گجرات روزگار میلہ سے وزیر اعظم کا خطاب

Published By : Admin | March 6, 2023 | 16:15 IST
’’این ڈی اے کے زیر اقتدار 14 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں روزگار میلے لگاتار منعقد کیے جا رہے ہیں‘‘
’’ٹیکنالوجی کی مدد سے، بھرتی کے پورے عمل کو شفاف بنایا گیا ہے جہاں مختلف ڈیجیٹل پلیٹ فارمز، موبائل ایپس اور ویب پورٹلز تیار کیے گئے ہیں‘‘
’’گجرات میں گزشتہ 5 سالوں میں 1.5 لاکھ سے زیادہ نوجوانوں کو سرکاری ملازمتیں ملی ہیں‘‘
جب ترقی کا پہیہ چلتا ہے تو ہر شعبے میں روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں
’’دنیا بھر کے ماہرین کا خیال ہے کہ آنے والے سالوں میں ہندوستان مینوفیکچرنگ کا سب سے بڑا مرکز بن جائے گا‘‘
’’حکومت کی جانب سے ترقی کے تئیں جامع طریقہ کار، بڑے پیمانے پر روزگار پیدا کر رہا ہے‘‘
نوجوانوں کی ہنر مندی کو ترجیح دی جا رہی ہے
’’کرم یوگی بھارت آن لائن پلیٹ فارم پر مختلف آن لائن کورسز سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھائیں‘‘

وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج ایک ویڈیو پیغام کے ذریعے گجرات حکومت کے روزگار میلے سے خطاب کیا۔

اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے واضح کیا کہ ہولی کا تہوار قریب ہے اور گجرات روزگار میلہ کی تنظیم، ان ا فراد  کے لیے تہواروں کو خوشیوں کودوگنا کر دے گی جنھیں تقرری  کے لیٹرحاصل ہوں گے۔ یہ واضح کرتے ہوئے کہ گجرات میں روزگار میلہ دوسری بار ہو رہا ہے، وزیر اعظم نے نوجوانوں کو مسلسل مواقع فراہم کرنے اور ملک کی ترقی میں ان کی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے حکومت کے عزم کو اجاگر کیا۔ وزیر اعظم نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ مرکزی حکومت کے تمام محکمے اور این ڈی اے کی ریاستی حکومتیں، زیادہ سے زیادہ ملازمتیں فراہم کرنے کے لیے مسلسل کام کر رہی ہیں۔  وزیر اعظم نے مطلع کیا کہ مرکزی حکومت کے علاوہ این ڈی اے کی حکومت کے تحت 14 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں مسلسل روزگار میلوں کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے اس یقین کا اظہار کیا کہ نئی ذمہ داری سنبھالنے والے نوجوان، پوری محنت  اور لگن کے ساتھ امرت کال کی قراردادوں کو پورا کرنے میں حصہ رسدی کریں گے۔

وزیر اعظم نے بتایا کہ پچھلے 5 سالوں میں 1.5 لاکھ سے زیادہ نوجوانوں کو ریاستی حکومت کی نوکریاں ملی ہیں، اس کے علاوہ 18 لاکھ نوجوانوں کو ایمپلائمنٹ ایکسچینج کے ذریعے گزشتہ سالوں میں مختلف شعبوں میں نوکریاں حاصل ہوئی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ گجرات حکومت نے بھرتی کا کیلنڈر بنا کر مقررہ وقت میں بھرتی کا عمل مکمل کیا۔ اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ اس سال ریاستی حکومت میں 25 ہزار سے زیادہ نوجوانوں کو ملازمتیں دینے کی تیاریاں جاری ہیں، وزیر اعظم نے روشنی ڈالی کہ بھرتی کے پورے عمل کو ٹیکنالوجی کی مدد سے شفاف بنایا گیا ہے، جس میں مختلف ڈیجیٹل پلیٹ فارمز، موبائل ایپس اور ویب پورٹلز موجود ہیں۔

نوجوانوں کے لیے نئے مواقع پیدا کرنے میں موجودہ حکومت کی کوششوں پر روشنی ڈالتے ہوئے، وزیر اعظم نے براہ راست اور بالواسطہ روزگار پیدا کرنے کے لیے ٹھوس حکمت عملی پر زور دیا جس میں بنیادی ڈھانچے اور ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے روزگار کو فروغ دینے، مینوفیکچرنگ کو فروغ دینے، اورذاتی روزگار کے لئے ملک میں صحیح ماحول کی تشکیل پر توجہ دی گئی ہے۔  انہوں نے یہ بھی بتایا کہ حکومت ملازمتوں کی بدلتی ہوئی نوعیت کے مطابق نوجوانوں کے لیے یقینی مالی امداد اور ہنر مندی کی فراہمی پر توجہ مرکوز کر رہی ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ جب ترقی کا پہیہ حرکت میں آتا ہے تو ہر شعبے میں روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ملک میں بنیادی ڈھانچہ، معلوماتی ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ دیگر شعبوں میں ترقیاتی منصوبوں پر، کروڑوں روپے خرچ کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ 1.25 لاکھ کروڑ روپے کے پروجیکٹ اس وقت صرف گجرات میں ہی چل رہے ہیں اور اس سال کے بجٹ میں بنیادی ڈھانچے کے لیے 10 لاکھ کروڑ روپے کی رقم مختص کرنے کی گنجائش رکھی گئی ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ’’دنیا بھر کے ماہرین کا خیال ہے کہ ہندوستان آنے والے سالوں میں مینوفیکچرنگ کا سب سے بڑا مرکز بن جائے گا‘‘۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ نوجوان ہی ہندوستان میں اس انقلاب کی قیادت کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ 20 ہزار کروڑ کی سرمایہ کاری سے، گجرات کے داہوڑ میں ریلوے انجن کا کارخانہ تعمیر کیا جا رہا ہے اور یہ مستقبل قریب میں سیمی کنڈکٹرز کا ایک بہت بڑا مرکز بننے جا رہا ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ’’حکومت کی طرف سے ترقی کا جامع طریقہ کار، بڑے پیمانے پر روزگار پیدا کر رہا ہے‘‘۔ انہوں نے پالیسی کی سطح پر کی گئی اہم تبدیلیوں کو واضح  کیا جس نے ایک ماحولیاتی نظام تیار کیا ہے جہاں اسٹارٹ اپس کو فروغ مل رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آج ملک میں 90 ہزار سے زائد سٹارٹ اپ کام کر رہے ہیں جس کے نتیجے میں روزگار کے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں جبکہ لاکھوں نوجوانوں کو ذاتی روزگار کی طرف راغب کیا جا رہا ہے۔ وزیر اعظم نے مدرا یوجنا اور اسٹینڈ اپ انڈیا اسکیم پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا ’’حکومت بینک گارنٹی کے بغیر مالی امداد دے رہی ہے‘‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ لاکھوں خواتین ذاتی مدد کے گروپ میں شامل ہو کر اپنے پاؤں پر مضبوطی سے کھڑی ہو رہی ہیں اور حکومت سینکڑوں کروڑ کی مالی امداد بھی کر رہی ہے۔

ملک میں نئے امکانات کے لیے بڑے پیمانے پر ہنر مند افرادی قوت تیار کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے وزیر اعظم نے نشاندہی کی کہ ہندوستان دنیا کی تیسری بڑی معیشت بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ حکومت کی اس کوشش پر زور دیتے ہوئے کہ معاشرے کے ہر طبقے کو ہنر مندی کی ترقی سے فائدہ اٹھانا چاہیے، وزیر اعظم نے کہا کہ اس سے دلتوں، پسماندہ طبقات، قبائلیوں اور ہر علاقے کی خواتین کو یکساں مواقع فراہم ہوں گے۔ وزیر اعظم نے ریمارک کرتے ہوئے کہا کہ ’’نوجوانوں کی ہنر مندی کو ترجیح دی جا رہی ہے‘‘۔ انہوں نے بتایا کہ پی ایم کوشل وکاس یوجنا کے تحت 30 اسکل انڈیا انٹرنیشنل سنٹر بنائے جائیں گے جہاں نوجوانوں کو جدید دور کی ٹیکنالوجی کے ذریعے تربیت دی جائے گی۔ انہوں نے پی ایم وشوکرما یوجنا پر بھی توجہ دلائی جہاں چھوٹے کاریگروں کو تربیت دی جائے گی جس سے چھوٹے کاروبار سے وابستہ لوگوں کو عالمی منڈی تک رسائی کا ایک گیٹ وے فراہم کیا جائے گا۔ ملازمتوں کی بدلتی ہوئی نوعیت کے لیے نوجوانوں کو مسلسل تیار کرنے میں صنعتی تربیتی اداروں کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے، وزیر اعظم نے بتایا کہ گجرات میں آئی ٹی آئی کی تعداد اور ان کی نشستوں میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔ ’’گجرات میں تقریباً 600 آئی ٹی آئیز کی تقریباً 2 لاکھ نشستوں پر مختلف مہارتوں کے لیے تربیت فراہم کی جا رہی ہے‘‘۔ جناب مودی نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گجرات میں آئی ٹی آئیز کی کارکردگی بہت اچھی رہی ہے۔

وزیر اعظم نے نشاندہی کی کہ حکومت، روزگار پیدا کرنے کے ہر موقع کو تیار کرنے پر توجہ مرکوز کر رہی ہے جسے آزادی کے بعد کی دہائیوں میں نظر انداز کیا گیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ بجٹ میں کیوڈیا-آٹا نگر میں، یونٹی مال کی طرح ہر ریاست میں 50 نئے سیاحتی مراکز اور ایک یونٹی مال کی ترقی کا اعلان کیا گیا ہے جہاں ملک بھر میں منفرد مصنوعات کو فروغ دیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایکلویہ اسکول میں تقریباً 40 ہزار اساتذہ کی تقرری کا بھی انتظام کیا گیا ہے۔

خطاب کے اختتام پر وزیر اعظم نے متنبہ کیا کہ اگر سرکاری نوکری ہی حاصل کرنا، نوجوانوں کی ذاتی ترقی کا واحد مقصد بن جائے تو ترقی رک جائے گی۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ یہ محنت اور لگن ہی ہے جو انہیں یہاں تک لے آئی ہے اور کچھ نیا سیکھنے کی خواہش انہیں زندگی بھر آگے بڑھنے میں مدد دے گی۔ وزیر اعظم نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ کرم یوگی بھارت آن لائن پلیٹ فارم پر مختلف آن لائن کورسز سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھائیں۔ ا نھوں نے کہا، ’’جہاں بھی آپ کی پوسٹنگ ہو، اپنی مہارت کو بہتر بنانے پر خصوصی توجہ دیں۔ ہماری کوشش ہے کہ ہر سرکاری ملازم کو بہتر تربیت ملے‘‘۔

تقریر کا مکمل متن پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
India trained 85,000 engineers in 4 years under Semicon 2.0: Vaishnaw

Media Coverage

India trained 85,000 engineers in 4 years under Semicon 2.0: Vaishnaw
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Prime Minister reaffirms commitment to wildlife conservation on World Wildlife Day; shares Sanskrit Subhashitam
March 03, 2026

The Prime Minister, Shri Narendra Modi said that World Wildlife Day is about celebrating the incredible faunal diversity that enriches our planet and sustains our ecosystems. He said it is a day to acknowledge everyone working towards wildlife protection and reaffirm our commitment to conservation, sustainable practices and protecting habitats so that wildlife continues to thrive.

The Prime Minister noted that India cherishes being home to some of the world’s most extraordinary wildlife. He highlighted that India is home to over 70% of the world’s tiger population, has the largest population of the one-horned rhino and the maximum number of Asiatic elephants. He further stated that India is the only place in the world where the majestic Asiatic lion thrives.

The Prime Minister underlined that the Government has undertaken numerous efforts for wildlife protection. These include the setting up of the International Big Cat Alliance as an exceptional forum to share best practices with fellow nations. Other efforts include initiatives aimed at protecting the Great Indian Bustard, Gharial and Sloth Bear, as well as the translocation of cheetahs.

Emphasising India’s cultural ethos, the Prime Minister said that our scriptures pray for the welfare of all living beings and inspire sensitivity towards wildlife along with conservation. He shared a Sanskrit Subhashitam on this occasion which says-

“निर्वनो वध्यते व्याघ्रो निर्व्याघ्रं छिद्यते वनम्। तस्माद् व्याघ्रो वनं रक्षेद् वनं व्याघ्रं च पालयेत्॥”

The Subhashitam conveys that without forests, tigers perish; and without tigers, forests are destroyed. Therefore, the tiger protects the forest and the forest protects the tiger, underscoring the deep interdependence of nature.

In a series of X posts, Shri Modi said;

“World Wildlife Day is about celebrating the incredible faunal diversity that enriches our planet and sustains our ecosystems. It is a day to acknowledge everyone working towards wildlife protection. We reaffirm our commitment to conservation, sustainable practices and protecting habitats so that our wildlife continues to thrive.”

“We in India cherish the fact that we are home to some of the world’s most extraordinary wildlife. We are home to over 70% of the world’s tiger population. We have the largest population of the one-horned rhino, the maximum Asiatic elephants. India is the only place in the world where the majestic Asiatic lion thrives.”

“The NDA Government has undertaken numerous efforts for wildlife protection. This includes the setting up of the International Big Cat Alliance, an exceptional forum to share best practices with fellow nations. Other efforts include those aimed at protecting the Great Indian Bustard, Gharial, Sloth Bear and translocation of cheetahs.”

“आज World Wildlife Day है। हमारे शास्त्रों में सभी जीवों के कल्याण की कामना की गई है। उनसे हमें वन्यजीवों के संरक्षण के साथ-साथ उनके प्रति संवेदनशील होने की प्रेरणा भी मिलती है। उसका एक उदाहरण यह है… निर्वनो वध्यते व्याघ्रो निर्व्याघ्रं छिद्यते वनम्। तस्माद् व्याघ्रो वनं रक्षेद् वनं व्याघ्रं च पालयेत्॥”