Baba Saheb Ambedkar had a universal vision: PM Modi
Baba Saheb Ambedkar gave a strong foundation to independent India so the nation could move forward while strengthening its democratic heritage: PM
We have to give opportunities to the youth according to their potential. Our efforts towards this is the only tribute to Baba Saheb Ambedkar: PM

نئی دہلی،  14 /اپریل 2021 ۔ وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ ایسوسی ایشن آف انڈین یونیورسٹیز کی 95ویں سالانہ میٹنگ اور وائس چانسلروں کے قومی سمینار سے خطاب کیا۔ انھوں نے ڈاکٹر بی آر امبیڈکر سے  متعلق چار کتابوں کا اجرا بھی کیا، جن کی تصنیف جناب کشور مکوانا نے کی ہے۔ گجرات کے گورنر، وزیر اعلیٰ اور وزیر تعلیم اور مرکزی وزیر تعلیم اس موقع پر موجود لوگوں میں شامل تھے۔ تقریب کی میزبانی ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر اوپن یونیورسٹی، احمدآباد نے کی۔

وزیر اعظم نے ممنون قوم کی جانب سے بھارت رتن بابا صاحب ڈاکٹر امبیڈکر کو خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ ان کی جینتی اس موقع پر پڑرہی ہے جب ملک آزادی کا امرت مہوتسو منارہا ہے، اس سے ہمیں ایک نئی توانائی ملتی ہے۔

جناب مودی نے زور دے کر کہا کہ بھارت دنیا میں جمہوریت کی ماں رہی ہے اور جمہوریت ہماری تہذیب اور طرز زندگی کا لازمی جزو رہی ہے۔ بابا صاحب نے آگے بڑھنے کے ساتھ ساتھ بھارت کی جمہوریت وراثت کو مضبوط کرنے کے لئے ٹھوس بنیاد رکھی۔

بابا صاحب کے فلسفے کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ ڈاکٹر امبیڈکر علم، عزت نفس اور نرمی کو اپنے تین مقدس دیوتا تصور کرتے تھے۔ عزت نفس علم کے ساتھ آتی ہے اور یہ انسان کو اپنے حقوق سے آگاہ کرتی ہے۔ مساوی حقوق سے سماجی ہم آہنگی پیدا ہوتی ہے اور ملک ترقی کرتا ہے۔ یہ ہمارے تعلیمی نظام اور یونیورسٹیوں کی ذمے داری ہے کہ وہ ملک کو بابا صاحب کے ذریعے دکھائی گئی راہ پر آگے لے جائیں۔

قومی تعلیمی پالیسی کے بارے میں وزیر اعظم نے کہا کہ ہر طالب علم کے اندر مخصوص صلاحیتیں ہوتی ہیں۔ یہ صلاحیتیں طلباء اور اساتذہ کے سامنے تین سوال کھڑے کرتی ہیں۔ پہلا – وہ کیا کرسکتے ہیں؟ دوسرا – اگر مناسب طریقے سے تعلیم دی جائے تو ان کے اندر کیا امکانات ہیں؟ اور تیسرا – وہ کرنا کیا چاہتے ہیں؟ پہلے سوال کا جواب طلباء کی اندرونی قوت ہے۔ تاہم اگر اس میں ادارہ جاتی قوت کو جوڑ دیا جائے تو ان کی ترقی کا دائرہ وسیع ہوجائے گا اور وہ اس لائق ہوجائیں گے جو وہ کرنا چاہتے ہیں۔ ڈاکٹر سروپلی رادھا کرشنن کا حوالہ پیش کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ نئی قومی تعلیمی پالیسی کا مقصد ڈاکٹر رادھا کرشنن کے تعلیم کے تصور کی تکمیل ہے جو طلباء کو آزادی دیتی ہے اور انھیں اس چیز کا اختیار دیتی ہے کہ وہ قومی تعمیر و ترقی کے کام میں حصہ لے سکیں۔ تعلیم کا بندوبست پوری دنیا کو ایک اکائی تصور کرتے ہوئے کیا جانا چاہئے، تاہم اس میں خصوصی توجہ بھارت کے تعلیمی کردار پر ہونی چاہئے۔

ابھرتے ہوئے آتم نربھر بھارت میں ہنرمندیوں کی بڑھتی ہوئی مانگ کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ بھارت کو مستقبل کے مصنوعی ذہانت، انٹرنیٹ آف تھنگس، بگ ڈیٹا، 3ڈی پرنٹنگ، ورچول ریئلٹی اینڈ روبوٹکس، موبائل ٹیکنالوجی، جیو- انفارمیٹکس، اسمارٹ ہیلتھ کیئر اینڈ ڈیفنس سیکٹر کے مرکز کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ ہنرمندیوں سے متعلق ضرورتوں کی تکمیل کے لئے ملک کے تین بڑے میٹرو پولیٹن شہروں میں انڈین انسٹی ٹیوٹ آف اسکلس کا قیام عمل میں لایا جارہا ہے۔ ممبئی میں انڈین انسٹی ٹیوٹ آف اسکلس کے پہلے بیچ کا آغاز ہوچکا ہے۔ وزیر اعظم نے بتایا کہ 2018 میں نیسکام  کے ساتھ مل کر فیوچر اسکلس انشیٹو کا آغاز کیا گیا تھا۔ انھوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ سبھی یونیورسٹیاں کثیر- موضوعاتی ہوں، کیونکہ ہماری خواہش طلباء کو لچیلے پن سہولت دستیاب کرانے کی ہے۔ انھوں نے وائس چانسلروں سے اس ہدف کے لئے کام کرنے کی اپیل کی۔

جناب مودی نے سبھی کے لئے مساوی حقوق اور مساوی مواقع کے تئیں بابا صاحب کی عہد بستگی پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ وزیر اعظم نے زور دے کر کہا کہ جن دھن کھاتوں جیسی اسکیمیں ہر شخص کے لئے مالی شمولیت کی راہ ہموار کرتی ہیں اور ڈی بی ٹی کے توسط سے پیسہ براہ راست ان کے کھاتوں میں پہنچتا ہے۔ وزیر اعظم نے بابا صاحب کے پیغام کو ہر شخص تک پہنچانے کے تئیں ملک کی عہد بستگی کا اعادہ کیا۔ انھوں نے کہا کہ پنچ تیرتھ جیسے بابا صاحب کی زندگی سے منسلک مقامات کا فروغ اس سمت میں ایک قدم ہے۔ انھوں نے کہا کہ جل جیون مشن، مفت رہائش گاہ، مفت بجلی، وبا کے دوران مددجیسے اقدامات اور خواتین کو بااختیار بنانے کے لئے پہل بابا صاحب کے خوابوں کو آگے بڑھا رہے ہیں۔

وزیر اعظم نے بابا صاحب بھیم راؤ امبیڈکر کی زندگی پر جناب کشور مکوانا کے ذریعہ تحریر کردہ درج ذیل چار کتابوں کا اجرا کیا:

  1. ڈاکٹر امبیڈکر جیون درشن،
  2. ڈاکٹر امبیڈکر ویکتی درجن،
  3. ڈاکٹر امبیڈکر راشٹر درشن، اور
  4. ڈاکٹر امبیڈکر آیام درشن

وزیر اعظم نے کہا کہ یہ کتابیں جدید کلاسک سے کم نہیں ہیں اور بابا صاحب کے آفاقی تصور کو پھیلانے کا کام کرتی ہیں۔ انھوں نے امید ظاہر کی کہ کالجوں اور یونیورسٹیوں کے طلباء بڑے پیمانے پر ایسی کتابوں کا مطالعہ کریں گے۔

 

Click here to read full text speech

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
India one of the fastest-growing major economies, says US Representative

Media Coverage

India one of the fastest-growing major economies, says US Representative
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Prime Minister Condoles the Demise of Shri Shivraj Patil
December 12, 2025

Prime Minister Shri Narendra Modi today condoled the passing of Shri Shivraj Patil, describing him as an experienced leader who devoted his life to public service.

In his message, the Prime Minister said he was saddened by the demise of Shri Patil, who served the nation in various capacities—including as MLA, MP, Union Minister, Speaker of the Maharashtra Legislative Assembly, and Speaker of the Lok Sabha—during his long and distinguished public life. Shri Patil was known for his commitment to societal welfare and his steadfast dedication to democratic values.

The Prime Minister recalled his many interactions with Shri Patil over the years, noting that their most recent meeting took place a few months ago when Shri Patil visited his residence.

In separate posts on X, Shri Modi wrote:

“Saddened by the passing of Shri Shivraj Patil Ji. He was an experienced leader, having served as MLA, MP, Union Minister, Speaker of the Maharashtra Assembly as well as the Lok Sabha during his long years in public life. He was passionate about contributing to the welfare of society. I have had many interactions with him over the years, the most recent one being when he came to my residence a few months ago. My thoughts are with his family in this sad hour. Om Shanti.”

“श्री शिवराज पाटील जी यांच्या निधनाने दुःख झाले आहे. ते एक अनुभवी नेते होते. सार्वजनिक जीवनातील आपल्या प्रदीर्घ कारकिर्दीत त्यांनी आमदार, खासदार, केंद्रीय मंत्री, महाराष्ट्र विधानसभेचे तसेच लोकसभेचे अध्यक्ष म्हणून काम केले. समाजाच्या कल्याणासाठी योगदान देण्याच्या ध्येयाने ते झपाटले होते. ​गेल्या काही वर्षांत त्यांच्यासोबत माझे अनेक वेळा संवाद झाले, त्यापैकी सर्वात अलीकडील भेट काही महिन्यांपूर्वीच जेव्हा ते माझ्या निवासस्थानी आले होते तेव्हा झाली होती. या दुःखद प्रसंगी माझ्या संवेदना त्यांच्या कुटुंबीयांसोबत आहेत. ओम शांती.”