وزیرا عظم جناب نریندر مودی نے آج راجیہ سبھا میں صدر جمہوریہ  کے خطاب پر پیش کی گئی شکریہ کی تحریک کا جواب دیا ۔انہوں نے بحث میں حصہ لینے اور شرکت کرنے کیلئے ایوان بالا کے ممبروں کا شکریہ ادا کیا ۔ انہوں نے کہا کہ صدر جمہوریہ کے خطاب سے اس دنیا کے کہ جو سخت چیلنجوں کا سامنا کررہی ہے ،امید اور اعتماد میں اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت مواقع کی سرزمین ہے اور پوری دنیا کی نگاہیں بھارت پر مرکوز ہیں ۔بھارت سے بہت سی توقعا ت ہیں اور یہ اعتماد بھی ہے کہ ہماری کرہ ٔارض کی بہتری میں بھارت تعاون کرے گا ۔اب جب کہ ہندوستان آزادی کے 75ویں سال میں داخل ہورہا ہے تو ہم اسے ایک تحریک کے طور پر منانے کی کوشش کریں گے اور خود کو 2047کے بھارت کے ویژن کو پورا کرنے کیلئے وقف کریں گے کہ جب آزادی کی صدی مکمل ہوگی ۔

وزیر اعظم نے کہا کہ کوویڈ وبا سے بہتر طور پر نمٹنا کسی پارٹی یا انفرادی شخص کی کامیابی نہیں ہے بلکہ یہ پورے قوم کی کامیابی ہے اور اسے اسی طور سے لیا جانا چاہئے۔ہندوستان نے ایسا وقت بھی دیکھا ہے کہ جب اسے پولیو اور چھوٹی چیچک کے بڑےخطرات کا سامنا تھا ۔یہ کوئی نہیں جانتا تھا کہ آیا ہندوستان کوئی ویکسین تیار کرپائے گا یا نہیں اور کتنے لوگ اس سے مستفید ہوسکیں گے ۔جناب مودی نے کہا کہ ان دنوں کے بعد آج ہم اس جگہ ہیں کہ جب ہمارا ملک پوری دنیا کیلئے ویکسین تیار کررہا ہے اور دنیا کی سب سے بڑی ٹیکہ کاری مہم چلا رہا ہے۔اس سے ہماری خود اعتمادی میں اضافہ ہوا ہے ۔کوویڈ 19کے عہد میں ہمارے وفاقی ڈھانچے اوراشتراکی وفاق کو نئی طاقت بخشی ہے۔

وزیر اعظم نے ہندوستانی جمہوریت پر کی جانے والی تنقید کا احاطہ کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کی جمہوریت کوئی مغربی ادارہ نہیں ہے بلکہ ایک انسانی ادارہ ہے ۔ہندوستان کی قوم پرستی پر ہر چہار جانب سے جس طرح حملے ہورہے ہیں اس کے بارے میں برادران وطن کو آگاہ کرنا ضروری ہے ۔نیتا جی سبھاش چندر بوس کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کی قوم پرستی نہ تو تنگ ہے نہ ہی مطلب پرست اور نہ ہی یہ جارح ہے ۔یہ ستیم ،شیوم ،سندرم کے نظریہ پر مبنی ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ بھارت نہ صرف یہ کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے بلکہ جمہوریت کی یہ ماں بھی ہے اور یہ ہماری اقدار بھی ہے ،ہمارے ملک کا مزاج جمہوری ہے ۔

جناب مودی نے کہا کہ جہاں ایک طرف کورونا کے دور میں دوسرے ملک غیر ملکی سرمایہ کاری سے محروم رہے بھارت میں ریکارڈ سرمایہ کاری کی۔جناب مودی نے غیر ملکی کرنسی ،غیر ملکی راست سرمایہ کاری اور انٹر نیٹ پینیٹریشن اور ڈیجیٹل ،مالی شمولیت ،بیت الخلا کے دائرے کار میں توسیع ،قابل برداشت رہائش ،ایل پی جی کا احاطہ اور فری طبی علاج کے حوالے سے مضبوط کارکردگی کا حوالہ دیا۔ جناب مودی نے کہا کہ بہت سے چیلنج سامنے تھے اور ہمیں یہ فیصلہ کرنا تھا کہ آیا ہمیں یا آیا ہم کسی حل یا پھر مسئلے کا حصہ ہونا چاہتے ہیں۔

وزیر اعظم نے مطلع کیا کہ 2014سے سرکار نے کسانوں کو بااختیار بنانے کے مقصد سے زراعتی سیکٹر میں تبدیلی کے اقدامات کئےہیں۔فصل بیمہ اسکیم کو مزید کسان دوست بنانے کیلئے اس میں تبدیلی کی گئی ۔پی ایم ۔ کسان اسکیم لائی گئی ۔جناب مودی نے زور دیکر یہ بات کہی کہ سرکار چھوٹے کسانوں کیلئے کام کررہی ہے ۔کسانوں کو پی ایم ایف پی وائی کے تحت 90ہزار کروڑ کا کلیم حاصل ہوا ۔کسانوں کو کسان کریڈیٹ کارڈ ،سوائل ہیلتھ کارڈاور سمان ندھی سے بھی فائدہ پہنچانے کی کوشش کی گئی ۔پی ایم گرامین سڑک یوجنا سے جب راستوں کو ایک دوسرے سے جوڑنے میں بہتری آئی تو اس سے کسانوں کی پیداوار کو دور دراز علاقوں تک پہنچانے میں آسانی ہوئی۔ کسان ڈیل اور کسان اڑان کے ذریعہ بھی اس طرح کی کوششیں کی جارہی ہیں ۔وزیر اعظم نے کہا کہ اس وقت کی اشد ضرورت یہ ہے کہ چھوٹے کسانوں کی زندگیوں میں بہتری لائی جائے ۔وزیر اعظم نے سوال کیا کہ انہیں ڈیری سیکٹر کی طرح پرائیویٹ اور کوآپریٹو سیکٹر کے ساتھ مل کر کام کرنے کی آزادی کیوں نہیں ہے؟۔

زراعت سے جڑے مسائل کو حل کیا جانا چاہئے اور اس کیلئے کام کرنے کی ضرورت ہے ۔وزیر اعظم نے کسانوں کی فلاح و بہبود کیلئے تمام پارٹیوں سے آگے آنے کو کہا ۔ایم ایس پی پر وزیر اعظم نے ایک بار پھر اس بات کا اعادہ کیا کہ ایم ایس پی رہی ہے اب بھی ہے اور مستقبل میں بھی رہے گی۔وزیرا عظم نے اس بات پر بھی زور دیا کہ شہر اور دیہات میں جو تقسیم ہے اس کو دور کئے جانے کی کوشش ہونی چاہئے ۔

وزیر اعظم نے نوجوان طاقت کی اہمیت کو اجاگر کیا اور کہا کہ نوجوانوں کو مضبوط بنانے کی کوشش سے ملک کو بہتر مستقبل کیلئے محفوظ اثاثہ رکھنے میں مدد ملے گی جس طرح قومی تعلیمی پالیسی کو تیزی سے قبول کیا ہے وزیر اعظم نے اس کی ستائش کی۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ایم یو اقتصادی ترقی اور اس کی بحالی کیلئے اہم ہے کیونکہ ان کے اندر روزگار پیدا کرنے کی بے پناہ صلاحیت ہے ۔یہی وجہ ہے کہ کورونا کے دور میں بھی انہیں خصوصی پیکج فراہم کرکے ان پر خصوصی توجہ دی گئی ۔

سب کا ساتھ ،سب کا وکاس ، سب کا وشواس کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے شمال مشرق اور نکسل سے متاثرہ دوسرے علاقوں میں بہتری لانے کے جو اقدامات کئے گئے ان کا ذکر کیا ۔انہوں نے کہا کہ حالات میں بہتری آرہی ہے اور ان علاقوں میں نئے مواقع پیدا ہورہے ہیں۔انہوں نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ آنے والے وقت میں ملک کی ترقی میں شمال مشرق کے علاقے ایک اہم رول ادا کریں گے۔

 

 

تقریر کا مکمل متن پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

Explore More
لال قلعہ کی فصیل سے 77ویں یوم آزادی کے موقع پر وزیراعظم جناب نریندر مودی کے خطاب کا متن

Popular Speeches

لال قلعہ کی فصیل سے 77ویں یوم آزادی کے موقع پر وزیراعظم جناب نریندر مودی کے خطاب کا متن
Flash composite PMI up at 61.7 in May, job creation strongest in 18 years

Media Coverage

Flash composite PMI up at 61.7 in May, job creation strongest in 18 years
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
PM Modi addresses massive public meetings in Gurdaspur & Jalandhar, Punjab
May 24, 2024
INDI alliance people are a great danger to the security of country: PM Modi in Gurdaspur, Punjab
The problem with Congress is that it has no faith in India: PM Modi in Gurdaspur, Punjab
Skewed version of history left generations unaware of the true events, such as the tragedy of partition in Punjab: PM Modi slams Congress party
The Jhadu Party has learned the lesson of Emergency from Congress: PM Modi against the ruling party in Punjab
Where there is Congress, there are problems and where there is BJP, there are solutions: PM Modi in Jalandhar

Prime Minister Narendra Modi addressed spirited public gatherings in Gurdaspur and Jalandhar, Punjab, where he paid his respects to the sacred land and reflected upon the special bond between Punjab and the Bharatiya Janata Party.

Addressing the gathering PM Modi highlighted, the INDI alliance’s misgovernance in the state and said, “Who knows the real face of the INDI alliance better than Punjab? They've inflicted the most wounds on our Punjab. The wound of division after independence, the long period of instability due to selfishness, a long period of unrest in Punjab, an attack on the brotherhood of Punjab, and an insult to our faith, what hasn't Congress done in Punjab? Here, they fueled separatism. Then they orchestrated a massacre of Sikhs in Delhi. As long as Congress was in the Central government, they saved the rioters. It's Modi who opened the files of the Sikh riots. It's Modi who got the culprits punished. Even today, Congress and its ally party are troubled by this. That's why these people keep abusing Modi day and night."

Speaking about the INDI alliance governance and its strategy concerning National Security, PM Modi said, “These INDI alliance people are a great danger to the security of the country. They are talking about reintroducing Article 370 in Kashmir. They want terrorism back in Kashmir. They want to hand over Kashmir to separatists again. They will send messages of friendship to Pakistan again. They will send roses to Pakistan. Pakistan will carry out bomb blasts.”

“There will be terrorist attacks on the country. Congress will say, we have to talk no matter what. For this, Congress has already started creating an atmosphere. Their leaders are saying, Pakistan has an atomic bomb. Their people are saying, we'll have to live in fear of Pakistan. These INDI alliance people are speaking Pakistan's language,” he added.

Discarding the anti-national thought process of the Congress and INDI alliance, PM Modi said, “The problem with Congress is that it has no faith in India. The scions of Congress tarnish the country's image when they go abroad. They say that India is not a nation. Therefore, they want to change the nation's identity. The mentor of the scions has said that the construction of the Ram temple and celebrating Ram Navami in the country threatens the identity of India.”

Emphasizing the need for rapid development, PM Modi assured the people of Gurdaspur, Punjab, and the entire country of his unwavering commitment to their progress and prosperity. He said, “Punjab's development is Modi's priority. The BJP government is building highways like the Delhi-Katra highway and the Amritsar-Pathankot highway here. BJP is developing railway facilities here.”

“Our effort is to create new opportunities in Punjab, to benefit the farmers. In the last 10 years, we have procured record amounts of rice and wheat across Punjab. The MSP, which was fixed during the Congress government, has been increased by two and a half times. Farmers are receiving PM Kisan Samman Nidhi for seeds, fertilizers, and other necessities,” PM Modi added.

Regarding the ongoing elections, PM Modi urged the citizens to choose leadership that prioritizes the nation's interests. Contrasting the BJP-led NDA’s clear vision for a developed India with the divisive and dynastic politics of the INDI alliance, PM Modi called for support for the BJP to ensure continued progress and stability.

In his second mega rally of the day in Jalandhar, Punjab, PM Modi highlighted the shifting political sentiments. He noted that people no longer want to vote for Congress and the INDI Alliance, as it would mean wasting their votes. Emphasizing the strong support in Punjab, he concluded with a resonant call, ‘Phir Ek Baar, Modi Sarkar’!

PM Modi criticized the Congress for its appeasement politics, claiming that the party favored its vote bank at the expense of accurate historical narratives. He noted that Congress had favoured its own family and Mughal families in history books, neglecting the sacrifices of our Sahibzadas. The PM also asserted that this skewed version of history left generations unaware of the true events, such as the tragedy of partition in Punjab. ‘Congress’, he said, “hid these truths to protect its vote bank and avoid exposing its misdeeds”.

PM Modi underscored the BJP-NDA government's commitment to Hindu and Sikh families left behind during the partition, citing the CAA law as a significant step towards granting them Indian citizenship. He heavily disregarded Congress for opposing the CAA and stated that Congress intends to repeal the law if they come to power, denying these communities their rightful citizenship.

The PM explicitly compared the Jhadu Party (AAP) to Congress, calling it a "photocopy party" that has adopted Congress's oppressive tactics. He strongly condemned their actions against media houses that resist their threats, exposing their true nature. He also made the audience aware of the destructive alliance between Congress and the Aam Aadmi Party in Punjab, stressing that voting for either party is voting against Punjab's interests.

Highlighting the Congress party's lack of faith in India and its attempts to undermine the nation's identity, PM Modi urged voters to reject such divisive politics. He underscored the BJP's commitment to Punjab's development, citing initiatives to improve infrastructure, support farmers, and promote food processing industries. PM Modi sought the blessings of the people of Gurdaspur and Jalandhar, and urged them to vote for BJP candidates in the upcoming elections to secure a brighter future for Punjab and the nation.