر میں جی- 20 سربراہی اجلاس کی کامیاب میزبانی پر روشنی ڈالی۔

سیاحت میں تبدیلی لانے والی ترقی کے بارے میں ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا، ‘‘ایک وقت تھا جب لوگ سوال کرتے تھے کہ جموں و کشمیر سیاحت کے لیے کون آئے گا۔ آج جموں و کشمیر سیاحت کے تمام ریکارڈ توڑ رہا ہے۔’’ انہوں نے مزید وضاحت کی، ‘‘صرف 2023 میں، جموں و کشمیر نے 2 کروڑ سے زیادہ سیاحوں کا استقبال کیا، پچھلے ریکارڈ کو پیچھے چھوڑتے ہوئے، پچھلے 10 برسوں میں، امرناتھ یاترا میں سب سے زیادہ تعداد میں یاتریوں نے شرکت کی، اور ویشنو دیوی نے بھی عقیدت مندوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا۔‘‘ غیر ملکی سیاحوں کی آمد میں اضافے اور مشہور شخصیات اور بین الاقوامی مہمانوں کے لیے بڑھتی ہوئی کشش کو اجاگر کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے کہا، ‘‘اب، یہاں تک کہ ممتاز مشہور شخصیات اور غیر ملکی مہمان بھی جموں و کشمیر کی وادیوں کو تلاش کرنے اور ویڈیوز اور ریلز بنانے کے لیے آتے ہیں۔’’

زراعت کی طرف بڑھتے ہوئے، وزیر اعظم نے جموں و کشمیر کی زرعی پیداوار کی مضبوطی پر زور دیا، جس میں زعفران، سیب، خشک میوہ جات اور چیری شامل ہیں، اور اس خطے کو ایک اہم زرعی مرکز کے طور پر پہچانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 5,000 کروڑ روپے کے زرعی ترقیاتی پروگرام کے نتیجے میں اگلے 5 برسوں میں جموں و کشمیر کے زرعی شعبے میں بے مثال ترقی ہوگی، خاص طور پر باغبانی اور مویشیوں کی ترقی پر توجہ دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ "یہ اقدام ہزاروں نئے مواقع پیدا کرے گا، خاص طور پر باغبانی اور مویشی پالنے کے شعبوں میں"۔

مزید برآں، انہوں نے جموں و کشمیر کے کسانوں کے کھاتوں میں پی ایم کسان سمان ندھی اسکیم کے تحت تقریباً 3,000 کروڑ روپے کی براہ راست منتقلی کا ذکر کیا۔ پھلوں اور سبزیوں کے ذخیرہ کرنے کی صلاحیت کو بڑھانے اور ان کے طویل عرصے تک رکھنے کو یقینی بنانے کے لیے جموں و کشمیر میں ذخیرہ کرنے کی سہولیات کو بڑھانے کے لیے اہم سرمایہ کاری کی گئی ہے۔ مزید برآں، وزیر اعظم نے نشاندہی کی کہ ‘دنیا کی سب سے بڑی گودام اسکیم’ کے آغاز میں جموں و کشمیر میں متعدد گوداموں کی تعمیر شامل ہوگی۔

 

جموں و کشمیر میں ترقی کی تیز رفتاری کاحوالہ دیتے ہوئے ، وزیر اعظم نے 2 ایمس کا ذکر کیا کیونکہ ایمس جموں کا پہلے ہی افتتاح ہو چکا ہے اور ایمس کشمیر میں کام جاری ہے۔ انہوں نے خطے میں 7 نئے میڈیکل کالجوں، 2 کینسر ہسپتالوں اورآئی آئی ٹی اور آئی آئی ایم جیسے اداروں کے بارے میں بات کی۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر میں 2 وندے بھارت ٹرینیں چل رہی ہیں اور سری نگر سے سنگلدان اور سنگلدان سے بارہمولہ تک ریل خدمات شروع ہو چکی ہیں۔ رابطوں کی اس توسیع نے اقتصادی سرگرمیوں کو ایک رفتار دی ہے۔ جموں اور سری نگر کو اسمارٹ سٹی بنانے کے لیے نئے پروجیکٹوں کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ آنے والے وقتوں میں جموں و کشمیر کی کامیابی کی کہانی پوری دنیا کے لیے ایک مثال بنے گی۔

اپنے من کی بات پروگرام میں دستکاری اور خطہ کی صفائی ستھرائی کے اپنے تذکرے کو یاد کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے جموں کشمیر کے کنول کے ساتھ تعلق پر زور دیا۔

جموں و کشمیر کے نوجوانوں کی ہر شعبے میں ترقی کے لیے حکومت کی کوششوں پر روشنی ڈالتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ ہنر مندی سے لے کر کھیلوں تک نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں اور جموں و کشمیر کے ہر ضلع میں جدید کھیلوں کی سہولیات کا ذکر کیا۔ انہوں نے 17 اضلاع اور جموں وکشمیر میں متعدد قومی کھیلوں کے ٹورنامنٹس کی میزبانی کرنے والے کثیر مقصدی انڈور اسپورٹس ہالز کی مثال دی۔ وزیر اعظم نے مزید کہا،‘‘ اب جموں و کشمیر ملک کے سرمائی کھیلوں کی راجدھانی کے طور پر ابھر رہا ہے۔ حال ہی میں منعقدہ کھیلو انڈیا سرمائی کھیلوں میں تقریباً 1000 کھلاڑیوں نے حصہ لیا ہے’’ ۔

‘‘جموں و کشمیر آج آزادی سے سانس لے رہا ہے، اس لیے نئی بلندیوں کو حاصل کر رہا ہے"، وزیر اعظم نے آرٹیکل 370 کی تنسیخ کاذکر کرتے ہوئے یہ بات کہی کہ جس سے نوجوانوں کی صلاحیتوں کا احترام ہوا ہے اور سب کے لیے مساوی حقوق اور یکساں مواقع پیدا ہوئےہیں۔ انہوں نے پاکستان سے آنے والے پناہ گزینوں، والمیکی برادری اور صفائی ستھرائی کے کارکنوں کو ووٹنگ کا حق حاصل کرنے، ایس سی زمرے کے لیے والمیکی برادری کے مطالبات کو پورا کرنے، درج فہرست قبائل، پڈاری قبیلے کے لیے اسمبلی میں نشستوں کے ریزرویشن، اور پڈاری قبیلے، پہاڑی نسلی گروہ، گڈا برہمن اور کولی کمیونٹیز کو درج فہرست قبائل میں شامل کرنے کے بارے میں بات کی۔ وزیر اعظم نے یہ بھی نشاندہی کی کہ جموں و کشمیر میں خاندانی سیاست نے دیگر پسماندہ طبقات کو پنچایت، میونسپلٹی اور میونسپل کارپوریشن میں ریزرویشن کے حق سے محروم کردیا جیسا کہ حکومت میں فراہم کیا گیا ہے۔ پی ایم مودی نے مزید کہا، ’’آج ہر طبقے کو اس کے حقوق واپس کیے جا رہے ہیں’’۔

 

جے اینڈ کے بینک کی تبدیلی پر بات کرتے ہوئے وزیر اعظم نے ماضی کی بدانتظامی کو یاد کیا اور اسے خاندانی سیاست اور بدعنوانی کا شکار قرار دیا۔ وزیراعظم نے بینک کی صحت بحال کرنے کے لیے اصلاحات کی فہرست بیان کی۔ انہوں نے بینک کو 1000 کروڑ روپے کی امداد اور غلط تقرریوں کے خلاف کارروائی کا ذکر کیا۔ اینٹی کرپشن بیورو اب بھی ایسی ہزاروں تقرریوں کی تحقیقات کر رہا ہے۔ انہوں نے گزشتہ 5 سالوں میں شفاف بھرتیوں پر روشنی ڈالی۔ نتیجے کے طور پر، جے اینڈ کے بینک کا منافع 1700 کروڑ روپے تک پہنچ گیا ہے اور کاروبار 5 سال پہلے 1.25 کروڑ روپے سے 2.25 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ گیا ہے۔ ڈپازٹس بھی 80,000 کروڑ روپے سے بڑھ کر 1.25 لاکھ کروڑ روپے ہو گئے۔ این پی اے جو 5 سال پہلے 11 فیصد سے تجاوز کر گیا تھا اسے 5 فیصد  تک نیچے لایا گیا ہے۔ بینک کا حصہ بھی 5 سال پہلے 12 روپے سے 12 گنا بڑھ کر 140 روپے تک پہنچ گیا ہے۔وزیر اعظم مودی نے کہا ،‘‘ جب ایماندار حکومت ہو، نیت عوام کی فلاح و بہبود کی ہو، تب ہی عوام کو ہر مشکل سے نکالا جا سکتا ہے’’۔

اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ جموں و کشمیر آزادی کے بعد سے خاندانی سیاست کا سب سے بڑا شکار رہا ہے، وزیر اعظم نے لوگوں کو یقین دلایا کہ جموں و کشمیر کی ترقی کی مہم کسی قیمت پر نہیں رکے گی اور یہ خطہ اگلے 5 سالوں میں مزید تیزی سے ترقی کرے گا۔

 

وزیراعظم نے اپنے خطاب کا اختتام رمضان کے مقدس مہینے پر پوری قوم کو نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کیا۔ وزیراعظم نے ان الفاظ کے ساتھ اپنا خطاب ختم کیا۔‘‘میری خواہش ہے کہ رمضان کے مہینے سے ہر کسی کو امن اور ہم آہنگی کا پیغام ملے۔ کل مہاشیو راتری ہے، میں سب کو اس مقدس تہوار کی نیک خواہشات پیش کرتا ہوں’’۔

اس موقع پر جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر جناب منوج سنہا اور مرکزی وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ بھی موجود تھے۔

پس منظر

ایک ایسے قدم کے طور پر جو جموں و کشمیر کی زرعی معیشت کو بڑا فروغ دے گا، وزیر اعظم نے ‘ہولیسٹک ایگریکلچر ڈیولپمنٹ پروگرام’ (ایچ اے ڈی پی) کو قوم کے نام وقف کیا۔ ایچ اے ڈی پی ایک مربوط پروگرام ہے جس میں جموں و کشمیر میں زرعی معیشت کے تین بڑے شعبوں یعنی باغبانی، زراعت اور مویشی پروری کی سرگرمیوں کے تمام شعبے شامل ہیں۔ یہ پروگرام ایک وقف دکش کسان پورٹل کے ذریعے تقریباً 2.5 لاکھ کسانوں کو ہنر مندی سے آراستہ کرے گا۔ پروگرام کے تحت، تقریباً 2000 کسان خدمت گھر قائم کیے جائیں گے اور کسان برادری کی فلاح و بہبود کے لیے مضبوط ویلیو چینز قائم کی جائیں گی۔ یہ پروگرام جموں و کشمیر کے لاکھوں پسماندہ خاندانوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے روزگار کے مواقع فراہم کرے گا۔

وزیر اعظم کا وژن ان مقامات پر عالمی معیار کے بنیادی ڈھانچے اور سہولیات کی تعمیر کے ذریعے ملک بھر میں نمایاں زیارت گاہوں اور سیاحتی مقامات کا دورہ کرنے والے سیاحوں اور زائرین کے مجموعی تجربے کو بہتر بنانا ہے۔ اس کے مطابق وزیر اعظم نے 1400 کروڑ روپے سے زیادہ کی سودیش درشن اور پرشاد اسکیموں کے تحت متعدد اقدامات  کاوقف اور افتتاح کیا۔ وزیر اعظم کی طرف سے قوم کے نام وقف کیے جانے والے پروجیکٹوں میں سری نگر، جموں و کشمیر میں ‘حضرت بل درگاہ کی مربوط ترقی’ کی ترقی شامل ہے۔ میگھالیہ میں شمال مشرقی سرکٹ میں سیاحتی سہولیات تیار کی گئی ہیں۔ بہار اور راجستھان میں روحانی سرکٹ؛ بہار میں دیہی اور تیرتھنکر سرکٹ؛ ، جوگولمبا گڈوال ضلع، تلنگانہ  میں گولمبا دیوی مندر کی ترقی؛ اور ا انوپور ضلع، مدھیہ پردیش مر کنٹک مندر کی ترقی ان میں شامل ہیں۔

 

حضرت بل کی درگاہ  پر آنے والے زائرین اور سیاحوں کے لیے عالمی معیار کا بنیادی ڈھانچہ اور سہولیات پیدا کرنے، اور ان کے جامع روحانی تجربے کو بڑھانے کے لیے، ‘حضرت بل کے مزار کی مربوط ترقی’ پروجیکٹ پر عمل کیا گیا ہے۔ منصوبے کے اہم اجزاء میں مزار کی باؤنڈری وال کی تعمیر سمیت پورے علاقے کی سائٹ کی ترقی شامل ہے۔ درگاہ حضرت بل کی روشنی مزار کے ارد گرد گھاٹوں اور دیوری راستوں کی بہتری؛ صوفی تشریحی مرکز کی تعمیر؛ سیاحوں کی سہولت کے مرکز کی تعمیر؛ اشارے کی تنصیب؛ کثیر منزلہ کار پارکنگ؛ عوامی سہولت بلاک کی تعمیر اور درگاہ کے داخلی گیٹ وے سمیت  وغیرہ شامل ہیں ۔

وزیر اعظم نے تقریباً 43 پروجیکٹوں کا بھی آغاز کیا جو ملک بھر میں زیارت گاہوں اور سیاحتی مقامات کی ایک وسیع رینج تیار کریں گے۔ ان میں اہم مذہبی مقامات جیسے آندھرا پردیش کے کاکیناڈا ضلع میں اناوارم مندر ،تمل ناڈو کے تھانجاور اور میولادوتھرائی ضلع اور پڈوچیری کے کرائیکل ضلع میں نواگرہ مندر؛ سری چامنڈیشوری دیوی مندر، میسور ضلع، کرناٹک؛ کرنی ماتا مندر، بیکانیر ضلع راجستھان؛ ما چنت پورنی مندر، ضلع اونا، ہماچل پردیش؛ باسیلیکا آف بوم جیسس چرچ، گوا، شامل ہیں ۔ پروجیکٹوں میں اروناچل پردیش میں میچوکا ایڈونچر پارک جیسے مختلف دیگر مقامات اور تجربہ کے مراکز کی ترقی بھی شامل ہے۔ گنجی، پتھورا گڑھ، اتراکھنڈ میں دیہی ٹورازم کلسٹر کا تجربہ؛ اننت گری جنگل، اننت گری، تلنگانہ میں ایکو ٹورازم زون؛ میگھالیہ کے زمانے کے غار کا تجربہ اور سہرا، میگھالیہ میں آبشار کے راستے کا تجربہ؛ سنمارا ٹی اسٹیٹ، جورہاٹ، آسام کا دوبارہ تصور کرنا۔ کنجلی ویٹ لینڈ، کپورتھلا، پنجاب میں ماحولیاتی سیاحت کا تجربہ؛ جولی لیہ بائیو ڈائیورسٹی پارک، لیہہ وغیرہ انہی پروجیکٹوں کاحصہ ہے ۔

پروگرام کے دوران وزیر اعظم نے چیلنج بیسڈ ڈیسٹینیشن ڈیولپمنٹ (سی بی ڈی ڈی) اسکیم کے تحت منتخب 42 سیاحتی مقامات کا اعلان کیا۔ 24-2023 کے مرکزی بجٹ کے دوران اعلان کردہ اختراعی اسکیم کا مقصد سیاحتی مقامات کی ترقی کے ساتھ ساتھ پائیداری کو فروغ دینا اور سیاحت کے شعبے میں مسابقت کو فروغ دینا ہے۔ 42 مقامات کی شناخت چار زمروں میں کی گئی ہے - 16 ثقافت اور ورثے کے زمرہ میں، 11 روحانی مقامات میں، 10 ایکو ٹورازم اور امرت دھروہار میں اور 5 وائبرنٹ ولیج  زمرےمیں۔

 

وزیر اعظم نے ‘دیکھو اپنا دیش عوام کی پسند 2024’ کی شکل میں سیاحت پر قوم کی نبض کو پہچاننے کے لیے پہلی بار ملک گیر پہل شروع کی۔ ملک گیر رائے شماری کا مقصد شہریوں کے ساتھ سب سے زیادہ پسندیدہ سیاحتی مقامات کی نشاندہی کرنا اور سیاحت کے 5 زمروں میں سیاحوں کے تاثرات کو سمجھنا ہے - روحانی، ثقافتی اور وراثتی، فطرت اور جنگلی حیات، ایڈونچر اور دیگر زمروں میں۔ چار اہم زمروں کے علاوہ، 'دوسری' کیٹیگری وہ ہے جہاں کوئی اپنے ذاتی پسندیدہ  مقام کو ووٹ دے سکتا ہے اور سیاحت کے پوشیدہ جواہرات کو غیر دریافت شدہ سیاحتی پرکشش مقامات جیسے وائبرنٹ بارڈر ویلجز، ویلنس ٹورازم، ویڈنگ ٹورازم وغیرہ کی شکل میں کھولنے میں مدد کرسکتا ہے۔ حکومت ہند کے شہری مشغولیت پورٹل مائی گو پلیٹ فارم پراس ر ائے شماری کی میزبانی کی جا رہی ہے۔

وزیر اعظم نے ہندوستانی تارکین وطن کو ناقابل یقین ہندوستان کے سفیر بننے اور ہندوستان میں سیاحت کو فروغ دینے کی ترغیب دینے کے لئے ‘‘چلو انڈیا گلوبل ڈائیسپورا مہم’’ کا آغاز کیا۔ یہ مہم وزیر اعظم کی کلریئن کال کی بنیاد پر شروع کی جا رہی ہے، جس میں انہوں نے ہندوستانی تارکین وطن سے درخواست کی کہ وہ کم از کم 5 غیر ہندوستانی دوستوں کو ہندوستان کا سفر کرنے کی ترغیب دیں۔ 3 کروڑ سے زیادہ بیرون ملک مقیم ہندوستانیوں کے ساتھ، ہندوستانی تارکین وطن ثقافتی سفیر کے طور پر کام کرتے ہوئے ہندوستانی سیاحت کے لئے ایک طاقتور محرک کے طور پر کام کرسکتے ہیں ۔

 

تقریر کا مکمل متن پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

Explore More
لال قلعہ کی فصیل سے 77ویں یوم آزادی کے موقع پر وزیراعظم جناب نریندر مودی کے خطاب کا متن

Popular Speeches

لال قلعہ کی فصیل سے 77ویں یوم آزادی کے موقع پر وزیراعظم جناب نریندر مودی کے خطاب کا متن
India sets sights on global renewable ammonia market, takes strides towards sustainable energy leadership

Media Coverage

India sets sights on global renewable ammonia market, takes strides towards sustainable energy leadership
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
PM Modi's Interview to IANS
May 27, 2024

पहले तो मैं आपकी टीम को बधाई देता हूं भाई, कि इतने कम समय में आपलोगों ने अच्छी जगह बनाई है और एक प्रकार से ग्रासरूट लेवल की जो बारीक-बारीक जानकारियां हैं। वह शायद आपके माध्यम से जल्दी पहुंचती है। तो आपकी पूरी टीम बधाई की पात्र है।

Q1 - आजकल राहुल गांधी और अरविंद केजरीवाल को पाकिस्तान से इतना endorsement क्यों मिल रहा है ? 370 ख़त्म करने के समय से लेकर आज तक हर मौक़े पर पाकिस्तान से उनके पक्ष में आवाज़ें आती हैं ?

जवाब – देखिए, चुनाव भारत का है और भारत का लोकतंत्र बहुत ही मैच्योर है, तंदरुस्त परंपराएं हैं और भारत के मतदाता भी बाहर की किसी भी हरकतों से प्रभावित होने वाले मतदाता नहीं हैं। मैं नहीं जानता हूं कि कुछ ही लोग हैं जिनको हमारे साथ दुश्मनी रखने वाले लोग क्यों पसंद करते हैं, कुछ ही लोग हैं जिनके समर्थन में आवाज वहां से क्यों उठती है। अब ये बहुत बड़ी जांच पड़ताल का यह गंभीर विषय है। मुझे नहीं लगता है कि मुझे जिस पद पर मैं बैठा हूं वहां से ऐसे विषयों पर कोई कमेंट करना चाहिए लेकिन आपकी चिंता मैं समझ सकता हूं।

 

Q 2 - आप ने भ्रष्टाचार के ख़िलाफ़ मुहिम तेज करने की बात कही है अगली सरकार जब आएगी तो आप क्या करने जा रहे हैं ? क्या जनता से लूटा हुआ पैसा जनता तक किसी योजना या विशेष नीति के जरिए वापस पहुंचेगा ?

जवाब – आपका सवाल बहुत ही रिलिवेंट है क्योंकि आप देखिए हिंदुस्तान का मानस क्या है, भारत के लोग भ्रष्टाचार से तंग आ चुके हैं। दीमक की तरह भ्रष्टाचार देश की सारी व्यवस्थाओं को खोखला कर रहा है। भ्रष्टाचार के लिए आवाज भी बहुत उठती है। जब मैं 2013-14 में चुनाव के समय भाषण करता था और मैं भ्रष्टाचार की बातें बताता था तो लोग अपना रोष व्यक्त करते थे। लोग चाहते थे कि हां कुछ होना चाहिए। अब हमने आकर सिस्टमैटिकली उन चीजों को करने पर बल दिया कि सिस्टम में ऐसे कौन से दोष हैं अगर देश पॉलिसी ड्रिवन है ब्लैक एंड व्हाइट में चीजें उपलब्ध हैं कि भई ये कर सकते हो ये नहीं कर सकते हो। ये आपकी लिमिट है इस लिमिट के बाहर जाना है तो आप नहीं कर सकते हो कोई और करेगा मैंने उस पर बल दिया। ये बात सही है..लेकिन ग्रे एरिया मिनिमल हो जाता है जब ब्लैक एंड व्हाइट में पॉलिसी होती है और उसके कारण डिसक्रिमिनेशन के लिए कोई संभावना नहीं होती है, तो हमने एक तो पॉलिसी ड्रिवन गवर्नेंस पर बल दिया। दूसरा हमने स्कीम्स के सैचुरेशन पर बल दिया कि भई 100% जो स्कीम जिसके लिए है उन लाभार्थियों को 100% ...जब 100% है तो लोगों को पता है मुझे मिलने ही वाला है तो वो करप्शन के लिए कोई जगह ढूंढेगा नहीं। करप्शन करने वाले भी कर नहीं सकते क्योंकि वो कैसे-कैसे कहेंगे, हां हो सकता है कि किसी को जनवरी में मिलने वाला मार्च में मिले या अप्रैल में मिले ये हो सकता है लेकिन उसको पता है कि मिलेगा और मेरे हिसाब से सैचुरेशन करप्शन फ्री गवर्नेंस की गारंटी देता है। सैचुरेशन सोशल जस्टिस की गारंटी देता है। सैचुरेशन सेकुलरिज्म की गारंटी देता है। ऐसे त्रिविध फायदे वाली हमारी दूसरी स्कीम, तीसरा मेरा प्रयास रहा कि मैक्सिमम टेक्नोलॉजी का उपयोग करना। टेक्नोलॉजी में भी..क्योंकि रिकॉर्ड मेंटेन होते हैं, ट्रांसपेरेंसी रहती है। अब डायरेक्ट बेनेफिट ट्रांसफर में 38 लाख करोड़ रुपए ट्रांसफर किए हमने। अगर राजीव गांधी के जमाने की बात करें कि एक रुपया जाता है 15 पैसा पहुंचता है तो 38 लाख करोड़ तो हो सकता है 25-30 लाख करोड़ रुपया ऐसे ही गबन हो जाते तो हमने टेक्नोलॉजी का भरपूर उपयोग किया है। जहां तक करप्शन का सवाल है देश में पहले क्या आवाज उठती थी कि भई करप्शन तो हुआ लेकिन उन्होंने किसी छोटे आदमी को सूली पर चढ़ा दिया। सामान्य रूप से मीडिया में भी चर्चा होती थी कि बड़े-बड़े मगरमच्छ तो छूट जाते हैं, छोटे-छोटे लोगों को पकड़कर आप चीजें निपटा देते हो। फिर एक कालखंड ऐसा आया कि हमें पूछा जाता था 19 के पहले कि आप तो बड़ी-बड़ी बातें करते थे क्यों कदम नहीं उठाते हो, क्यों अरेस्ट नहीं करते हो, क्यों लोगों को ये नहीं करते हो। हम कहते थे भई ये हमारा काम नहीं है, ये स्वतंत्र एजेंसी कर रही है और हम बदइरादे से कुछ नहीं करेंगे। जो भी होगा हमारी सूचना यही है जीरो टोलरेंस दूसरा तथ्यों के आधार पर ये एक्शन होना चाहिए, परसेप्शन के आधार पर नहीं होना चाहिए। तथ्य जुटाने में मेहनत करनी पड़ती है। अब अफसरों ने मेहनत भी की अब मगरमच्छ पकड़े जाने लगे हैं तो हमें सवाल पूछा जा रहा है कि मगरमच्छों को क्यों पकड़ते हो। ये समझ में नहीं आता है कि ये कौन सा गैंग है, खान मार्केट गैंग जो कुछ लोगों को बचाने के लिए इस प्रकार के नैरेटिव गढ़ती है। पहले आप ही कहते थे छोटों को पकड़ते हो बड़े छूट जाते हैं। जब सिस्टम ईमानदारी से काम करने लगा, बड़े लोग पकड़े जाने लगे तब आप चिल्लाने लगे हो। दूसरा पकड़ने का काम एक इंडिपेंडेंट एजेंसी करती है। उसको जेल में रखना कि बाहर रखना, उसके ऊपर केस ठीक है या नहीं है ये न्यायालय तय करता है उसमें मोदी का कोई रोल नहीं है, इलेक्टेड बॉडी का कोई रोल नहीं है लेकिन आजकल मैं हैरान हूं। दूसरा जो देश के लिए चिंता का विषय है वो भ्रष्ट लोगों का महिमामंडन है। हमारे देश में कभी भी भ्रष्टाचार में पकड़े गए लोग या किसी को आरोप भी लगा तो लोग 100 कदम दूर रहते थे। आजकल तो भ्रष्ट लोगों को कंधे पर बिठाकर नाचने की फैशन हो गई है। तीसरा प्रॉब्लम है जो लोग कल तक जिन बातों की वकालत करते थे आज अगर वही चीजें हो रही हैं तो वो उसका विरोध कर रहे हैं। पहले तो वही लोग कहते थे सोनिया जी को जेल में बंद कर दो, फलाने को जेल में बंद कर दो और अब वही लोग चिल्लाते हैं। इसलिए मैं मानता हूं आप जैसे मीडिया का काम है कि लोगों से पूछे कि बताइए छोटे लोग जेल जाने चाहिए या मगरमच्छ जेल जाने चाहिए। पूछो जरा पब्लिक को क्या ओपिनियन है, ओपिनियन बनाइए आप लोग।

 

Q3- नेहरू से लेकर राहुल गांधी तक सबने गरीबी हटाने की बात तो की लेकिन आपने आत्मनिर्भर भारत पर जोर दिया, इसे लेकर कैसे रणनीति तैयार करते हैं चाहे वो पीएम स्वनिधि योजना हो, पीएम मुद्रा योजना बनाना हो या विश्वकर्मा योजना हो मतलब एकदम ग्रासरूट लेवल से काम किया ?

जवाब – देखिए हमारे देश में जो नैरेटिव गढ़ने वाले लोग हैं उन्होंने देश का इतना नुकसान किया। पहले चीजें बाहर से आती थी तो कहते थे देखिए देश को बेच रहे हैं सब बाहर से लाते हैं। आज जब देश में बन रहा है तो कहते हैं देखिए ग्लोबलाइजेशन का जमाना है और आप लोग अपने ही देश की बातें करते हैं। मैं समझ नहीं पाता हूं कि देश को इस प्रकार से गुमराह करने वाले इन ऐलिमेंट्स से देश को कैसे बचाया जाए। दूसरी बात है अगर अमेरिका में कोई कहता है Be American By American उसपर तो हम सीना तानकर गर्व करते हैं लेकिन मोदी कहता है वोकल फॉर लोकल तो लोगों को लगता है कि ये ग्लोबलाइजेशन के खिलाफ है। तो इस प्रकार से लोगों को गुमराह करने वाली ये प्रवृत्ति चलती है। जहां तक भारत जैसा देश जिसके पास मैनपावर है, स्किल्ड मैनपावर है। अब मैं ऐसी तो गलती नहीं कर सकता कि गेहूं एक्सपोर्ट करूं और ब्रेड इम्पोर्ट करूं..मैं तो चाहूंगा मेरे देश में ही गेहूं का आटा निकले, मेरे देश में ही गेहूं का ब्रेड बने। मेरे देश के लोगों को रोजगार मिले तो मेरा आत्मनिर्भर भारत का जो मिशन है उसके पीछे मेरी पहली जो प्राथमिकता है कि मेरे देश के टैलेंट को अवसर मिले। मेरे देश के युवाओं को रोजगार मिले, मेरे देश का धन बाहर न जाए, मेरे देश में जो प्राकृतिक संसाधन हैं उनका वैल्यू एडिशन हो, मेरे देश के अंदर किसान जो काम करता है उसकी जो प्रोडक्ट है उसका वैल्यू एडिशन हो वो ग्लोबल मार्केट को कैप्चर करे और इसलिए मैंने विदेश विभाग को भी कहा है कि भई आपकी सफलता को मैं तीन आधारों से देखूंगा एक भारत से कितना सामान आप..जिस देश में हैं वहां पर खरीदा जाता है, दूसरा उस देश में बेस्ट टेक्नोलॉजी कौन सी है जो अभीतक भारत में नहीं है। वो टेक्नोलॉजी भारत में कैसे आ सकती है और तीसरा उस देश में से कितने टूरिस्ट भारत भेजते हो आप, ये मेरा क्राइटेरिया रहेगा...तो मेरे हर चीज में सेंटर में मेरा नेशन, सेंटर में मेरा भारत और नेशन फर्स्ट इस मिजाज से हम काम करते हैं।

 

Q 4 - एक तरफ आप विश्वकर्माओं के बारे में सोचते हैं, नाई, लोहार, सुनार, मोची की जरूरतों को समझते हैं उनसे मिलते हैं तो वहीं दूसरी तरफ गेमर्स से मिलते हैं, आर्टिफिशियल इंटेलीजेंस की बात करते हैं, इन्फ्लुएंसर्स से आप मिलते हैं इनकी अहमियत को भी सबके सामने रखते हैं, इतना डाइवर्सीफाई तरीके से कैसे सोच पाते हैं?

जवाब- आप देखिए, भारत विविधताओं से भरा हुआ है और कोई देश एक पिलर पर बड़ा नहीं हो सकता है। मैंने एक मिशन लिया। हर डिस्ट्रिक्ट का वन डिस्ट्रिक्ट, वन प्रोडक्ट पर बल दिया, क्यों? भारत इतना विविधता भरा देश है, हर डिस्ट्रिक्ट के पास अपनी अलग ताकत है। मैं चाहता हूं कि इसको हम लोगों के सामने लाएं और आज मैं कभी विदेश जाता हूं तो मुझे चीजें कौन सी ले जाऊंगा। वो उलझन नहीं होती है। मैं सिर्फ वन डिस्ट्रिक, वन प्रोडक्ट का कैटलॉग देखता हूं। तो मुझे लगता है यूरोप जाऊंगा तो यह लेकर जाऊंगा। अफ्रीका जाऊंगा तो यह लेकर जाऊंगा। और हर एक को लगता है एक देश में। यह एक पहलू है दूसरा हमने जी 20 समिट हिंदुस्तान के अलग-अलग हिस्से में की है। क्यों? दुनिया को पता चले कि दिल्ली, यही हिंदुस्तान नहीं है। अब आप ताजमहल देखें तो टूरिज्म पूरा नहीं होता जी मेरे देश का। मेरे देश में इतना पोटेंशियल है, मेरे देश को जानिए और समझिए और इस बार हमने जी-20 का उपयोग भारत को विश्व के अंदर भारत की पहचान बनाने के लिए किया। दुनिया की भारत के प्रति क्यूरियोसिटी बढ़े, इसमें हमने बड़ी सफलता पाई है, क्योंकि दुनिया के करीब एक लाख नीति निर्धारक ऐसे लोग जी-20 समूह की 200 से ज्यादा मीटिंग में आए। वह अलग-अलग जगह पर गए। उन्होंने इन जगहों को देखा, सुना भी नहीं था, देखा वो अपने देश के साथ कोरिलिरेट करने लगे। वो वहां जाकर बातें करने लगे। मैं देख रहा हूं जी20 के कारण लोग आजकल काफी टूरिस्टों को यहां भेज रहे हैं। जिसके कारण हमारे देश का टूरिज्म को बढ़ावा मिला।

इसी तरह आपने देखा होगा कि मैंने स्टार्टअप वालों के साथ मीटिंग की थी, मैं वार्कशॉप करता था। आज से मैं 7-8 साल पहले, 10 साल पहले शुरू- शुरू में यानी मैं 14 में आया। उसके 15-16 के भीतर-भीतर मैंने जो नए स्टार्टअप की दुनिया शुरू हुई, उनकी मैंने ऐसे वर्कशॉप की है तो मैं अलग-अलग कभी मैंने स्पोर्ट्स पर्सन्स के की, कभी मैंने कोचों के साथ की कि इतना ही नहीं मैंने फिल्म दुनिया वालों के साथ भी ऐसी मीटिंग की।

मैं जानता हूं कि वह बिरादरी हमारे विचारों से काफी दूर है। मेरी सरकार से भी दूर है, लेकिन मेरा काम था उनकी समस्याओं को समझो क्योंकि बॉलीवुड अगर ग्लोबल मार्केट में मुझे उपयोगी होता है, अगर मेरी तेलुगू फिल्में दुनिया में पॉपुलर हो सकती है, मेरी तमिल फिल्म दुनिया पॉपुलर हो सकती है। मुझे तो ग्लोबल मार्केट लेना था मेरे देश की हर चीज का। आज यूट्यूब की दुनिया पैदा हुई तो मैंने उनको बुलाया। आप देश की क्या मदद कर सकते हैं। इंफ्लुएंसर को बुलाया, क्रिएटिव वर्ल्ड, गेमिंम अब देखिए दुनिया का इतना बड़ा गेमिंग मार्केट। भारत के लोग इन्वेस्ट कर रहे हैं, पैसा लगा रहे हैं और गेमिंग की दुनिया में कमाई कोई और करता है तो मैंने सारे गेमिंग के एक्सपर्ट को बुलाया। पहले उनकी समस्याएं समझी। मैंने देश को कहा, मेरी सरकार को मुझे गेमिंग में भारतीय लीडरशिप पक्की करनी है।

इतना बड़ा फ्यूचर मार्केट है, अब तो ओलंपिक में गेमिंग आया है तो मैं उसमें जोड़ना चाहता हूं। ऐसे सभी विषयों में एक साथ काम करने के पक्ष में मैं हूं। उसी प्रकार से देश की जो मूलभूत व्यवस्थाएं हैं, आप उसको नजरअंदाज नहीं कर सकते हैं। हमें गांव का एक मोची होगा, सोनार होगा, कपड़े सिलने वाला होगा। वो भी मेरे देश की बहुत बड़ी शक्ति है। मुझे उसको भी उतना ही तवज्जो देना होगा। और इसलिए मेरी सरकार का इंटीग्रेटेड अप्रोच होता है। कॉम्प्रिहेंसिव अप्रोच होता है, होलिस्टिक अप्रोच होता है।

 

Q 5 - डिजिटल इंडिया और मेक इन इंडिया उसका विपक्ष ने मजाक भी उड़ाया था, आज ये आपकी सरकार की खास पहचान बन गए हैं और दुनिया भी इस बात का संज्ञान ले रही है, इसका एक उदहारण यूपीआई भी है।

जवाब – यह बात सही है कि हमारे देश में जो डिजिटल इंडिया मूवमेंट मैंने शुरू किया तो शुरू में आरोप क्या लगाए इन्होंने? उन्होंने लगाई कि ये जो सर्विस प्रोवाइडर हैं, उनकी भलाई के लिए हो रहा है। इनको समझ नहीं आया कि यह क्षेत्र कितना बड़ा है और 21वीं सदी एक टेक्नॉलॉजी ड्रिवन सेंचुरी है। टेक्नोलॉजी आईटी ड्रिवन है। आईटी इन्फोर्स बाय एआई। बहुत बड़े प्रभावी क्षेत्र बदलते जा रहे हैं। हमें फ्यूचरस्टीक चीजों को देखना चाहिए। आज अगर यूपीआई न होता तो कोई मुझे बताए कोविड की लड़ाई हम कैसे लड़ते? दुनिया के समृद्ध देश भी अपने लोगों को पैसे होने के बावजूद भी नहीं दे पाए। हम आराम से दे सकते हैं। आज हम 11 करोड़ किसानों को 30 सेकंड के अंदर पैसा भेज सकते हैं। अब यूपीआई अब इतनी यूजर फ्रेंडली है तो क्योंकि यह टैलेंट हमारे देश के नौजवानों में है। वो ऐसे प्रोडक्ट बना करके देते हैं कि कोई भी कॉमन मैन इसका उपयोग कर सकता है। आज मैंने ऐसे कितने लोग देखे हैं जो अपना सोशल मीडिया अनुभव कर रहे हैं। हमने छह मित्रों ने तय किया कि छह महीने तक जेब में 1 पैसा नहीं रखेंगे। अब देखते हैं क्या होता है। छह महीने पहले बिना पैसे पूरी दुनिया में हम अपना काम, कारोबार करके आ गए। हमें कोई तकलीफ नहीं हुई तो हर कसौटी पर खरा उतर रहा है। तो यूपीआई ने एक प्रकार से फिनटेक की दुनिया में बहुत बड़ा रोल प्ले किया है और इसके कारण इन दिनों भारत के साथ जुड़े हुए कई देश यूपीआई से जुड़ने को तैयार हैं क्योंकि अब फिनटेक का युग है। फिनटेक में भारत अब लीड कर रहा है और इसलिए दुर्भाग्य तो इस बात का है कि जब मैं इस विषय को चर्चा कर रहा था तब देश के बड़े-बड़े विद्वान जो पार्लियामेंट में बैठे हैं वह इसका मखौल उड़ाते थे, मजाक उड़ाते थे, उनको भारत के पोटेंशियल का अंदाजा नहीं था और टेक्नोलॉजी के सामर्थ्य का भी अंदाज नहीं था।

 

Q 6 - देश के युवा भारत का इतिहास लिखेंगे ऐसा आप कई बार बोल चुके हैं, फर्स्ट टाइम वोटर्स का पीएम मोदी से कनेक्ट के पीछे का क्या कारण है?

एक मैं उनके एस्पिरेशन को समझ पाता हूं। जो पुरानी सोच है कि वह घर में अपने पहले पांच थे तो अब 7 में जाएगा सात से नौ, ऐसा नहीं है। वह पांच से भी सीधा 100 पर जाना चाहता है। आज का यूथ हर, क्षेत्र में वह बड़ा जंप लगाना चाहता है। हमें वह लॉन्चिंग पैड क्रिएट करना चाहिए, ताकि हमारे यूथ के एस्पिरेशन को हम फुलफिल कर सकें। इसलिए यूथ को समझना चाहिए। मैं परीक्षा पर चर्चा करता हूं और मैंने देखा है कि मुझे लाखों युवकों से ऐसी बात करने का मौका मिलता है जो परीक्षा पर चर्चा की चर्चा चल रही है। लेकिन वह मेरे साथ 10 साल के बाद की बात करता है। मतलब वह एक नई जनरेशन है। अगर सरकार और सरकार की लीडरशिप इस नई जनरेशन के एस्पिरेशन को समझने में विफल हो गई तो बहुत बड़ी गैप हो जाएगी। आपने देखा होगा कोविड में मैं बार-बार चिंतित था कि मेरे यह फर्स्ट टाइम वोटर जो अभी हैं, वह कोविड के समय में 14-15 साल के थे अगर यह चार दीवारों में फंसे रहेंगे तो इनका बचपन मर जाएगा। उनकी जवानी आएगी नहीं। वह बचपन से सीधे बुढ़ापे में चला जाएगा। यह गैप कौन भरेगा? तो मैं उसके लिए चिंतित था। मैं उनसे वीडियो कॉन्फ्रेंस से बात करता था। मैं उनको समझाता था का आप यह करिए। और इसलिए हमने डेटा एकदम सस्ता कर दिया। उस समय मेरा डेटा सस्ता करने के पीछे लॉजिक था। वह ईजिली इंटरनेट का उपयोग करते हुए नई दुनिया की तरफ मुड़े और वह हुआ। उसका हमें बेनिफिट हुआ है। भारत ने कोविड की मुसीबतों को अवसर में पलटने में बहुत बड़ा रोल किया है और आज जो डिजिटल रिवॉल्यूशन आया है, फिनटेक का जो रिवॉल्यूशन आया है, वह हमने आपत्ति को अवसर में पलटा उसके कारण आया है तो मैं टेक्नोलॉजी के सामर्थ्य को समझता हूं। मैं टेक्नोलॉजी को बढ़ावा देना चाहता हूं।

प्रधानमंत्री जी बहुत-बहुत धन्यवाद आपने हमें समय दिया।

नमस्कार भैया, मेरी भी आपको बहुत-बहुत शुभकामनाएं, आप भी बहुत प्रगति करें और देश को सही जानकारियां देते रहें।