Share
 
Comments
In an interdependent and interconnected world, no country is immune to the effect of global disasters: PM
Lessons from the pandemic must not be forgotten: PM
Notion of "resilient infrastructure" must become a mass movement: PM

نئی دہلی،  17 مارچ 2021،   وزیراعظم جناب نریندر مودی نے  ویڈیو کانفرنس کے ذریعہ  آفات کو برداشت کرنے والے بنیادی ڈھانچے سے متعلق  بین الاقوامی کانفرنس کی  افتتاحی تقریب سے خطاب کیا۔ اس موقع پر  فجی کے وزیراعظم ، اٹلی کے وزیراعظم  اور برطانیہ کے وزیراعظم بھی موجود تھے۔ قومی  حکومتوں کے شرکاء ، بین الاقوامی تنظیموں، تعلیمی اداروں اور نجی شعبے کے ماہرین نے بھی کانفرنس میں شرکت کی۔

 

موجودہ صورت حال کو  قطعی غیر معمولی قرار دیتے ہوئے  وزیراعظم نے کہا ’ ہمارے سامنے ایسی صورتحال ہے  جس کو  100 سال میں ایک بار آنے والی آفت قرار دیا جارہا ہے۔ کووڈ۔ 19 عالمی وبا نے ہمیں سکھایا ہے کہ  ایک دوسرے پر منحصر اور ایک دوسرے سے منسلک دنیا  میں  چاہے دولت مند ملک ہو یا غریب،  چاہے مشرق ہو یا مغرب، شمال ہو یا جنوب، عالم وباؤں کے اثر سے کوئی بھی محفوظ نہیں ہے‘۔

وزیراعظم نے کہا کہ عالمی وبا نے  ہمیں دکھایا ہے کہ  دنیا کس طرح  یکجا ہوجاتی ہے۔ انہوں نے  کہا ’’عالمی وبا نے ہمیں دکھایا ہے کہ  عالمی چیلنجوں کا سامنا کرنے کے لئے  اختراعات کہیں سے بھی ہوسکتی ہیں۔اس کے لئے وزیراعظم نے ایک عالمی ایکو سسٹم کو فروغ دینے کی اپیل کی جو دنیا کے  تمام حصوں میں اختراع کی مدد کرے اور سب سے زیادہ ضرورت مندوں تک  اسے پہنچائے۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ سال 2021 عالمی وبا سے تیزی کے ساتھ ابھرنے کا سال ہوگا‘‘۔

وزیراعظم متنبہ کیا کہ عالمی وبا سے حاصل  اسباب کو فراموش نہیں کیا جانا چاہیے۔ ان کا  اطلاق  محض عوامی  صحت سے متعلق آفات پر ہی نہیں بلکہ دیگر آفات پر بھی ہوتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ  آب و ہوا کی تبدیلی کے اثر کو کم ختم کرنے کے لئے  مسلسل اور تال میل کے ساتھ کوششیں کرنی ہوں گی۔

وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ جو ملک بنیادی ڈھانچے میں  بہت زیادہ سرمایہ کاری کررہے ہیں ، مثلاً   بھارت، انہیں اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ  یہ سرمایہ کاری  لچک لانے کے لئے  کی جارہی ہے، جوکھم اٹھانے کے لئے نہیں۔بنیادی ڈھانچے کے بہت سے نظام  دیجیٹل انفرا اسٹرکچر، شپنگ لائنز ، ہوابازی کے نیٹ ورک، دنیا بھر کا احاطہ کئے ہوئے ہیں اور دنیا کے ایک حصے میں آنے والی آفت بہت تیزی سے دنیا بھر میں پھیل سکتی ہے۔ عالمی نظام کی لچک کو یقینی بنانے کے لئے تعاون ضروری ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ سال 2021 خصوصی طور پر ایک اہم سال ہے۔ ہم  پائیدار ترقیاتی مقاصد، پیرس معاہدہ اور سنڈائی  فریم ورک  کے  وسطی مقام پر پہنچ رہے ہیں۔ اس سال بعد میں برطانیہ اور اٹلی  کی میزبانی میں منعقد کئے جانے والے سی او پی ۔26 سے بہت زیادہ توقعات وابستہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ  ان میں سے چند توقعات کو پورا کرنے میں مدد فراہم کرانے کے لئے   بنیادی ڈھانچے کی لچک سے متعلق اس  شراکت داری   کو اہم رول ادا کرنا چاہیے۔

وزیراعظم نے  کلیدی ترجیح کے مقامات  کا بھی تذکرہ کیا، پہلا یہ کہ سی ڈی آر آئی کو  پائیدار ترقیاتی مقاصد کا مرکز ی وعدہ یعنی  ’ کوئی بھی پیچھے نہ رہ جائے‘، کو عملی جامہ پہنانا چاہیے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ  ہمیں  پہلے  سب سے کمزور ممالک اور برادریوں  کے معاملات پر کام کرنا ہوگا، دوسرے ہمیں چند کلیدی بنیادی ڈھانچہ شعبوں ، خصوصی طور پر صحت کے بنیادی ڈھانچے اور  ڈیجیٹل انفرا اسٹرکچر  کی کارکردگی کا جائزہ لینا چاہیے کیونکہ انہوں نے عالمی وبا کے دوران مرکزی رول ادا کیا ہے۔ اس شعبوں سے حاصل اسباب کیا ہیں؟ ہم انہیں مستقبل کے لئے  مزید لچکدار کیسے بنا سکتے ہیں؟  تیسرے یہ کہ لچک کی اپنی جستجو میں  کسی بھی ٹکنالوجیکل سسٹم کو  بہت زیادہ بنیادی یا بہت زیادہ ترقی یافتہ نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ سی ڈئ آر آئی کو  ٹکنالوجی کے استعمال  کے مظاہرے کے اثر میں اضافہ کرنا چاہیے اور آخر میں وزیراعظم نے کہا  ’لچک دار بنیادی ڈھانچہ‘ کے تصور  کو ایک عوامی تحریک بننا چاہیے اسے محض  ماہرین اور   رسمی اداروں کو ہی  تحریک نہیں دینی چاہئے۔

 

 

 

 

تقریر کا مکمل متن پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

'من کی بات ' کے لئے اپنے مشوروں سے نوازیں.
Modi Govt's #7YearsOfSeva
Explore More
It is now time to leave the 'Chalta Hai' attitude & think of 'Badal Sakta Hai': PM Modi

Popular Speeches

It is now time to leave the 'Chalta Hai' attitude & think of 'Badal Sakta Hai': PM Modi
Agri, processed food exports buck Covid trend, rise 22% in April-August

Media Coverage

Agri, processed food exports buck Covid trend, rise 22% in April-August
...

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
وزیراعظم کاامریکہ کے دورہ پر روانہ ہونے سے قبل بیان
September 22, 2021
Share
 
Comments

میں ریاست ہائے متحدہ امریکہ   یو ایس اے کے صد ر عزت مآب جوبائیڈن کی دعوت پر 22 تا 25 ستمبر 2021 امریکہ کا دورہ کروں گا۔

اپنے دورہ کے دوران میں صدربائیڈن کے ساتھ بھارت- امریکہ جامع عالمی اسٹراٹیجک ساجھیداری کا جائزہ لوں گا اور باہمی مفاد کے علاقائی اور عالمی امور پر تبادلہ  خیال کروں گا۔ میں دونوں ملکوں کے درمیان خاص طور پر سائنس اور ٹکنولوجی کے شعبے میں اشتراک کے لئے امکانات تلاش کرنے کی غرض سے نائب صدر کملا ہیرس کے ساتھ ملاقات کرنے کا بھی منتظر ہوں۔

میں ، صدر جوبائیڈن، آسٹریلیا کے وزیراعظم  اسکاٹ موریسن اور جاپان کے وزیراعظم یوشی ہیدے سوگا کے ہمراہ کوویڈ لیڈران کی اوّلین بنفس نفیس سربراہ کانفرنس میں شرکت کروں گا۔ اس سربراہ کانفرنس سے اس سال مارچ میں منعقدہ ورچول سربراہ کانفرنس کے نتائج کا جائزہ لینے اور بھارت۔ بحرالکاہل خطے کے لئے ہمارے مشترکہ ویژن پر مبنی مستقبل کے رابطوں کے لئے ترجیحات کی نشاندہی کرنے کا موقع فراہم ہوگا۔

میں آسٹریلیا کے وزیراعظم اسکاٹ موریسن اور جاپان کے وزیراعظم سوگا کے ساتھ بھی ملاقات کروں گا جس کے دوران ان کے متعلقہ ممالک کے ساتھ مستحکم دوطرفہ تعلقات اور علاقائی اور عالمی  امور پر ہمارے مفید تبادلوں کو جاری رکھنے کا جائزہ لیا جائے گا۔

میں اقوام متحدہ جنرل اسمبلی  سے خطاب کے ساتھ اپنے دورے کا اختتام کروں گا۔ اس خطاب میں کووڈ-19 عالمی وباد سمیت فوری کارروائی کا تقاضہ کرنے وا لی چنوتیوں، انسداد دہشت گردی کی ضرورت، آب و ہوا کی تبدیلی اور دیگر اہم امور پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔

 امریکہ کے میرے اس دورہ کی بدولت امریکہ کے ساتھ جامع عالمی اسٹراٹیجک ساجھیداری کو مستحکم کرنے، ہمارے اسٹراٹیجک ساجھیداروں- جاپان اور آسٹریلیا کے ساتھ تعلقات کو تقویت بہم پہنچانے اور اہم عا لمی امور پر ہمارے تال میل اور اشتراک کو آگے لے جانے کا ایک موقع فراہم ہوگا۔.