انٹرنیشنل بگ کیٹس الائنس کا آغاز
شیروں کی 3167 کی تعدادمیں ہونے کا اعلان کیا
شیروں کے تحفظ کے بارے میںیادگاری سکے اور کئی اشاعتیں جاری کیں
’’پروجیکٹ ٹائیگر کی کامیابی نہ صرف ہندوستان بلکہ پوری دنیا کے لیے فخر کا لمحہ ہے‘‘
’’ہندوستان، ماحولیات اور معیشت کے درمیان تنازعہ پر یقین نہیں رکھتا، وہ دونوں کے بقائے باہمی کو یکساں اہمیت دیتا ہے‘‘
’’ہندوستان ایک ایسا ملک ہے، جہاں فطرت کی حفاظت کرنا، ثقافت کا حصہ ہے‘‘
’’بڑی بلیوں کی موجودگی نے ہر جگہ مقامی لوگوں کی زندگیوں اور ماحولیات پر مثبت اثر ڈالا ہے‘‘
’’جنگلی حیاتیات کا تحفظ کسی ایک ملک کا مسئلہ نہیں بلکہ عالمی مسئلہ ہے‘‘
’’بین الاقوامی بڑی بلیوں کے اتحاد کی توجہ، دنیا کی7 بڑی بڑی بلیوں کے تحفظ پر ہو گی‘‘
’’انسانیت کا بہتر مستقبل اسی وقت ممکن ہے جب ماحول محفوظ رہے اور حیاتیاتی تنوع میں توسیع ہوتی رہے‘‘

وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج کرناٹک کے میسور میں، میسورویونیورسٹی میں ’پروجیکٹ ٹائیگر‘ کے 50 سال کییادگاری پروگرام کا افتتاح کیا۔ وزیر اعظم نے انٹرنیشنل بگ کیٹس الائنس(آئی بی سی اے)کا بھی آغاز کیا۔ انہوں نے پبلیکیشنز–’ٹائیگرکےتحفظ کے لئے امرت کال کا وژن‘جاری کیا، جو ٹائیگر ریزرو کے انتظامی تاثیر کی تشخیص کے 5ویں دور کی خلاصہ رپورٹ ہے، شیروں کی تعداد کا اعلان کیا اور آل انڈیا ٹائیگر اسٹیمیشن (5ویں سائیکل) کی خلاصہ رپورٹ جاری کی۔ انہوں نے پروجیکٹ ٹائیگر کے 50 سال مکمل ہونے پر ایکیادگاری سکہ بھی جاری کیا۔

 

اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے ہندوستان میں شیروں کی بڑھتی ہوئی آبادی کے باوقار لمحے پر تبصرہ کیا اور شیروں کو کھڑے ہو کر خراج عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ پروجیکٹ ٹائیگر کے آج 50 سال مکمل ہونے کے تاریخی واقعہ کا ہر کوئی گواہ ہے اور کہا کہ اس کیکامیابی نہ صرف ہندوستان بلکہ پوری دنیا کے لئے فخر کا لمحہ ہے۔ وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان نے نہ صرف شیروں کی آبادی کو کم ہونے سے بچایا ہے بلکہ ایک ایسا ماحولیاتی نظام بھی فراہم کیا ہے جہاں شیر پنپ سکتے ہیں۔ وزیر اعظم نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ ہندوستان کی آزادی کے 75 ویں سال میں، دنیا کے شیروں کی آبادی کا 75 فیصد ہندوستان میں ہے۔ وزیر اعظم نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ یہ بھی ایک اتفاق ہے، ہندوستان میں شیروں کے ذخائر 75 ہزار مربع کلومیٹر پر محیط ہیں اور گزشتہ دس سے بارہ سالوں میںملک میں شیروں کی آبادی میں 75 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

ہندوستان میں شیروں کی بڑھتی ہوئی آبادی کے بارے میں دنیا بھر کے جنگلی حیاتیات کے شائقین کے ذہنوں میں اس سوال کو دہراتے ہوئے کہ دوسرے ممالک کے مقابلے جہاں یہیا تو جمود کا شکار ہے یا زوال کا شکار ہے، وزیر اعظم نے کہا کہ، اس کا جواب ہندوستان کی روایات اور ثقافت میں پوشیدہ ہے۔ حیاتیاتی تنوع اور ماحولیات کی طرف اس کی فطری خواہش۔  وزیر اعظم نے تبصرہ کیا’’ہندوستان، ماحولیات اور معیشت کے درمیان تنازعہ پر یقین نہیں رکھتا بلکہ دونوں کے بقائے باہمی کو یکساں اہمیت دیتا ہے‘‘۔ ہندوستان کی تاریخ میں شیروں کی اہمیت سےمتعلقیاددہانی کراتے ہوئے وزیر اعظم نے ذکر کیا کہ مدھیہ پردیش میں دس ہزار سال پرانے راک آرٹ پر شیروں کی تصویری نمائش پائی جاتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وسطی ہندوستان کی بھریا برادری اور مہاراشٹر کی ورلی برادری سمیت دیگر لوگ شیر کی پوجا کرتے ہیں، جبکہ ہندوستان میں بہت سی برادریاں، شیر کو دوست اور بھائی مانتی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ماں درگا اور بھگوان آیاپا شیر کی سواری کرتے ہیں۔

 

جنگلی حیاتیات کے تحفظ میں ہندوستان کی منفرد کامیابیوں کو ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا، ’’ہندوستان ایک ایسا ملک ہے جہاں فطرت کی حفاظت کرنا، ثقافت کا ایک حصہ ہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے پاس دنیا کے رقبے کا صرف 2.4 فیصد ہے لیکنیہ معروف عالمی حیاتیاتی تنوع میں 8 فیصد کی حصہ رسدی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان دنیا کا سب سے بڑا ٹائیگر رینج والا ملک ہے، تقریباً تیس ہزار ہاتھیوں کے ساتھ دنیا کا سب سے بڑا ایشیائی ہاتھی رینج والا ملک ہے، اور تقریباً تین ہزار کی آبادی والا سب سے بڑا واحد سینگوالے گینڈوں کا ملک ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہندوستان دنیا کا واحد ملک ہے جہاں ایشیائی شیر ہیں اور اس کی آبادی 2015 میں 525 کے لگ بھگ تھی جو 2020 میں بڑھ کر 675 کے قریب ہوگئی ہے۔ گنگا جیسی ندیوں کی صفائی کے لیے کیے جا رہے کام کا ذکر کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے روشنی ڈالی کہ کچھ آبی انواع، جو کبھی خطرے میں سمجھی جاتی تھیں، ان میں بہتری آئی ہے۔ انہوں نے ان کامیابیوں کا سہرا لوگوں کی شرکت اور تحفظ کے کلچر کو دیا۔

وزیر اعظم نے ہندوستان میں کئے گئے کام کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ’’جنگلی حیاتیات کو پھلنے پھولنے کے لیے، ماحولیاتی نظام کے لیے، یہ اہم ہے‘‘۔ انھوں نے ذکر کیا کہ ملک میں رام سر سائٹس کی فہرست میں 11 ویٹ لینڈس شامل کی ہیں جس کے ساتھ ہی رام سر  کی کل تعداد 75 ہوگئی ہے۔ انھوں نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ ہندوستان نے 2019 کے مقابلے میں 2021 تک، جنگلات اور درختوں کے احاطے میں 2200 مربع کلو میٹر کا اضافہ کیا ہے۔ پچھلی دہائی میں وزیر اعظم نے کہا کہ کمیونٹی ریزرو کی تعداد 43 سے بڑھ کر 100 ہوگئی ہے اور قومی پارکوں اور سنچریوں کی تعداد 9 سے بڑھ 468 ہوگئی ہے۔ اور وہ بھی ایک دہائی میں۔ ان کے ارد گرد حیاتیاتی سینسٹیو زون کو بھی نوٹیفائی کیا گیا تھا۔

 

گجرات کے وزیر اعلیٰ کے طور پر جنگلی حیات کے تحفظ میں اپنے تجربے کو یاد کرتے ہوئے وزیر اعظم نے شیروں کی آبادی کے لیے کام کرنے کا ذکر کیا اور اس بات پر زور دیا کہ ایک جغرافیائی علاقے تک محدود رہنے سے کسی بھی جنگلی جانور کو نہیں بچایا جاسکتا۔ انھوں نے مقامی لوگوں اور جانوروں کے درمیان، جذبات کے ساتھ ساتھ معیشت کا راستہ پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ وزیر اعظم نے گجرات میں وائلڈ لائف متر پروگرام شروع کرنے پر روشنی ڈالی جہاں شکار کرنے جیسی سرگرمیوں کی نگرانی کے لیے، نقد انعام کی ترغیب کی پیش کش کی گئی ہے۔ انھوں نے  گیر کے شیروں کے لیے بازآبادکاری کے مرکز شروع کرنے اور گیر کے علاقے میں محکمہ جنگلات میں، خواتین بیٹ گارڈز اور جنگلات کے کارکنوں کو بھرتی کرنے کا بھی ذکر کیا۔ انھوں نے سیاحت اور ماحولیاتی سیاحت کے انتہائی وسیع ماحولیاتی نظام پر بھی روشنی ڈالی، جو کہ اب گیر میں قائم ہوچکا ہے۔

وزیر اعظم نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پروجیکٹ ٹائیگر کی کامیابی کی بہت سی جہتیں ہیں اور اس کی وجہ سے سیاحتی سرگرمیو ں میں اضافہ ہوا ہے، آگاہی کے پروگرام اور ٹائیگرز ریزور میں انسانوں اور جانوروں کے ٹکراؤ میں کمی آئی ہے۔ جناب مودی نے مزید کہا کہ ’’بڑی بلیوں کی موجودگی میں ، جگہ مقامی لوگوں کی زندگیوں اور ماحولیات پر مثبت اثر ڈالا ہے‘‘۔

اس بات  کو ا جاگر کرتے ہوئے کہ چیتے کی نسل ہندوستان میں دہائیوں پہلے معدوم ہوگئی تھی، وزیر اعظم نے اس بڑی بلی کی پہلی کی پہلی کامیابی بین براعظمی نقل مکانی کا ذکر کرتے ہوئے، ان چیتوں کا ذکر کیا جنھیں نامیبیا اور جنوبی افریقہ سے ہندوستان لایا گیا تھا۔ انھوں نے یاد دلایا کہ چند روز قبل کونو نیشنل پارک میں ، چیتے کے چار خوبصورت بچے پیدا ہوئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ تقریباً 75 سال قبل معدوم ہونے کے بعد اب چیتا ہندوستان کی سرزمین پر جنم لے چکا ہے۔ انھوں نے حیاتیاتی تنوع کے تحفظ اور خوشحالی کے لیے بین الاقوامی تعاون کی اہمیت پر زور دیا۔

 

وزیر اعظم نے بین الاقوامی اتحاد کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ’’جنگلی حیاتیات کا تحفظ ایک ملک کا مسئلہ نہیں ہے ، بلکہ ایک عالمگیر مسئلہ ہے‘‘۔ انھوں نے بتایا کہ سال 2019 میں، وزیر اعظم نے  ٹائیگرز کے عالمی دن پر ایشیا میں غیرقانونی شکار کرنے اور جنگلی حیات کی تجار ت کے خلاف اتحاد قائم کرنے پر زور دیا تھا اور یہ تبصرہ بھی کیا کہ بین الاقوامی بگ کیٹس الائنس، اسی جذبے کی توسیع ہے۔ اس کے فوائد کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ بڑی بلی سے وابستہ، پورے ماحولیاتی نظام کے لیے، مالی اور تکنیکی وسائل کو اکٹھا کرنا آسان ہوجائے گاجبکہ سلامتی اور تحفظ کے ا یجنڈے کو آسانی سے  لاگو کیا جائے گا، جو ہندوستان سمیت مختلف ممالک کے تجربے سے سامنے آیا ہے۔ جناب مودی نے کہا کہ ’’انٹرنیشنل بگ کیٹس الائنس کی توجہ دنیا کی 7 بڑی بلیوں کے تحفظ پر مرکوز ہوگی جن میں شیر، ٹائیگر، تیندوے، برفانی چیتے، پوما، جیگار اور چیتے شامل ہیں‘‘۔ وزیر اعظم نے کہا کہ وہ ممالک جو ان کے گھر ہیں، یہ بلیاں اس تحاد کا حصہ ہوں گی۔ انھوں نے مزید کہا کہ رکن ممالک اپنے تجربات کا اشتراک کرنے، اپنے ساتھی ملک کی زیادہ تیزی سے مدد کرنے اور تحقیق، تربیت، اور صلاحیت سازی پر زور دینے کے قابل ہوں گے۔جناب مودی نے تبصرہ کیا کہ ’’ہم مل کر ان کی نسلوں کو معدوم ہونے سے بچائیں گے اور ان کے لیے ایک محفوظ اور صحتمند ماحولیاتی نظام بنائیں گے‘‘۔

ہندوستان کی جی ٹوینٹی صدارت کے لیے ’ایک زمین، ایک خاندان، ا یک مستقبل‘ کے نعرے کو اجاگر کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے کہا کہ اس سے اس پیغام کو تقویت حاصل ہوتی ہے کہ انسانیت کے لیے ایک بہتر مستقبل اسی وقت ممکن ہے جب ہمارا ماحول محفوظ رہے اور ہماری حیاتیاتی تنوع مسلسل پرورش پاتی رہی۔انھوں نے اعادہ کیا کہ ’’یہ ہم سب کی ذمے داری ہے، یہ پوری دنیا کی ذمے داری ہے‘‘، سی او پی 26 کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ ہندوستان نے بڑے اور بامقصد اہداف مقرر کئے ہیں نیزاس باہمی تعاون پر  اعتماد کا اظہار کیا ہے جو ماحولیاتی تحفظ کے ہر مقصد کو حاصل کرنے میں مدد کرسکتا ہے۔

 

اس موقع پر موجود غیرملکی مہمانوں اور معززین کی طرف اپنے خطاب میں وزیر اعظم نے ان لوگوں پر زور دیا کہ وہ ہندوستان کے قبائلی معاشرے کی زندگی اور روایت سے کچھ حاصل کریں۔ انھوں نے ساہیادری اور مغربی گھاٹوں کے ان خطوں پر روشنی ڈالی جہاں قبائلی آباد ہیں اور کہا کہ وہ صدیوں سے شیر سمیت ہر حیاتیاتی تنوع کو افزودہ کرنے میں مصروف ہیں۔ انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ قبائلی معاشرے کی طرف سے ، دینے اور لینے کے توازن کی روایت کو ، یہاں اپنایا جاسکتا ہے۔ خطاب کے اختتام پر وزیر اعظم نے آسکر ایوارڈ یافتہ دستاویزی فلم’دی ایلیفینٹ وسپرس‘ کا ذکر کیا اور کہا کہ فطرت اور مخلوق کے درمیان شاندار تعلق کی ہماری میراث کی عکاسی کرتی ہے۔ وزیر اعظم نے  اختتامیہ کلمات ادا کرتے ہوئے کہا کہ ’’مشن لائف اسٹائل یعنی ماحولیات ک ے لیے طرز زندگی کو سمجھنے میں، قبائلی معاشرے کا طرز زندگی بھی بہت مدد کرتا ہے‘‘۔

ماحولیات، جنگلات اور آب وہوا کی تبدیلی کے مرکزی وزیر جناب بھوپیندر یادو اور ماحولیات، جنگلات اور آب وہوا کی تبدیلی کے مرکزی وزیر مملکت جناب اشونی کمار چوبے اس موقع پر موجود تھے۔

پس منظر

وزیر اعظم نے انٹرنیشنل بگ کیٹس ا لائنس (آئی بی سی اے) کا آغاز کیا۔ 2019 میں ، وزیر اعظم نے ،مطالبے کو ختم کرنے اور ایشیا میں غیر قانونی شکار کرنے اور جنگلی حیات کی تجارت کو سختی کے ساتھ روکنے کے لیے، عالمی رہنماؤں کے اتحاد پر زور دیا تھا۔  وزیر اعظم کے اس پیغام کو آگے بڑھاتے ہوئے، انٹرنیشنل بگ کیٹس الائنس کا آغاز کیا جارہا ہے جو دنیا کی سات بڑی بڑی بلیوں کی سلامتی اور تحفظ پر توجہ دے گا، جن میں  ٹائیگر، شیر، تیندوہ، برفانی تیندوہ، پوما، جیگار اور چیتا شا مل ہیں، ان نسلوں کوپناہ دینے والے ممالک کی رینج کی رکنیت اس میں شامل ہوگی۔

 

 

تقریر کا مکمل متن پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
Engineering goods exports up 10.4% in January,2026, crosses $100 billion mark in April-January Period of FY26

Media Coverage

Engineering goods exports up 10.4% in January,2026, crosses $100 billion mark in April-January Period of FY26
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Text of PM’s address at the News18 Rising Bharat Summit
February 27, 2026

इजराइल की हवा यहाँ भी पहुँच गई है।

नमस्कार!

नेटवर्क 18 के सभी पत्रकार, इस व्यवस्था को देखने वाले सभी साथी, यहां उपस्थित सभी महानुभाव, देवियों और सज्जनों!

आप सभी राइजिंग भारत की चर्चा कर रहे हैं। और इसमें strength within पर आपका जोर है, यानी साधारण शब्दों में कहूं, तो देश के अपने खुद के सामर्थ्य पर आपका फोकस है। और हमारे यहां तो शास्त्रों में कहा गया है - तत् त्वम असि! यानी जिस ब्रह्म की खोज मे हम निकले हैं, वो हम ही हैं, वो हमारे भीतर ही है। जो सामर्थ्य हमारे भीतर है उसे हमें पहचानना है। बीते 11 वर्षों में भारत ने अपना वही सामर्थ्य पहचाना है, और इस सामर्थ्य को सशक्त करने के लिए आज देश निरंतर प्रयास कर रहा है।

साथियों,

सामर्थ्य किसी देश में अचानक पैदा नहीं होता, सामर्थ्य पीढ़ियों में बनता है। वो ज्ञान से, परंपरा से, परिश्रम से और अनुभव से निखरता है, लेकिन इतिहास के एक लंबे कालखंड में, गुलामी की इतनी शताब्दियों में, हमारे सामर्थ्यवान होने की भावना को ही हीनता से भर दिया गया था। दूसरे देशों से आयातित विचारधारा ने समाज में कूट-कूट कर ये भर दिया था, कि हम अशिक्षित हैं और अनुगामी यानी, फॉलोअर हैं, हमारे यहां ये भी कहा गया है – यादृशी भावना यस्य, सिद्धिर्भवति तादृशी। यानी जैसी जिसकी भावना होती है, उसे वैसी ही सिद्धि प्राप्त होती है। जब भावना में ही हीनता थी, तो सिद्धि भी वैसी ही मिल रही है। हम विदेशी तकनीक की नकल करते थे, विदेशी मुहर का इंतजार करते थे, ये वो गुलामी थी जो राजनीतिक और भौगोलिक से ज्यादा मानसिक गुलामी थी। दुर्भाग्य से आजादी के बाद भी, भारत गुलामी की मानसिकता से बाहर नहीं निकल पाया। और इसका नुकसान हम आज तक उठा रहे हैं। इसका ताजा उदाहरण, हम ट्रेड डील्स में हो रही चर्चा में देख रहे हैं। कुछ लोग चौंक गए हैं कि अरे ये क्या हो गया, कैसे हो गया, विकसित देश भारत से ट्रेड डील्स करने में इतने उत्सुक क्यों हैं। इसका उत्तर है हताशा, निराशा से बाहर निकल रहा आत्मविश्वासी भारत। अगर देश आज भी 2014 से पहले वाली निराशा में होता, फ्रेजाइल फाइव में गिना जाता, पॉलिसी पैरालिसिस से घिरा होता, अगर ये हाल होते तो कौन हमारे साथ ट्रेड डील्स करता, अरे हमारी तरफ देखता भी नहीं।

लेकिन साथियों,

बीते 11 वर्षों में देश की चेतना में नई ऊर्जा का प्रवाह हुआ है। भारत अब अपने खोये हुए सामर्थ्य को वापस पाने का प्रयास कर रहा है। एक समय में जब भारत का वैश्विक अर्थव्यवस्था में सबसे ज्यादा दबदबा था, तो हमारा क्या सामर्थ्य था? भारत की मैन्युफैक्चरिंग, भारत के प्रोडक्टस की क्वालिटी, भारत की अर्थ नीति, अब आज का भारत फिर से इन बातों पर फोकस कर रहा है। इसलिए हमने मैन्युफैक्चरिंग पर काम किया, हमने मेक इन इंडिया पर बल दिया, हमने अपनी बैंकिंग सिस्टम को सशक्त किया, महंगाई जो डबल डिजिट की दर से भाग रही थी, उसका कंट्रोल किया और भारत को दुनिया का ग्रोथ इंजन बनाया। भारत का यही सामर्थ्य है कि दुनिया के विकसित देश सामने से भारत के साथ ट्रेड डील करने के लिए खुद आगे आ रहे हैं।

साथियों,

जब किसी राष्ट्र के भीतर, छिपी हुई उसकी शक्ति जागती है, तो वह नई उपलब्धियां हासिल करता है। मैं आपको कुछ और उदाहरण देता हूं। जैसे मैं जब कभी दूसरी देशों के हेड ऑफ द गर्वमेंट से मिलता हूं, तो वो जनधन, आधार और मोबाइल की इतनी शक्ति के बारे में सुनने के लिए बहुत उत्सुक होते हैं। जिस भारत में एटीएम भी, दुनिया की विकसित देशों की तुलना में काफी समय बाद आया, उस भारत ने डिजिटल पेमेंट सिस्टम में ग्लोबल लीडरशिप कैसे हासिल कर ली? जहां पर सरकारी मदद की लीकेज को कड़वा सच मान लिया गया था, वो भारत डीबीटी के जरिये 24 लाख करोड़ रूपये, यानी Twenty four trillion रुपीज कैसे लाभार्थियों को भेज पा रहा है? भारत का डिजिटल पब्लिक इंफ्रास्ट्रक्चर, आज पूरे विश्व के लिए चर्चा का विषय बन चुका है।

साथियों,

दुनिया हैरान होती है, कि जिस भारत में 2014 तक, करीब तीन करोड़ परिवार अंधेरे में थे, वो आज सोलर पावर कैपेसिटी में दुनिया के टॉप के देशों में कैसे आ गया? जिस भारत के शहरों में पब्लिक ट्रांसपोर्ट सुधरने की कोई उम्मीद ना थी, वो भारत आज दुनिया का तीसरा बड़ा मेट्रो नेटवर्क वाला देश कैसे बन गया? जिस भारत के रेलवे की पहचान सिर्फ लेट-लतीफी और धीमी-रफ्तार से होती थी, वहां वंदे भारत, नमो भारत, ऐसी सेमी-हाईस्पीड कनेक्टिविटी कैसे संभव हो पा रही है?

साथियों,

एक समय था, जब भारत नई टेक्नोलॉजी का सिर्फ और सिर्फ कंज्यूमर था। आज भारत नई टेक्नोलॉजी का निर्माता भी है और नए मानक भी स्थापित कर रहा है। और ऐसा इसलिए हुआ है क्योंकि हमने अपने सामर्थ्य को पहचाना है, जिस Strength Within की आप चर्चा कर रहे हैं, ये उसका ही उदाहरण है।

साथियों,

जब हम गर्व से आगे बढ़ते हैं, तो दुनिया हमें जिस नजर से देखती रही है, वो नजर भी बदली है। आप याद कीजिए, कुछ साल पहले तक दुनिया में, ग्लोबल मीडिया में, भारत के किसी इवेंट की कितनी कम चर्चा होती थी। भारत में होने वाले इवेंट्स को उतनी तवज्जो ही नहीं दी जाती थी। और आज देखिए, भारत जो करता है, जो एक्शन यहां होते हैं, उसका वैश्विक विश्लेषण होता है। AI समिट का उदाहरण आपके सामने है, इसी भवन में हुआ है। AI समिट में 100 से ज्यादा देश शामिल हुए, ग्लोबल नॉर्थ हो या फिर ग्लोबल साउथ, सभी एक साथ, एक ही जगह, एक टेबल पर बैठे। दुनिया के बड़े-बड़े कॉर्पोरेशन्स हों या फिर छोटे-छोटे स्टार्ट अप्स, सभी एक साथ जुटे।

साथियों,

अब तक जितनी भी औद्योगिक क्रांतियां आई हैं, उनमें भारत और पूरा ग्लोबल साउथ सिर्फ फॉलोअर रहा है। लेकिन आर्टिफिशियल इंटेलीजेंस के इस युग में, भारत निर्णयों में सहभागी भी है और उन्हें शेप भी कर रहा है। आज हमारे पास खुद का AI स्टार्टअप इकोसिस्टम है, डेटा-सेंटर में निवेश करने की ताकत है और AI डेटा को स्टोर करने के लिए, प्रोसेस करने के लिए, जिस पावर की सबसे ज्यादा ज़रूरत है, उस पर भी भारत तेजी से काम कर रहा है। हमने न्यूक्लियर पावर सेक्टर में जो Reform किया है, वो भी भारत के AI इकोसिस्टम को मजबूती देने में मदद करेगा।

साथियों,

AI समिट का आयोजन पूरे भारत के लिए गौरव का पल था। लेकिन दुर्भाग्य से देश की सबसे पुरानी पार्टी ने, देश के इस उत्सव को मैला करने का प्रयास किया। विदेशी अतिथियों के सामने कांग्रेस ने सिर्फ कपड़े नहीं उतारे, बल्कि इसने कांग्रेस के वैचारिक दिवालिएपन को भी expose कर दिया है। जब नाकामी की निराशा-हताशा मन में हो, और अहंकार सिर चढ़कर बोलता हो, तब देश को बदनाम करने की ऐसी सोच सामने आती है। ज़ाहिर है, कांग्रेस की इस हरकत से देश में गुस्सा है। इसलिए, इन्होंने अपने पाप को सही ठहराने के लिए महात्मा गांधी जी को आगे कर दिया। कांग्रेस हर बार ऐसा ही करती है। जब अपने पाप को छुपाना हो तो कांग्रेस बापू को आगे कर देती है, और जब अपना गौरवगान करना हो, तो एक ही परिवार को सारा क्रेडिट देती है।

साथियों,

कांग्रेस अब विचारधारा के नाम पर केवल विरोध की टूलकिट बनकर रह गई है। और ये अंध-विरोध की मानसिकता इतनी बढ़ गई है, कि ये देश को हर मंच, हर प्लेटफॉर्म पर नीचा दिखाने से नहीं चूकते। देश कुछ भी अच्छा करे, देश के लिए कुछ भी शुभ हो रहा हो, कांग्रेस को विरोध ही करना है।

साथियों,

मेरे पास एक लंबी सूची है, देश की संसद की नई इमारत बनी, उसका विरोध। संसद के ऊपर अशोक स्तंभ के शेरों का विरोध। अब जिनके बब्बर शेर सामान्य नागरिकों के जूते खाकर के भाग रहे थे, उनके संसद भवन के शेर के दांत देखकर के डर लग गया उनको। कर्तव्य भवन बना, उसका भी विरोध। सेनाओं ने सर्जिकल स्ट्राइक की, उसका भी विरोध। बालाकोट में एयर स्ट्राइक हुई, उसका भी विरोध। ऑपरेशन सिंदूर हुआ, उसका भी विरोध। यानी देश की हर उपलब्धि पर कांग्रेस के टूलकिट से एक ही चीज निकलती है- विरोध।

साथियों,

देश ने आर्टिकल 370 की दीवार गिराई, देश खुश हुआ। लेकिन कांग्रेस ने विरोध किया। हमने CAA का कानून बनाया- उसका विरोध। हम महिला आरक्षण कानून लाए- उसका विरोध। तीन तलाक के विरुद्ध कानून लाए- उसका विरोध। हम UPI लेकर आए, उसका विरोध। स्वच्छ भारत अभियान लेकर आए, उसका विरोध। देश ने कोरोना वैक्सीन बनाई, तो उसका भी विरोध।

साथियों,

लोकतंत्र में विपक्ष का मतलब सिर्फ अंध-विरोध नहीं होता, डेमोक्रेसी में विपक्ष का मतलब वैकल्पिक विजन होता है। इसलिए देश की प्रबुद्ध जनता, कांग्रेस को सबक सिखा रही है, आज से नहीं, बीते चार दशकों से लगातार ये काम देश की जनता कर रही है। मैं जो कहने जा रहा हूं, मीडिया के साथी उसका भी ज़रा एनालिसिस करिएगा। आपको पता लगेगा कि कांग्रेस के वोट चोरी नहीं हो रहे, बल्कि देश के लोग अब कांग्रेस को वोट देने लायक ही नहीं मानते। और इसकी शुरुआत 1984 के बाद ही होनी शुरू हो गई थी। 1984 में कांग्रेस को 39 परसेंट वोट मिले थे, और 400 से अधिक सीटें मिली थीं। इसके बाद हुए चुनावों में कांग्रेस के वोट कम ही होते चले गए। और आज कांग्रेस की हालत ये है कि, देश में सिर्फ, सिर्फ चार राज्य ऐसे बचे हैं, जहां कांग्रेस के पास 50 से ज्यादा विधायक हैं। बीते 40 वर्षों में युवा वोटर्स की संख्या बढ़ती गई और कांग्रेस साफ होती गई। कांग्रेस, परिवार की गुलामी में डूबे लोगों का एक क्लब बनकर रह गई है। इसलिए पहले मिलेनियल्स ने कांग्रेस को सबक सिखाया, और अब जेन जी भी तैयार बैठी है।

साथियों,

कांग्रेस और उसके साथियों की सोच इतनी छोटी है, कि उन्होंने दूरदृष्टि से काम करने को भी गुनाह बना दिया है। आज जब हम विकसित भारत 2047 की बात करते हैं, तो कुछ लोग पूछते हैं— “इतनी दूर की बात अभी क्यों कर रहे हो?” कुछ लोग ये भी कहते हैं कि तब तक मोदी जिंदा थोड़ी रहेगा, सच्चाई यह है कि राष्ट्र निर्माण कभी भी तात्कालिक सोच से नहीं होता। वो एक बड़े विजन, धैर्य और समय पर लिए गए निर्णयों से होता है। मैं कुछ और तथ्य नेटवर्क 18 के दर्शकों के सामने रखना चाहता हूं। भारत हर साल विदेशी समुद्री जहाजों से मालढुलाई पर 6 लाख करोड़ रुपये से अधिक खर्च करता है किराए पर। फर्टिलाइजर के आयात पर हर साल सवा दो लाख करोड़ रुपये खर्च होते हैं। पेट्रोलियम आयात पर हर साल 11 लाख करोड़ रुपये खर्च होते हैं। यानी हर वर्ष लाखों करोड़ रुपये देश से बाहर जा रहे हैं। अगर यही निवेश 20–25 वर्ष पहले आत्मनिर्भरता की दिशा में किया गया होता, तो आज ये पूंजी भारत के इंफ्रास्ट्रचर, रिसर्च, इंडस्ट्री, किसान और युवाओं की क्षमताओं को मजबूत कर रही होती। आज हमारी सरकार इसी सोच के साथ काम कर रही है। विदेशी जहाजों को 6 लाख करोड़ रुपए ना देना पड़े इसलिए भारतीय शिपिंग और पोर्ट इंफ्रास्ट्रक्चर को मजबूत किया जा रहा है। फर्टिलाइजर का domestic प्रोडक्शन बढ़ाने के लिए नए प्लांट लग रहे हैं, नैनो-यूरिया को बढ़ावा दिया जा रहा है। पेट्रोलियम पर निर्भरता कम करने के लिए एथेनॉल ब्लेंडिंग, ग्रीन हाइड्रोजन मिशन, सोलर और इलेक्ट्रिक मोबिलिटी को प्राथमिकता दी जा रही है।

और साथियों,

हमें भविष्य की ओर देखते हुए भी आज ही निर्णय लेने हैं। इसलिए आज भारत में सेमीकंडक्टर इकोसिस्टम का निर्माण हो रहा है। रक्षा उत्पादन में, मोबाइल मैन्युफैक्चरिंग में, ड्रोन टेक्नोलॉजी में, क्रिटिकल मिनरल्स सेक्टर में, और उसमें निवेश, आने वाले दशकों की आर्थिक सुरक्षा की नींव है। 2047 का लक्ष्य कोई राजनीतिक नारा नहीं है। यह उस ऐतिहासिक भूल को सुधारने का संकल्प भी है, जहाँ कांग्रेस की सरकारों के समय कई क्षेत्रों में समय रहते निवेश नहीं किया। आज अगर हम ख़ुद स्वदेशी जहाज, स्वदेशी शिप्स बनाएँगे, ख़ुद एनर्जी का प्रोडक्शन करेंगे, ख़ुद नई टेक्नोलॉजी डेवलप करेंगे, तो आने वाली पढ़ियाँ इम्पोर्ट के बोझ की नहीं, एक्सपोर्ट की क्षमता पर चर्चा करेंगी। राष्ट्र की प्रगति “आज की सुविधा” से नहीं, “कल की तैयारी” से तय होती है। और दूरदृष्टि से की गई मेहनत ही 2047 के आत्मनिर्भर, सशक्त और समृद्ध भारत की आधारशिला है। और इसके लिए कांग्रेस अपने कितने ही कपड़े फाड़ ले, हम निरंतर काम करते रहेंगे।

साथियों,

राष्ट्र निर्माण की, Nation Building की एक बहुत अहम शर्त होती है- नेक नीयत की। कांग्रेस और उसके साथी दल, इसमें भी फेल रहे हैं। कांग्रेस और उसके साथियों ने कभी नेक नीयत के साथ काम नहीं किया। गरीब का दुख, उसकी तकलीफ से भी इन्हें कोई वास्ता नहीं है। जैसे बंगाल में आज तक आयुष्मान भारत योजना लागू नहीं हुई। अगर नेक नीयत होती तो क्या गरीबों को 5 लाख रुपए तक मुफ्त इलाज देने वाली इस योजना को बंगाल में रोका जाता क्या? नहीं। आप भी जानते हैं कि देश में पीएम आवास योजना के तहत गरीबों के लिए पक्के घर बनवाए जा रहे हैं। नेटवर्क 18 के दर्शकों को मैं एक और आंकड़ा देता हूं। तमिलनाडु के गरीब परिवारों के लिए, करीब साढ़े नौ लाख पक्के घर एलोकेट किए गए हैं, साढ़े नौ लाख। लेकिन इनमें से तीन लाख घरों का निर्माण अटक गया है, क्यों, क्योंकि DMK सरकार गरीबों के इन घरों के निर्माण में दिलचस्पी नहीं दिखा रही। इसकी वजह क्या है? इसकी वजह है, नीयत नेक नहीं है।

साथियों,

मैं आपको एग्रीकल्चर सेक्टर का भी उदाहरण देता हूं। कांग्रेस के समय में खेती-किसानी को अपने हाल पर छोड़ दिया गया था। छोटे किसानों को कोई पूछता नहीं था, फसल बीमा का हाल बेहाल था, MSP पर स्वामीनाथन कमेटी की रिपोर्ट फाइलों में दबा दी गई थी, कांग्रेस बजट में घोषणाएं जरूर करती थी, लेकिन ज़मीन पर कुछ नहीं होता था, क्योंकि उसकी नीयत ही नहीं थी। हमने देश के किसानों के लिए नेक नीयत के साथ काम करना शुरू किया, और आज उसके परिणाम दुनिया देख रही है। आज भारत दुनिया के बड़े एग्रीकल्चर एक्सपोर्टर्स में से एक बन रहा है। हमने हर स्तर पर किसानों के लिए एक सुरक्षा कवच बनाया है। पीएम किसान सम्मान निधि के माध्यम से किसानों के खाते में चार लाख करोड़ रुपए से अधिक जमा किए गए हैं। हमने लागत का डेढ़ गुणा MSP तय किया और रिकॉर्ड खरीद भी की है। मैं आपको सिर्फ दाल का ही आंकड़ा देता हूं। UPA सरकार ने 10 साल में सिर्फ 6 लाख मीट्रिक टन दाल, किसानों से MSP पर खरीदी- 6 लाख मीट्रिक टन। और हमारी सरकार अभी तक, करीब 170 लाख मीट्रिक टन, यानी लगभग 30 गुणा अधिक दाल MSP पर खरीद चुकी है। अब आप तय करिये, कौन किसानों के लिए काम करता है।

साथियों,

यूपीए सरकार किसान क्रेडिट कार्ड के जरिए भी किसानों को मदद देने में कंजूसी करती थी। अपने 10 साल में यूपीए सरकार ने सात लाख करोड़ रुपए का कृषि ऋण किसानों को दिया। 7 lakh crore rupees. जबकि हमारी सरकार इससे चार गुणा अधिक यानी 28 लाख करोड़ रुपए दे चुकी है। यूपीए सरकार के दौरान जहां सिर्फ पांच करोड़ किसानों को इसका लाभ मिलता था, आज ये संख्या दोगुने से भी अधिक करीब-करीब 12 करोड़ किसानों को पहुंची है। यानी देश के छोटे किसान को भी पहली बार मदद मिली है। हमारी सरकार ने पीएम फसल बीमा योजना का सुरक्षा कवच भी किसानों को दिया। इसके तहत करीब 2 लाख करोड़ रुपए किसानों को संकट के समय मिल चुके हैं। हम नेक नीयत से काम कर रहे हैं, इसलिए भारत के किसानों का आत्मविश्वास बढ़ रहा है, उनकी प्रोडक्टिविटी बढ़ रही है, और आय में भी वृद्धि हो रही है।

साथियों,

21वीं सदी का एक चौथाई हिस्सा बीत चुका है। अब अगला चरण भारत के विकास का निर्णायक दौर है। वर्तमान में लिए गए निर्णय ही भविष्य की दिशा तय करेंगे। हमें अपने सामर्थ्य को पहचानते हुए, उसे बढ़ाते हुए आगे चलना है। हर व्यक्ति अपने क्षेत्र में श्रेष्ठता को लक्ष्य बनाए, हर संस्था excellence को अपना संस्कार बनाए, हम सिर्फ उत्पाद न बनाएं, best-quality product बनाएं, हम सिर्फ रुटीन काम न करें, world-class काम करें, हम क्षमता को performance में बदलें। मैंने लाल किले से कहा है- यही समय है, सही समय है। यही समय है, भारत को नई ऊँचाइयों पर ले जाने का। एक बार फिर आप सभी को बहुत-बहुत शुभकामनाएं, बहुत-बहुत धन्यवाद। नमस्कार।