صاحبزادوں کی غیر معمولی جرأت سے شہریوں کو مطلع اورآگاہ کرنے کے لیے، ملک بھر میں پروگراموں کا انعقادکیا گیاہے
‘‘ویر بال دیوس ہندوستانیت کے تحفظ کے لیے کچھ بھی کرنے کے عزم کی علامت ہے’’
‘‘ماتاگُجری، گرو گوبند سنگھ اور چار صاحبزادوں کی بہادری اور نظریات، آج بھی ہر ہندوستانی کو طاقت فراہم کرتے ہیں’’
‘‘ہم ہندوستانیوں نے وقار کے ساتھ ظالموں کا مقابلہ کیاہے’’
‘‘آج ،جب ہم اپنے ورثے پر فخر محسوس کر رہے ہیں،تو دنیا کا نقطہ نظر بھی بدل گیا ہے’’
‘‘آج کے ہندوستان کو اپنے عوام، اپنی صلاحیتوں اور امنگوں پرپورا اعتماد ہے’’
‘‘آج پوری دنیا ہندوستان کا، مواقع اورامکانات کی سرزمین کے طورپراعتراف کر رہی ہے’’
‘‘آنے والے 25 سال ،ہندوستان کی بہترین صلاحیتوں کا زبردست مظاہرہ ہوں گے’’
‘‘ہمیں پنچ پران کی پیروی کرنے اور اپنے قومی کردار کو مستحکم بنانے کی ضرورت ہے’’
‘‘آنے والے 25 سال، ہماری نوجوان قوت کے لیے بڑے مواقع لے کر آئیں گے’’
‘‘ہمارے نوجوانوں کو ترقی یافتہ ہندوستان کا ایک بڑاخاکہ وضع کرنا ہوگااورحکومت ایک دوست کی طرح ان کے ساتھ مضبوطی سے کھڑی ہے’’
‘‘حکومت کے پاس نوجوانوں کے خوابوں کی تکمیل کے لیے ایک واضح نقش راہ اور وژن موجود ہے’’

وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج نئی دہلی میں بھارت منڈپم میں ‘ویر بال دیوس’ کے موقع پرایک  پروگرام سے خطاب کیا۔جناب مودی نے بچوں کی طرف سے پیش کیے گئے موسیقی کےایک پروگرام اورمارشل آرٹس  کی تین کارکردگیوں کا مشاہدہ کیا۔اس موقع پر وزیر اعظم نے دہلی میں نوجوانوں کے ایک  مارچ پاسٹ کو بھی جھنڈی دکھا کر روانہ کیا۔

اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ،وزیر اعظم نے کہا کہ قوم ویر صاحبزادوں کی لازوال قربانیوں کو یاد کر رہی ہے اور ان سے تحریک حاصل کر رہی ہے کیونکہ آزادی کے امرت کال میں ہندوستان کے لیے ویر بال دیوس کا ایک نیا باب کھل رہا ہے۔وزیراعظم نے پچھلے سال اسی دن منائے جانے والے پہلے ویر بال دیوس کی تقریبات کا ذکر  کیا ،جب ویر صاحبزادوں کی بہادری کی داستانوں نے پوری قوم کو جھنجھوڑ کر رکھ دیاتھا۔وزیر اعظم مودی نے زور دے کر کہا‘‘ویر بال دیوس،ہندوستانیت کے تحفظ کے لیے کبھی نہ ہارماننے والے رویّے کی علامت ہے۔یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ جب بہادری کے عروج کی بات آتی ہے تو عمر سے کوئی فرق نہیں پڑتا’’۔اسے سکھ گروؤں کی وراثت کا جشن قرار دیتے ہوئے، وزیر اعظم نے کہا کہ گرو گوبند سنگھ جی اور ان کے چار ویر صاحبزادوں کی جرأت،حوصلے اور نظریات، آج بھی ہر ہندوستانی کو ترغیب فراہم کرتے ہیں ۔ وزیر اعظم نے بابا موتی رام مہرا کے خاندان کی قربانیوں اور دیوان ٹوڈرمل کی عقیدت کو یاد کرتے ہوئے کہا‘‘ویر بال دیوس،ان ماؤں کو قومی خراج عقیدت ہے جنہوں نے بے مثال  اور غیر معمولی ہمت کے ساتھ جانباز بچوں کو جنم دیا’’۔وزیر اعظم نے کہا کہ گروؤں کے تئیں یہ سچی عقیدت،ملک اورقوم کے تئیں عقیدت کے جذبات پیدا کرتی ہے۔

 

وزیر اعظم نے اس بات پرخوشی کا اظہار کیا کہ ویر بال دیوس، اب بین الاقوامی سطح پربھی  منایا جا رہا ہے کیونکہ امریکہ، برطانیہ،آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، یو اے ای اور یونان  میں ویر بال دیوس سےمتعلق پروگراموں کاانعقاد کیا گیاہے۔چمکور اور سرہند کی لڑائیوں کی لاجواب تاریخ کا ذکر کرتے ہوئے، وزیراعظم نے کہا کہ اس تاریخ کوکبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔انہوں نے یاد کیا کہ کس طرح ہندوستانیوں نے وقار کے ساتھ ظلم اور استبداد کا سامنا کیاتھا۔

وزیر اعظم  مودی نے  اس بات کو نمایاں کیا کہ  دنیا نے بھی ہماری وراثت کا تب ہی نوٹس لیا جب ہم نے خود اپنے ورثے کو اس کا مناسب احترام دینا شروع کیا۔انہوں نے کہا کہ ‘‘آج جب ہم اپنے ورثے پر فخر کر رہے ہیں تو دنیا کا نقطہ نظر بھی تبدیل ہو گیا ہے’’۔ جناب مودی نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ آج کا ہندوستان،غلامی کی ذہنیت سےنجات حاصل کر رہا ہے اور اسے ملک کی صلاحیتوں،امنگوں اورعوام پر پورا بھروسہ ہے۔آج کے ہندوستان کے لیے، صاحبزادوں کی قربانی  ترغیب کامعاملہ ہے۔ اسی طرح بھگوان برسا منڈا اور گروگوبند کی قربانی پورے ملک کے لئےباعث تحریک ہے۔

 

وزیر اعظم نے نشاندہی کی کہ دنیا ہندوستان کو مواقع کی اولین سرزمین کے طور پردیکھتی ہے۔وزیر اعظم مودی نے زور دے کر کہا کہ ہندوستان ، معیشت، سائنس، تحقیق، کھیل کوداور سفارت کاری سے متعلق عالمی مسائل  میں ایک   کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔ وزیر اعظم نےاپنی اس واضح کال کا اعادہ کیا جو انہوں نے لال قلعہ سے دی تھی کہ‘‘یہی وقت ہے صحیح وقت ہے’’۔انہوں نے مزید کہا کہ‘‘یہ ہندوستان کا وقت ہے، اگلے 25 سالوں میں  ہندوستان کی صلاحیتوں کا مظاہرہ ہوگا’’۔انہوں نے پنچ پران کی پیروی کرنے اور ایک لمحہ بھی ضائع نہ کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان ایک ایسے دَور سے گزر رہا ہے جو ایک  طویل غیر معینہ  مدت میں آتا ہے۔جناب مودی نے کہا کہ آزادی کے اس امرت کال میں متعدد عوامل ایک جگہ یکجاہوئے ہیں جو ہندوستان کے لیے سنہری دَور کا تعین کریں گے۔انہوں نے ہندوستان کی نوجوان طاقت پر زور دیا اور بتایا کہ آج ملک میں نوجوانوں کی آبادی، جدوجہد آزادی کی نسبت کہیں زیادہ ہے۔ اوراس  کے ساتھ ہی انہوں نے اس یقین کا اظہار کیا کہ نوجوانوں کی موجودہ نسل، ملک کو ناقابل تصور بلندیوں تک لے جا سکتی ہے۔انہوں نے نچی کیتا کا ذکر کیا جس نے علم  و دانش کی تلاش میں تمام رکاوٹوں کو توڑ دیاتھا، ابھیمنیو جس نے چھوٹی عمر میں ‘چکرویوہ’کا سامنا کیا،دھرو اور اس کی تپسیا،موریہ  راجا چندرگپت جس نے بہت چھوٹی عمر میں ایک سلطنت کی قیادت کی، ایکلوویہ اور اپنے گرو درونا چاریہ  کے تئیں اس کی لگن۔خودی رام بوس، بٹوکیشور دت، کنک لتا بروا،رانی گیڈینلیو، باجی راوت اور دیگر کئی ان قومی سرماؤں کا بھی ذکر کیا جنہوں نے ملک کے لیے اپنی جانیں قربان کیں۔

 

وزیر اعظم نے بہت وضاحت کے ساتھ اس بات پرزور دیا کہ ‘‘آنے والے 25 سال، ہمارے نوجوانوں کے لیے بڑے مواقع لے کر آ رہے ہیں۔ ہندوستان کے نوجوان، خواہ وہ کسی بھی علاقے یا معاشرے میں پیدا ہوئے ہوں، ان کے لامحدود خواب ہیں۔ان خوابوں کو پورا کرنے کے مقصد سے، حکومت کے پاس ایک واضح روڈ میپ ، نقش راہ اور واضح وژن  موجود ہے’’۔ انہوں نے قومی تعلیمی پالیسی کو فعال کرنے، 10 ہزار اٹل ٹنکرنگ لیباریٹریوں  اور متحرک   نیز درخشاں اسٹارٹ اپ کلچر کا ذکر کرتے ہوئے اس  بات کی وضاحت کی۔انہوں نے غریب نوجوان طبقوں، ایس سی/ایس ٹی اور پسماندہ طبقوں کے 8 کروڑ نئے صنعت کاروں کا بھی ذکر کیا جو مدرا یوجنا کی وجہ سے ابھرکر سامنے آئے ہیں۔

 

حالیہ بین الاقوامی مقابلوں میں ہندوستانی کھلاڑیوں کی کامیابی کو اجاگر کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے اس بات کو نمایاں کیا کہ زیادہ تر کھلاڑی دیہی علاقوں  میں متوسط طبقے کے خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ انہوں نے ان کھلاڑیوں کی  کامیابیوں کا سہرا کھیلو انڈیامہم کے سر باندھا، جس کی بدولت ان کے گھروں کے قریب کھیلوں اور تربیت کی بہتر سہولتیں فراہم ہوتی ہیں اور انتخاب کے ایک  شفاف عمل کو یقینی بناتی ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ یہ نوجوانوں کی فلاح و بہبود کو ترجیح دینے کا نتیجہ ہے۔

وزیر اعظم نے دنیا کی تیسری سب سے بڑی معیشت بننے کے خواب کی تعبیر  کی وضاحت کی ۔انہوں نے کہا کہ اس سے نوجوانوں کو سب سے زیادہ فائدہ پہنچے گا اور اس کا مطلب ہے بہتر صحت، تعلیم،مواقع، ملازمتیں، معیار زندگی اور مصنوعات کا معیار۔وزیر اعظم مودی نے نوجوان سامعین کو نوجوانوں کو وکست بھارت کے خوابوں اورعزم سے جوڑنے کی ملک گیر مہم کے بارے میں بتایا۔انہوں نے ہر نوجوان کوایم وائی - بھارت پورٹل پر اپنا اندراج کرانے کی دعوت دی۔انہوں نے کہا کہ‘‘یہ پلیٹ فارم اب ملک کی نوجوان بیٹیوں اور بیٹوں کے لیے ایک بڑا ادارہ بن رہا ہے’’۔

 

وزیراعظم نے نوجوانوں کوصلاح دی کہ وہ اپنی صحت کو اولین ترجیح دیں کیونکہ یہ زندگی میں مطلوبہ نتائج کے حصول کے لیے بہت ضروری ہے۔ انہوں نے جسمانی ورزش، ڈیجیٹل ڈیٹوکس، ذہنی تندرستی، مناسب نیند اور اپنی خوراک میں شری انّ یا موٹے اناجوں کو شامل کرنے سے متعلق چیلنجوں کا ذکرکرتے ہوئے ،خودکے لیے کچھ بنیادی اصول بنانے اور ان پر مضبوطی سے عمل پیرا ہونے کا مشورہ دیا۔ وزیر اعظم مودی نے سماج میں منشیات کی لعنت کا بھی سرسری ذکر کیا اور بحیثیت قوم اور سماج ،اکٹھے ہو کر اس سے نمٹنے پر زور دیا۔انہوں نے حکومت اور اہل خانہ کے ساتھ ساتھ تمام مذہبی رہنماؤں پر بھی زور دیا کہ وہ منشیات کے خلاف بھرپور مہم کا آغاز کریں۔وزیر اعظم نے  اس بات کا ذکر کرتے ہوئےکہ‘سب کا پریاس’ کی تعلیمات جو ہمارے گروؤں نے ہمیں دی ہیں، ہندوستان کو ایک ترقی یافتہ ملک بنائیں گی،اپنا خطاب مکمل کرتے ہوئےکہا کہ ‘‘سب کا پریاس ایک قابل اور مضبوط نوجوان طاقت کے لیے بہت  ضروری ہے’’۔

خواتین اور بچوں کی بہبود کی مرکزی وزیر محترمہ اسمرتی زوبین ایرانی، مرکزی وزیر تعلیم جناب دھرمیندر پردھان، اطلاعات و نشریات کے مرکزی وزیر جناب انوراگ سنگھ ٹھاکربھی اس موقع پر موجو د تھے۔

 

پس منظر

ویر بال دیوس کو منانے کے لیے، حکومت ،شہریوں ، خاص طور پر چھوٹے بچوں کو صاحبزادوں کی مثالی  اور غیر معمولی جرأت کی  داستان  سے مطلع اور آگاہ کرنے کے لیے ملک بھر میں مختلف پروگراموں کا انعقاد کر رہی ہے۔ملک بھر کے اسکولوں اور بچوں کی نگہداشت کے اداروں میں صاحبزادوں کی زندگی اور قربانیوں  کی تفصیلات فراہم کرنے والی  ایک ڈیجیٹل نمائش لگائی جائے گی۔‘ویر بال دیوس’ پرایک فلم بھی ملک بھر میں دکھائی جائے گی۔اس کے علاوہ انٹرایکٹو کوئززجیسے معلومات عامہ سے متعلق  مختلف آن لائن مقابلے ہوں گے جوایم وائی بھارت اورایم وائی جی او  وی پورٹل کے ذریعے منعقد کیے جائیں گے۔

 

وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے 9 جنوری 2022 کو شری گرو گوبند سنگھ جی کے پرکاش پرب کے دن کے موقع پر اعلان کیاتھا کہ شری گرو گوبند سنگھ کے بیٹوں ،صاحبزادہ بابا زوراور سنگھ جی اورصاحبزادہ بابا فتح سنگھ جی کی شہادت کے موقع پرہر سال 26 دسمبر کو‘ویر بال دیوس’ کے طور پر منایا جائے گا۔

 

تقریر کا مکمل متن پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
India records highest-ever startup surge with 55,200 recognised in FY26

Media Coverage

India records highest-ever startup surge with 55,200 recognised in FY26
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Cabinet approves two railway projects in Uttar Pradesh and Andhra Pradesh worth Rs 24,815 crore
April 18, 2026

The Cabinet Committee on Economic Affairs, chaired by the Prime Minister Shri Narendra Modi, today has approved 02 (Two) projects of Ministry of Railways with total cost of Rs. 24,815 crore (approx.). These projects include:

Name of Project

Route Length (in km)

Track Length (in km)

Completion Cost (Rs. in Cr.)

Ghaziabad – Sitapur 3rd and 4th Line

403

859

14,926

Rajahmundry (Nidadavolu) – Visakhapatnam (Duvvada) 3rd and 4th Line

 

198

 

458

 

9,889

Total

601

1,317

24,815

The increased line capacity will significantly enhance mobility, resulting in improved operational efficiency and service reliability for Indian Railways. These multi-tracking proposals are poised to streamline operations and alleviate congestion. The projects are in line with the Prime Minister Shri Narendra Modiji’s Vision of a New India which will make people of the region “Atmanirbhar” by way of comprehensive development in the area which will enhance their employment/ self-employment opportunities.

The projects are planned on PM-Gati Shakti National Master Plan with focus on enhancing multi-modal connectivity & logistic efficiency through integrated planning and stakeholder consultations. These projects will provide seamless connectivity for movement of people, goods, and services.

The 02 (Two) projects covering 15 Districts across the states of Uttar Pradesh and Andhra Pradesh will increase the existing network of Indian Railways by about 601 Kms.

The proposed capacity enhancement will improve rail connectivity to several prominent tourist destinations across the country, including Dudheshwarnath Temple, Garhmukteshwar Ganga Ghat, Dargah Shah Wilayat Jama Masjid (Amroha), Naimisharanya (Sitapur), Annavaram, Antarvedi, Draksharamam, etc.

The proposed projects are essential routes for transportation of commodities such as coal, foodgrains, cement, POL, iron and steel, container, fertilizers, sugar, chemical salts, limestone, etc. The Railways being environment friendly and energy efficient mode of transportation, will help both in achieving climate goals and minimizing logistics cost of the country lowering CO2 emissions (180.31Crore Kg) which is equivalent to plantation of 7.33 Crore trees.

Ghaziabad – Sitapur 3rd and 4th Line (403 Km)

  • Ghaziabad – Sitapur is an existing double line section forming a key part of Delhi- Guwahati High Density Network (HDN 4).
  • The project is crucial for improving connectivity between the Northern and Eastern region of the country.
  • The existing line capacity utilization of the section is up to 168% and is projected to be up to 207% in case the project is not taken up.
  • Transverses through Ghaziabad, Hapur, Amroha, Moradabad, Rampur, Bareilly, Sahjahanpur, Lakhimpur Kheri and Sitapur districts of Uttar Pradesh.
  • The project route passes through major industrial centres - Ghaziabad (machinery, electronics, pharmaceuticals), Moradabad (brassware and handicrafts), Bareilly (furniture, textiles, engineering), Shahjahanpur (carpets and cement-related industries), and Roza (thermal power plant).
  • For seamless transportation, the project alignment is planned to bypass congested stations of Hapur, Simbhaoli, Moradabad, Rampur, Bareilly, Shahjahanpur, and Sitapur and accordingly, six new stations are proposed on the bypassing sections.
  • Key tourist/religious places along/near to the project section are Dudheshwarnath Temple, Garhmukteshwar Ganga Ghat, Dargah Shah Wilayat Jama Masjid (Amroha), and Naimisharanya (Sitapur) among others.
  • Anticipated additional freight traffic of 35.72 MTPA consisting of Coal, Foodgrains, Chemical Manures, Finished Steel, etc.
  • Estimated Cost: Rs.14,926 crore (approx.)
  • Employment generation: 274 lakh human-days.
  • CO2 emissions saved: About 128.77 crore Kg CO2 equivalent to 5.15 Cr trees.

  • Logistic cost saving: Rs. 2,877.46 crore every year vis-a vis road transportation.

Ghaziabad – Sitapur 3rd and 4th Line (403 Km)

Rajahmundry (Nidadavolu) – Visakhapatnam (Duvvada) 3rd and 4th Line (198 Km)

  • Rajahmundry (Nidadavolu) – Visakhapatnam (Duvvada) section forms part of the Howrah – Chennai High Density Network (HDN).
  • The proposed project is part of quadrupling initiative of Howrah – Chennai High Density Network (HDN) route.
  • The project traverses through East Godavari, Konaseema, Kakinada, Anakapalle and Vishakapatnam districts of Andhra Pradesh.
  • Visakhapatnam is identified as an Aspirational District in the Aspirational Districts Programme.
  • It provides connectivity to major ports along the East Coast such as Visakhapatnam, Gangavaram, Machilipatnam and Kakinada.
  • The project route runs along the eastern coastline and is among the busiest, predominantly freight-oriented sections of the East Coast Rail Corridor.
  • The line capacity utilization of the section has already reached up to 130%, leading to frequent congestion and operational delays. The line capacity is expected to increase further due to proposed expansion of ports and industries in the region.
  • Project section includes 4.3 km rail bridge over Godavari River, 2.67 km viaduct, 3 bypasses and the new alignment is around 8 km shorter than the existing route, improving connectivity and operational efficiency.
  • The proposed section will also boost tourism by improving access to key destinations such as Annavaram, Antarvedi and Draksharamam etc.
  • Anticipated additional freight traffic of 29.04 MTPA consisting of Coal, Cement, Chemical Manures, Iron and Steel, Foodgrains, Containers, Bauxite, Gypsum, Limestone, etc.
  • Estimated Cost: Rs.9,889 crore (approx.)
  • Employment generation: 135 lakh human-days.
  • CO2 emissions saved: About 51.49 crore Kg CO2 equivalent to 2.06 Cr trees.

  • Logistic cost saving: Rs. 1,150.56 crore every year vis-a vis road transportation.

 

आर्थिक सशक्तिकरण:

Aspirational districts - Visakhapatnam district will get improved connectivity

Additional economic opportunities in the region through tourism & industries.

Better healthcare and education for the citizens due to enhanced rail connectivity.


Rajahmundry (Nidadavolu) – Visakhapatnam (Duvvada) 3rd and 4th Line (198 Km)

Prime Minister’s focus on railways:

  • Record budget allocation of Rs. 2,65,000 crore for FY 26-27.
  • Manufacturing more than 1600 locomotives- surpassed US and Europe in manufacturing of locomotive production
  • In FY 26, Indian Railways is expected to rank among the top three freight carriers globally, moving 1.6 billion tonnes of cargo.

  • India starts exporting metro coaches to Australia and bogie to United Kingdom, Saudi Arabia, France and Australia.