The C-295 Aircraft facility in Vadodara reinforces India's position as a trusted partner in global aerospace manufacturing:PM
Make in India, Make for the World:PM
The C-295 aircraft factory reflects the new work culture of a New India:PM
India's defence manufacturing ecosystem is reaching new heights:PM

وزیر اعظم جناب نریندر مودی اور اسپین کے وزیر اعظم مسٹر پیڈرو سانچیز نے آج گجرات کے وڈودرا میں ٹاٹا ایڈوانس سسٹم لمیٹڈ (ٹی اے ایس ایل) کیمپس میں C-295 طیاروں کی تیاری کے لیے ٹاٹا ایئرکرافٹ کمپلیکس کا مشترکہ طور پر افتتاح کیا۔ دونوں وزرائے اعظم نے اس موقع پر لگائی گئی نمائش کا  جائزہ  بھی لیا۔

اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ یہ سپین کے وزیر اعظم مسٹر پیڈرو سانچیز کا بھارت کا یہ پہلا دورہ ہے اور دونوں ممالک کے درمیان شراکت داری آج ایک نئی سمت کی جانب گامزن ہے۔ C-295 طیاروں کی  مینوفیکچرنگ کے ٹاٹا ایئر کرافٹ کمپلیکس کے افتتاح کا ذکر کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے کہا کہ اس سے نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان تعلقات مضبوط ہوں گے، بلکہ ’میک ان انڈیا، میک فار دی ورلڈ‘ کے مشن کو بھی رفتار ملے گی۔ جناب مودی نے اس موقع پر ایئربس اور ٹاٹا کی پوری ٹیم کو اپنی نیک خواہشات پیش کیں۔ وزیر اعظم نے آنجہانی جناب رتن ٹاٹا جی کو بھی خراج عقیدت پیش کیا۔

 

وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ C-295  طیاروں کی فیکٹری نیو انڈیا کے نئے ورک کلچر کی عکاسی کرتی ہے اور کہا کہ ملک میں کسی بھی پروجیکٹ کے آئیڈیا سے لے کر عمل درآمد تک بھارت کی رفتار یہاں دیکھی جا سکتی ہے۔ اکتوبر 2022 میں فیکٹری کا سنگ بنیاد رکھے جانے کو یاد کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ یہ مرکز اب C-295  طیاروں کی  مینوفیکچرنگ کے لیے تیار ہے۔ پروجیکٹوں کی منصوبہ بندی اور عمل آوری میں ہورہی بے انتہا تاخیر کو ختم کرنے پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے وزیر اعظم نے گجرات کے وزیر اعلیٰ کے طور پر وڈودرا میں بمبارڈیئر ٹرین کوچ مینوفیکچرنگ مرکز کے قیام کو یاد کیا اور کہا کہ فیکٹری پیداوار کے لیے ریکارڈ وقت میں تیار تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’اس فیکٹری میں بنی میٹرو کوچز آج دیگر ممالک کو برآمد کیے جا رہے ہیں۔‘ جناب مودی نے یقین ظاہر کیا کہ آج کی افتتاحی مرکز میں بنائے گئے ہوائی جہاز بھی برآمد کیے جائیں گے۔

وزیراعظم نے اسپین کے مشہور شاعر انتونیو ماچاڈو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جیسے ہی ہم ہدف کی طرف چلنا شروع کرتے ہیں، ہدف کی طرف راستہ خود بخود بن جاتا ہے۔  اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ بھارت کا دفاعی مینوفیکچرنگ ماحولیاتی نظام آج نئی اونچائیوں کو چھو رہا ہے، جناب مودی نے کہا کہ اگر 10 سال پہلے ٹھوس اقدامات نہ کیے جاتے تو آج اس منزل تک پہنچنا ناممکن ہوتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایک دہائی قبل دفاعی مینوفیکچرنگ کی ترجیح اور شناخت درآمد کے بارے میں تھی اور کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ بھارت میں اتنے بڑے پیمانے پر دفاعی مینوفیکچرنگ ہو سکتی ہے۔ وزیراعظم نے ریمارکس دیے کہ حکومت نے ایک نئے راستے پر چلنے کا فیصلہ کیا، بھارت کے لیے نئے اہداف مقرر کیے، جس کے نتائج آج واضح ہیں۔

 

وزیر اعظم نے کہا کہ دفاعی شعبے میں بھارت کی تبدیلی اس بات کی مثال ہے کہ کس طرح صحیح منصوبہ اور شراکت داری امکانات کو خوشحالی میں بدل سکتی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اسٹریٹجک فیصلوں نے گزشتہ دہائی کے دوران  بھارت میں ایک متحرک دفاعی صنعت کی ترقی کو ہوا دی ہے۔ جناب مودی نے کہا  کہ’ہم نے دفاعی مینوفیکچرنگ میں پرائیویٹ شعبے کی شرکت کو بڑھایا، عوامی شعبے کی اکائیوں کو زیادہ موثر بنایا، آرڈیننس فیکٹریوں کو سات بڑی کمپنیوں میں تبدیل کیا اور  ڈی آر ڈی او اور ایچ اے ایل کو بااختیار بنایا ۔‘  انہوں نے کہا کہ اتر پردیش اور تمل ناڈو میں دفاعی راہداریوں کے قیام سے اس شعبے میں نئی ​​توانائی آئی ہے۔ آئی ڈی ای ایکس (دفاعی مہارت کے لیے اختراع) اسکیم کا ذکرکرتے ہوئے، وزیر اعظم نے کہا کہ اس نے پچھلے پانچ چھ سالوں میں تقریباً 1000 دفاعی اسٹارٹ اپس کی ترقی کو آگے بڑھایا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بھارت کی دفاعی برآمدات میں گزشتہ ایک دہائی کے دوران 30 گنا اضافہ ہوا ہے، ملک اب 100 سے زائد ممالک کو آلات برآمد کر رہا ہے۔

وزیر اعظم نے ہنر مندی اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے پر زور دیا اور کہا کہ ایئر بس-ٹاٹا فیکٹری جیسے منصوبے ہزاروں ملازمتیں پیدا کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیکٹری 18,000 ہوائی جہاز کے کل پرزوں کی مقامی تیاری میں معاونت کرے گی، جس سے پورے بھارت میں ایم ایس ایم ایز کو بے پناہ مواقع ملیں گے۔ اس بات کا ذکرکرتے ہوئے کہ بھارت آج بھی دنیا کی بڑی طیارہ کمپنیوں کے  کل پرزوں کا سب سے بڑا سپلائر ہے، جناب مودی نے کہا کہ نئی ہوائی جہاز کی فیکٹری بھارت میں نئی ​​مہارتوں اور نئی صنعتوں کو بڑا فروغ دے گی۔

 

وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ وہ آج کے پروگرام کو ٹرانسپورٹ ہوائی جہاز کی تیاری سے آگے دیکھ رہے ہیں۔ پچھلی دہائی میں بھارت کے ہوا بازی کے شعبے کی بے مثال ترقی اور تبدیلی کو اجاگر کرتے ہوئے، جناب مودی نے  تبصرہ   کیاکہ بھارت ملک کے سیکڑوں چھوٹے شہروں کو ہوائی رابطہ فراہم کر رہا ہے، جبکہ ساتھ ہی بھارت کو ہوا بازی کا مرکز بنانے اور ایم آر او ڈومین بنانے کے لیے کام کر رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ ماحولیاتی نظام مستقبل میں میڈ ان انڈیا، شہری ہوائی جہاز کے لیے بھی راہ ہموار کرے گا۔ یہ نوٹ کرتے ہوئے کہ مختلف بھارتی ایئر لائنز نے 1200 نئے طیاروں کا آرڈر دیا ہے۔ جناب مودی نے کہا کہ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ نئی افتتاحی فیکٹری مستقبل میں بھارت اور دنیا کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ڈیزائننگ سے لے کر شہری ہوائی جہاز مینوفیکچرنگ تک اہم کردار ادا کرے گی۔

وڈودرا شہر کو ایم ایس ایم ایز کا گڑھ  قرار دیتے ہوئے  جناب مودی نے کہا کہ یہ شہر بھارت کی ان کوششوں میں ایک تعامل کے طور پر کام کرے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ شہر میں ایک گتی شکتی یونیورسٹی بھی ہے، جو بھارت  کے مختلف شعبوں کے لیے پیشہ ور افراد کو تیار کر رہی ہے۔ وزیر اعظم نے یہ بھی کہا کہ ودوڈرا میں فارما سیکٹر، انجینئرنگ اور ہیوی مشینری، کیمیکلز اور پیٹرو کیمیکل، بجلی اور توانائی کے آلات جیسے کئی شعبوں سے متعلق بہت سی کمپنیاں تھیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اب یہ پورا خطہ بھارت میں ایوی ایشن مینوفیکچرنگ کا ایک بڑا مرکز بننے جا رہا ہے۔ جناب مودی نے حکومت گجرات اور اس کے وزیر اعلی بھوپیندر پٹیل اور ان کی پوری ٹیم کو ان کی جدید صنعتی پالیسیوں اور فیصلوں کے لیے مبارکباد دی۔

 

وڈودرا کوبھارت کا اہم ثقافتی شہر قرار دیتے ہوئے جناب مودی نے کہا کہ وہ اسپین سے آنے والے تمام دوستوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے بہت خوش ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ  بھارت اور اسپین کے درمیان ثقافتی  تعلق  کی اپنی اہمیت ہے۔  انہوں نے کہا کہ فادر کارلوس ویلے اسپین سے آکر گجرات میں آباد ہوئے اور اپنی زندگی کے پچاس سال گزارے۔ انہوں نے مزید کہا کہ فادر ویلے نے ثقافت کو اپنے  افکار اور تحریروں سے مالا مال کیا تھا۔ جناب مودی نے کہا کہ انہیں بھی فادر ویلے سے ملنے کی سعادت نصیب ہوئی اور حکومت ہند نے انہیں ان کی عظیم شراکت کے لئے پدم شری سے نوازا۔

جناب مودی نے کہا کہ یوگا اسپین میں بھی بہت مقبول تھا اور بھارت میں بھی ہسپانوی فٹ بال کو پسند کیا جاتا تھا۔ ریال میڈرڈ اور بارسلونا کلبوں کے درمیان کل ہونے والے فٹ بال میچ کے بارے میں تبصرہ کرتے ہوئے جناب مودی نے کہا کہ بارسلونا کی زبردست جیت بھارت میں بھی موضوع بحث تھی اور دونوں کلبوں کے شائقین کا جوش بھارت میں بھی ویسا ہی تھا جیسا کہ اسپین میں ہے۔ بھارت اور اسپین کی کثیر جہتی شراکت داری پر روشنی ڈالتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ چاہے یہ کھانا ہو، فلمیں ہوں یا فٹ بال، عوام سے عوام کے مضبوط رابطے نے ہمیشہ ہمارے تعلقات کو مضبوط کیا ہے۔ جناب مودی نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ بھارت اور اسپین نے 2026 کو ثقافت، سیاحت اور مصنوعی ذہانت اے آئی کے بھارت-اسپین سال کے طور پر منانے کا فیصلہ کیا ہے۔

 

خطاب کے اختتام پر، وزیر اعظم نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ آج کی تقریب بھارت اور اسپین کے درمیان مشترکہ تعاون کے بہت سے نئے پروجیکٹوں کی حوصلہ افزائی کرے گی۔ انہوں نے ہسپانوی صنعت اور اختراع کاروں کو دعوت دی اور انہیں بھارت آنے اور ملک کی ترقی کے سفر میں شراکت دار بننے کی ترغیب دی۔

اس موقع پر گجرات کے گورنر جناب آچاریہ دیوورت، گجرات کے وزیر اعلیٰ جناب بھوپیندر پٹیل، مرکزی وزیر دفاع جناب راجناتھ سنگھ اور مرکزی وزیر برائے امور خارجہ جناب ایس جے شنکر و دیگر موجود تھے۔

 

پس منظر

C-295 پروگرام کے تحت کُل 56 ہوائی جہاز فراہم کیے جانے ہیں، جن میں سے 16 براہ راست اسپین سے ایئربس کے ذریعے فراہم کیے جا رہے ہیں اور بقیہ 40 کو بھارت میں بنایا جانا ہے۔

بھارت میں ٹاٹا ایڈوانسڈ سسٹم لمیٹیڈ ان 40 ہوائی جہازوں کو  مینوفیکچرکرے گا۔ یہ  مرکز بھارت  میں فوجی طیاروں کے لیے نجی شعبے کی پہلی فائنل اسمبلی لائن (ایف اے ایل) بن گئی ہے۔ اس میں تیاری سے لے کر اسمبلی، ٹیسٹ اور  کوالیفکیشن ، ہوائی جہاز کے مکمل لائف سائیکل کی ترسیل اور دیکھ بھال تک ایک مکمل ماحولیاتی نظام کی مکمل ترتیب شامل ہوگی۔

ٹاٹا کے علاوہ، بھارت الیکٹرانکس لمیٹڈ اور بھارت ڈائنامکس لمیٹڈ جیسے اہم دفاعی عوامی شعبے کی اکائیوں کے ساتھ ساتھ  پرائیویٹ   بہت چھوٹے، چھوٹے اور درمیانی درجے کے انٹرپرائزز اس مینوفیکچرنگ میں حصہ لیں گے۔ اس سے پہلے اکتوبر 2022 میں وزیر اعظم نے وڈودرا فائنل اسمبلی لائن (ایف اے ایل) کا سنگ بنیاد رکھا تھا۔

 

Click here to read full text speech

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
Total Urea stocks currently at 61.14 LMT, up from 55.22 LMT in March 2025

Media Coverage

Total Urea stocks currently at 61.14 LMT, up from 55.22 LMT in March 2025
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
PM chairs CCS Meeting to review the situation and mitigating measures in the context of ongoing West Asia Conflict
March 22, 2026
Short, Medium and Long term measures to ensure continued availability of essential needs discussed in detail
Alternate sources of fertilizers for farmers were also discussed to ensure continued availability in the future
Several measures discussed to diversify sources of imports required by chemicals, pharmaceuticals, petrochemicals and other industrial sectors
New export destinations to promote Indian goods to be developed in near future
PM instructs that all arms of government should work together to ensure least inconvenience to citizens
PM directs that a group of Ministers and Secretaries be created to work dedicatedly in a whole of government approach
PM instructs for sectoral groups to work in consultation with all stakeholders
PM asks for proper coordination with state governments to ensure no black-marketing and hoarding of important commodities

Prime Minister Shri Narendra Modi chaired a meeting of the Cabinet Committee on Security to review the situation and ongoing and proposed mitigating measures in the context of ongoing West Asia Conflict.

The Cabinet Secretary gave a detailed presentation on the global situation and mitigating measures taken so far and being planned by all concerned Ministries/Departments of Government of India. The expected impact and measures taken to address it across sectors like agriculture, fertilisers, food security, petroleum, power, MSMEs, exporters, shipping, trade, finance, supply chains and all affected sectors were discussed. The overall macro-economic scenario in the country and further measures to be taken were also discussed.

The ongoing conflict in West Asia will have significant short, medium and long term impact on the global economy and its effect on India were assessed and counter-measures, both immediate and long-term, were discussed.

Detailed assessment of availability for critical needs of the common man, including food, energy and fuel security was made. Short term, Medium term and Long term measures to ensure continued availability of essential needs were discussed in detail.

The impact on farmers and their requirement for fertiliser for the Kharif season was assessed. The measures taken in the last few years to maintain adequate stocks of fertilizers will ensure timely availability and food security. Alternate sources of fertilizers were also discussed to ensure continued availability in the future.

It was also determined that adequate supply of coal stocks at all power plants will ensure no shortage of electricity in India.

Several measures were discussed to diversify sources of imports required by chemicals, pharmaceuticals, petrochemicals and other industrial sectors. Similarly new export destinations to promote Indian goods will be developed in the near future.

Several measures proposed by different ministries will be prepared and implemented in the coming days after consultation with all stakeholders.

PM directed that a group of ministers and secretaries be created to work dedicatedly in a whole of government approach. PM also instructed for sectoral groups to work in consultation with all stakeholders.

PM said that the conflict is an evolving situation and the entire world is affected in some form. In such a situation, all efforts must be made to safeguard the citizens from the impact of this conflict. PM instructed that all arms of government should work together to ensure least inconvenience to the citizens. PM also asked for proper coordination with state governments to ensure no black-marketing and hoarding of important commodities.