’’سیاحت کے بارے میں ہندوستان کا نقطہ نظر سنسکرت کے قدیم جملہ ’اتیتھی دیوو بھوہ‘ پر مبنی ہے، جس کا مطلب ہے ’مہمان بگھوان ہوتا ہے‘‘‘
’’سیاحت کے شعبے میں ہندوستان کی کوششیں، سیاحت کے لیے عالمی معیار کے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کے ساتھ ساتھ اپنے بیش قیمتی ورثے کو محفوظ رکھنے پر مرکوز ہیں‘‘
’’گزشتہ نو برسوں میں، ہم نے ملک میں سیاحت کے پورے ایکو سسٹم کو فروغ دینے پر خصوصی زور دیا ہے‘‘
’’ہندوستان پائیدار ترقی کے اہداف کو تیزی سے حاصل کرنے کے لیے سیاحت کے شعبے کی افادیت کو بھی تسلیم کر رہا ہے‘‘
’’حکومتوں، صنعت کاروں، سرمایہ کاروں اور تعلیمی اداروں کے درمیان تعاون سیاحت کے شعبے میں ٹیکنالوجی کے نفاذ کو تیز کر سکتا ہے‘‘
’’دہشت گردی لوگوں کو تقسیم کرتی ہے، لیکن سیاحت انہیں متحد کرتی ہے‘‘
’’ہندوستان کی جی 20 صدارت کا نصب العین، ’وسودھیو کٹمبکم‘ – ’ایک زمین، ایک خاندان، ایک مستقبل‘ خود عالمی سیاحت کا نصب العین ہو سکتا ہے‘‘
’’مدر آف ڈیموکریسی میں جمہوریت کے تہوار کا مشاہدہ ضرور کریں‘‘

وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج ویڈیو پیغام کے ذریعے گوا میں منعقد جی 20 کے وزرائے سیاحت کے اجلاس سے خطاب کیا۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے ہندوستان کے ناقابل یقین جذبے کی دعوت دی اور کہا کہ سیاحت کے وزراء کو شاید ہی کبھی خود سیاح بننے کا موقع ملتا ہے حالانکہ وہ عالمی سطح پر دو ٹریلین ڈالر سے زیادہ مالیت کے شعبے کو سنبھال رہے ہیں۔ اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ جی 20 وزرائے سیاحت کی میٹنگ گوا میں ہو رہی ہے، جو کہ ہندوستان کے سیاحتی مقامات میں سے ایک ہے، وزیر اعظم نے معززین پر زور دیا کہ وہ اپنی سنجیدہ گفتگو سے کچھ وقت نکال کر گوا کے قدرتی حسن اور روحانی پہلو کا مشاہدہ کریں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ سیاحت کے بارے میں ہندوستان کا نقطہ نظر سنسکرت کے قدیم جملہ ’اتیتھی دیوو بھوہ‘ پر مبنی ہے، جس کا مطلب ہے ’مہمان بھگوان ہوتا ہے‘۔ جناب مودی نے زور دے کر کہا کہ سیاحت صرف سیر و تفریح کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ ایک حیرت انگیز تجربہ ہے۔ انہوں نے اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے کہا، ’’موسیقی ہو یا خوراک، فن ہو یا ثقافت، ہندوستان کا تنوع واقعی شاندار ہے۔ اونچے ہمالیہ سے لے کر گھنے جنگلات تک، خشک صحراؤں سے لے کر خوبصورت ساحلوں تک، ایڈونچر اسپورٹس سے لے کر مراقبہ (میڈی ٹیشن) تک، ہندوستان کے پاس سبھی کے لیے کچھ نہ کچھ ضرور ہے۔‘‘ وزیر اعظم نے بتایا کہ ہندوستان اپنی جی 20 صدارت کے دوران پورے ملک میں 100 مختلف مقامات پر تقریباً 200 میٹنگوں کا اہتمام کر رہا ہے جو ہر تجربے کو دوسرے سے مختلف بنا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا، ’’اگر آپ اپنے دوستوں سے پوچھیں جو پہلے ہی ان میٹنگوں کے لیے ہندوستان کا دورہ کر چکے ہیں، تو مجھے یقین ہے کہ کوئی دو تجربات ایک جیسے نہیں ہوں گے۔‘‘

وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ سیاحت کے شعبے میں ہندوستان کی کوششیں سیاحت کے لیے عالمی معیار کے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کے ساتھ ساتھ اپنے بیش قیمتی ورثے کو محفوظ رکھنے پر مرکوز ہیں۔ اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ ہندوستان دنیا کے ہر بڑے مذہب کے زائرین کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے، وزیر اعظم نے  کہا کہ روحانی سیاحت کو فروغ دینے پر توجہ مرکوز کرنا ان کے ترجیحی شعبوں میں سے ایک ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ابدی شہر وارانسی میں بنیادی ڈھانچے کو اپ گریڈ کیا گیا ہے، جو بڑے روحانی مراکز میں سے ایک ہے، جس کی وجہ سے عازمین کی تعداد میں دس گنا اضافہ ہوا اور آج یہ تعداد 70 ملین تک پہنچ چکی ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ہندوستان سیاحوں کے لیے نئے پرکشش مقامات بنا رہا ہے اور اس سلسلے میں انہوں نے  اسٹیچو آف یونٹی کی مثال دی، جو دنیا کا سب سے اونچا مجسمہ ہے، جس نے افتتاح کے ایک سال کے اندر تقریباً 2.7 ملین سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کیا۔  وزیر اعظم نے کہا کہ گزشتہ نو برسوں میں ہم نے ملک میں سیاحت کے پورے ماحولیاتی نظام کو فروغ دینے پر خصوصی زور دیا ہے۔ جناب مودی نے کہا، ’’ٹرانسپورٹ کے بنیادی ڈھانچے سے لے کر مہمان نوازی کے شعبے اور ہنر مندی کے فروغ تک، اور یہاں تک کہ اپنے ویزا سسٹم میں ہم نے سیاحت کے شعبے کو اپنی اصلاحات کے مرکزی نقطہ کے طور پر رکھا ہے۔‘‘ انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ مہمان نوازی کے شعبے میں روزگار کے مواقع پیدا کرنے، سماجی شمولیت اور معاشی ترقی کے لیے بہت زیادہ امکانات ہیں جبکہ دیگر شعبوں کے مقابلے خواتین اور نوجوانوں کو زیادہ روزگار فراہم کیا جا رہا ہے۔ وزیر اعظم نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ ہندوستان پائیدار ترقی کے اہداف کو تیزی سے حاصل کرنے کے لیے سیاحت کے شعبے کی افادیت کو بھی تسلیم کر رہا ہے۔

وزیر اعظم نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ گرین ٹورازم، ڈیجیٹلائزیشن، اسکل ڈیولپمنٹ، ٹورازم ایم ایس ایم ای، اور ڈیسٹی نیشن مینجمنٹ کے پانچ باہم مربوط ترجیحی شعبے ہندوستان کے ساتھ ساتھ جنوبی دنیا کی ترجیحات کی عکاسی کرتے ہیں۔ جناب مودی نے اختراعات کو آگے بڑھانے کے لیے مصنوعی ذہانت اور بڑھی ہوئی حقیقت جیسی ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے زیادہ استعمال کی تجویز پیش کی اور اس بات پر روشنی ڈالی کہ ہندوستان مصنوعی ذہانت کے لیے کام کر رہا ہے تاکہ ملک میں بولی جانے والی مختلف زبانوں کا حقیقی وقت میں ترجمہ کیا جا سکے۔ انہوں نے اعتماد کا اظہار کیا کہ حکومتوں، صنعت کاروں، سرمایہ کاروں اور ماہرین تعلیم کے درمیان تعاون سے سیاحت کے شعبے میں اس طرح کی ٹیکنالوجی کے نفاذ کو تیز کیا جا سکتا ہے۔ وزیر اعظم نے سیاحتی کمپنیوں کے لیے کاروباری ضوابط کو آسان بنانے اور مالیات تک ان کی رسائی بڑھانے اور مہارت کی ترقی میں سرمایہ کاری کرنے میں ان کی مدد کرنے کے لیے مل کر کام کرنے کی تجویز بھی پیش کی۔

وزیراعظم نے کہا کہ دہشت گردی لوگوں کو تقسیم کرتی ہے، لیکن سیاحت انہیں متحد کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاحت زندگی کے تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو جوڑنے کی صلاحیت رکھتی ہے جس سے ایک ہم آہنگ معاشرہ تشکیل پاتا ہے۔ جناب مودی نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ یو این ڈبلیو ٹی او کے ساتھ شراکت میں جی 20 کا ایک ٹورازم ڈیش بورڈ تیار کیا جا رہا ہے جو اپنی نوعیت کا پہلا پلیٹ فارم ہوگا جو بہترین طور طریقوں، کیس اسٹڈیز اور متاثر کرنے والی کہانیاں جمع کرے گا۔ وزیر اعظم نے اعتماد کا اظہار کیا کہ بات چیت اور ’گوا روڈ میپ‘ سیاحت کی تبدیلی کی طاقت کو محسوس کرنے کے لیے اجتماعی کوششوں کو بڑھا ئے گا۔ انہوں نے مزید کہا، ’’ہندوستان کی جی 20 صدارت کا نصب العین، ’وسودھیو کٹمبکم‘ – ’ایک زمین، ایک خاندان، ایک مستقبل‘ بذات خود عالمی سیاحت کا نصب العین ہو سکتا ہے۔‘‘

وزیر اعظم نے گوا میں آئندہ منعقد ہونے  والے ساؤ جواؤ فیسٹیول پر روشنی ڈالی اور کہا کہ ہندوستان تہواروں کی سرزمین ہے۔ اگلے سال ہونے والے عام انتخابات کا ذکر کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے معززین پر زور دیا کہ وہ مدر آف ڈیموکریسی میں جمہوریت کے تہوار کا مشاہدہ کریں جہاں تقریباً ایک ارب ووٹرز ایک ماہ سے زیادہ عرصے تک حصہ لے کر جمہوری اقدار پر اپنے پختہ یقین کا اعادہ کریں گے۔ وزیر اعظم نے کہا، ’’ایک ملین سے زیادہ ووٹنگ بوتھوں کے ساتھ، آپ کے لیے اس تہوار کو اپنے تمام تنوع کے ساتھ دیکھنے کے لیے جگہوں کی کمی نہیں ہوگی۔‘‘ انہوں نے جمہوریت کے تہوار کے دوران ہندوستان کے دورے کی دعوت دے کر اپنے خطاب کا اختتام کیا۔

تقریر کا مکمل متن پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
How PLI schemes, design in India and manufacturing excellence are transforming the architectural lighting industry

Media Coverage

How PLI schemes, design in India and manufacturing excellence are transforming the architectural lighting industry
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Prime Minister Narendra Modi Chairs Second High-Level Meeting with Secretaries of Government of India
July 28, 2026
Sectors discussed: Finance and Economy, Commerce and Industry, and Technology
PM emphasises the need to break both horizontal and vertical silos within the Government
PM emphasises the importance of technological self-reliance and building domestic capabilities in critical sectors
PM encourages greater participation of young innovators and entrepreneurs in cybersecurity ecosystem
PM Stresses Proactive Outreach on Strategic Sectors to Counter Misinformation
PM says Govt must always remain youthful, dynamic and forward-looking, continuously adapting to new challenges and opportunities with agility and innovation
Secretaries share experiences and perspectives on key initiatives, emerging opportunities and implementation challenges

Prime Minister Shri Narendra Modi chaired the second high-level meeting with Secretaries to the Government of India at his residence at 7, Lok Kalyan Marg earlier today. He reviewed the future action agenda of Ministries and Departments dealing with Finance and Economy, Commerce and Industry, and Technology sectors. The meeting focused on accelerating progress towards the goals of Viksit Bharat.

Prime Minister called for a strong focus on team building across Ministries and Departments, urging officers to work with a shared sense of purpose. He emphasised the need to break both horizontal and vertical silos within the Government so that departments function in close coordination and deliver integrated outcomes.

Highlighting the importance of citizen-centric governance, Prime Minister said that the people of India must remain at the centre of governance. He reminded that every decision and policy should be guided by the interests and aspirations of the common citizen.

Prime Minister stressed that while India is making significant investments in infrastructure, equal priority must be given to developing indigenous technologies. He underscored the importance of technological self-reliance and building domestic capabilities in critical sectors.

Prime Minister underlined that energy security is closely linked with national security, economic stability and citizens’ welfare. Prime Minister said India must achieve self-reliance in the energy sector through innovation, diversification and accelerated capacity creation.

Emphasising that reforms are not merely a fashionable term but a continuous necessity for effective governance, Prime Minister stressed the need to reform processes, improve work culture and strengthen institutional efficiency.

Prime Minister said that growing use of technology must be accompanied by a strong focus on cybersecurity to safeguard digital systems and infrastructure. He stressed the need for constant vigilance against emerging cyber threats. He called for encouraging greater participation of young innovators and entrepreneurs in the cybersecurity ecosystem and emphasised that it should evolve into a nationwide movement.

Prime Minister also emphasised the importance of proactive communication on strategic sectors where the country is undertaking major initiatives, to counter misinformation and unfounded fears surrounding such efforts.

Prime Minister says that new academic courses should be planned in partnership with industry to equip the workforce with skills required by emerging and future industries. He also observed that a government must always remain youthful, dynamic and forward-looking, continuously adapting to new challenges and opportunities with agility and innovation.

The meeting featured detailed discussions by Secretaries on the progress, priorities and implementation issues across their respective domains. The meeting was attended by the Cabinet Secretary, Secretaries of key Ministries and Departments, and senior officials from the Prime Minister’s Office.