‘‘حکومت نے اس بجٹ میں بڑے پیمانےپر ترقی کی رفتار کو برقرار رکھنے کے لیے بہت سے اقدامات کیے ہیں’’
‘‘ہم نے بہت سی بنیادی اصلاحات کی ہیں اور ایم ایس ایم ایز کو مضبوط کرنے کے لیے نئی اسکیمیں بنائی ہیں۔ ان اصلاحات کی کامیابی کا دارومدار ان کی مالی اعانت کو مضبوط کرنے پر ہے’’
‘‘ہمارے فنانسنگ شعبے کو جدید فنانسنگ اور نئے ترقی پسندانہ خیالات اور اقدامات کے پائیدار رسک مینجمنٹ پر بھی غور کرنا ہو گا’’
‘‘ہندوستان کی توقعات قدرتی کاشتکاری اور کھاد کی کاشتکاری سے بھی جڑی ہوئی ہیں’’
‘‘ماحول دوست منصوبوں کی رفتار کو تیز کرنا ضروری ہے۔ ماحول دوست مالی اعانت اور اس طرح کے نئے پہلوؤں کا مطالعہ اور ان پر عمل درآمد آج وقت کی اہم ضرورت ہے’’

وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج ‘ ترقی اور پر اُمنگ معیشت کے لیے مالی اعانت’ کے موضوع پر  ما بعد بجٹ ویبنار سے خطاب کیا۔ یہ دسواں ما بعد بجٹ ویبنار ہے جس سے وزیر اعظم نے خطاب کیا۔

 خطاب کے آغاز  میں وزیر اعظم نے خواتین کے عالمی دن پر مبارکباد دی اور کہا کہ ہندوستان میں ایک خاتون وزیر خزانہ ہیں جنہوں نے اتنا ترقی پسندانہ  بجٹ دیا ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ہندوستانی معیشت ایک صدی کی وبائی بیماری کے بعد ایک بار پھر رفتار پکڑ رہی ہے اور یہ ہمارے معاشی فیصلوں اور معیشت کی مضبوط بنیاد کا عکاس ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے اس بجٹ میں اونچی شرح ترقی کو برقرار رکھنے کے لیے بہت سے اقدامات کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ‘‘غیر ملکی سرمائے کی آمد کی حوصلہ افزائی کر کے، انفراسٹرکچر کی سرمایہ کاری پر ٹیکس کم کر کے،  این آئی آئی ایف ، گفٹ سٹی، نئے ڈی ایف آئیز جیسے ادارے بنا کر، ہم نے مالی اور اقتصادی ترقی کو تیز کرنے کی کوشش کی ہے’’۔ انہوں نے مزید کہا۔ ‘‘فنانس کے میدان میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے وسیع پیمانے پر استعمال کے لیے ملک کا عزم اب بلندی کی  اگلی سطح پر پہنچ رہا ہے۔ 75 اضلاع میں 75 ڈیجیٹل بینکنگ یونٹس ہوں یا سنٹرل بینک ڈیجیٹل کرنسی(سی بی ڈی سیز) ، وہ ہمارے وژن کی عکاسی کرتے ہیں’’۔

آتم نربھر بھارت ابھیان کا تذکرہ کرتے ہوئے وزیر اعظم نے متعلقہ پروجیکٹوں کی مالی اعانت کے مختلف ماڈلز کو تلاش کرکے دوسرے ممالک پر انحصار کم کرنے کے طریقوں پر غور کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے ایسے ہی ایک قدم کے طور پر پی ایم گتی شکتی نیشنل ماسٹر پلان کی مثال دی۔

ملک کی متوازن ترقی پر اظہار خیال کرتے ہوئے ، وزیر اعظم نےخواستگار اضلاع پروگرام یا مشرقی ہندوستان اور شمال مشرق کی ترقی جیسی اسکیموں کی ترجیح دینے پر زور دیا۔

وزیر اعظم نے ہندوستان کی امنگوں اور ایم ایس ایم ای کی طاقت کے درمیان تعلق پر زور دیا۔ انہوں نے کہا ‘‘ہم نے بہت سی بنیادی اصلاحات کی ہیں اور ایم ایس ایم ایز کو مضبوط کرنے کے لیے نئی اسکیمیں بنائی ہیں۔ ان اصلاحات کی کامیابی کا انحصار ان کی مالی اعانت کو مضبوط بنانے پر ہے’’ ۔

وزیر اعظم نے زور دے کر کہا کہ انڈسٹری 4.0 اس وقت تک ممکن نہیں جب تک کہ ملک فنانشیل ٹیکنا لوجی ، زرعی ٹیکنا لوجی ، طبی  ٹیکنا لوجی اور اسکل ڈیولپمنٹ جیسے شعبوں میں آگے نہیں بڑھتا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ایسے شعبوں میں مالیاتی اداروں کی مدد ہندوستان کو صنعت 4.0 میں نئی ​​بلندیوں  تک لے جائے گی۔

وزیر اعظم نے ایسے شعبوں کو تلاش کرنے کےتصور کے بارے میں تفصیل سے بات کی جہاں ہندوستان سرفہرست 3 ممالک میں شامل ہو سکے۔ انہوں نے پوچھا کہ کیا ہندوستان تعمیرات، اسٹارٹ اپس، حال ہی میں کھولے گئے سیکٹر جیسے ڈرون، اسپیس اور سطح زمین کے موجودات کے اعداد وشمار جیسے شعبوں میں سرفہرست 3 ممالک میں ابھر سکتا ہے۔ اس کے لیے انہوں نے کہا کہ یہ ضروری ہے کہ ہماری صنعت اور اسٹارٹ اپ کو مالیاتی شعبے کی مکمل حمایت حاصل ہو۔ سٹارٹ اپ کے درمیان صنعت کاری  ، اختراعات اور نئی منڈیوں کی تلاش میں توسیع اسی وقت ہو گی جب ان لوگوں کے درمیان ترقی پسندانہ نظریات کی گہری سمجھ ہو جو ان کی مالی معاونت کرتے ہیں۔ جناب مودی نے زور دیا۔ ‘‘ہمارے فنانسنگ سیکٹر کو جدید فنانسنگ اور نئے  ترقی پسندانہ خیالات اور اقدامات کے پائیدار رسک مینجمنٹ پر بھی غور کرنا ہو گا’’۔

وزیر اعظم نے زور دے کر کہا کہ ہندوستانی معیشت کی ایک بڑی بنیاد دیہی معیشت ہے۔ حکومت  ایس ایچ جیز، کسان کریڈٹ کارڈز، کسان پروڈیوسر تنظیموں اور مشترکہ خدمات مراکز کو مضبوط بنانے جیسے اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے اجتماع سے کہا کہ ان کی پالیسیوں میں  دیہی معیشت کو مرکزی حیثیت دی جانی چاہئے۔

انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی توقعات قدرتی کاشتکاری اور کھاد والی کاشت کاری  سےبھی جڑی ہوئی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ‘‘اگر کوئی ان میں نیا کام کرنے کے لیے آگے آرہا ہے تو یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ ہمارے مالیاتی ادارے اس کی مدد کیسے کر سکتے ہیں’’۔

صحت کے شعبے میں کام اور سرمایہ کاری کا ذکر کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ طبی تعلیم سے متعلق چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے، زیادہ سے زیادہ طبی اداروں کا ہونا بہت ضروری ہے۔ وزیر اعظم نے پوچھا ‘‘کیا ہمارے مالیاتی ادارے اور بینک اپنی کاروباری منصوبہ بندی میں اس کو ترجیح دے سکتے ہیں؟’’ ۔

وزیر اعظم نے بجٹ کی فضائی اور ماحولیاتی جہتوں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے 2070 تک ہندوستان کے  گیسوں کے صفر  اخراج کے ہدف کو دہرایا اور کہا کہ اس سمت میں کام شروع ہوچکا ہے۔ ان کاموں کو تیز کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ماحول دوست منصوبوں کو تیز کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ  ماحول دوست مالی اعانت اور اس طرح کے نئے پہلوؤں کا مطالعہ اور ان پر عمل درآمد آج وقت کی اہم ضرورت ہے"۔

 

 

 

 

 

 

تقریر کا مکمل متن پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
India’s digital economy enters mature phase as video dominates: Nielsen

Media Coverage

India’s digital economy enters mature phase as video dominates: Nielsen
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Cabinet approves increase in the Judge strength of the Supreme Court of India by Four to 37 from 33
May 05, 2026

The Union Cabinet chaired by the Prime Minister Shri Narendra Modi today has approved the proposal for introducing The Supreme Court (Number of Judges) Amendment Bill, 2026 in Parliament to amend The Supreme Court (Number of Judges) Act, 1956 for increasing the number of Judges of the Supreme Court of India by 4 from the present 33 to 37 (excluding the Chief Justice of India).

Point-wise details:

Supreme Court (Number of Judges) Amendment Bill, 2026 provides for increasing the number of Judges of the Supreme Court by 04 i.e. from 33 to 37 (excluding the Chief Justice of India).

Major Impact:

The increase in the number of Judges will allow Supreme Court to function more efficiently and effectively ensuring speedy justice.

Expenditure:

The expenditure on salary of Judges and supporting staff and other facilities will be met from the Consolidated Fund of India.

Background:

Article 124 (1) in Constitution of India inter-alia provided “There shall be a Supreme Court of India consisting of a Chief Justice of India and, until Parliament by law prescribes a larger number, of not more than seven other Judges…”.

An act to increase the Judge strength of the Supreme Court of India was enacted in 1956 vide The Supreme Court (Number of Judges) Act 1956. Section 2 of the Act provided for the maximum number of Judges (excluding the Chief Justice of India) to be 10.

The Judge strength of the Supreme Court of India was increased to 13 by The Supreme Court (Number of Judges) Amendment Act, 1960, and to 17 by The Supreme Court (Number of Judges) Amendment Act, 1977. The working strength of the Supreme Court of India was, however, restricted to 15 Judges by the Cabinet, excluding the Chief Justice of India, till the end of 1979, when the restriction was withdrawn at the request of the Chief Justice of India.

The Supreme Court (Number of Judges) Amendment Act, 1986 further augmented the Judge strength of the Supreme Court of India, excluding the Chief Justice of India, from 17 to 25. Subsequently, The Supreme Court (Number of Judges) Amendment Act, 2008 further augmented the Judge strength of the Supreme Court of India from 25 to 30.

The Judge strength of the Supreme Court of India was last increased from 30 to 33 (excluding the Chief Justice of India) by further amending the original act vide The Supreme Court (Number of Judges) Amendment Act, 2019.