عزت مآب صدر جان مہاما

دونوں ممالک کے وفود

میڈیا کے تمام دوستو

نمسکار!

تین دہائیوں کے طویل وقفے کے بعد کسی بھارتی وزیر اعظم کا گھانا کا دورہ ہو رہا ہے۔

میرے لیے یہ ایک انتہائی فخر کی بات ہے کہ مجھے یہ موقع حاصل ہوا۔

‘ایّے می اَنےجے سے میووہا’

گھانا میں جس محبت، گرمجوشی اور عزت کے ساتھ ہمارا استقبال کیا گیاہےاس کے لیے میں تہہ دل سے مشکور ہوں۔

صدر محترم خود ایئرپورٹ پر ہمارا استقبال کرنے آئے، یہ میرے لیے ایک بڑے اعزاز کی بات ہے۔

دسمبر 2024 کے عام انتخابات میں صدر مہاما دوسری بار صدر منتخب ہوئے۔ان کی شاندار کامیابی پر میں ایک بار پھر انہیں مبارکباد پیش کرتا ہوں۔

یہ گھانا کے عوام کا اُن کی قیادت اور وژن پر گہرے اعتماد کا مظہر ہے۔

 

دوستو،

بھارت اور گھانا کی دوستی کی بنیاد ہمارے مشترکہ اقدار، جدوجہد اور شمولیت پر مبنی روشن مستقبل کے خوابوں پر ہے۔

 

ہمارے ممالک کی آزادی کی جدوجہد نے کئی دیگر اقوام کو متاثر کیا۔

آج بھی، مغربی افریقہ میں گھانا ایک متحرک جمہوریت کے طور پر دیگر اقوام کے لیے ’’امید کی کرن‘‘ ہے۔

آج صدرِ محترم اور میں نے ہمارے دوطرفہ تعلقات کو ایک ’’جامع شراکت داری‘‘ کا درجہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

گھانا کی قومی ترقی کے سفر میں بھارت صرف ایک مددگار نہیں، بلکہ ایک ہم سفر ہے۔

یہ عظیم الشان جوبلی ہاؤس، فارین سروس انسٹیٹیوٹ، کوماندا شوگر فیکٹری، انڈیا-گھانا کوفی عنان آئی سی ٹی سینٹر،اور تیما-پکادان ریلوے لائن- یہ صرف اینٹ پتھر نہیں، بلکہ ہماری شراکت داری کی زندہ مثالیں ہیں۔

ہماری دوطرفہ تجارت3  بلین ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے۔

بھارتی کمپنیوں نے تقریباً 900 پروجیکٹ میں تقریباً 2 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے۔

آج ہم نے باہمی تجارت کو آئندہ 5 برسوں میں دوگنا کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔

فن ٹیک  کے شعبے میں، بھارت یو پی آئی  ڈیجیٹل پیمنٹ (ادائیگی )کا تجربہ گھانا کے ساتھ شیئر کرنے کے لیے تیار ہے۔

دوستو،

ترقیاتی شراکت داری، ہمارے تعلقات کا ایک بنیادی ستون ہے۔

صدر مہاما کی معاشی بحالی کی کوششوں میں بھارت کی مکمل حمایت اور تعاون کا ہم یقین دلاتے ہیں۔

آج ہم نے گھانا کے لیے آئی ٹیک اور آئی سی سی آر اسکالرشپ کو دوگنا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

نوجوانوں کے لیے پیشہ وارانہ تعلیم کے لئے ایک اسکل ڈیولپمنٹ سینٹر کے قیام پر کام کیا جائے گا۔

زراعت کے شعبے میں، ہمیں صدر مہاما کے "فیڈ گھانا" پروگرام میں تعاون کرنے میں خوشی ہوگی۔

’جن اوشدھی‘ مراکز کے ذریعے، بھارت گھانا کے عوام کو سستی اور قابلِ اعتماد صحت سہولتیں فراہم کرنے کی پیشکش کرتا ہے۔

ویکسین کی پیداوار میں تعاون کے لیے بھی ہم نے تبادلہ خیال کیا۔

دفاع اور سلامتی کے شعبے میں ہم "یکجہتی کے ذریعے سلامتی" کے اصول پر آگے بڑھیں گے۔

مسلح افواج کی تربیت، سمندری سلامتی، دفاعی سامان کی فراہمی اور سائبر سیکیورٹی جیسے شعبوں میں تعاون کو بڑھایا جائے گا۔

قیمتی معدنیات کی تلاش اور کان کنی میں بھارتی کمپنیاں اپنا تعاون دیں گی۔

بھارت اور گھانا پہلے ہی بین الاقوامی سولر الائنس اور کولیشن فار ڈیزاسٹر ریسیلینٹ انفراسٹرکچر جیسے پلیٹ فارمز پر تعاون کر رہے ہیں۔

قابل تجدید توانائی، خاص طور پر صاف کھانا پکانے والی گیس کو فروغ دینے کے لیے گھانا کی کوششوں کی حمایت کرنے کے لیے ہم نے انھیں گلوبل بایو ایندھن اتحاد میں شامل ہونے کی دعوت دی۔

 

دوستو،

ہم دونوں گلوبل ساؤتھ کے رکن ہیں اور اس کے مفادات کے تئیں پوری طرح پرعزم ہیں۔

وائس آف گلوبل ساؤتھ سمٹ میں ان کی مثبت شرکت کے لیے ہم گھانا کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔

یہ بھارت کے لیے فخر کی بات ہے کہ ہماری G20 صدارت میں افریقی یونین کو G20 کی مستقل رکنیت حاصل ہوئی۔

ہم نے ساحل کے علاقے سمیت دیگر علاقائی اور بین الاقوامی مسائل پر بھی تبادلہ خیال کیا ۔

ہم اس بات پر متفق ہیں کہ دہشت گردی انسانیت کی دشمن ہے۔

دہشت گردی کے خلاف ہماری جدوجہد میں گھانا کے تعاون پر ہم ان کے شکر گزار ہیں۔

اس تناظر میں ہم نے انسداد دہشت گردی میں باہمی تعاون کو مزید مضبوط کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اقوام متحدہ میں اصلاحات کے سلسلے میں ہمارا نظریہ ایک جیسا ہے۔

مشرقِ وسطیٰ اور یورپ میں جاری تنازعات پر ہم دونوں نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

ہمارا ماننا ہے کہ یہ جنگ کا دورنہیں ہے۔

مسائل کا حل صرف بات چیت اور سفارتکاری کے ذریعے ہی ہو نا چاہئے۔

دوستو،

گھانا میں ہندوستانی برادری ہمارے لوگوں سے لوگوں کے تعلقات میں ایک خاص ربط ہے۔

طویل عرصے سے بھارتی اساتذہ، ڈاکٹر اور انجینئر گھانا میں اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔

ہندوستانی برادری بھی یہاں کی معاشی اور سماجی ترقی میں مثبت حصہ ڈال رہی ہے ۔

میں کل ہندوستانی کمیونٹی کے ساتھ اپنی ملاقات کا منتظر ہوں۔

صدرِ محترم،

آپ بھارت کے قریبی دوست ہیں، اور بھارت کو بخوبی جانتے ہیں۔

میں آپ کو بھارت کے دورے کی دعوت دیتا ہوں۔ مجھے یقین ہے کہ آپ ہمیں بھارت میں آپ کا استقبال کرنے کا موقع ضرور دیں گے۔

ایک بار پھر، میں آپ کا، گھانا کی حکومت اور گھانا کے تمام لوگوں کا ان کی مہمان نوازی کے لیے تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔

بہت بہت شکریہ!

 

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
Khichdi To Moringa Paratha: 7 Traditional Foods PM Modi Loves

Media Coverage

Khichdi To Moringa Paratha: 7 Traditional Foods PM Modi Loves
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
وزیرِ اعظم 27 اگست کو کھیلو انڈیا مکالمے میں نوجوانوں سے خطاب کریں گے
August 26, 2026
کھیلو انڈیا مکالمہ: کھیل، نوجوانوں کی قیادت، شہری ذمہ داری، رضاکارانہ خدمت، جسمانی تندرستی اور قوم کی تعمیر کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر یکجا کرے گا
کھیلو انڈیا مکالمے کے تحت یوا سموا د پانچ اہم موضوعات پر توجہ مرکوز کرے گا: کھیل، اولمپکس میں کامیابی کی امنگیں، نوجوانوں کی قیادت، ترقی یافتہ بھارت اور منشیات سے پاک نوجوان

وزیرِ اعظم جناب نریندر مودی 27 اگست کو صبح 11 بجے ویڈیو کانفرنس کے ذریعے کھیلو انڈیا مکالمے سے خطاب کریں گے۔ اس پروگرام کا مقصد نوجوانوں کو بھارت کے کھیلوں کے سفر سے وابستہ ہونے، اپنی امنگوں کا اظہار کرنے اور نوجوانوں کی قیادت میں ایک مضبوط ترقی یافتہ بھارت کی تعمیر کے لیے اپنی تجاویز پیش کرنے کا موقع فراہم کرنا ہے۔

میرا یوا بھارت (ایم وائی بھارت) کی جانب سے قومی یومِ کھیل 2026 کی تقریبات کے ایک حصے کے طور پر منعقد ہونے والا یہ پروگرام ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کے ہر ضلع کے دو کالجوں میں نوجوانوں کی شرکت کے ساتھ ملک بھر میں منعقد کیا جائے گا۔ یہ پروگرام وزیرِ اعظم کے اس تصور کے مطابق منعقد کیا جا رہا ہے جس کا مقصد ایک صحت مند، نظم و ضبط کا پابند اور کھیلوں سے وابستہ ملک کی تعمیر کرنا ہے، جبکہ قومی ترقی کے ایجنڈے کے مرکز میں نوجوانوں کی امنگوں کو جگہ دینا ہے۔

ملک گیر کھیلو انڈیا مکالمہ کھیل، نوجوانوں کی قیادت، شہری ذمہ داری، رضاکارانہ خدمت، جسمانی تندرستی اور قوم کی تعمیر کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر یکجا کرے گا۔ یہ نوجوانوں کو ملک کے کھیلوں سے متعلق عزائم کے ساتھ براہِ راست جڑنے کا موقع فراہم کرے گا، جبکہ اس بات کو یقینی بنائے گا کہ ان کی تجاویز اور نقطۂ نظر بھارت کے نوجوانوں اور کھیلوں کے نظام سے متعلق جاری گفتگو کا حصہ بنیں۔

قومی پروگرام کے بعد مقامی سطح پر ایسے پروگرام منعقد کیے جائیں گے جن میں نوجوان شرکاء، میرا یوا بھارت کے رضاکار، مقامی کھلاڑی اور عوامی نمائندے حصہ لیں گے۔ اس پہل کی ایک اہم خصوصیت کھیلوں میں دلچسپی رکھنے والے نوجوانوں اور بھارت کے سرکردہ کھلاڑیوں اور تمغہ جیتنے والوں کے درمیان براہِ راست تبادلۂ خیال ہوگا۔ پروگرام کا ایک مرکزی حصہ یوا سمواد ہوگا، جس میں نوجوان شرکاء کو اپنے خیالات، نقطۂ نظر اور امنگوں کا اظہار کرنے کی دعوت دی جائے گی۔ یہ مکالمہ پانچ موضوعات کے گرد ترتیب دیا جائے گا:

بہتر سہولیات، کوچنگ، کھیلوں کی سائنس اور سب کی شمولیت کے ذریعے بھارت کے کھیلوں کے نظام کو بہتر بنانا؛
سائنسی بنیادوں پر صلاحیتوں کی شناخت، شفاف انتخاب اور کھلاڑیوں کی طویل مدتی ترقی کے ذریعے 2036 کے اولمپکس کے لیے صلاحیتوں کو پروان چڑھانا؛
حکمرانی کے پلیٹ فارموں اور میرا یوا بھارت کی قیادت میں رضاکارانہ خدمات کے ذریعے نوجوانوں میں قائدانہ صلاحیتیں پیدا کرنا؛
شہری شعور، مستقبل کے لیے درکار مہارتوں اور منظم رضاکارانہ خدمات کو فروغ دے کر نوجوانوں کو ترقی یافتہ بھارت کی تعمیر کے لیے بااختیار بنانا؛
کھیلوں اور ہم عمر افراد کے باہمی رابطوں کے ذریعے منشیات کے استعمال کے خلاف جدوجہد کے لیے منشیات سے پاک نوجوان تحریک کو فروغ دینا، جسے وزیرِ اعظم کی جانب سے 2 اگست 2026 کو شروع کی گئی ملک گیر 100 ہفتوں کی مہم کے تحت ہر ہفتے کی جن بھاگیداری سرگرمیوں کے ذریعے مزید تقویت دی جائے گی۔