’’ترنگا ہر چنوتی سے نمٹنے کے لیے قوت فراہم کرتا ہے‘‘
’’بھارت اپنی حصولیابی اور کامیابیوں کی بنیاد پر ایک نیا اثر پیدا کر رہا ہے اور دنیا کی توجہ اس کی جانب مبذول ہو رہی ہے‘‘
’’یونان بھارت کے لیے یوروپ کا داخلی دروازہ بنے گا اور مضبوط بھارت-یوروپ تعلقات کے لیے ایک طاقتور وسیلہ ثابت ہوگا‘‘
’’21ویں صدی تکنالوجی پر مبنی ہے اور ہمیں 2047 تک ترقی یافتہ بھارت کے ہدف کی حصولیابی کے لیے سائنس و تکنالوجی کے راستے پر چلنا ہوگا‘‘
’’چندریان کی کامیابی سے جو جوش جو جذبہ پیدا ہوا ہے اسے ’شکتی‘ میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے ‘‘
’’جی 20 سربراہ ملاقات کے دوران دہلی کے عوام کو ہونے والی پریشانیوں کے لیے میں پیشگی طور پر معذرت خواہ ہوں۔ مجھے یقین ہے کہ دہلی کے عوام جی 20 سربراہ اجلاس کو شاندار طریقے سے کامیاب بنا کر ہمارے سائنسدانوں کی حصولیابیوں کو نئی تقویت بہم پہنچائیں گے‘‘

نئی دہلی میں وزیر اعظم جناب نریندر مودی کا شاندار خیرمقدم کیا گیا۔ وزیر اعظم  چندریان 3 مون لینڈر کی کامیاب لینڈنگ  کے بعد اسرو کی ٹیم کے ساتھ بات چیت کرکے بنگلورو سے دہلی پہنچے۔ وزیر اعظم جنوبی افریقہ اور یونان کے اپنے چار روزہ دورے کے بعد سیدھے بنگلورو پہنچے۔ جناب جے پی نڈا نے وزیر اعظم کا استقبال کیا اور ان کے کامیاب دورے اور بھارتی سائنسدانوں کی اہم کامیابی کے لیے اُنہیں مبارکباد پیش کی۔

شہری استقبال پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے چندریان 3 کی کامیابی کے لیے عوام کے جوش و جذبے کے تئیں اظہار تشکر کیا۔ وزیر اعظم نے اسرو کی ٹیم کے ساتھ اپنی بات چیت کے بارے میں بتایا اور مطلع کیا کہ ’’جس جگہ چندریان 3 کا مون لینڈر اُترا ، اُسے شیو شکتی کے نا م سے جانا جائے گا۔‘‘ انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ شیو ’شُبھ‘ کو ظاہر کرتا ہے اور شکتی ’ناری شکتی‘ کی مثال ہے۔ شیو شکتی سے ہمالیہ اور کنیہ کماری کے درمیان رابطے کا بھی اظہار ہوتا ہے۔ وزیر اعظم نے مطلع کیا کہ اسی طرح، جہاں چندریان 2 نے 2019 میں اپنے نشانات چھوڑے تھے، اسے اب ’ترنگا‘ کہا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اُس وقت بھی ایک تجویز تھی، تاہم دل اس کے لیے تیار نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ مشن کی مکمل کامیابی کے بعد ہی چندریان 2 کے پوائنٹ کو نام دینے ایک خاموش عہد کیا گیا ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ’’ترنگا ہر چنوتی سے نمٹنے کے لیے قوت فراہم کرتا ہے۔‘‘ انہوں نے 23 اگست کو قومی یوم خلاء کے طور پر منانے کے فیصلے کے بارے میں بھی بتایا۔ وزیر اعظم نے اپنے دورے کے دوران عالمی برادری کی جانب سے ارسال کیے گئے مبارکباد اور نیک خواہشات کے پیغامات بھی ساجھا کیے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ بھارت اپنی حصولیابی اور کامیابی کی بنیاد پر ایک نیا اثر پیدا کر رہا ہے اور دنیا کی توجہ اس کی جانب مبذول ہو رہی ہے۔

اپنے دورۂ یونان کا ذکر کرتے ہوئے، جو کہ ایک بھارتی وزیر اعظم کے ذریعہ 40 برسوں میں کیا گیا پہلا دورہ ہے، وزیر اعظم مودی نے یونان میں بھارت کے لیے پائے جانے والی محبت  اور احترام کو اجاگر کیا اور کہا کہ یونان بھارت کے لیے یوروپ کا داخلی دروازہ بنے گا اور مضبوط بھارت- یوروپ تعلقات کے لیے ایک طاقتور وسیلہ ثابت ہوگا۔

وزیر اعظم نے نوجوانوں کی سائنس سے وابستگی  میں مزید اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ  ، اس لیے یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ خلائی سائنس کو کس طرح اچھی حکمرانی اور عام شہریوں کے لیے زندگی بسر کرنا آسان بنانے کے لیے بروئے کار لایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے خدمات بہم رسانی، شفافیت اور کمال پرستی میں خلائی سائنس کو بروئے کار لانے کے طریقے تلاشنے میں سرکاری محکموں کی تعیناتی کے اپنے فیصلے کو دوہرایا۔ اس کے لیے آئندہ دنوں میں ہیکاتھنس کا انعقاد کیا جائے گا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ 21ویں صدی تکنالوجی پر مبنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ، ’’ہمیں 2047 تک ایک ترقی یافتہ بھارت کے ہدف کی حصولیابی کے لیے مزید مضبوطی کے ساتھ سائنس اور تکنالوجی کے راستے پر آگے بڑھنا ہوگا۔‘‘ نئی پیڑھی کے درمیان سائنٹفک مزاج پیدا کرنے کے لیے،  چندریان  کی کامیابی سے پیداہوئے جوش کو شکتی میں تبدیل کرنا ہوگا۔ اس کے لیے یکم ستمبر سے مائی گو پلیٹ فارم پر ایک کوئز مقابلے کا اہتمام کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ نئی تعلیمی پالیسی میں بھی سائنس اور تکنالوجی کے لیے کافی گنجائشیں ہیں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ آئندہ منعقد ہونے والا جی 20 سربراہ اجلاس ایک ایسا موقع ہے جب پورا ملک میزبان ہوگا لیکن زیادہ ذمہ داری دہلی کے کاندھوں پر ہے۔ جناب مودی نے کہا کہ ’’دہلی  کی قسمت بہت اچھی ہے کہ اسے مختلف ممالک کے وقار کے پرچم کو بلند رکھنے کا موقع ملا ہے۔‘‘ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ دہلی کو ’اتیتھی دیوو بھوا‘ کی روایت پر عمل کرنا ہوگا کیونکہ یہ بھارت کی مہمان نوازی کا مظاہرہ کرنے کا ایک اہم موقع ہے۔ ’’5 سے 15 ستمبر کے دوران متعدد سرگرمیاں جاری رہیں گی۔ اس کے لیے میں اُن پریشانیوں اور دقتوں کے لیے معذرت خواہ ہوں جو اس درمیان دہلی کے لوگوں کو پیش آسکتی ہیں۔ ایک پریوار کے طور پر، تمام تر معززین ہمارے مہمان ہیں اور ہمیں اجتماعی کوششوں کے ساتھ ہمارے جی 20 سربراہ اجلاس کو شاندار طریقے سے کامیاب بنانا ہے۔‘‘

آنے والے رکشابندھن تیوہار  اور چاند کو دھرتی ماں کا بھائی سمجھنے کے بارے میں بات کرتے ہوئے ، وزیر اعظم  نے رکشابندھن کی مبارکباد پیش کی اور امید ظاہر کی کہ جوش و خروش سے معمور تیوہاری جذبہ دنیا کے سامنے ہماری روایات کو متعارف کرائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ماہ ستمبر کے دوران، دہلی کے عوام جی 20 سربراہ اجلاس کو شاندار طریقے سے کامیاب بنا کر ہمارے سائنس دانوں کی حصولیابیوں کو نئی قوت فراہم کریں گے۔

 

Click here to read full text speech

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
On Puri’s Grand Road, a devotee’s submission

Media Coverage

On Puri’s Grand Road, a devotee’s submission
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Prime Minister speaks with the Amir of Qatar
July 16, 2026
PM conveys heartfelt condolences on the passing of the Father Amir of Qatar
PM recalls the Father Amir’s visionary leadership and his contribution to strengthening India-Qatar relations
The two leaders reaffirm their resolve to carry forward the Father Amir’s legacy

Prime Minister Shri Narendra Modi had a telephone conversation today with the Amir of the State of Qatar, H.H. Sheikh Tamim bin Hamad Al Thani.

Prime Minister conveyed his heartfelt condolences on the passing of H.H. Sheikh Hamad bin Khalifa Al Thani, the Father Amir of Qatar.

Recalling the Father Amir’s significant contributions as the chief architect of modern Qatar, Prime Minister paid tribute to his visionary leadership, and recalled his pivotal role in strengthening India-Qatar relations over the years as well as his deep affection for India and the Indian community in Qatar.

The Amir of Qatar thanked Prime Minister for his call and conveyed his appreciation for the words of support in this difficult hour.

The two leaders reaffirmed their resolve to carry forward the Father Amir’s legacy and further strengthen the India-Qatar Strategic Partnership and people-to-people ties.

They agreed to remain in close touch.