Share
 
Comments

عزت مآب

وزیر اعظم مہندرا جپکش،

معزز نمائندگان

آیو بوون !

ونکّم!

نمسکار!

سب سے پہلے تو میں اپنے دوست مہندر راجپکش کو وزیراعظم بننے کے لیے دل سے مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ عہدے کی ذمہ داری سنبھالنے کے فوراً بعد انہوں نے میری دعوت قبول کی اور اپنے پہلے غیر ملکی دورے کے لیے ہندوستان کو منتخب کیا۔ اس کے لیے میں ان کا ممنون ہوں۔ کچھ دن پہلے سری لنکا نے اپنی آزادی کی 72ویں سالگرہ منائی ہے۔ اس کے لیے میں وزیراعظم راجپکش اور سری لنکا کے تمام لوگوں کو بہت بہت مبارکباد دیتا ہوں۔

دوستوں،

ہندوستان اور سری لنکا زمانۂ قدیم سے پڑوسی بھی ہیں اور گہرے دوست بھی ہیں۔ ہمارے تعلقات کی تاریخ کا تانا بانا ثقافت مذہب ، روحانیت ، آرٹ اور زبان جیسے بے شمار رنگ برنگے دھاگوں سے بنا گیا ہے۔ چاہے تحفظ ہو یا معیشت یا سماجی ترقی ۔ ہر شعبے میں ہمارا ماضی اور ہمارا مستقبل ایک دوسرے سے جڑا ہوا ہے۔ سری لنکا میں استحکام ، تحفظ اور خوشحالی ہندوستان کے مفاد میں تو ہے ہی ، پورے بحر ہند خطے کے مفاد میں بھی ہے اور اس لیے انڈو پیسی فک خطے میں بھی امن اور خوشحالی کے لیے ہمارا قریبی تعاون بہت اہم ہیں۔ ہماری حکومت کی ‘نیبر ہُڈ فرسٹ’ پالیسی اور ‘ساگر’ ڈاکٹرن کے مطابق  ہم سری لنکا کے ساتھ تعلقات کو خصوصی ترجیح دیتے ہیں۔ علاقائی تحفظ اور ترقی کے لیے ہندوستان کے ساتھ مل کر کام کرنے کے حکومت سری لنکا کے عزم کا ہم خیرمقدم کرتے ہیں۔

دوستوں،

آج وزیراعظم راج پکش اور میں نے اپنے دو طرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں اور باہمی مفاد کے بین الاقوامی موضوعات پر تفصیل سے بات چیت کی۔ دہشت گردی ہمارے خطے میں ایک بہت بڑا خطرہ ہے۔ ہم دونوں ملکوں نے اس مسئلے کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ہے۔ پچھلے سال اپریل میں سری لنکا میں ‘‘ایسٹر ڈے’’ پر دردناک اور بربر دہشت گردانہ حملے ہوئے تھے۔ یہ حملے صرف سری لنکا پر ہی نہیں پوری انسانیت پر بھی چوٹ تھے اور اس لیے آج کی ہماری بات چیت میں ہم نے دہشت گردی کے خلاف اپنے تعاون میں مزید اضافے پر بات چیت کی۔ مجھے اس بات پر خوشی ہے کہ ہندوستان کے اہم تربیتی اداروں میں دہشت گردی مخالف کورسز میں سری لنکا کے پولیس افسروں نے حصہ لینا شروع کیا ہے۔ دونوں ملکوں کی ایجنسیوں کے درمیان رابطے اور تعاون کو اور زیادہ مضبوط کرنے کے لیے بھی ہم عہدبند ہیں۔

دوستوں،

آج کی بات چیت میں ہم نے سری  لنکا میں مشترکہ معاشی پروجیکٹ پر اور اقتصادی، تجارتی اور سرمایہ کاری کے تعلقات کو فروغ دینے پر بھی تبادلۂ خیال کیا۔ ہم نے اپنے عوام سے عوام کے رابطے کو بڑھانے ، سیاحت کی حوصلہ افزائی کرنے اور کنکٹیویٹی کو بہتر بنانے پر بھی بات چیت کی۔

چنئی اور جافنا کے درمیان حال ہی میں سیدھی پرواز کی شروعات اسی سمت میں ہماری کوششوں کو حصہ ہے۔ اس سیدھی فلائٹ سے سری لنکا کے شمالی علاقے کی تمل آبادی کے لیے کنکٹیویٹی کے متبادل بڑھیں گے اور یہ اس علاقے کی اقتصادی اور سماجی ترقی کے لیے بھی مفید ہوگی۔ اس فلائٹ کو اچھا رسپانس ملنا ہم دونوں کے لیے باعث مسرت ہے۔ اس رابطے کو اور بڑھانے ، بہتر بنانے اور مستقل بنانے کے لیے کوششیں کرنے پر بھی ہم نے بات چیت کی۔

 

دوستوں،

سری لنکا کی ترقی کی کوششوں میں ہندوستان ایک قابل اعتبار شراکت دار رہا ہے۔ پچھلے سال جس نئی لائنس آف کریڈٹ کا اعلان کیا گیا تھا اس سے ترقی میں ہمارے تعاون کو اور زیادہ تقویت ملے گی۔  ہمیں خوشی ہے کہ سری لنکا کے شمالی اور مشرقی علاقے میں داخلی طور پر بے گھر ہونے والے لوگوں کے لیے 48 ہزار سے زیادہ گھروں کی تعمیر کا انڈین ہاؤسنگ پروجیکٹ مکمل کیا جا چکا ہے۔ اس کے علاوہ اپ کنٹری علاقے میں ہندوستان نژاد تمل لوگوں کے لیے کئی ہزار گھروں کے تعمیر کا کام بھی جاری ہے۔ وزیراعظم راج پکش اور میں نے ماہی گیروں کے انسانی معاملے پر بھی بات چیت کی۔ اس بات  کا اثر دونوں ملکوں کے لوگوں کے زندگی گزارنے پر سیدھی طور پر پاتا ہے اور اس لیے ہم اس مسئلے پر مثبت اور انسانی نظریہ جاری رکھنے پر متفق ہیں۔

دوستوں،

سری لنکا میں ری کنسی لیئشن سے متعلق مسئلوں پر ہم نے کھلے من سے بات چیت کی۔ مجھے یقین ہے کہ سری لنکا حکومت یونائیٹڈ سری لنکا کے اندر برابری ، انصاف، امن اور احترام کے لیے تمل لوگوں کے توقعات کو پورا کرے گی۔ اس کے لیے یہ ضروری ہوگا کہ سری لنکا کے آئین میں 13ویں ترمیم کو نافذ کرنے کے ساتھ ساتھ ری کنسی لیئشن کے عمل کو  آگے بڑھایا جائے۔

دوستوں،

میں ایک بار پھر وزیراعظم راج پکش کا ہندوستان میں دلی استقبال کرتا ہوں۔ مجھے یقین ہے کہ ان کے اس دورے سے ہندوستان اور سری لنکا کی دوستی اور کثیر جہتی تعاون مزید مستحکم ہوں گے۔ ساتھ ہی دونوں ملکوں کے درمیان علاقائی امن اور استحکام کے لیے تعاون میں اضافہ ہوگا۔

بوہوما استھوتی ،

نندری،

شکریہ!

 

 

 

 

 

20 تصاویر سیوا اور سمرپن کے 20 برسوں کو بیاں کر رہی ہیں۔
Mann KI Baat Quiz
Explore More
It is now time to leave the 'Chalta Hai' attitude & think of 'Badal Sakta Hai': PM Modi

Popular Speeches

It is now time to leave the 'Chalta Hai' attitude & think of 'Badal Sakta Hai': PM Modi
Terror violence in J&K down by 41% post-Article 370

Media Coverage

Terror violence in J&K down by 41% post-Article 370
...

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
PM chairs high level meeting to review preparedness to deal with Cyclone Jawad
December 02, 2021
Share
 
Comments
PM directs officials to take all necessary measures to ensure safe evacuation of people
Ensure maintenance of all essential services and their quick restoration in case of disruption: PM
All concerned Ministries and Agencies working in synergy to proactively counter the impact of the cyclone
NDRF has pre-positioned 29 teams equipped with boats, tree-cutters, telecom equipments etc; 33 teams on standby
Indian Coast Guard and Navy have deployed ships and helicopters for relief, search and rescue operations
Air Force and Engineer task force units of Army on standby for deployment
Disaster Relief teams and Medical Teams on standby along the eastern coast

Prime Minister Shri Narendra Modi chaired a high level meeting today to review the preparedness of States and Central Ministries & concerned agencies to deal with the situation arising out of the likely formation of Cyclone Jawad.

Prime Minister directed officials to take every possible measure to ensure that people are safely evacuated and to ensure maintenance of all essential services such as Power, Telecommunications, health, drinking water etc. and that they are restored immediately in the event of any disruption. He further directed them to ensure adequate storage of essential medicines & supplies and to plan for unhindered movement. He also directed for 24*7 functioning of control rooms.

India Meteorological Department (IMD) informed that low pressure region in the Bay of Bengal is expected to intensify into Cyclone Jawad and is expected to reach coast of North Andhra Pradesh – Odisha around morning of Saturday 4th December 2021, with the wind speed ranging upto 100 kmph. It is likely to cause heavy rainfall in the coastal districts of Andhra Pradesh, Odisha & W.Bengal. IMD has been issuing regular bulletins with the latest forecast to all the concerned States.

Cabinet Secretary has reviewed the situation and preparedness with Chief Secretaries of all the Coastal States and Central Ministries/ Agencies concerned.

Ministry of Home Affairs is reviewing the situation 24*7 and is in touch with the State Governments/ UTs and the Central Agencies concerned. MHA has already released the first instalment of SDRF in advance to all States. NDRF has pre-positioned 29 teams which are equipped with boats, tree-cutters, telecom equipments etc. in the States and has kept 33 teams on standby.

Indian Coast Guard and the Navy have deployed ships and helicopters for relief, search and rescue operations. Air Force and Engineer task force units of Army, with boats and rescue equipment, are on standby for deployment. Surveillance aircraft and helicopters are carrying out serial surveillance along the coast. Disaster Relief teams and Medical Teams are standby at locations along the eastern coast.

Ministry of Power has activated emergency response systems and is keeping in readiness transformers, DG sets and equipments etc. for immediate restoration of electricity. Ministry of Communications is keeping all the telecom towers and exchanges under constant watch and is fully geared to restore telecom network. Ministry of Health & Family Welfare has issued an advisory to the States/ UTs, likely to be affected, for health sector preparedness and response to COVID in affected areas.

Ministry of Port, Shipping and Waterways has taken measures to secure all shipping vessels and has deployed emergency vessels. The states have also been asked to alert the industrial establishments such as Chemical & Petrochemical units near the coast.

NDRF is assisting the State agencies in their preparedness for evacuating people from the vulnerable locations and is also continuously holding community awareness campaigns on how to deal with the cyclonic situation.

The meeting was attended by Principal Secretary to PM, Cabinet Secretary, Home Secretary, DG NDRF and DG IMD.