ہندوستان ٹائمز کے 100 سال مکمل ہونے پر ایک یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیا
وہ طاقت جس نے بھارت کی تقدیر کو تشکیل دیا، بھارت کو سمت دکھائی، بھارت کے عام آدمی کی دانشمندی اور قابلیت ہے: وزیر اعظم
عوام کی ترقی، عوام کے ذریعہ ترقی، عوام کیلئےترقی نئے اور ترقی یافتہ بھارت کے لیے ہمارا منتر ہے: وزیر اعظم
آج، بھارت بے مثال امنگوں سے بھرا ہوا ہے اور ہم نے ان امنگوں کو اپنی پالیسیوں کا سنگ بنیاد بنایا ہے: وزیر اعظم
ہماری حکومت نے شہریوں کو سرمایہ کاری کے ذریعے روزگار، ترقی کے ذریعے وقار کا منفرد امتزاج فراہم کیا ہے: وزیراعظم
ہماری حکومت کا نقطہ نظر عوام کے لیے بڑا خرچ اوران کےلیے بڑی بچت ہے: وزیراعظم
یہ صدی بھارت کی صدی ہوگی: وزیر اعظم

وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج نئی دہلی میں ہندوستان ٹائمز لیڈرشپ سمٹ 2024 سے خطاب کیا۔ اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے کہا کہ ہندوستان ٹائمز کا افتتاح 100 سال قبل مہاتما گاندھی نے کیا تھا اور ہندوستان ٹائمز (ایچ ٹی) کو اس کے 100 سال کے تاریخی سفر کے لیے اور ان تمام لوگوں کو مبارکباد دی جو اس کے افتتاح کے بعد سے اس سے وابستہ تھے۔ انہوں نے ان کی مستقبل کی کوششوں کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔  ہندوستان ٹائمز کی نمائش کا دورہ کرنے کے بعد، جناب مودی نے اس کو تجربہ سے بھرپور قرار دیتے ہوئےتمام مندوبین سے اس کا دورہ کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے ان دنوں کے پرانے اخبارات دیکھے جب ہندوستان کو آزادی ملی اور آئین نافذ ہوا۔ جناب مودی نے تسلیم کیا کہ مارٹن لوتھر کنگ، نیتا جی سبھاش چندر بوس، ڈاکٹر سیاما پرساد مکھرجی، اٹل بہاری واجپائی، ڈاکٹر ایم ایس سوامی ناتھن جیسے کئی بڑے لوگوں نے ایچ ٹی کے لیے مضامین لکھے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ طویل سفر جس نے جدوجہد آزادی کا مشاہدہ کیا اور ساتھ ہی ساتھ آزادی کے بعد کے دور میں امیدوں کے ساتھ آگے بڑھنا غیر معمولی اور حیرت انگیز تھا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ اکتوبر 1947 میں ہر دوسرے شہری کی طرح کشمیر کے بھارت کے ساتھ انضمام کی خبر پڑھ کر مجھے بھی وہی جوش محسوس ہوا۔ . جناب مودی نے کہا لیکن یہ خوشی کی بات ہے کہ ان دنوں جموں و کشمیر کے انتخابات میں ریکارڈ ووٹنگ کی خبریں اخبارات میں شائع ہو رہی ہیں۔ جناب مودی نے کہاکہ انہیں ایک اور اخبار کا پرنٹ بہت خاص لگا جہاں اس کے ایک طرف آسام کو سورش زدہ علاقہ قرار دینے کی خبر تھی تو دوسری طرف اٹل جی کی بھارتیہ جنتا پارٹی کی بنیاد رکھنے کی خبر تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ اتنا خوشگوار اتفاق تھا کہ آج بی جے پی آسام میں مستقل امن قائم کرنے میں بڑا رول ادا کر رہی ہے۔

 

گزشتہ روز پہلی بوڈولینڈ مہوتسو میں اپنی شرکت کو یاد کرتے ہوئے، جناب مودی نے تبصرہ کیا کہ وہ اس تقریب کی خراب میڈیا کوریج کو دیکھ کر حیران ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ ایک بڑی کامیابی تھی جب نوجوانوں اور لوگوں نے 5 دہائیوں کے بعد تشدد چھوڑ دیا تھا اور دہلی میں ایک ثقافتی تقریب منا رہے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ 2020 کے بوڈو امن معاہدے کے بعد لوگوں کی زندگیاں بدل گئی ہیں۔ ایچ ٹی سمٹ نمائش کے ایک حصے کے طور پر، جناب مودی نے ممبئی میں 26/11 کے دہشت گردانہ حملوں کی تصویریں دیکھیں اور کہا کہ ایک وقت تھا جب پڑوسی ممالک کی طرف سے  دہشت گردی کی سرپرستی کی وجہ سے لوگ اپنے گھر اور شہروں میں غیر محفوظ محسوس کرتے تھے۔ تاہم، انہوں نے مزید کہا، اب وقت بدل گیا ہے اور دہشت گرد اپنے ہی گھروں میں محفوظ محسوس نہیں کرتے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ  ہندوستان ٹائمز نے اپنے 100 سالوں میں 25 سال کی غلامی اور 75 سال آزادی کے ساتھ ساتھ بھارت کی تقدیر بھی دیکھی ہے، بھارت کے عام آدمی کی قابلیت اور دانشمندی کے ساتھ بھارت کو سمت دکھائی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ماہرین بھارت کے عام شہری کی اس صلاحیت کو تسلیم کرنے میں اکثر غلطیاں کرتے ہیں۔ تاریخ کا ذکر کرتے  ہوئے جناب مودی نے کہا کہ جب انگریز بھارت سے نکل رہے تھے تو کہا گیا تھا کہ ملک بکھر جائے گا اور جب ایمرجنسی لگائی گئی تو کچھ لوگوں نے یہ سمجھ لیا تھا کہ اب ایمرجنسی ہمیشہ کے لیے رہے گی جبکہ کچھ لوگوں اور اداروں نےان کی پناہ لے لی تھی جنہوں نے ایمرجنسی نافذ کی۔ جناب مودی نے کہا کہ اس وقت بھی بھارت کے شہری کھڑے ہوئے اور ایمرجنسی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا۔ عام آدمی کی طاقت کی مزید وضاحت کرتے ہوئے، جناب مودی نے کووڈ وبائی امراض کے خلاف مضبوط جنگ لڑنے میں عام شہریوں کے جذبے کی ستائش کی۔

 

ماضی کا ذکر کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے کہا کہ 1990 کی دہائی میں ایک وقت تھا جب ہندوستان نے 10 سال کے عرصے میں 5 انتخابات دیکھے تھے جو ملک میں عدم استحکام کا ثبوت تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جہاں اخبارات میں لکھنے والے ماہرین نے پیش گوئی کی تھی کہ حالات اسی طرح چلتے رہیں گے،بھارت  کے شہریوں نے انہیں ایک بار پھر غلط ثابت کر دیا ہے۔ جناب مودی نے کہا کہ آج پوری دنیا میں بے یقینی اور عدم استحکام کا چرچا ہے اور دنیا کے کئی ممالک میں نئی ​​حکومتیں اقتدار میں آتی نظر آ رہی ہیں، وہیں بھارت میں عوام نے اسی حکومت کو تیسری بار منتخب کیا ہے۔

ماضی میں پالیسیوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے جناب مودی نے کہا کہ ’اچھی اقتصادیات بری سیاست ہے‘ کے جملے کو ماہرین فروغ دے رہے ہیں اور حکومتیں اس کی حمایت کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ سابقہ ​​حکومتوں کے لیے خراب حکمرانی اور نا اہلی کو چھپانے کا ذریعہ بن گیا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس کی وجہ سے ملک میں غیر متوازن ترقی ہوئی ہے جس سے حکومت پر عوام کے اعتماد کو ٹھیس پہنچی ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ان کی حکومت نے عوام کی ترقی، عوام کی ترقی اور عوام کی ترقی کے منتر کو یقینی بنا کر عوام کا اعتماد حاصل کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کا مقصد ایک نئے اور ترقی یافتہ بھارت کی تعمیر ہے اور بھارت کے لوگوں نے انہیں اپنے اعتماد کا سرمایہ سونپا ہے۔ جناب مودی نے کہاکہ سوشل میڈیا کے دور میں غلط معلومات، غلط اطلاعات کے باوجود، بھارت کے شہریوں کو ہم پر، ہماری حکومت پر بھروسہ ہے۔

 

جناب مودی نے روشنی ڈالی کہ جب لوگوں کا اعتماد بڑھتا ہے تو ان کی خود  اعتمادی  بڑھتی ہے، جس کا نتیجہ ملک کی ترقی پر منتج ہوتا ہے۔ خطرہ مول لینے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے جناب مودی نے کہا  کہ ہمارے آباؤ اجداد نے خطرہ مول لیا جس کی وجہ سے ہمیں بیرونی ممالک میں بھارتی  اشیاء اور خدمات کو فروغ دینے اور بھارت  کو تجارت اور ثقافت کا ایک  مرکز بنانے میں مدد ملی۔ تاہم، انہوں نے مزید کہا کہ خطرہ مول لینے کا یہ کلچر پچھلی حکومتوں نے آزادی کے بعد کے دور میں کھو دیا تھا۔ جناب مودی نے کہا کہ بھارت پچھلے 10 سالوں میں ترقی اور تبدیلیاں دیکھ رہا ہے جب سے ان کی حکومت آئی ہے اور بھارت کے شہریوں میں خطرہ مول لینے کے کلچر کو نئی توانائی دی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے نوجوان مختلف شعبوں میں مواقع تلاش کر رہے ہیں اور خطرات مول لے رہے ہیں جو کہ بھارت میں 1.25 لاکھ سے زیادہ اسٹارٹ اپس کی رجسٹریشن  سے واضح ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ایک وقت تھا جب کھیلوں کو بطور پیشہ اختیار کرنا بھی ایک خطرہ تھا۔ تاہم انہوں نے مزید کہا کہ آج ہمارے چھوٹے شہروں کے نوجوان بھی یہ خطرہ مول لے کر دنیا میں ملک کا نام روشن کر رہے ہیں۔ سیلف ہیلپ گروپوں سے وابستہ خواتین کی مثال دیتے ہوئے جناب مودی نے کہا کہ آج تقریباً 1 کروڑ لکھ پتی دیدیاں ہر گاؤں میں کاروباری بن کر اپنا کاروبار چلا رہی ہیں۔

 

انہوں نے کہا’’ہندوستانی معاشرہ، آج بے مثال امنگوں سے بھرا ہوا ہے اور ہم نے ان امنگوں کو اپنی پالیسیوں کی بنیاد بنایا ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے ترقی کے ایک ماڈل کو فروغ دیا ہے جس میں سرمایہ کاری کے ذریعے روزگار اور ترقی کے ذریعے وقار کے امتزاج پر مشتمل ہے۔ وزیر اعظم نے مزید کہا کہ جہاں سرمایہ کاری ہوتی ہے وہاں سرمایہ کاری کے ذریعے روزگار پیدا ہوتا ہے جس سے ترقی ہوتی ہے اور یہ ترقی بھارت کے شہریوں کے وقار میں اضافہ کرتی ہے۔ انہوں نے ملک میں بیت الخلاء کی تعمیر کی مثال دی، جو سہولت کے ساتھ ساتھ سلامتی اور وقار کا بھی ذریعہ ہے۔ جناب مودی نے کہا کہ اس نے ترقی کو بھی تیز کیا، جس سے زمینی سطح پر ترقی کے ذریعے سرمایہ کاری، وقار کے ذریعے روزگار کے منتر کی کامیابی واضح ہوتی ہے۔ انہوں نے ایل پی جی گیس سلنڈر کی مثال بھی دی جسے ماضی میں سٹیٹس سمبل سمجھا جاتا تھا۔ جناب مودی نے کہاکہ ان کی حکومت نے ہر گھر کو گیس کنکشن فراہم کرنے کو ترجیح دی ہے جبکہ پچھلی حکومتیں لوگوں کو دیئے جانے والے سلنڈروں کی تعداد پر بحث کر رہی تھیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں 30 کروڑ سے زیادہ گیس کنکشن تھے جب کہ 2014 میں یہ تعداد 14 کروڑ تھی۔ جناب مودی نے مزید روشنی ڈالی کہ گیس سلنڈروں کی مانگ کو پورا کرنے کو یقینی بنانے کے لیے بنیادی ڈھانچے کی حمایت موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے مختلف جگہوں پر باٹلنگ پلانٹ لگانے سے لے کر ڈسٹری بیوشن سنٹر بنانے سے لے کر سلنڈر کی ترسیل تک روزگار بھی پیدا ہوا ہے۔ جناب مودی نے دیگر مثالیں بھی بتائیں جیسے کہ موبائل فون، روپے کارڈ، یو پی آئی وغیرہ جو کہ روزگار کے لیے سرمایہ کاری، ترقی کے وقار سے ترقی کے ماڈل پر مبنی تھیں۔

وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ آج بھارت جس ترقی کی راہ پر گامزن ہے اسے سمجھنے کے لیے حکومت کے ایک اور نقطہ نظر کو سمجھنا ضروری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ نقطہ نظر ’لوگوں کے لئے بڑا خرچ اور لوگوں کے لئے بڑی بچت ‘ کاہے۔ اسی کی وضاحت کرتے ہوئے، جناب مودی نے کہا، بھارت کا یونین بجٹ2014 میں 16 لاکھ کروڑروپے کے مقابلے  آج 48 لاکھ کروڑ روپے کا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ 2013-14 میں 2.25 لاکھ کروڑروپے کے مقابلے میں آج کا خرچ  11 لاکھ کروڑ روپے ہے انہوں نے مزید کہا کہ سرمایہ کاری نئے ہسپتالوں، سکولوں، سڑکوں، ریلوے، تحقیقی سہولیات اور اس طرح کے بہت سے پبلک انفراسٹرکچر پر خرچ کی جا رہی ہے۔ وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ عوام پر بڑھتے ہوئے اخراجات کے ساتھ ساتھ حکومت عوام کے پیسے کی بھی بچت کر رہی ہے۔ حقائق اور اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے جناب مودی نے کہا کہ ڈی بی ٹی کے ذریعہ لیکیج کو روکا گیا ہے جس سے ملک کو کروڑوں روپے کی بچت ہوئی ہے۔ 3.5 لاکھ کروڑ جبکہ آیوشمان بھارت یوجنا کے تحت مفت علاج نے غریبوں کے لیے 1.10 لاکھ کروڑ روپے بچائے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جن اوشدھی کیندروں پر 80 فیصد رعایت پر دستیاب ادویات نے شہریوں کے 30 ہزار کروڑ روپے کی بچت کی ہے جبکہ اسٹینٹ اور گھٹنے کے امپلانٹس کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے سے لوگوں کے ہزاروں کروڑ روپے کی بچت ہوئی ہے۔ فہرست بتاتے ہوئے  انہوں نے مزید کہا کہ اجولا اسکیم سے لوگوں کے بجلی کے بلوں میں 20 ہزار کروڑ روپے کی بچت ہوئی ہے جبکہ سوچھ بھارت مشن کی وجہ سے بیماریاں کم ہوئی ہیں اور اس سے دیہات میں ہر خاندان کے لیے تقریباً 50 ہزار روپے کی بچت ہوئی ہے۔ یونیسیف کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے جناب مودی نے کہا کہ جس خاندان کے پاس اپنا ٹوائلٹ ہے وہ بھی تقریباً 70 ہزار روپے کی بچت کر رہا ہے اور ڈبلیو ایچ او کے 12 کروڑ لوگوں پر کیے گئے مطالعے سے جن کے گھروں میں پہلی بار نل کا پانی ہے ہر سال 80 ہزار روپے سے زیادہ کی بچت ہوئی ہے۔

 

یہ بتاتے ہوئے کہ 10 سال پہلے، کسی نے بھی بھارت میں اتنی بڑی تبدیلیوں کی توقع نہیں کی تھی، جناب مودی نے کہا کہ’’بھارت کی کامیابی نے ہمیں بڑے خواب دیکھنے اور اسے پورا کرنے کی ترغیب دی۔" انہوں نے مزید کہا کہ اس سے امید  اور سوچ پیدا ہوئی کہ  یہ صدی بھارت کی صدی ہوگی۔ اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ اس سمت میں آگے بڑھنے کے لیے بہت سی کوششیں کرنے کی ضرورت ہے، جناب مودی نے کہا کہ حکومت ہر شعبے میں بہترین کام کرنے کے لیے تیزی سے کام کر رہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہمارے عمل کو ایسا بنانے کے لیے کوششوں کی ضرورت ہے کہ بھارت کے معیار کو 'عالمی معیار' کہا جائے خواہ وہ مصنوعات کی تیاری ، تعمیرات، تعلیم یا تفریح ہو۔ جناب مودی نے کہا کہ ہندوستان ٹائمز کا بھی لوگوں کے ذہنوں میں اس نقطہ نظر کو دہرانے میں بہت بڑا کردار ہے اور ان کا 100 سال کا تجربہ ترقی یافتہ بھارت کی طرف سفر میں بہت مفید ہوگا۔

تقریر کے اختتام پر جناب مودی نے یقین ظاہر کیا کہ بھارت ترقی کی اس رفتار کو برقرار رکھے گا اور جلد ہی دنیا کی تیسری سب سے بڑی معیشت بن جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہندوستان ٹائمز بھی تیزی سے بدلتے ہوئے بھارت کی نئی صدی کا مشاہدہ کرے گا۔

 

Click here to read full text speech

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
India’s growth: by the numbers, for the numbers, of the numbers

Media Coverage

India’s growth: by the numbers, for the numbers, of the numbers
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
PM to Visit Gujarat and Maharashtra on 8th September
September 07, 2026
PM to Lay Foundation Stones, Inaugurate and Dedicate to the Nation Development Projects Worth More Than ₹35,000 Crore in Vadodara
PM to Dedicate Three Key Sections of Western Dedicated Freight Corridor to the Nation, Marking Completion of the Project
PM to Lay Foundation Stone for three Railway Projects and three Highway Projects
PM to Inaugurate Global Fintech Fest 2026 in Mumbai
Theme of GFF 2026: “Potential to Impact: Agentic AI, Tokenisation, Quantum - Trusted, Connected, Global Systems for Inclusive Finance”

Prime Minister Shri Narendra Modi will visit Gujarat and Maharashtra on 8th September 2026. At around 12 noon, Prime Minister will lay the foundation stones, inaugurate and dedicate to the nation various development projects worth more than ₹35,000 crore in Vadodara. He will also address the gathering on the occasion.

At around 5:45 PM, Prime Minister will inaugurate Global Fintech Fest (GFF) 2026 in Mumbai and address the gathering as well.

PM in Vadodara

Prime Minister will dedicate to the nation three important sections of the Western Dedicated Freight Corridor (WDFC), covering 326 route kilometres and developed at a cost of more than ₹20,700 crore. These include the New Sanand (N)- New Makarpura, New Umbergaon-New Saphale and New Saphale- New JNPT sections.

The direct connectivity of Jawaharlal Nehru Port Authority (JNPA) will facilitate faster movement of EXIM cargo, strengthen connectivity between industrial centres and ports, reduce logistics costs and help decongest Mumbai’s railway network.

With the commissioning of these sections, the Dedicated Freight Corridor (DFC) network will stand fully operational across its entire length. The dedicated freight infrastructure will further strengthen the country’s logistics ecosystem by improving multimodal connectivity, reducing transit time and facilitating seamless movement of cargo across different regions.

Prime Minister will also flag off freight train services from New Sanand (North), New Makarpura, New Umbergaon and New JNPT, Mumbai. In addition, he will flag off a new passenger train service between Tanda Road and Vadodara (Pratapnagar).

Prime Minister will dedicate to the nation the Jobat–Tanda Road new rail line, developed as part of the Chhota Udepur–Dhar project. The new rail line will connect remote and tribal areas of Alirajpur with the national rail network.

Prime Minister will lay the foundation stone for three railway projects spanning 329 kilometres and costing more than ₹9,700 crore. These include the Vadodara-Ratlam third and fourth lines, Miyagam Karjan-Choranda–Malsar gauge conversion and the Vishwamitri-Dabhoi doubling project. The projects will enhance passenger and freight capacity, ease congestion and strengthen connectivity between Gujarat and Madhya Pradesh.

Prime Minister will lay the foundation stone for three National Highway projects costing around ₹1,780 crore. These include six-laning of the Kamrej-Chalthan section of NH-48; construction of additional structures, including major bridges over the Tapi and Narmada, on the Vadodara-Surat section of NH-48; and grade-separated structures at Abhava, Mindhola and Khajod junctions on NH-53.

Prime Minister will also lay the foundation stone for and inaugurate various Government of Gujarat projects worth around ₹2,600 crore. Major projects for which the foundation stone will be laid include Vadodara Urban Development Authority Ring Road Phase II and a 110 MW floating solar project at Kadana Dam, construction of new office of Vadodara Municipal Corporation, among others. Projects to be inaugurated include housing projects under the Pradhan Mantri Awas Yojana (PMAY) and a water-supply project for 11 villages in eastern Vadodara, among others.

PM in Mumbai

Prime Minister will inaugurate Global Fintech Fest (GFF) 2026, one of the world’s largest and most influential annual fintech conferences.

The seventh edition of the Global Fintech Fest is being held from 8th to 11th September 2026 in Mumbai. Since 2020, GFF has emerged as an international thought leadership platform bringing together policymakers, regulators, central banks, financial institutions, fintechs, technology companies, investors, academia and other global stakeholders to deliberate on shaping the future of finance.

The theme of GFF 2026 is “Potential to Impact: Agentic AI, Tokenisation, Quantum - Trusted, Connected, Global Systems for Inclusive Finance.”

GFF 2026 has been designed as a convergence point for policy, regulation, technology, capital and industry on a common platform. It seeks to build on India’s leadership in digital payments and financial inclusion and move from potential to impact. The discussions will focus on how Agentic AI, programmable finance, quantum technologies and other critical and emerging technologies can create trusted, inclusive and measurable outcomes for citizens, enterprises and economies globally.