"ہماری حکومت، جس رفتار اور پیمانے پر بنیادی ڈھانچہ تعمیر کر رہی ہے، وہ بے مثال ہے"
"آج ہم ‘ وکست بھارت کی طرف سفر’ پر بات کر رہے ہیں، یہ صرف جذبات کی تبدیلی نہیں ہے،بلکہ یہ اعتماد میں تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے"
"بھارت کی ترقی اور استحکام ،اس غیر یقینی دنیا سے مستثنیٰ ہے"
"ہم اپنے تمام شہریوں کے لیے 'زندگی میں آسانی' اور 'بہترمعیار زندگی' کو یقینی بنا رہے ہیں"
"وبائی بیماری کے باوجود بھارت کا مالی تدبر دنیا کے لئے رول ماڈل ہے"
ہماری حکومت کا ارادہ اور عزم بالکل واضح ہے۔ ہماری سمت میں کوئی موڑ نہیں ہے"
"ہماری حکومت میں سیاسی عزم کی کمی نہیں ہے۔ ہمارے لیے ملک اور اس کے شہریوں کی خواہشات سب سے اہم ہیں
’’میں صنعت اور بھارت کے نجی شعبے کو، ترقی یافتہ بھارت کی تعمیر کے لیےطاقتور ذریعہ سمجھتا ہوں‘‘

وزیر اعظم جناب  نریندر مودی نے، آج نئی دہلی کے وگیان بھون میں کنفیڈریشن آف انڈین انڈسٹری (سی آئی آئی) کے زیر اہتمام ’’وکست بھارت کی طرف سفر: یونین بجٹ 25-2024 کے بعدکانفرنس‘‘ کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کیا۔ کانفرنس کا مقصد ترقی کے لیے حکومت کے وسیع تر وژن اور صنعت کے کردار کے لیے خاکہ پیش کرنا ہے۔ صنعت، حکومت، سفارتی برادری اور تھنک ٹینکس کے 1000 سے زائد شرکاء نے ذاتی طور پر کانفرنس میں شرکت کی، جبکہ ملک اور بیرون ملک کے بہت سے لوگ سی آئی آئی کے مختلف مراکز سے منسلک ہوئے۔

اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ وہ ملک کبھی پیچھے نہیں ہٹ سکتا، جس کے شہریوں نے زندگی کے ہر شعبے میں استحکام حاصل کیا ہو اور جوش و خروش سے لبریز ہوں۔ انہوں نے کنفیڈریشن آف انڈین انڈسٹری (سی آئی آئی) کا شکریہ ادا کیا، کہ انہوں نے انہیں اس موقع پر خطاب کرنے کی دعوت دی۔

 

 عالمی وبا کے دوران ترقی کے بارے میں خدشات  پر  کاروباری برادری کے ساتھ  تبادلہ خیال کا حوالہ دیتے ہوئے، وزیر اعظم نے اس امید کی  یاد دہانی کرائی، جس کا انہوں نے اس وقت اظہار کیا تھا اور اس تیزی  رفتار ترقی کا ذکر کیا تھا،جو آج ملک دیکھ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ "آج وکست بھارت کی طرف سفرکے موضوع پر بحث کر رہے ہیں ،یہ صرف جذبات کی تبدیلی نہیں ہے، بلکہ یہ اعتماد میں تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے"۔ انہوں نے دنیا کی 5ویں سب سے بڑی معیشت کے طور پر بھارت کی پوزیشن کا پھر سے ذکر کرتے ہوئے  بتایا کہ ہم تیزی سے تیسرے مقام کی جانب بڑھ رہے ہیں۔

وزیر اعظم نے اس وقت کو یاد کیا، جب موجودہ حکومت 2014 میں برسراقتدار آئی تھی اور معیشت کو دوبارہ پٹری پر لانے کے لیے وقت کی ضرورت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے 2014 سے پہلے کے دور کی طرف اشارہ کیا تھا، انہوں نے اس جانب اشارہ کیا  کہ جب ملک کمزور پانچ معیشتوں کی فہرست میں شامل تھا اور لاکھوں کروڑوں روپے کے کرپشن اور گھوٹالوں سے متاثر تھا۔ ایک وائٹ پیپر میں حکومت کی طرف سے بیان کردہ معاشی حالات کی تفصیلات کو اجاگر کئے بغیر، وزیر اعظم نے صنعت کے رہنماؤں اور تنظیموں کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ دستاویز کا جائزہ لیں اور اس کا ماضی کے معاشی حالات سے موازنہ کریں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ حکومت نے ہندوستان کی معیشت کو نئی بلندیوں تک پہنچایا ہے اور اسے سنگین مشکلات سے بچایا ہے۔

حال ہی میں پیش کیے گئے بجٹ کے کچھ حقائق پیش کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے 48 لاکھ کروڑ روپے کے موجودہ بجٹ کا 14-2013 کے 16 لاکھ کروڑ روپے کے بجٹ سے موازنہ کیا، جو تین گنا زیادہ ہے۔ کیپٹل اخراجات، وسائل کی سرمایہ کاری کا سب سے بڑا پیمانہ 2004 میں 90  ہزار کروڑ روپے تھا، جسے 2014 تک کے 10 سالوں میں 2 لاکھ کروڑ تک لے جایا گیا، جو 2 گنا زیادہ ہے۔ اس کے مقابلے میں، یہ اہم اشارے آج 5 گنا سے زیادہ اضافے کے ساتھ 11 لاکھ کروڑ روپے سے آگے پہنچ گیا ہے۔

 

اس بات کا اعادہ کرتے ہوئے کہ ان کی حکومت بھارتی معیشت کے ہر شعبے کی دیکھ بھال کے لیے پرعزم ہے، وزیر اعظم نے کہا کہ "اگر آپ مختلف شعبوں کو دیکھیں گے، تو آپ کو اندازہ ہوگا کہ بھارت، ان میں سے ہر ایک پر کس طرح توجہ مرکوز کر رہا ہے۔" پچھلی حکومت سے موازنہ کرتے ہوئے جناب مودی نے کہا کہ پچھلے 10 سالوں میں ریلوے اور ہائی ویز کے بجٹ میں 8 گنا اضافہ ہوا ہے۔ دریں اثنا، زرعی اور دفاعی بجٹ میں بالترتیب 4 اور 2 گنا سے زیادہ کا اضافہ دیکھا گیا ہے۔

وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ ٹیکس میں ریکارڈ کٹوتیوں کے بعد ہر شعبے کے بجٹ میں ریکارڈ اضافہ کیا گیا ہے۔ وزیر اعظم نے بتایا کہ "2014 میں، 1 کروڑ روپے کمانے والے  ایم ایس ایم ایز کو پریزمپٹیوٹیکس ادا کرنا پڑتا تھا، اب 3 کروڑ روپے تک کی آمدنی والے ایم ایس ایم ایز بھی اس کا فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ 2014 میں 50 کروڑ روپے تک کمانے والے ایم ایس ایم ایز کو 30 فیصد ٹیکس ادا کرنا پڑتا تھا، آج یہ شرح 22 فیصد ہے۔ 2014 میں، کمپنیاں 30 فیصد کارپوریٹ ٹیکس ادا کرتی تھیں، آج یہ شرح 400 کروڑ روپے تک کی آمدنی والی کمپنیوں کے لیے 25 فیصد ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ یہ مرکزی بجٹ صرف بجٹ مختص کرنے اور ٹیکس میں کمی کے بارے میں نہیں ہے، بلکہ اچھی حکمرانی کے بارے میں بھی ہے۔ جناب مودی نے یاد دلایا کہ 2014 سے پہلے ایک صحت مند معیشت کی تشکیل کے لیے بجٹ میں بڑے بڑے اعلانات کیے جاتے تھے۔ تاہم، جب ان کے نفاذ کی بات آتی تھی  تو کبھی ان پر عمل نہیں کیا گیا۔  وہ  بنیادی ڈھانچے  کے لئے مختص شدہ پوری رقم بھی خرچ کرنے سے قاصر تھے، لیکن اعلانات کے وقت سرخیاں بنائی جاتی  تھیں۔ شیئر مارکیٹ میں بھی  کم اچھال  آتا تھا، اور ان کی حکومتوں نے کبھی بھی منصوبوں کو وقت پر مکمل کرنے کو ترجیح نہیں دی۔ جناب مودی نے مزید کہا کہ "ہم نے پچھلے 10 سالوں میں اس صورتحال کو تبدیل کیا ہے۔ آپ سب نے اس رفتار اور پیمانے کا مشاہدہ کیا ہے جس پر ہم بنیادی ڈھانچے کے پروجیکٹ کو مکمل کر رہے ہیں‘‘۔

 

موجودہ عالمی منظر نامے کی غیر یقینی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے بھارت کی ترقی اور استحکام کے استثناء پر روشنی ڈالی۔ بھارت کے زرمبادلہ کے ذخائر میں زبردست نمو دیکھنے میں آئی ہے اور بھارت کم ترقی اور اعلیٰ افراط زر کے عالمی منظر نامے میں اعلیٰ ترقی اور کم افراط زر دکھا رہا ہے۔ انہوں نے وبائی امراض کے دوران بھارت کے  مالی تدبر کو بھی دنیا کے لئے ایک رول ماڈل قرار دیا۔ عالمی اشیاء اور خدمات کی برآمد میں بھارت کا تعاون مسلسل بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ وبائی امراض، قدرتی آفات اور جنگوں جیسی اہم عالمی  رکاوٹوں کے باوجود عالمی ترقی میں بھارت کی شراکت 16 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔

" ملک وکست بھارت کے عزم کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے" وزیراعظم مودی نے کہا کہ پچھلے 10 سالوں میں 25 کروڑ لوگ غربت سے باہر آئے ہیں، اور زندگی میں آسانی اور معیار زندگی کو بڑھانے کے لیے حکومت کی کوششوں پر زور دیا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت صنعت 4.0 کے معیارات کو مدنظر رکھتے ہوئے ،ہنر مندی کے فروغ اور روزگار پر بہت زیادہ توجہ مرکوز کر رہی ہے۔ وزیر اعظم نے مدرا یوجنا، اسٹارٹ اپ انڈیا اور اسٹینڈ اپ انڈیا جیسی مہم کی مثالیں پیش کرتے ہوئے بتایا کہ 8 کروڑ سے زیادہ لوگوں نے نئے کاروبار شروع کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت 1.40 لاکھ اسٹارٹ اپس کا گھر ہے، جس میں لاکھوں نوجوانوں کو روزگار ملتا ہے۔  اس سال کے بجٹ میں 2 لاکھ کروڑ روپے کے پی ایم پیکیج کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ اس سے 4 کروڑ سے زیادہ نوجوانوں کو فائدہ ہوگا۔ انہوں نے وضاحت کی، “ پی ایم  پیکیج پوری طرح جامع ہے۔ یہ شروع سے آخر تک حل سے مربوط ہے۔ وزیر اعظم مودی نے پی ایم پیکیج کے پیچھے نظریہ بیان کیا اور کہا کہ اس کا مقصد بھارت کی افرادی قوت اور مصنوعات کو معیار اور قیمت کے لحاظ سے عالمی سطح پر مسابقتی بنانا ہے۔ جناب مودی نے نوجوانوں کے لیے ہنر اور نمائش کو بڑھانے کے لیے متعارف کرائی گئی انٹرن شپ اسکیم پر بھی توجہ دی، جس سے ان کے روزگار کے مواقع بڑھے، ساتھ ہی ساتھ بڑے پیمانے پر روزگار پیدا کرنے والوں کی حوصلہ افزائی بھی کی۔ لہذا، وزیر اعظم نے کہا، حکومت نے ای پی ایف او ​تعاون میں مراعات کا اعلان کیا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ حکومت کا ارادہ اور عزم بالکل واضح ہے اور اس کی سمت میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔ ’نیشن فرسٹ‘ کا عزم 5 ٹریلین ڈالر کی معیشت کے ہدف، سیچوریشن اپروچ، زیرو ایفیکٹ- زیرو ڈیفیکٹ پر زور اور آتم نربھر بھارت یا وکست بھارت کے عہد سے ظاہر ہوتا ہے۔ انہوں نے اسکیموں کی توسیع اور نگرانی پر توجہ اور زور پر روشنی ڈالی۔

 

وزیر اعظم نے بجٹ میں مینوفیکچرنگ کے پہلو کا  ذکر کیا۔ انہوں نے میک ان انڈیا اور 14 شعبوں کے لیے کثیر مقصدی لاجسٹکس پارکس، پی ایل آئی کے ساتھ مختلف شعبوں میں ایف ڈی آئی کے قوانین کو آسان بنانے کا ذکر کیا۔ اس بجٹ میں ملک کے 100 اضلاع کے لیے پلگ اینڈ پلے سرمایہ کاری کے لیے تیار، سرمایہ کاری پارکس کا اعلان کیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ "یہ 100 شہر وکست بھارت کے نئے مرکز بن جائیں گے"۔  وزیراعظم نے کہا کہ ان کی حکومت موجودہ صنعتی راہداریوں کو بھی جدید بنائے گی۔

بہت چھوٹی ،چھوٹی اور اوسط  درجے کی صنعتوں (ایم ایس ایم ای) کی وزارت کو بااختیار بنانے کے لیے اپنی حکومت کے وژن کا اشتراک کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے کہا کہ انھوں نے انھیں درپیش چیلنجوں سے نمٹنے کے ساتھ ساتھ انھیں مطلوبہ سہولیات فراہم کی ہیں۔  جناب  مودی نے کہا کہ "ہم 2014 سے مسلسل کام کر رہے ہیں، تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ ایم ایس ایم ایز کو مطلوبہ ورکنگ کیپیٹل اور کریڈٹ ملے، ان کی مارکیٹ تک رسائی اور امکانات بہتر ہوں اور انہیں باضابطہ  بنایا جائے "۔  انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے مزید ٹیکس میں کمی اور ان کے لیے تعمیل کابوجھ کم کرنے کو یقینی بنایا ہے۔

وزیر اعظم نے بجٹ میں کچھ نکات پر زور دیا، جیسے نیوکلیئر پاور جنریشن کے لیے مختص میں اضافہ کیا گیا، زراعت کے لیے ڈیجیٹل پبلک انفرا اسٹرکچر، کسانوں کی زمینوں کو نمبر فراہم کرنے کے لیے بھو - آدھار کارڈ، خلائی معیشت کے لیے 1000 کروڑ روپے کا وینچر کیپیٹل فنڈ، اہم معدنیاتی مشن اور کان کنی کے لیے آف شور بلاکس کی آئندہ نیلامی۔  انہوں نے کہا کہ "یہ نئے اعلانات ترقی کی نئی راہیں کھولیں گے"۔

وزیراعظم نے اس بات کو اجاگر کرتے ہوئے کہ نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں، خاص طور پر ابھرتے ہوئے شعبوں میں، کیونکہ بھارت دنیا کی تیسری سب سے بڑی معیشت بننے کے آغاز پر ہے، انہوں نے  مستقبل  میں سیمی کنڈکٹر ویلیو چین میں ایک اہم کردار ادا کرنے کی ضرورت کا اظہار کیا۔  لہذا، وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت سیمی کنڈکٹر انڈسٹری کو فروغ دینے پر زور دے رہی ہے۔ انہوں نے خاص طور پر موبائل مینوفیکچرنگ انقلاب کے موجودہ دور میں الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ کی حوصلہ افزائی کرنے پر بھی زور دیا۔ انہوں نے اس بات کو اجاگر کیا کہ کس طرح بھارت ماضی میں ایک درآمد کنندہ ہونے کے بعد سے اب ایک اعلیٰ موبائل بنانے والے اور برآمد کنندہ میں تبدیل ہو گیا ہے۔  وزیراعظم  مودی نے گرین ہائیڈروجن اور ای گاڑیوں کی صنعتوں کو فروغ دینے کے لیے بھارت میں گرین جاب سیکٹر کے لیے ایک روڈ میپ کا بھی ذکر کیا۔ اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ اس سال کے بجٹ میں صاف توانائی کے اقدامات پر بہت زیادہ بات کی جارہی ہے، وزیر اعظم نے کہا کہ آج کے دور میں، توانائی کی سکیورٹی اور توانائی کی منتقلی دونوں معیشت اور ماحولیات کے لیے یکساں طور پر اہم ہیں۔ چھوٹے نیوکلیئر ری ایکٹرز پر ہو رہے کام کا ذکر کرتے ہوئے جناب مودی نے کہا کہ اس سے نہ صرف توانائی کی رسائی کی صورت میں صنعت کو فائدہ پہنچے گا، بلکہ اس شعبے سے متعلق پوری سپلائی چین کو بھی کاروبار کے نئے مواقع حاصل ہوں  گے۔ وزیر اعظم نے اس اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ بھارت کو ابھرتے ہوئے تمام شعبوں میں ایک عالمی فریق بنانے میں کلیدی کردار ادا کریں گے، کہا  کہ"ہماری صنعتوں اور صنعت کاروں نے ہمیشہ ملک کی ترقی کے لئے اپنی وابستگی کا مظاہرہ کیا ہے"۔

 

وزیر اعظم نے زور دیا کہ "ہماری حکومت میں سیاسی عزم کی کمی نہیں ہے۔ ہمارے لیے ملک اور اس کے شہریوں کی خواہشات سب سے اہم ہیں۔ بھارت کے پرائیویٹ سیکٹر کو وکست بھارت بنانے کا ایک مضبوط ذریعہ قرار دیتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ دولت بنانے والے بھارت کی ترقی کی کہانی کا اصل محرک ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی پالیسیاں، عزم، حوصلے، فیصلے اور سرمایہ کاری عالمی ترقی کی بنیاد بن رہی ہے۔ عالمی سرمایہ کاروں کے درمیان بھارت میں بڑھتی ہوئی دلچسپی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے نیتی آیوگ کی حالیہ میٹنگ میں ریاستی وزرائے اعلیٰ کو سرمایہ کاروں کے لیے دوستانہ چارٹر بنانے، سرمایہ کاری کی پالیسیوں میں وضاحت لانے اور سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کے لیے اپنی  اپیل کے بارے میں بتایا۔

اس موقع پر خزانہ اور کارپوریٹ امور کی مرکزی وزیر محترمہ نرملا سیتا رمن، تجارت اور صنعت کے مرکزی وزیر جناب پیوش گوئل اور کنفیڈریشن آف انڈین انڈسٹری (سی آئی آئی ) کے صدر جناب سنجیو پوری بھی موجود تھے۔

 

تقریر کا مکمل متن پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

 

 

 

 

 

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
Withdraw PF via UPI from July, 8.25% interest gets nod

Media Coverage

Withdraw PF via UPI from July, 8.25% interest gets nod
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
PM to visit West Bengal on 20-21 June
June 19, 2026
PM to participate in Paschimbanga Divas celebrations in Hooghly on 20 June
PM to launch, dedicate and lay Foundation Stones of various Development Projects across Railways, Agriculture, Rural Development, Fisheries and Animal Husbandry Sectors
PM to kickstart rollout of several key Central Agricultural Schemes in West Bengal
These schemes include Pradhan Mantri Fasal Bima Yojana, Agri Stack, National Mission on Natural Farming and Pradhan Mantri Dhan-Dhaanya Krishi Yojana
PM to release 23rd PM-Kisan Instalment worth ₹18,880 Crore, benefiting over 9.44 Crore Farmers across the Country
PM to commission three indigenously designed and built naval ships – INS Dunagiri, INS Sanshodhak and INS Agray at Syama Prasad Mookerjee Port, Kolkata
Ships have been built with extensive participation by Indian industry, including more than 200 MSMEs
PM to lead 12th International Day of Yoga Celebrations in Kolkata on 21 June
Theme of IDY 2026: “Yoga for Healthy Ageing”

Prime Minister Shri Narendra Modi will visit West Bengal on 20-21 June 2026. On 20 June, at around 3:45 PM, the Prime Minister will participate in Paschimbanga Divas (West Bengal Day) celebrations at Tarakeswar in Hooghly district. He will launch, dedicate to the nation and lay the foundation stone of multiple development projects in West Bengal. He will also address the gathering on the occasion.

On 21 June, at around 6:30 AM, the Prime Minister will participate in the 12th International Yoga Day celebration in Kolkata. He will also address the gathering on the occasion.

Later, at around 9:15 AM, Prime Minister will commission three indigenously designed and built naval ships - INS Dunagiri, INS Sanshodhak and INS Agray at Syama Prasad Mookerjee Port, Kolkata. He will also address the gathering on the occasion.

PM in Hooghly

Prime Minister will participate in Paschimbanga Divas (West Bengal Day) celebrations. The State-level celebrations are being held at Tarakeswar, Hooghly, a place of historic significance associated with Dr. Syama Prasad Mookerjee.

The theme for this year’s Paschimbanga Divas: “West Bengal: Heritage, Harmony and Development,” reflects the State’s cultural richness, social cohesion and developmental aspirations.

During the programme, Prime Minister will launch, dedicate to the nation and lay the foundation stone of multiple development projects. Spanning the sectors of railways, agriculture, rural development, fisheries and animal husbandry, these initiatives will strengthen infrastructure, improve livelihoods, enhance farmer welfare and accelerate socio-economic development across the State.

Prime Minister will release the 23rd instalment of the Pradhan Mantri Kisan Samman Nidhi (PM-KISAN). Under this instalment, more than ₹18,880 crore will be transferred directly into the bank accounts of over 9.44 crore farmers across the country.

In West Bengal alone, more than ₹900 crore will be credited to over 45 lakh beneficiaries, taking the cumulative disbursement under the scheme in the State to over ₹15,000 crore. The total disbursement nationwide to over ₹4.46 lakh crore since the launch of the scheme in 2019.

Prime Minister to kickstart rollout of several key Central Agricultural Schemes in West Bengal. These schemes include Pradhan Mantri Fasal Bima Yojana, Agri Stack as part of the Digital Agriculture Mission, National Mission on Natural Farming and Pradhan Mantri Dhan-Dhaanya Krishi Yojana

Prime Minister will launch the Pradhan Mantri Fasal Bima Yojana (PMFBY)in West Bengal, extending the benefits of the world’s largest crop insurance scheme to farmers in the State. During 2026–27, the initiative aims to provide insurance coverage to nearly 50 LAKH farmers across about 14 lakh hectares of agricultural land in the state of West Bengal, protecting crops with an estimated insured value of around ₹28,140 crore while supporting farmers through substantial premium subsidy.

As part of the Digital Agriculture Mission, Prime Minister will launch AgriStack in West Bengal, enabling a unified digital platform for verified agriculture-related services such as fertiliser distribution, Kisan Credit Cards, Direct Benefit Transfers and procurement under the Minimum Support Price system. The initiative will strengthen digital governance in agriculture and facilitate efficient delivery of farmer-centric services.

Prime Minister will further launch the National Mission on Natural Farming in West Bengal to promote sustainable, chemical-free agriculture rooted in traditional Indian practices. Under the approved Annual Action Plan for 2026–27, the State will establish 346 natural farming clusters covering 17,300 hectares, while also creating Bio-Input Resource Centres and mobilising Krishi Sakhis to strengthen adoption of eco-friendly farming practices.

In a major step towards integrated agricultural development, Prime Minister will also initiate the implementation of the Pradhan Mantri Dhan-Dhaanya Krishi Yojana (PMDDKY) in West Bengal. The scheme will cover the districts of Purulia, Darjeeling, Alipurduar and Jhargram with a focus on improving agricultural productivity, promoting crop diversification and sustainable farming, strengthening post-harvest infrastructure and irrigation facilities, enhancing access to institutional credit, and ensuring convergence of multiple Central and State schemes for holistic rural development.

Prime Minister will inaugurate the Modernized and capacity expanded Fishing Harbour at Fraserganj in South 24 Parganas and the newly constructed Modern Fish Market at Sainthia, Birbhum. These projects will strengthen fisheries infrastructure, improve post-harvest management and provide better marketing facilities for fish producers and traders.

Prime Minister will also inaugurate the Regional Semen Production Laboratory and Semen Bank for Goats at Haringhata in Nadia district. Established under the National Livestock Mission of the Department of Animal Husbandry and Dairying, it is the first such facility in Eastern India and will contribute significantly to scientific livestock breeding, genetic improvement and enhanced productivity.

Prime Minister will dedicate to the nation and lay the foundation stone of important railway projects worth around ₹590 crore. Prime Minister will dedicate to the nation the Sankrail–Santragachi Link Line Project in Howrah district. The project will play an important role in decongesting one of the busiest rail corridors in Eastern India, improving operational efficiency and enabling smoother movement of both passenger and freight trains.

Prime Minister will lay the foundation stone of a 300-bed New Divisional Railway Hospital at Howrah. Equipped with modern healthcare infrastructure, advanced diagnostic facilities, specialist medical services and emergency care facilities, the hospital will significantly strengthen healthcare services for railway beneficiaries and the people of the region.

Prime Minister will also lay the foundation stone of a Road Over Bridge between Haur and Radhamohanpur in Purba Medinipur district. The project will enhance safety for both rail and road users and facilitate smooth and uninterrupted movement of traffic.

Prime Minister will inaugurate 49 road infrastructure projects developed under the Pradhan Mantri Gram Sadak Yojana (PMGSY-III). Covering a total length of more than 315 kilometres across various districts of West Bengal, these projects will improve rural connectivity, facilitate access to markets, educational institutions and healthcare facilities, and contribute to balanced regional development.

These projects collectively represent a major step towards strengthening infrastructure, empowering farmers, enhancing livelihoods and creating new economic opportunities across West Bengal. The initiatives will contribute significantly to the vision of a Viksit West Bengal and Viksit Bharat by promoting inclusive growth, modern infrastructure and sustainable development.

PM in Kolkata

Prime Minister Shri Narendra Modi will lead the national observance of the 12th International Day of Yoga from Red Road in Kolkata. Prime Minister will address the gathering and participate in the Common Yoga Protocol session along with thousands of Yoga practitioners.

The theme of International Day of Yoga 2026, “Yoga for Healthy Ageing”, highlights the role of Yoga in promoting physical health, mental well-being, emotional resilience and active ageing, thereby contributing to an improved quality of life. The theme is particularly relevant in an era of increasing life expectancy and growing emphasis on healthy, active and dignified ageing. Since its inception in 2015, when the United Nations General Assembly (UNGA) adopted India’s proposal to observe 21st June as IDY, Prime Minister has led the celebrations from various locations including New Delhi, Chandigarh, Lucknow, Mysuru, New York (UN Headquarters), and Srinagar and Vishakhapatnam.

Yoga Day celebrations are being organised across nearly 2,500 locations worldwide, with participation from more than 210 Indian Missions and Posts, reaffirming Yoga’s status as a global movement for health, harmony and collective well-being.

Prime Minister will also commission three indigenously designed and built naval ships - INS Dunagiri, an advanced stealth frigate, INS Sanshodhak, a survey vessel (large) and INS Agray, an anti-submarine warfare shallow water craft.

These inductions will significantly bolster the nation’s operational capabilities, enhance maritime domain awareness, and strengthen the security of our coastal waters against geopolitical threats.

All three ships were designed by the Indian Navy’s Warship Design Bureau and constructed in Kolkata by Garden Reach Shipbuilders & Engineers (GRSE), with extensive participation by Indian industry, including more than 200 MSMEs. With an indigenous content of over 75 percent, these ships are also a testament to India’s commitment to Aatmanirbharta.